زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
نویں آسیان۔بھارت وزارتی میٹنگ میں غذائی تحفظ، پائیدار زراعت اور مضبوط ویلیو چینز کے عزم کا اعادہ کیا گیا
آسیان اور بھارت کا موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زراعت، ڈیجیٹل جدت اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق
آسیان۔بھارت زرعی تعاون میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل زراعت، کسان مرکوز اقدامات اور مضبوط سپلائی چین پر توجہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 SEP 2026 12:56PM by PIB Delhi
زراعت اور جنگلات سے متعلق آسیان۔بھارت کی نویں وزارتی میٹنگ (9ویں اے آئی ایم ایم اے ای) 9 ستمبر 2026 کو ، بھارت میں نئی دہلی میں منعقد ہوئی۔ میٹنگ کی مشترکہ صدارت فلپائن کے زراعت کے محکمے کے سکریٹری عزت مآب فرانسسکو پی- ٹیو لوریل نے کی، جو زراعت اور جنگلات سے متعلق آسیان وزرا کی میٹنگ کی چیئر کی نمائندگی کر رہے تھے، جبکہ بھارت کی جانب سے زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارت کے وزیر عزت مآب جناب شیو راج سنگھ چوہان صدارت کررہے تھے۔
مذکورہ میٹنگ میں آسیان۔بھارت جامع اہمیت کی حامل شراکت داری کے ایک عملی اور باہمی مفاد پر مبنی جزو کے طور پر خوراک، زراعت اور جنگلات کے شعبوں میں آسیان۔بھارت تعاون کی اہمیت کا اعادہ کیا گیا۔ میٹنگ میں ایسے تعاون کو آگے بڑھانے کے عزم پر زور دیا گیا ،جو غذائی تحفظ اور تغذیہ، کسانوں کی روزی روٹی، پائیدار اور کاربن کے کم اخراج پر مبنی ترقی، اختراع، تحقیق و ترقی، دیہی خوشحالی اور زرعی و جنگلاتی نظام کی پائیداری کو فروغ دے۔
میٹنگ میں ‘آسیان 2045: ہمارا مشترکہ مستقبل’ اور ‘لچکدار، اختراعی، متحرک اور عوام پر مرکوز آسیان کے لیے آسیان کمیونٹی وژن 2045’ کا خیرمقدم کیا گیا۔ مذکورہ میٹنگ میں2045 تک خوراک، زراعت اور جنگلات کے وژن سے متعلق آسیان رہنماؤں کے اعلامیے اور آسیان خوراک، زراعت اور جنگلات کے شعبہ جاتی منصوبہ 2026-2030 کا بھی خیرمقدم کیا گیا۔ یہ دونوں دستاویزات ایک پائیدار، جامع، لچکدار اور محفوظ شعبے کے لیے اسٹریٹجک سمت فراہم کرتی ہیں، جو کسانوں کی روزی روٹی کو مستحکم کرتا ہے، ماحولیات کا تحفظ کرتا ہے، اختراع کو فروغ دیتا ہے اور موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے اور اس کے اثرات کو کم کرنے میں معاون ہوتا ہے۔
میٹنگ میں خوراک، زراعت اور جنگلات کے شعبوں پر عالمی سطح پر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال کے اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں آب و ہوا سے متعلق تبدیلی اور موسم سے متعلق شدید واقعات، جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی کشیدگی، توانائی، کھاد اور زرعی ان پٹ منڈیوں میں اتار چڑھاؤ، تجارت اور رسد کے نظام میں حائل رکاوٹیں، پودوں اور جانوروں کی صحت سے متعلق مسائل، سرحد پار پودوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑے اور جانوروں کی بیماریاں شامل ہیں۔ میٹنگ میں خوراک اور ضروری زرعی ان پٹس، یعنی کھاد، بیج اور کیڑے مار ادویات کی سپلائی چین کے تسلسل کو برقرار رکھنے اور یقینی بنانے، علاقائی نگرانی اور پیشگی انتباہ کے نظام کو مضبوط بنانے، رسد کے ذرائع کو متنوع بنانے اور چھوٹے کسانوں اور کمزور طبقات کی مدد کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ میٹنگ میں اس بات سے بھی اتفاق کیا گیا کہ آسیان اور بھارت کو مضبوط، پائیدار اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق فوری ردعمل دینے والے خوراک اور زرعی نظام کی تشکیل کے لیے عملی تعاون کو مزید گہرا کرنا چاہیے۔
