کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے ’ہیل اِن انڈیا گیٹ وے‘ میں تربیت یافتہ نگہداشت کرنے والوں اور اسپتالوں کی وسیع تر شرکت پر زور دیا


جناب گوئل نے مریضوں کیلئے سہل اور مربوط طبی سفر، بھارتی صحت خدمات کی عالمی سطح پر تشہیر اور تمام ریاستوں میں معیار پر مبنی توسیع کی اہمیت پر زور دیا

بھارت کو سالانہ ایک کروڑ طبی سیاحوں کو راغب کرنے کا ہدف مقرر کرنا چاہیے: جناب گوئل

بھارت کی طبی مہارت، جدید ٹیکنالوجی اور 60 سے 80 فیصد کم طبی اخراجات دنیا بھر کے لوگوں کو صحت خدمات فراہم کرنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتے ہیں

جناب گوئل نے صحت خدمات کی تصدیق کے عمل میں معیار، پیشہ ورانہ دیانت داری اور بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پر زور دیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 SEP 2026 2:12PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے آج بھارت میں طبی سیاحت کے نظام کو مضبوط بنانے اور ملک کو اعلیٰ ترین معیار کے ساتھ بین الاقوامی صحت اور تندرستی کی خدمات کے لیے ایک عالمی مرکز کے طور پر فروغ دینے کے مقصد سے پانچ نکاتی لائحۂ عمل پیش کیا۔ نئی دہلی میں بھارت ہیلتھ گلوبل ایکسپو 2026 کے تحت ’سنجیوَنی 2026‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ اولین ترجیح نگہداشت کرنےوالوں کو تربیت اور سرٹیفکیٹ فراہم کرنا اور ایسی ہنرمند افرادی قوت تیار کرنا ہونی چاہیے جو بین الاقوامی معیار کی صحت خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

انہوں نے کہا کہ دوسرے اہم نکتے کے طور پر مزید اسپتالوں کو ’ہیل اِن انڈیا گیٹ وے‘ سے منسلک ہونے کی ترغیب دی جانی چاہیے اور انہیں علاج کے پیکیجز کی دیانت دارانہ اور شفاف تفصیلات شائع کرنی چاہئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اسپتالوں کو اخلاقی اصولوں کی پابندی کرنی چاہیے اور مریضوں کو دھوکا دینے کی کسی بھی کوشش سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ ایک غلط قدم بھارت کے لیے نیک نامی، کاروبار اور ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

تیسرے نکتے کے طور پر جناب گوئل نے بیمہ کمپنیوں اور صحت ٹیکنالوجی سے وابستہ کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ ایسے مصنوعات اور پلیٹ فارم تیار کریں جو مریض کے پورے طبی سفر کو زیادہ سہل اور مربوط بنائیں، بروقت ادائیگیوں کی واپسی کو یقینی بنائیں اور نقد رقم کے بغیر ادائیگی کی سہولت کو زیادہ وسیع بنائیں۔ انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ طبی سیاحت کے سفر کے ابتدائی مرحلے میں ٹیلی مشاورت اور ٹیلی میڈیسن کو بڑے پیمانے پر شامل کیا جا سکتا ہے۔

چوتھے نکتے کے طور پر انہوں نے دنیا بھر میں نمائش اور پریزنٹیشنز کے انعقاد، سہولت کاروں کا تقرر، عالمی سطح پر اسپتالوں کے ساتھ شراکت داری اور معاہدے قائم کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک سے آنے والے مریضوں کے علاج کی اجازت صرف ان اسپتالوں کو دی جانی چاہیے جو نیشنل ایکریڈیٹیشن بورڈ فار ہاسپٹلز اینڈ ہیلتھ کیئر پرووائیڈرز (این اے بی ایچ) سے منظور شدہ، تصدیق شدہ اور فہرست میں شامل ہوں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ این اے بی ایچ کو اعلیٰ ترین معیار برقرار رکھنا چاہیے اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کا سمجھوتا نہیں ہونا چاہیے۔

