مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

لوگوں کی رقم ضائع سے پہلے ہی بچا لی گئی، ایف آر آئی کے ذریعے 5,000 کروڑ روپے سے زیادہ کے مشتبہ سائبر فراڈ لین دین کو  روکا گیا


ایف آر آئی کے ذریعے 22 مئی 2025 کو اپنے آغاز کے بعد سے پندرہ مہینوں میں شہریوں کی محنت سے کمائی ہوئی 5000 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم کو محفوظ کیاگیا

ڈیجیٹل انٹیلی جنس پلیٹ فارم سے 1,600 سے زیادہ ادارے منسلک ہیں، 1,500 بینکوں، مالیاتی اداروں اور ضابطہ کار اداروں کیلئے 25 سے زائد تربیتی اجلاس منعقد کئے گئے

مالیاتی اداروں کی جانب سے ایف آر آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث فراڈ کی روک تھام کی صلاحیت تقریباً آٹھ گنا بڑھ گئی ہے ،  پہلے چھ ماہ میں 660 کروڑ روپے سے بڑھ کر اگست 2026 تک یہ رقم 5,043.73 کروڑ روپے ہوگئی

رقم کو تلاش کرنے میں نہ ایف آئی آر درج کرانے کی ضرورت پڑی، نہ تفتیش ہوئی، نہ کھاتہ منجمد کرنا پڑا، نہ ریکارڈ طلب کرنا پڑا اور نہ ہی لوگوں کو مہینوں تک پیروی کی زحمت اٹھانی پڑی، کیونکہ یہ رقم ابتدا ہی میں شہری کے کھاتے سے باہر نہیں گئی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 08 SEP 2026 4:39PM by PIB Delhi

ڈیجیٹل معیشت میں شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے محکمہ ٹیلی مواصلات نے 22 مئی 2025 کو آغاز کے بعد صرف پندرہ ماہ میں اپنے مالی فراڈ رسک انڈیکیٹر (ایف آر آئی) کے ذریعے 5,000 کروڑ روپے سے زائد کے مشتبہ سائبر فراڈ سے ہونے والے مالی نقصان کو روکنے میں مدد کی ہے۔ اس رقم کو تلاش کرنے، منجمد کرنے یا واپس حاصل کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی، کیونکہ یہ ابتدا ہی میں شہری کے کھاتے سے باہر نہیں گئی۔

یہ سنگ میل اس اقدام کی مؤثر توسیع کی عکاسی کرتا ہے، جس نے اپنے ابتدائی چھ ماہ کے دوران 660 کروڑ روپے کے مالی نقصان کو روکنے میں مدد کی تھی۔ یہ پیش رفت ڈیجیٹل مالی فراڈ سے شہریوں کو محفوظ رکھنے میں ٹیلی مواصلاتی انٹیلی جنس کے بڑھتے ہوئے کردار اور ٹیلی مواصلات، بینکاری، مالیاتی ٹیکنالوجی، سیکیورٹیز، بیمہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نظام میں مربوط کارروائی کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے۔

شہریوں کی رقم فراڈ کی نذر ہونے سے بچ گئی

پانچ ہزار کروڑ روپے کے اس اعداد و شمار کے پیچھے لاکھوں شہریوں کو تحفظ فراہم کیے جانے کے انفرادی واقعات شامل ہیں۔ ان میں ایک ایسا پنشن یافتہ شخص بھی ہے جو جعلی کے وائی سی کال کے ذریعے زندگی بھر کی جمع پونجی گنوانے سے بچ گیا؛ ایک چھوٹا تاجر بھی ہے جس کی ’فراڈ سپلائر‘ کو کی جانے والی ادائیگی رقم منتقل ہونے سے چند سیکنڈ پہلے روک دی گئی؛ اور ایک ایسا شخص بھی ہے جس نے پہلی بار ڈیجیٹل لین دین کیا، اسکرین پر انتباہ دیکھا اور لین دین روک دیا۔ ہر معاملے میں شہری کو نقصان ہونے سے پہلے ہی تحفظ فراہم کیا گیا، جس سے بعد میں تفتیش کی زحمت اور پریشانی سے بچایا جا سکا۔

