صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
ہندوستان میں ایچ پی وی ٹیکہ کی 80 لاکھ خوراکیں دی گئیں، سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی جانب اہم سنگ میل
قومی ایچ پی وی ٹیکہ کاری مہم کے تحت 80 لاکھ سے زائد خوراکیں دی گئیں
گجرات، اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور میزورم نے 100 فیصد کوریج حاصل کی؛ بہار، آندھرا پردیش اور آسام 90 فیصد سے زائد کوریج
اتر پردیش سرفہرست، 22 لاکھ سے زائد نوعمر لڑکیوں کو ٹیکہ لگایا گیا
تمام ویکسینیشن سیشن طبی نگرانی میں منعقد کیے جا رہے ہیں، نایاب اے ای ایف آئی کے انتظام کے لیے 24×7 انتظامات
وزیر اعظم نریندر مودی نے فروری 2026 میں قومی ایچ پی وی ٹیکہ کاری مہم کا آغاز کیا تھا، جس کے تحت 14 سالہ لڑکیوں کو مفت، رضاکارانہ اور ایک خوراک والی ٹیکہ فراہم کی جا رہی ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 SEP 2026 2:12PM by PIB Delhi
ہندوستان نے سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ فروری 2026 میں آغاز کے بعد سے قومی ایچ پی وی ٹیکہ کاری مہم کے تحت ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) ویکسین کی 80 لاکھ (8 ملین) سے زائد خوراکیں دی جا چکی ہیں۔ یہ سنگِ میل سرکاری صحت عامہ کے نظام کے ذریعے ایچ پی وی ٹیکہ کاری کی بڑھتی ہوئی رسائی کو ظاہر کرتا ہے اور نوعمر لڑکیوں کے لیے احتیاطی صحت کی سہولیات کو مضبوط بنانے کے ہندوستان کے عزم کو مزید تقویت دیتا ہے۔
قومی ایچ پی وی ٹیکہ کاری مہم کا آغاز وزیر اعظم نریندر مودی نے فروری 2026 میں کیا تھا۔ اس مہم کے تحت 14 سالہ لڑکیوں کو والدین کی رضامندی سے سرکاری طبی مراکز میں رضاکارانہ طور پر مفت اور ایک خوراک پر مشتمل ایچ پی وی ٹیکہ کاری فراہم کی جا رہی ہے۔
رجسٹرار جنرل آف انڈیا (آر جی آئی) کے 2021 کے تخمینے کے مطابق، تقریباً 1.2 کروڑ لڑکیاں ہر سال 14 سال کی عمر کے گروپ میں شامل ہوتی ہیں، جنہیں اس اقدام سے ہر سال مستفید ہونے کی توقع ہے۔
ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے ایچ پی وی ٹیکہ کاری کی کوریج میں توسیع کے لیے نمایاں پیش رفت کی ہے، جبکہ کئی ریاستوں نے اپنے متعین ہدف کے مکمل گروپ کو ویکسین فراہم کر دی ہے۔
گجرات، اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور میزورم نے اپنے متعلقہ متعین ہدف کی 100 فیصد کوریج حاصل کر لی ہے۔ بہار، آندھرا پردیش اور آسام نے 90 فیصد سے زائد کوریج حاصل کی ہے، جبکہ کرناٹک میں 85 فیصد سے زیادہ کوریج ریکارڈ کی گئی ہے۔ چھتیس گڑھ، سکم، کیرالہ، تلنگانہ اور اوڈیشہ نے 60 فیصد سے زائد کوریج حاصل کر لی ہے۔
ریاستوں میں اتر پردیش میں سب سے زیادہ ویکسینیشن ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں مہم کے تحت 22 لاکھ سے زائد نوعمر لڑکیوں کو ویکسین دی جا چکی ہے۔

اس پیش رفت سے ریاستوں اور مرکز کے زیرِانتظام علاقوں کی جانب سے مربوط عمل درآمد، مسلسل عوامی بیداری اور ضلعی سطح کی صحت ٹیموں کی فعال شمولیت کی عکاسی ہوتی ہے۔ ریاستوں نے سرکاری صحت عامہ کے نظام کے ذریعے اہل نوعمر لڑکیوں تک پہنچنے کے لیے مقامی حالات کے مطابق مختلف طریقۂ کار اپنائے ہیں، جن میں دیہی، شہری، دور دراز اور جغرافیائی اعتبار سے دشوار علاقوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
مدھیہ پردیش اور گجرات نے اپنے متعین ہدف کے 100 فیصد گروپ کو ویکسین فراہم کرنے کا ہدف حاصل کر لیا ہے، جس میں مسلسل عوامی بیداری، مربوط عمل درآمد اور زمینی سطح پر مرکوز کوششوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ آسام اور شمال مشرقی ریاستوں میں بھی پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جغرافیائی اعتبار سے متنوع علاقوں میں رسائی بڑھانے کے لیے مربوط کمیونٹی ہیلتھ نیٹ ورکس اور زمینی سطح پر مشترکہ اقدامات مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔
