کامرس اور صنعت کی وزارتہ
تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر پیوش گوئل نے بی آر آئی سی ایس کے باہمی تجارت کو مزید گہرا، مستحکم اور متوازن بنانے پر زور دیا
مرکزی وزیر پیوش گوئل نے رکن ممالک سے منڈیاں کھولنے اور ضابطہ جاتی طریقۂ کار کو آسان بنانے کی اپیل کی
بی آر آئی سی ایس کے رکن اور شراکت دار ممالک کے درمیان ادائیگی کے نظام کو مربوط کرنے اور ایک دوسرے کی مقامی کرنسیوں میں تجارت کو فروغ دینے پر زور
زراعت، ادویہ سازی، انجینئرنگ، الیکٹرانکس، آٹوموبائل، خدمات، اسٹارٹ اَپس اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں زیادہ تعاون کی ضرورت پر زور
مرکزی وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے سپلائی چین کے رابطے، تجارت میں سہولت اور اختراع کو بی آر آئی سی ایس کی اہم ترجیحات قرار دیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 SEP 2026 12:10PM by PIB Delhi
بی آر آئی سی ایس ممالک کا عالمی تجارت میں تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہے۔ مرکزی وزیرِ تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے آج رکن اور شراکت دار ممالک کے درمیان مزید گہری، مضبوط اور متوازن تجارتی شراکت داری قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ نئی دہلی میں منعقدہ بی آر آئی سی ایس بزنس فورم کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب گوئل نے اقتصادی تعاون کی مکمل صلاحیتوں کوبروئے کار لانے کے لیے منڈیوں تک بہتر رسائی، سپلائی چین میں تنوع اور ضابطہ جاتی طریقۂ کار کو آسان بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ فورم انتہائی نتیجہ خیزثابت ہوگی اور بی آر آئی سی ایس ممالک کے درمیان اقتصادی مذاکرات اور کاروباری شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔
افتتاحی اجلاس سے روسی فیڈریشن کے اقتصادی ترقی کے محکمے کے عزت مآب وزیر میکسم ریشیتنیکوف، مرکزی وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر، وزارتِ تجارت و صنعت اور وزارتِ الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے وزیرِ مملکت جناب جتن پرساد اور وزارتِ تجارت کے سکریٹری جناب راجیش اگروال نے بھی خطاب کیا۔
جناب پیوش گوئل نے کہا کہ بھارت بی آر آئی سی ایس کے باہمی تجارت کا ایک اہم ستون ہے۔ انہوں نے انجینئرنگ مصنوعات اور الیکٹرانکس کے شعبے میں بھارت کی مضبوط صلاحیتوں کو اجاگر کیا، جو بھارت کی تیار شدہ مصنوعات کی برآمدات کا سب سے بڑا حصہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کو دنیا کی فارمیسی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت بی آر آئی سی ایس کو ان مصنوعات کے ساتھ ساتھ دیگر اشیا کے لیے بھی ایک اہم منڈی تصور کرتا ہے، جنہیں وہ ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کی حیثیت سے دنیا بھر میں پہنچانا چاہتا ہے۔
شراکت دار ممالک کے درمیان گہری اور مضبوط تجارتی شراکت داری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جناب پیوش گوئل نے کہا کہ سپلائی چین کو متنوع بنایا جانا چاہیے اور تجارت کسی بھی رکن ملک کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ انہوں نے بی آر آئی سی ایس ممالک سے اپیل کی کہ وہ خام مال اور اہم معدنیات سمیت ایک دوسرے کی مصنوعات کے لیے اپنی منڈیاں کھولیں۔