تحفظ فراہم کرنے کی رفتار میں بھی نمایاں تیزی آئی ہے۔ ایف آر آئی کے استعمال سے مجموعی طور پر بچائی گئی رقم اگست 2025 میں 139.16 کروڑ روپے سے بڑھ کر اگست 2026 تک 5,043.73 کروڑ روپے ہوگئی۔ صرف اپریل 2026 سے شروع ہونے والے چار ماہ کے دوران 2,000 کروڑ روپے سے زائد کے ممکنہ نقصان کو روکا گیا، کیونکہ بینکوں اور ادائیگی کے پلیٹ فارموں میں ایف آر آئی کا استعمال اور دائرۂ کار مسلسل وسیع ہوا ہے۔

ایف آر آئی کے ذریعے اگست 2025 سے اگست 2026 تک روکے گئے مشتبہ مالی فراڈ سے ہونے والے مجموعی نقصانات (کروڑ روپے میں)

ایف آر آئی — اپنی نوعیت کا پہلا ٹیلی مواصلاتی انٹیلی جنس نظام

ایف آر آئی محکمہ ٹیلی مواصلات کی جانب سے تیار کیا گیا ایک جدید خطرے کے جائزے کا نظام ہے، جس کے ذریعے مالیاتی ادارے حقیقی وقت میں یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کسی موبائل نمبر کے سائبر جرائم یا مالی فراڈ سے وابستہ ہونے کا کتنا امکان ہے۔

ایف آر آئی محکمہ ٹیلی مواصلات کے ڈیجیٹل انٹیلی جنس پلیٹ فارم کے تحت تیار کیا گیا ہے، جو موبائل نمبروں کو مالی فراڈ میں ملوث ہونے کے امکان کی بنیاد پر تین زمروں میں تقسیم کرتا ہے: درمیانے، زیادہ اور انتہائی زیادہ خطرے والے نمبر۔ اس درجہ بندی کے لیے متعدد ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو مدنظر رکھا جاتا ہے، جن میں سنچار ساتھی پلیٹ فارم پر شہریوں کی جانب سے درج کرائی گئی شکایات، انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر کے قومی سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل سے حاصل ہونے والی معلومات، اور ٹیلی مواصلاتی آپریٹروں، بینکوں، مالیاتی اداروں کی جانب سے فراہم کردہ انٹیلی جنس سمیت ٹیلی مواصلات سے متعلق دیگر عوامل شامل ہیں۔

یہ انٹیلی جنس محکمہ ٹیلی مواصلات کے ڈیجیٹل انٹیلی جنس پلیٹ فارم کے ذریعے محفوظ طریقے سے بینکوں، ادائیگی خدمات فراہم کرنے والے اداروں، بیمہ کمپنیوں، سیکیورٹیز کے بیچولیوں اور پنشن شعبے سے وابستہ اداروں کے ساتھ شیئر کی جاتی ہے۔ صارفین کے اندراج، لین دین کی نگرانی اور فراڈ کی نشاندہی کرنے والے نظام میں ٹیلی مواصلاتی خطرات سے متعلق انٹیلی جنس کو شامل کرنے سے ادارے نقصان ہونے سے پہلے ہی زیادہ خطرے والے لین دین کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ اس طرح فراڈ سے نمٹنے کا طریقہ کار بعد از وقوع ردعمل کے بجائے پیشگی کارروائی اور روک تھام پر مبنی نظام میں تبدیل ہو رہا ہے۔

نقصان ہونے سے پہلے روک تھام ہی بہترین تحفظ ہے

جب سائبر فراڈ کامیاب ہو جاتا ہے تو شہری کو ہونے والا نقصان محض ابتدا ہوتی ہے۔ عموماً فراڈ کی رقم چند ہی منٹوں میں کئی بینکوں میں موجود جعلی یا کرائے کے کھاتوں کے ایک سلسلے سے گزرتی ہوئی مزید آگے منتقل ہو سکتی ہے، اس سے پہلے کہ اسے نکال لیا جائے۔ اس کے بعد رقم کی واپسی وقت کے خلاف ایک دوڑ بن جاتی ہے۔

