صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
وفاقی وزیرِ صحت جناب جگت پرکاش نڈا نے نیٹ یوجی کونسلنگ 2026 کی تیاریوں کا جائزہ لیا
انہوں نے میڈیکل کونسلنگ کمیٹی (ایم سی سی) کی جانب سے شفاف، سہل اور ٹیکنالوجی سے مربوط کونسلنگ کے عمل کے لیے تیاریوں کا جائزہ لیا
طلبہ دوست کونسلنگ اصلاحات متعارف کرائی گئیں؛ ایک مرتبہ فزیکل رپورٹنگ، آن لائن دستاویزات کی تصدیق اور معذوری کے مقررہ معیار پر پورا اترنے والے افراد کے لیے بہتر سہولیات فراہم کی جائیں گی
مرکزی وزیرِ صحت نے ہدایت دی کہ امیدواروں کے مسائل اور خدشات دور کرنے کے لیے ہر ممکن پیشگی اقدام یقینی بنایا جائے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
29 JUL 2026 6:52PM by PIB Delhi
صحت اورو خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر جناب جگت پرکاش نڈا نے آج آئندہ ہونے والی نیٹ یوجی کونسلنگ 2026 کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ملک بھر میں انڈرگریجویٹ میڈیکل کورسز میں داخلے کے عمل کو شفاف، میرٹ پر مبنی، ٹیکنالوجی سے مربوط اور طلبہ کے لیے سہل بنانے کے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔جائزے کے دوران آل انڈیا کوٹہ (اے آئی کوٹہ) اور میڈیکل کونسلنگ کمیٹی(ایم سی سی) کے دائرۂ کار میں آنے والی دیگر نشستوں کے لیے کونسلنگ کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ میڈیکل کونسلنگ کمیٹی، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس )کے تحت کام کرتی ہے۔
جائزے کے دوران وزیرِ صحت نے میڈیکل کونسلنگ کمیٹی(ایم سی سی)، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس) اور کونسلنگ کے عمل میں شامل دیگر متعلقہ اداروں کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کونسلنگ کے شیڈول، آئی ٹی کے بنیادی ڈھانچے، سائبر سکیورٹی کی تیاری، شکایات کے ازالے کے نظام، امیدواروں کو سہولت فراہم کرنے کے اقدامات اور کونسلنگ میں شریک اداروں کے ساتھ باہمی رابطہ و تعاون کا بھی جائزہ لیا۔
جناب نڈا نے زور دیا کہ کونسلنگ کا عمل شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی ہونا چاہیے اور اس دوران طلبہ کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ مضبوط تکنیکی معاونت کو یقینی بنایا جائے، امیدواروں کی شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے اور داخلے کے پورے عمل کے دوران کونسلنگ پورٹل کی بلا رکاوٹ کارکردگی برقرار رکھی جائے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ امیدواروں کے مسائل اور خدشات دور کرنے کے لیے ہر ممکن پیشگی اقدام یقینی بنایا جائے۔

وزیرِ صحت کو بتایا گیا کہ نیٹ یوجی کونسلنگ 2026 میں ٹیکنالوجی پر مبنی اور طلبہ مرکوز کئی اہم اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، جن کا مقصد شفافیت میں اضافہ، رسائی کو بہتر بنانا اور داخلے کے عمل کو مزید آسان بنانا ہے۔
اہم اصلاحات میں ایک مرتبہ فزیکل رپورٹنگ کا نظام متعارف کرانا شامل ہے، جس سے امیدواروں کو بار بار اداروں کے چکر لگانے کی ضرورت نمایاں طور پر کم ہو جائے گی۔ نشست مختص ہونے کے بعد امیدوار آن لائن اپنی رضامندی ظاہر کرتے ہوئے فریز یا فلوٹ میں سے کسی ایک آپشن کا انتخاب کر سکیں گے۔
فریزآپشن منتخب کرنے والے امیدوار مقررہ شیڈول کے مطابق اپنے مختص کردہ ادارے میں فزیکل طور پر رپورٹ کریں گے اور داخلے کی کارروائی مکمل کریں گے، جس میں اصل دستاویزات کی تصدیق اور داخلہ فیس کی ادائیگی شامل ہوگی۔