جناب گوئل نے کہا کہ سپلائی چین اسی وقت مضبوط اور لچک دار بن سکتی ہے جب تجارت دونوں طرف سے ہو۔ انہوں نے بتایا کہ 88 فیصد ممالک کے لیے غیر محصولاتی اقدامات خود محصولات کے مقابلے میں برآمدات کی لاگت میں زیادہ اضافہ کرتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے منڈیوں تک آسان اور ہموار رسائی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بی آر آئی سی ایس کے رکن اور شراکت دار ممالک سے اپیل کی کہ وہ اپنی منڈیاں ایک دوسرے کے لیے کھولیں، ساتھ ہی ضابطہ جاتی طریقۂ کار کو آسان بنانے اور سامان کی کھیپ کو تیزی سے کلیئر کرانے کے لیے باہمی تعاون کریں۔
زراعت کے شعبے میں زیادہ تعاون کی اپیل کرتے ہوئے جناب گوئل نے بی آر آئی سی ایس ممالک پر زور دیا کہ وہ زرعی ٹیکنالوجی سے وابستہ اسٹارٹ اَپس کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ بی آر آئی سی ایس کے تمام ممالک کے کسانوں کے لیے مشترکہ طور پر ایسے حل تیار کر سکیں، جو غذا کی یقینی فراہمی کے مفاد میں ہوں۔ انہوں نے ممالک سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ حقیقی معنوں میں ایک دوسرے کے لیے اپنی خدمات سے متعلق مارکیٹس کھولیں، سرحدوں کے پار ماہر پیشہ ور افراد کی آمد و رفت کو آسان بنائیں اور ایک دوسرے کی پیشہ ورانہ اہلیت کو تسلیم کرنے کے عمل کو سہل بنائیں۔
بھارت کے اسٹارٹ اَپ اور کاروباری ماحول میں خواتین کی شمولیت کو اجاگر کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ بھارت میں تسلیم شدہ ڈھائی لاکھ اسٹارٹ اَپس میں 45 فیصد سے زیادہ میں کم از کم ایک خاتون شراکت دار یا ڈائریکٹر ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران فراہم کیے گئے چھوٹے قرضوں میں سے دو تہائی خواتین کاروباریوں کو دیے گئے ہیں، جس سے انہیں اپنے پیروں پر کھڑے ہونے، بااختیار اور خود کفیل بننے میں مدد ملی ہے۔ ہفتے کے اوائل میں نئی دہلی میں منعقدہ بی آر آئی سی ایس ویمنز بزنس الائنس کی میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے اتحاد سے اپیل کی ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ خواتین کی قیادت میں چلنے والے کاروباری ادارے بی آر آئی سی ایس کی ہر نمائش، تجارتی میلے اور دیگر مواقع میں شرکت کریں، جن کی حوصلہ افزائی اور حمایت کی جا نی چاہیے۔
جناب گوئل نے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کے قیام کے سلسلے میں بھارت کی جانب سے اہم اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) کے ذریعے آج سالانہ 250 ارب سے زیادہ لین دین ہو رہے ہیں، جو دنیا بھر میں حجم کے اعتبار سے ہونے والے لین دین کا نصف سے زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یو پی آئی کو 11 ممالک میں بھی قبول کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بی آر آئی سی ایس کے رکن اور شراکت دار ممالک سے اپیل کی کہ وہ اپنے ادائیگی کے نظام کو باہم مربوط کریں، ایک دوسرے کی ملکی کرنسیوں میں تجارت کو فروغ دیں، ڈیجیٹل تجارت کو عالمی سطح پر وسعت دیں اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے میدان میں مل کر کام کریں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے پاس زراعت، ادویہ سازی، انجینئرنگ، الیکٹرانکس، آٹوموبائل اور آٹو پرزہ جات سمیت خدمات کے مختلف شعبوں میں عمدہ صلاحیتیں موجود ہیں۔ انہوں نے اسٹارٹ اَپ کے ایکو نظام کو بھی باہم مربوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ رجحانات مشترکہ اختراع، ٹیکنالوجی شراکت داری اور مضبوط و لچک دار عالمی ویلیو چینز کے قیام کے لیے وسیع امکانات فراہم کرتے ہیں۔
بھارت کے وکست بھارت 2047 کی جانب پیش قدمی کا ذکر کرتے ہوئے، جس کے تحت 140 کروڑ بھارتیوں نے یہ اجتماعی ہدف مقرر کیا ہے کہ ملک کی آزادی کے 100 سال مکمل ہونے پر بھارت کو ایک ترقی یافتہ ملک بنایا جائے، جناب پیوش گوئل نے کہا کہ بی آر آئی سی ایس کے رکن اور شراکت دار ممالک کے ساتھ تعاون کو مزید گہرا کرنے کے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ موضوعاتی اجلاسوں کے نتیجے میں تعمیری اور قابلِ عمل سفارشات سامنے آئیں گی، جو بی آر آئی سی ایس کے باہمی تجارت اور اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