ایک کامیاب فراڈ متعدد سرکاری اور ادارہ جاتی سطح کی طویل اور مہنگی کارروائی کا آغاز کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس ایف آر آئی کی جانچ ادائیگی شروع ہوتے ہی ایک سیکنڈ کے بھی معمولی حصے میں مکمل ہو جاتی ہے۔ نہ شکایت درج کرانے کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کسی مقدمے کی تفتیش کی، نہ کھاتہ منجمد کرنے کی، نہ ریکارڈ طلب کرنے کی اور نہ رقم کا سراغ لگانے کی۔ پسِ پردہ خاموشی سے کام کرنے والی مشین سے مشین خودکار جانچ، متعدد اداروں میں ہونے والی دستی کارروائیوں کے ایک طویل سلسلے کی جگہ لے لیتی ہے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو 5,000 کروڑ روپے کا اعداد و شمار اس اقدام سے ملک کو حاصل ہونے والے حقیقی فائدے کو پوری طرح ظاہر نہیں کرتا۔ اس میں صرف وہ رقم شمار ہوتی ہے جو شہریوں کے پاس محفوظ رہی۔ اس میں وہ شکایات شامل نہیں جو کبھی درج ہی نہیں ہوئیں، وہ ایف آئی آر شامل نہیں جو کبھی درج نہیں کی گئیں، تفتیش میں صرف نہ کیے گئے گھنٹے، وہ رقم منجمد کرنے کے احکامات جو کبھی جاری نہیں ہوئے، ٹیلی مواصلاتی ریکارڈ جو کبھی طلب نہیں کیے گئے، بینک کی وہ شاخوں کے دورے جو کبھی نہیں کرنے پڑے، اور وہ ذہنی اذیت جو شہریوں کو کبھی برداشت نہیں کرنا پڑی۔ روک تھام سے تفتیش کی ضرورت ہی ختم ہو جاتی ہے۔

حکومت کے تمام شعبوں کا مشترکہ حفاظتی نظام، باہمی تعاون سے فراڈ کی روک تھام

مالی فراڈ عموماً کسی ایک شعبے تک محدود نہیں رہتے۔ فراڈ کا آغاز ٹیلی مواصلاتی وسائل کے غلط استعمال سے ہو سکتا ہے، پھر یہ ڈیجیٹل ادائیگی کے ذرائع سے گزرتا ہوا آخرکار بینکاری، سیکیورٹیز، بیمہ یا پنشن کے کھاتے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ایسے خطرات سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس پر مبنی حکومت بھر میں مربوط اور مشترکہ حکمتِ عملی ضروری ہے۔

اسی مقصد کے تحت محکمہ ٹیلی مواصلات نے مالیاتی شعبے کے ضابطہ کار اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ قریبی تعاون کرتے ہوئے ایف آر آئی سے حاصل ہونے والے اشاروں کو براہِ راست فراڈ کی نشاندہی اور روک تھام کے نظام کا حصہ بنایا ہے۔ بینک اور یو پی آئی خدمات فراہم کرنے والے ادارے پہلے ہی ایف آر آئی سے حاصل ہونے والی انٹیلی جنس کو استعمال کرتے ہوئے زیادہ اور انتہائی زیادہ خطرے والے موبائل نمبروں سے وابستہ لین دین کو حقیقی وقت میں روک رہے ہیں یا ان پر انتباہ جاری کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بھارتی ریزرو بینک، نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا اور مالیاتی شعبے کے دیگر اداروں کے ساتھ قریبی بین الادارہ جاتی تعاون بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

بینکاری کے ساتھ دیگر مالیاتی شعبوں کو بھی تحفظ

اس نظام کو بتدریج مزید شعبوں تک توسیع دی جا رہی ہے تاکہ شہریوں کی رقم جہاں بھی موجود ہو، اسے وہیں پر محفوظ رکھا جا سکے:

سکیورٹیز مارکیٹ کے بیچولیوں تک، تاکہ ٹریڈنگ اور ڈیمیٹ کھاتوں سے متعلق فراڈ کے معاملات کی روک تھام کی جا سکے؛

بیمہ کمپنیوں تک، تاکہ پالیسی جاری کرتے وقت اور دعووں کی کارروائی کے دوران فراڈ کی بہتر جانچ یقینی بنائی جا سکے؛ اور

پنشن نظام سے وابستہ افراد تک، تاکہ پنشن کھاتوں اور ان سے ہونے والے لین دین کو محفوظ رکھا جا سکے۔