مہم میں عوامی شمولیت اور مستند معلومات پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ والدین، صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والوں، اساتذہ اور فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو فعال طور پر شامل کیا گیا ہے تاکہ ایچ پی وی ٹیکہ کاری سے متعلق خدشات دور کیے جا سکیں اور غلط معلومات کا تدارک کیا جا سکے۔
ماہرینِ اطفال، ماہرینِ امراضِ نسواں اور اے آئی آئی ایم ایس (ایمس) جیسے اداروں کے ماہرین سمیت صحت کی دیکھ بھال کی سہولت فراہم کرنے والے، اساتذہ اور فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز، جن میں آشا اور اے این ایم شامل ہیں، نے ریاستوں اور اضلاع میں بیداری اور عوامی رابطہ مہم کو مؤثر بنانے میں تعاون کیا ہے۔
مہم میں یو-وِن پلیٹ فارم کے ذریعے ہندوستان کے ڈیجیٹل ہیلتھ انفراسٹرکچر سے بھی استفادہ کیا گیا ہے، جس سے پروگرام مینیجروں کو ضلعی سطح پر ٹیکہ کاری کوریج کی نگرانی، کوریج میں موجود خلا اور ویکسین سے محروم رہ جانے والے مستحقین کی نشاندہی، نیز پروگرام کی بہتر منصوبہ بندی اور وسائل کی مؤثر تقسیم میں مدد مل رہی ہے۔
قومی مہم،ایچ پی وی ٹیکہ کاری کے حوالے سے دنیا بھر کے وسیع تجربے پر بھی مبنی ہے۔ دنیا بھر میں ایچ پی وی ویکسین کی 80 کروڑ سے زائد خوراکیں تقسیم کی جا چکی ہیں، جس سے ان کے استعمال اور تحفظ کے حوالے سے وسیع عملی تجربہ حاصل ہوا ہے۔
ایچ پی وی ویکسینیشن، جسے ابتدا میں زیادہ تر اعلیٰ آمدنی والے ممالک نے اپنایا تھا، بتدریج مختلف آمدنی والے ممالک کے قومی حفاظتی ٹیکہ جات پروگراموں میں شامل کی جا رہی ہے۔ اس وقت اعلیٰ متوسط آمدنی والے 87 فیصد ممالک، کم متوسط آمدنی والے 78 فیصد ممالک اور کم آمدنی والے 54 فیصد ممالک نے اپنے قومی حفاظتی ٹیکہ جات پروگراموں میں ایچ پی وی ویکسین کو شامل کر لیا ہے۔
مختلف آمدنی والے ممالک میں ایچ پی وی ٹیکہ کاری کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ظاہر ہوتا ہے کہ سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی قومی حکمت عملیوں میں اس کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
مہم کے تحت تمام ویکسینیشن سیشن سرکاری طبی مراکز میں تربیت یافتہ میڈیکل افسران کی نگرانی میں منعقد کیے جا رہے ہیں۔
سرکاری طبی مراکز کو 24×7 طبی سہولیات سے بھی منسلک کیا گیا ہے تاکہ ویکسینیشن کے بعد پیش آنے والے نایاب مضر اثرات (اے ای ایف آئی) کا مناسب انتظام کیا جا سکے۔ اس نظام کے ذریعے ٹیکہ کاری سے متعلق کسی بھی مضر اثر کی بروقت جانچ، نگرانی اور علاج کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
مہم کے آخری مرحلے کی جانب پیش رفت کے ساتھ توجہ ،باقی رہ جانے والی تمام اہل مستحقین تک پہنچنے اور اس بات کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے کہ کوئی بھی اہل لڑکی ٹیکہ کاری سے محروم نہ رہ جائے۔
وزارت صحت و خاندانی بہبود ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں، صحت کے شعبے کے ماہرین، فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز اور عوام کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ بیداری کو مزید فروغ دیا جا سکے، ویکسین تک رسائی آسان بنائی جا سکے اور ایچ پی وی ویکسینیشن مہم کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایچ پی وی ویکسین کی 80 لاکھ خوراکوں کا سنگ میل ہندوستان میں احتیاطی صحت کی سہولیات کو مضبوط بنانے اور آنے والی نسلوں کو سروائیکل کینسر سے طویل مدتی تحفظ فراہم کرنے کی کوششوں میں ایک اہم قدم ہے۔
*****
ش ح۔ م م۔ ش ب ن
U.No. 3313
(ریلیز آئی ڈی: 2309154)
وزیٹر کاؤنٹر : 16