مرکزی وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے اپنے خطاب میں کہا کہ رواں سال ادارہ جاتی سطح پر بی آر آئی سی ایس تعاون کے 20 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ اس عرصے کے دوران رکنیت، ایجنڈے اور تعاون کے طریقۂ کار کے اعتبار سے بی آر آئی سی ایس میں نمایاں تبدیلیاں رونماہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی صدارت نے مضبوطی، اختراع، تعاون اور پائیداری کے موضوع کے ذریعے اس ارتقائی عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترجیحات خاص طور پر اس وقت اہمیت کی حامل بن جاتی ہیں جب عالمی سیاسی اور اقتصادی نظام تیزی سے تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے اور اتار چڑھاؤ، غیر یقینی صورتِ حال اور پیچیدگی اس کی نمایاں خصوصیات بن چکی ہیں۔ اس کے ساتھ جغرافیائی سیاسی تنازعات، وباؤں، موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں، ڈیجیٹلائزیشن اور تکنیکی ترقی کے سبب بھی اقتصادی منظرنامے میں تبدیلی کا باعث بن رہی ہیں۔
ڈاکٹر جے شنکر نے کہا کہ مضوطی و پائیداری بی آر آئی سی ایس برادری کا ایک اہم جزو بن چکی ہے۔ بی آر آئی سی ایس بزنس کونسل اور بی آر آئی سی ایس ویمنز بزنس الائنس صنعت، کاروباری افراد اور کاروباری رہنماؤں کو بی آر آئی سی ایس کے عمل میں شامل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپلائی چین کا باہمی رابطہ اور تجارت میں سہولت کاری انتہائی اہم عوام کی صورت میں سامنے آئی ہے، جبکہ خدمات، زراعت اور زرعی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل سہولت، چھوٹی و درمیانے درجے کی صنعتیں، اسٹارٹ اَپس اور خواتین کی قیادت میں چلنے والے کاروباری ادارے بھی اہم شعبے ہیں۔ انہوں نے قابلِ اعتماد لاجسٹکس، قابلِ پیش گوئی کاروباری ماحول، متنوع تجارتی تعلقات اور شفاف تجارت و سرمایہ کاری کے ذریعے باہمی طور پر جڑے رہتے ہوئے زیادہ خود کفیل بننے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے، مصنوعی ذہانت، مالیاتی ٹیکنالوجی اور جدید مینوفیکچرنگ کو بھی بڑے مواقع قرار دیا، تاہم رسائی، معیارات، سلامتی اور اعتماد سے متعلق سوالات کی جانب بھی توجہ دلائی۔
ڈاکٹر جے شنکر نے کہا کہ بھارت کی صدارت نے بی آر آئی سی ایس انکیوبیٹر نیٹ ورک اور بی آر آئی سی ایس اسٹارٹ اَپ اختراعی فنڈ کے ذریعے اختراع اور کاروباری ماحول کو مستحکم بنانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس کے فوائد کاروباری برادری کے تمام طبقات تک پہنچنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا تجربہ اسے ایک فطری شراکت دار بناتا ہے، کیونکہ ملک میں ایک بڑی اور تیزی سے وسعت پذیر منڈی، بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیتیں، ہنرمند افراد کی وسیع تعداد، ڈیجیٹل شعبے میں تجربہ اور اختراع و کاروبار کا متحرک ماحول موجود ہے۔ بی آر آئی سی ایس کے رہنماؤں کی آئندہ ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فورم کی سب سے مفید کوشش یہ ہوگی کہ بی آر آئی سی ایس تعاون کے اگلے مرحلے کے لیے کاروباری نقطۂ نظر واضح طور پر پیش کیا جائے، جس میں کاروباری مواقع، کاروباری اداروں کو درپیش چیلنجز اور ان کے حل کے لیے حکومتوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر توجہ مرکوز کی جائے۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزارتِ تجارت و صنعت اور وزارتِ الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے وزیرِ مملکت جناب جتن پرساد نے کہا کہ بی آر آئی سی ایس بزنس فورم بی آر آئی سی ایس ممالک کی اقتصادی صلاحیت کو ٹھوس تجارتی نتائج میں تبدیل کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل خدمات، بالخصوص مصنوعی ذہانت کو تعاون کا ایک اہم شعبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے پیداواریت، معیارِ زندگی، آمدنی اور افراد و چھوٹی و درمیانے درجے کی صنعتوں کے نتائج کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر عالم جنوب میں کمپیوٹنگ کی سہولت تک رسائی یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
جناب پرساد نے اقوامِ متحدہ کو عالمی نظم و نسق کے مرکز میں رکھتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ٹیکنالوجی کے تبادلے اور باہمی تعاون میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔ سیمی کنڈکٹرز کے حوالے سے انہوں نے بھارت کے سیمی کنڈکٹر مشن 2.0 کا ذکر کیا، جس کے تحت تقریباً 13 ارب امریکی ڈالر کی مالی مراعات مختص کی گئی ہیں۔ انہوں نے مکمل سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کی ترقی کے لیے باہمی تعاون پر زور دیا۔
انہوں نے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے اور ڈیٹا سینٹروں کو بھی تعاون کے اہم شعبے قرار دیا اور ان شعبوں میں بھارت کے بہترین تجربات اور طریقۂ کار کو باہمی طورپر مشترک کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بی آر آئی سی ایس ممالک سے اپیل کی کہ وہ مل کر ترقی کریں، مشترکہ سرمایہ کاری کریں اور مشترکہ طور پر اختراع کو فروغ دیں۔ انہوں نے تحقیق و ترقی اور اسٹارٹ اَپس کے لیے مزید وسائل فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ نوجوانوں کو بین الاقوامی سرحدوں کے پار منڈیوں تک رسائی حاصل ہو سکے۔
وزارتِ تجارت کے سکریٹری جناب راجیش اگروال نے کہا کہ بی آر آئی سی ایس ایک اہم اور تیزی سے وسعت پذیر منڈی کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بی آر آئی سی ایس ممالک کے درمیان تجارت 2003 میں 84 ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کر 2024 میں تقریباً 1.2 ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے عالمی تجارتی نظام کو برقرار رکھنے اور اسے دوبارہ فعال بنانے پر زور دیا، جہاں عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) مرکزی اہمیت کی حامل ہو۔ انہوں نے کفایتی ورکنگ کیپیٹل کے ذریعے چھوٹی و درمیانے درجے کی صنعتوں کی مدد کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جے پور اتفاقِ رائے ایک مشترکہ بی آر آئی سی ایس طریقۂ کار تلاش کرنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
جناب اگروال نے بی آر آئی سی ایس کنیکٹ، کاروباری اداروں کے درمیان کاروباری شراکت داری (بی ٹو بی)، سالانہ بی آر آئی سی ایس تجارتی و سرمایہ کاری نمائش، تجارت سے متعلق ڈیجیٹل دستاویزات اور صحت عامہ سمیت مختلف شعبوں میں مزید بہتر تعاون کے ذریعے عالمی ویلیو چین کو مستحکم بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے تعاون، اعتماد، اختراع اور مشترکہ خوشحالی کے ذریعے بی آر آئی سی ایس اقتصادی شراکت داری حکمتِ عملی 2030 کے تحت مزید مضبوط اقتصادی انضمام کی ضرورت پر زور دیا۔ اپنے خطاب کے اختتام پر جناب اگروال نے بی آر آئی سی ایس بزنس فورم کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
******
(ش ح ۔ ش ب ۔ م ا)
UR. No-3314
(ریلیز آئی ڈی: 2309158)
وزیٹر کاؤنٹر : 10