مالیاتی شعبے میں صلاحیت سازی

اس پیمانے پر روک تھام کا انحصار اس بات پر ہے کہ ادارے موصول ہونے والے خطرے کے اشاروں پر فوری کارروائی کرنے کے قابل ہوں۔ محکمہ ٹیلی مواصلات نے ایف آر آئی کے طریقۂ کار، ڈیجیٹل انٹیلی جنس پلیٹ فارم کے ساتھ انضمام اور فراڈ سے نمٹنے کے نظام میں خطرے کے اشاروں کے استعمال سے متعلق 1,500 بینکوں، مالیاتی اداروں اور ضابطہ کار اداروں کو شامل کرتے ہوئے 25 سے زائد تربیتی اجلاس منعقد کیے ہیں۔ اس سے بینک کاؤنٹر اور موبائل ایپ پر خطرے کی تیز تر نشاندہی اور فوری فیصلوں کے لیے درکار اعتماد اور صلاحیت کو فروغ ملا ہے۔

جن بھاگیداری — شہریوں کی بیداری ہی تحفظ کی پہلی کڑی

ایف آر آئی کی کامیابی کا انحصار جن بھاگیداری، یعنی شہریوں کی شمولیت، پر ہے۔ ہر وہ شہری جو سنچار ساتھی پورٹل یا موبائل ایپلی کیشن پر کسی مشتبہ کال یا پیغام کی اطلاع دیتا ہے، ایف آر آئی کو مؤثر بنانے والی انٹیلی جنس میں اضافہ کرتا ہے۔ ایک چوکس شہری کی جانب سے دی گئی ایک اطلاع بھی ہزاروں دیگر افراد کو انتباہ جاری کرنے کا سبب بن سکتی ہے، جو بصورت دیگر سائبر فراڈ کا شکار ہو سکتے تھے۔

محکمہ شہریوں اور ’سائبر وارئیرز‘ کی چوکسی اور ان کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات کو سراہتا ہے، جن کی بدولت یہ نظام مؤثر طور پر کام کر رہا ہے۔

شہریوں کیلئے ضروری ہدایات

  • ادائیگی سے متعلق انتباہات کو سنجیدگی سے لیں۔ اگر بینکنگ یا یو پی آئی ایپ آپ کو اس نمبر کے بارے میں خبردار کرے جس پر آپ رقم بھیج رہے ہیں تو ادائیگی آگے بڑھانے سے پہلے رکیں اور آزادانہ طور پر اس کی تصدیق کریں۔
  • مشتبہ فراڈ کالز، ایس ایم ایس یا واٹس ایپ پیغامات کی اطلاع چکش کے ذریعے سنچار ساتھی پورٹل یا موبائل ایپلی کیشن پر دیں۔ یہ ایپ اینڈرائیڈ اور آئی او ایس دونوں پر دستیاب ہے۔
  • مالیاتی سائبر فراڈ کی صورت میں فوری طور پر 1930 پر کال کریں یا قومی سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل پر شکایت درج کریں — پہلا گھنٹہ سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔
  • سنچار ساتھی پر اپنے نام سے جاری موبائل کنکشنز کی جانچ کریں اور اگر کوئی کنکشن آپ کا نہیں ہے تو اس کی اطلاع دیں۔
  • گم یا چوری ہونے والے موبائل فون کی اطلاع سنچار ساتھی پر دیں تاکہ اسے بند اور تلاش کیا جا سکے۔
  • موبائل فون خریدنے سے پہلے اس کی اصلیت اور درست ہونے کی تصدیق ضرور کریں۔

محکمہ ایک محفوظ ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کے قیام کے لیے پُرعزم ہے، جس کی بنیاد فراڈ کی پیشگی نشاندہی، انٹیلی جنس پر مبنی پالیسی اقدامات اور مختلف اداروں کے ساتھ ساتھ سرکاری و نجی شعبے کے درمیان مسلسل تعاون پر قائم ہے۔