فلوٹآپشن منتخب کرنے والے امیدوار اگلے مراحل میں نشست کی اپ گریڈیشن کے لیے حصہ لے سکیں گے اور مقررہ مدت کے اندر داخلے سے متعلق کارروائی، بشمول دستاویزات کی تصدیق، آن لائن مکمل کر سکیں گے۔ اس دوران انہیں مختص کردہ ادارے میں فزیکل طور پر رپورٹ کرنے، اصل دستاویزات جمع کرانے یا داخلہ فیس ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ بعد کے کونسلنگ مراحل میں شرکت کے دوران ان کا عارضی داخلہ برقرار رہے گا۔
نشست کی اپ گریڈیشن کی سہولت کونسلنگ کے تیسرے مرحلے تک دستیاب رہے گی۔ تیسرے مرحلے کی تکمیل کے بعد مختص کردہ نشست رکھنے والے امیدوار اپنے متعلقہ اداروں میں فزیکل طور پر رپورٹ کریں گے، جہاں اصل دستاویزات کی تصدیق، داخلہ فیس کی ادائیگی اور ادارے سے متعلق دیگر رسمی کارروائیاں مکمل کی جائیں گی۔
نظرثانی شدہ نظام کے تحت امیدواروں کو صرف ایک مرتبہ فزیکل رپورٹنگ، اصل دستاویزات کی صرف ایک مرتبہ تصدیق اور داخلہ فیس کی صرف ایک مرتبہ ادائیگی کرنی ہوگی۔ اس سے غیر ضروری سفر میں کمی آئے گی، داخلے کا عمل آسان ہوگا اور طلبہ کو زیادہ سہولت حاصل ہوگی۔

اس سال متعارف کرائی گئی ایک اور اہم اصلاح نشست سے آن لائن استعفیٰ کی سہولت ہے۔ جو امیدوار متعلقہ کونسلنگ کے قواعد اور مقررہ مدت کے تحت اپنی مختص کردہ نشست سے دستبردار ہونا چاہیں گے، وہ اب میڈیکل کونسلنگ کمیٹی (ایم سی سی) کے کونسلنگ پورٹل کے ذریعے آن لائن استعفیٰ جمع کرا سکیں گے۔ اس کے لیے انہیں مختص کردہ ادارے میں فزیکل طور پر جانے کی ضرورت نہیں ہوگی، البتہ انفارمیشن بلیٹن میں اس کے برخلاف کوئی ہدایت موجود ہو یا ایم سی سی کی جانب سے الگ سے اطلاع جاری کی گئی ہو تو اس پر عمل کرنا ہوگا۔
جائزے کے دوران شفافیت اور انتظامی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے کئی اقدامات کو بھی اجاگر کیا گیا۔ ان میں نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی(این ٹی اے) سے موصول ہونے والے امیدواروں کے پہلے سے پُر شدہ کوائف، آن لائن دستاویزات کی تصدیق، نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی)کی جانب سے نشستوں کی تفصیلات کی تصدیق اور کونسلنگ میں شریک اداروں کی جانب سے تصدیق شامل ہیں۔
معذوری کے مقررہ معیار پر پورا اترنے والے افراد کے لیے رسائی کو بہتر بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ سہولت، شفافیت اور تشخیص میں یکسانیت کو یقینی بنانے کے لیے ملک بھر میں مقررہ تشخیصی مراکز کی تعداد 16 سے بڑھا کر 61 کر دی گئی ہے۔
نیشنل میڈیکل کمیشن کی 27 جولائی 2026 کی گائیڈ لائنز کے مطابق، مقررہ میڈیکل بورڈز کی جانب سے جاری کیے جانے والے سرٹیفکیٹ کو اب "اہلیت سرٹیفکیٹ" کہا جائے گا۔ اس نام کی تبدیلی کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ یہ سرٹیفکیٹ امیدوار کی فعلی صلاحیتوں کی تشخیص کی بنیاد پر ایم بی بی ایس کورس میں داخلے کے لیے اس کی اہلیت کا تعین کرتا ہے۔نظرثانی شدہ گائیڈ لائنز میں معذور امیدواروں کی تشخیص کے لیے ایک شفاف، یکساں، شواہد پر مبنی اور قابلیت مرکوز نظام وضع کیا گیا ہے، جس کے ذریعے مساوی مواقع، تعلیمی معیار، پیشہ ورانہ اہلیت اور مریضوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا۔