میٹنگ میں زراعت اور جنگلات کے شعبے میں تعاون کے لیے آسیان۔بھارت کے 2021-2025 کے وسط مدتی عملی منصوبے پر عمل درآمد میں ہونے والی پیش رفت کو سراہا گیا۔ اس مدت کے دوران آسیان اور بھارت نے وزارتی اور اعلی سطحی حکام کے درمیان پالیسی مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا اور غذائی تحفظ، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ اور پائیدار زراعت، قدرتی وسائل کے تحفظ اور ماحول کے لیے سازگار طریقہ کار، پائیدار مٹی کے انتظام، انسانی وسائل کی ترقی، ڈیجیٹلائزیشن، سائنس و ٹیکنالوجی اور اداروں اور کسانوں کے درمیان باہمی تبادلوں کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنایا گیا۔
مذکورہ میٹنگ میں 2021-2025 کے دوران تعاون کے تحت حاصل کی گئی متعدد اہم حصولیابیوں کو اجاگر کیا گیا۔ ان میں بحران کے حالات میں غذائی تحفظ اور تغذیہ کو مضبوط بنانے سے متعلق آسیان۔بھارت مشترکہ رہنماؤں کا بیان،2023 میں جکارتہ اور نئی دہلی میں منعقد ہونے والے آسیان۔بھارت موٹے اناج سے متعلق فیسٹیول شامل ہیں، جن کے ذریعے غذائی تنوع، بہتر تغذیہ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ فصلوں کو فروغ دیا گیا۔ اس کے علاوہ 2024 میں زراعت اور متعلقہ علوم میں اعلی تعلیم کے لیے آسیان۔بھارت فیلوشپ کا بھی آغاز کیا گیا، جس کے تحت آسیان کے رکن ممالک کے طلبا کو پانچ سال کے دوران ماسٹرز کی 50 فیلوشپ فراہم کی جائیں گی۔ میٹنگ میں اسمارٹ فارمنگ اور مٹی کی صحت، مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ آف تھنگس اور درست زراعت کے لیے مشین لرننگ کے شعبوں میں باہمی تعاون کے اقدامات کو آگے بڑھانے اور کسانوں کے درمیان علم کے تبادلے میں ہونے والی پیش رفت کا بھی ذکر کیا گیا۔
امداد باہمی کے شعبوں میں اقدامات پر عمل درآمد سے تحقیق، اختراع، ٹیکنالوجی کی منتقلی، مشاورتی اور زرعی توسیعی خدمات، نجی شعبے اور کسان تنظیموں کے درمیان روابط کو مضبوط بنایا جانا چاہیے، تاکہ ٹیکنالوجی کی تیاری اور اس کے عملی استعمال کے درمیان فرق کو کم کیا جا سکے اور زرعی پیداوار میں ٹیکنالوجی کے وسیع پیمانے پر استعمال کو آسان بنایا جا سکے۔
ان حصولیابیوں اور آسیان کی نئی اسٹریٹجک سمت کی بنیاد پر میٹنگ نے زراعت اور جنگلات کے شعبے میں تعاون کے لیے آسیان۔بھارت کے 2026-2030 کے وسط مدتی عملی منصوبے کو اپنانے اور اس پر عمل درآمد کی امید کا اظہار کیا۔ نیا منصوبہ باہمی طور پر ایک دوسرے کو تقویت بہم پہنچانے والے چار اہم شعبوں میں تعاون کی رہنمائی کرے گا، جس میں پالیسی مذاکرات، غذائی تحفظ، تجارت، سرمایہ کاری اور مضبوط ویلیو چینز؛ ادارہ جاتی روابط، معلومات کا تبادلہ اور ڈیجیٹل اختراع؛ صلاحیت سازی، ٹیکنالوجی میں تعاون اور مشترکہ تحقیق و ترقی؛ اور انسانی وسائل کی ترقی، کسانوں کے درمیان تبادلے اور جامع دیہی کاروبار شامل ہیں۔