مالی فراڈ رسک انڈیکیٹر (ایف آر آئی) کے بارے میں

ایف آر آئی ایک کثیر الجہتی تجزیاتی نظام ہے، جسے محکمہ ٹیلی مواصلات نے 22 مئی 2025 کو اپنے ڈیجیٹل انٹیلی جنس پلیٹ فارم کے تحت شروع کیا تھا۔ اس کا مقصد مالیاتی اداروں کو سائبر فراڈ کی روک تھام کے لیے قابلِ عمل اور حقیقی وقت کی انٹیلی جنس فراہم کرنا ہے۔ یہ محکمہ ٹیلی مواصلات کی جانب سے شہریوں کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے وسیع تر اقدامات کا حصہ ہے، جن میں سنچار ساتھی، چکش، سی ای آئی آر اور ایسٹر شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ٹیلی مواصلاتی ذرائع سے ہونے والے سائبر فراڈ کا مقابلہ کرنا ہے۔

ڈیجیٹل انٹیلی جنس پلیٹ فارم (ڈی آئی پی) کے بارے میں

ڈیجیٹل انٹیلی جنس پلیٹ فارم محکمہ ٹیلی مواصلات کی جانب سے تیار کیا گیا ایک محفوظ اور ملک گیر انٹیلی جنس شیئرنگ اور رابطہ کاری کا پلیٹ فارم ہے، جس کا مقصد ٹیلی مواصلاتی ذرائع سے ہونے والے سائبر فراڈ اور ٹیلی مواصلاتی وسائل کے غلط استعمال کا مقابلہ کرنا ہے۔ 2024 میں شروع کیے گئے اس پلیٹ فارم کے ذریعے ٹیلی مواصلاتی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں، بینکوں، مالیاتی اداروں، قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں اور سرکاری محکموں سمیت 1,600 سے زائد متعلقہ ادارے قابلِ عمل انٹیلی جنس کے تبادلے کے ذریعے حقیقی وقت میں باہمی تعاون کر سکتے ہیں۔ اس میں موبائل نمبر منسوخی فہرست، مشتبہ فراڈ موبائل نمبرز (ایف آر آئی) اور دیگر متعلقہ ڈیجیٹل شناختی معلومات شامل ہیں۔

موبائل نمبر منسوخی فہرست کے ذریعے ایسے موبائل نمبرز، جو سائبر کرائم میں ملوث ہونے، دوبارہ تصدیق میں ناکامی، ٹیلی مواصلاتی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی کی داخلی جانچ یا مقررہ حد سے زیادہ کنکشن رکھنے سمیت مختلف وجوہات کی بنا پر منقطع کیے گئے ہوں، تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ شیئر کیے جاتے ہیں۔

منقطع کیے گئے نمبرز تقریباً حقیقی وقت میں فراہم کیے جانے سے موبائل نمبر منسوخی فہرست بینکوں اور دیگر متعلقہ اداروں کو اپنے فراڈ سے بچاؤ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے، شہریوں کے ساتھ خدمات اور لین دین سے متعلق رابطے کے لیے درست موبائل نمبرز کے استعمال کو یقینی بنانے اور منسوخ شدہ موبائل کنکشنز کے غلط استعمال کو روکنے میں مدد دیتی ہے۔

ان تمام متعلقہ اداروں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر یکجا کرکے ڈیجیٹل انٹیلی جنس پلیٹ فارم نے فراڈ کی روک تھام کے لیے پورے نظام میں باہمی تعاون پر مبنی طریقۂ کار کو ادارہ جاتی شکل دے دی ہے۔

شہریوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ پلیٹ فارم پر دستیاب شہریوں کے لیے مفید مختلف خدمات سے استفادہ کرنے کے لیے سنچار ساتھی پورٹل پر جائیں یا سنچار ساتھی موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔

اینڈرائیڈ کے لیے:

https://play.google.com/store/apps/details?id=com.dot.app.sancharsaathi

آئی او ایس کے لیے:

https://apps.apple.com/app/sancharsaathi/id6739700695

مزید معلومات کے لیے محکمہ ٹیلی مواصلات کے سوشل میڈیا ذرائع سے جڑیں:

https://x.com/DoT_India

https://www.instagram.com/department_of_telecom?igsh=MXUxbHFjd3llZTU0YQ

https://www.facebook.com/DoTIndia

Youtube: https://youtube.com/@departmentoftelecom?si=DALnhYkt89U5jAaa

***

ش ح۔ ک ا۔  اش ق

U.NO. 3161


(ریلیز آئی ڈی: 2307949) وزیٹر کاؤنٹر : 8