نئی گائیڈ لائنز میں اپیلیٹ ڈس ایبلٹی اسیسمنٹ بورڈ کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے، جس کے تحت اہل امیدوار انفارمیشن بلیٹن میں درج دفعات کے مطابق ابتدائی ڈس ایبلٹی اسیسمنٹ بورڈ کی تشخیص کے خلاف اپیل کر سکیں گے۔

ایک اور اہم اصلاح این آر آئی زمرے کے تحت داخلے کے عمل کامکمل ڈیجیٹلائزیشن ہے۔ اب این آر آئی امیدواروں کی رجسٹریشن مقررہ اہلیت کے معیار کے مطابق مکمل طور پر آن لائن کونسلنگ پورٹل کے ذریعے کی جائے گی۔ امیدوار تمام مطلوبہ دستاویزات آن لائن اپ لوڈ کریں گے، جس سے ای میل کے ذریعے دستاویزات جمع کرانے کا سابقہ طریقہ ختم ہو جائے گا۔ اپ لوڈ کی گئی دستاویزات کی تصدیق نامزد دستاویزاتی تصدیقی افسران آن لائن کریں گے، جس سے تصدیق کا عمل شفاف، مؤثر اور مقررہ مدت کے اندر مکمل ہوگا۔
ایم سی سی نے 27 مئی 2026 کو جاری کردہ عوامی نوٹس کے ذریعے پہلے ہی مطلع کیا تھا کہ این آر آئی زمرے کے تحت درخواست دینے والے امیدواروں کو کونسلنگ کے دوران، معزز سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق، ثبوت اور متعلقہ قانونی دستاویزات پیش کرنا ہوں گی۔ ان دستاویزات کے ذریعے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ سرپرست ، گارجین اینڈ وارڈس ایکٹ ،1890 کی دفعات کے تحت امیدوار کا حقیقی قانونی سرپرست ہے۔
جناب نڈا کو یہ بھی بتایا گیا کہ نیشنل انفارمیٹکس سینٹر (این آئی سی) کے تعاون سے سائبر سکیورٹی کی تیاریوں کا جامع جائزہ لیا گیا ہے۔ ملک بھر میں کونسلنگ کے عمل کے یکساں نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے ڈس ایبلٹی اسیسمنٹ بورڈز، کالجوں کے نوڈل افسران اور دستاویزاتی تصدیقی افسران کے لیے تربیتی پروگرام بھی منعقد کیے گئے ہیں۔
امیدواروں کی معاونت کو مزید مستحکم بنانے کے لیے 24 گھنٹے دستیاب ٹول فری کال سینٹر (1800-102-7637) قائم کیا گیا ہے۔ امیدواروں کی رہنمائی کے لیے مختلف پلیٹ فارمز پر دو زبانوں میں معلومات سے متعلق مواد، اکثر پوچھے جانے والے سوالات (ایف اے کیو ز) اور رہنمائی پر مبنی ویڈیوز بھی دستیاب کرائی جا رہی ہیں۔ امیدواروں کے سوالات اور شکایات کے فوری ازالے کے لیے ای میل پر مبنی مخصوص شکایتی نظام mcc2026[at]gov[dot]in بھی قائم کیا گیا ہے۔
نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے 16 جولائی 2026 کو نیٹ (یوجی) 2026 کے نتائج کا اعلان کیا تھا۔ ایم بی بی ایس، بی ڈی ایس اور (بی ایس سی آنرس) نرسنگ کی آل انڈیا کوٹہ نشستوں کے لیے کونسلنگ کا عمل جلد شروع ہونے کی توقع ہے۔
امیدواروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ نشست قبول کرنے، اپ گریڈیشن، استعفیٰ یا معذوری کی تشخیص سے متعلق کوئی بھی آپشن منتخب کرنے سے قبل انفارمیشن بلیٹن، کونسلنگ اسکیم اور قابلِ اطلاق قواعد کا بغور مطالعہ کریں۔ انہیں یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ داخلے کے پورے عمل کے دوران باقاعدگی سے ایم سی سی کے سرکاری کونسلنگ پورٹل کا دورہ کریں اور جاری کردہ کونسلنگ شیڈول کی پابندی کریں۔
جائزہ اجلاس میں وزارت صحت وخاندانی بہبود کی سیکریٹری محترمہ پونیا سلیلا سریواستو، ایڈیشنل سیکریٹری برائے میڈیکل ایجوکیشن محترمہ ونود کوٹوال، وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر لوونیش جی کرشنا، نیشنل انفارمیٹکس سینٹر کے ڈائریکٹر جنرل جناب پریانک بھارتی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
*****
(ش ح ۔ ت ف۔ م ذ)
U.No: 3277
(ریلیز آئی ڈی: 2308853)
وزیٹر کاؤنٹر : 6