اس میٹنگ میں اس بات سے بھی اتفاق کیا گیا کہ نئے منصوبے پر عمل درآمد کے دوران عملی، وسیع پیمانے پر قابل عمل اور کسانوں پر مرکوز اقدامات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ ان اقدامات میں کاربن کے کم اخراج والی چاول کی کاشت اور پانی کے موثر استعمال کے لیے تعاون؛ مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ آف تھنگس اور دیگر ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے استعمال سمیت ڈیجیٹل زراعت اور جنگلات؛ مٹی کی صحت اور حیاتیاتی زرعی ان پٹس؛ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ اور غذائیت سے بھرپور فصلیں؛ غذائی تحفظ؛ فصلوں کی کٹائی کے بعد کے انتظام اور خوراک کے ضیاع و بربادی میں کمی؛ کھیتوں میں فصلوں کی باقیات جلانے کے متبادل اور حیاتیاتی معیشت کے دائرہ جاتی حل؛ خوراک سے متعلق مضبوط سپلائی چین اور زرعی ان پٹس؛ پائیدار جنگلاتی انتظام، جنگلات اور مناظر کی بحالی، زرعی جنگلات، جنگلات کی نگرانی اور ذمہ دارانہ جنگلات پر مبنی ویلیو چینز اور مقامی برادریوں کے کاروباری ادارے شامل ہو سکتے ہیں۔
مذکورہ میٹنگ میں تحقیق اور تعلیمی اداروں، کسان تنظیموں، کوآپریٹیوز، چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتوں، نجی شعبے، مالیاتی اداروں اور متعلقہ ترقیاتی شراکت داروں کی مناسب طور پر شرکت کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی۔
اس میٹنگ میں مارکیٹ کے درمیان رابطے اور ان تک رسائی کو مضبوط بنانے؛ زرعی مصنوعات کے معیار اور قدر میں اضافے کے لیے قدر افزا پروسیسنگ، محفوظ رکھنے کی ٹیکنالوجیز اور فصلوں کی کٹائی کے بعد کے انتظام کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے؛ اور زرعی و جنگلاتی مصنوعات کی نقل و حرکت اور تقسیم کو آسان بنانے کے لیے زرعی اور جنگلاتی لاجسٹکس کے رابطوں کو بہتر بنانے سے بھی اتفاق کیا گیا۔
مذکورہ میٹنگ میں آسیان اور بھارت کے متعلقہ اعلی حکام اور ورکنگ طریقہ کار کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ متعلقہ منصوبے کو واضح ترجیحات، مرکزی ذمہ دار اداروں، متوقع نتائج، مقررہ مدت اور ممکنہ معاونت کے ذرائع کے ساتھ نتائج پر مبنی مسلسل عملی پروگرام میں تبدیل کریں۔ میٹنگ میں قابل اطلاق قواعد و ضوابط اور طریقہ کار کے تحت، دستیاب آسیان۔بھارت مالیاتی نظام، رضاکارانہ قومی وسائل اور باہمی طور پر طے شدہ دیگر معاونت کو موثر انداز میں بروئے کار لانے کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی۔ لہذا بروقت عمل درآمد، قابل پیمائش فوائد اور کامیاب اقدامات کو وسیع پیمانے پر نافذ کرنے کو یقینی بنانے کے لیے پیش رفت کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے گی۔
اس میٹنگ میں 2028 میں زراعت اور جنگلات سے متعلق آسیان۔بھارت کی دسویں وزارتی میٹنگ منعقد کرنے سے اتفاق کیا گیا۔
اس میٹنگ میں9ویں اے آئی ایم ایم اے ایف میٹنگ کے لیےوالہانہ اندازمیں میزبانی انجام دینے اور بہترین انتظامات کرنے پر بھارتی حکومت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا گیا۔
*****
ش ح۔ ش م ۔ت ع
U.No. 3256
(ریلیز آئی ڈی: 2308681)
وزیٹر کاؤنٹر : 12