پانچویں نکتے کے طور پر وزیر موصوف نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ اسپتالوں اور فلاح و بہبود کے مراکز میں معیار پر توجہ مرکوز کریں، ان کے نیٹ ورک کو وسعت دیں، معیاری سہولتوں کو عالمی سطح پر نمایاں کریں اور مریضوں کے مفاد میں ان کی تشہیر کریں۔ انہوں نے طبی سیاحت کو بڑے شہروں تک محدود رکھنے کے بجائے دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں تک وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس سے روزگار، نئے مواقع اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ساتھ ساتھ بھارتی مریضوں کے لیے صحت خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

جناب گوئل نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ مختلف ممالک سے آنے والے اور مختلف زبانیں بولنے والے مریضوں کے لیے ترجمان کا ایک باقاعدہ پینل تشکیل دیا جائے، تاکہ انہیں زیادہ اعتماد حاصل ہو اور مریضوں اور طبی نظام کے درمیان رابطہ و مفاہمت آسان ہو سکے۔

وزیر موصوف نے زور دے کر کہا کہ معیاری صحت خدمات بھارتی شہریوں اور غیر ملکیوں کے لیے مختلف نہیں ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ہر بھارتی مریض کو بھی وہی اعلیٰ معیار کی صحت خدمات حاصل ہوں جو دنیا کے کسی بھی حصے سے آنے والے مریض کو فراہم کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو اپنے بھائی بہنوں کو وہی سہولت دینی چاہیے جو وہ خود دوسروں سے حاصل کرنا چاہتا ہے اور بھارت یا بیرونِ ملک سے آنے والے ہر فرد کو امیر یا غریب کی تفریق کے بغیر یکساں معیار کی صحت خدمات فراہم کرنی چاہئیں۔

جناب گوئل نے زور دیا کہ علاج کے لیے بھارت آکر اپنی زندگی کا بھروسا ملک پر کرنے والے افراد کی انتہائی توجہ، احساس اور ہمدردی کے ساتھ دیکھ بھال کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ افریقہ، ایشیا، امریکہ یا یوروپ سے صحت خدمات کے حصول کے لیے بیرونِ ملک سفر کرنے والے مریض جب کسی نئے ملک میں داخل ہوتے ہیں اور علاج کی تلاش کرتے ہیں تو انہیں فطری طور پر تشویش لاحق ہوتی ہے۔ ایسے مریض واضح معلومات، وقار، اخلاقی اصولوں پر مبنی بہترین طریقۂ کار اور اعلیٰ درجے کی دیانت داری چاہتے ہیں اور اپنے پورے طبی سفر کے ہر مرحلے پر بھارت پر اعتماد کرتے ہیں۔

بھارت کے طبی سیاحتی شعبے کی وسیع صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ بھارت کو طبی مہارت، جدید ٹیکنالوجی اور دنیا کے دیگر حصوں، خصوصاً ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں 60 سے 80 فیصد کم طبی اخراجات حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے پاس بے پناہ ہمدردی کا جذبہ بھی موجود ہے اور انہوں نے ملک بھر کے طبی پیشہ ور افراد کی جانب سے فراہم کی جانے والی دیکھ بھال اور توجہ کو سراہا۔ یہ خدمات چھوٹے نرسنگ ہومز اور ڈاکٹروں کے کلینک سے لے کر بڑے بلدیاتی، نجی اور سرکاری اسپتالوں تک فراہم کی جا رہی ہیں، جہاں طبی عملہ اکثر محدود وسائل اور متعدد مشکلات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں انجام دیتا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت کی ادویہ سازی کی صنعت، طبی ٹیکنالوجی کا شعبہ، تشخیصی خدمات، آیوروید، یوگ اور یونانی سمیت روایتی طبی نظام، ڈاکٹر، تکنیکی ماہرین، نرسیں، نگہداشت کار اور اسپتال سب مل کر ملک کی طاقت تشکیل دیتے ہیں اور طبی سیاحت کو دنیا کی خدمت کا ایک مؤثر ذریعہ بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس شعبے میں بھارت کو عالمی سطح پر نمایاں کرنے، ملک کے لیے نیک نامی حاصل کرنے اور دنیا بھر کے لوگوں کی خدمت کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ادویات، طبی آلات اور طبی استعمال کی اشیا کی تیاری، ان کی فراہمی، اسپتالوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور ڈاکٹروں، اساتذہ، نرسوں، تکنیکی ماہرین اور دیگر پیشہ ور افراد کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

جناب گوئل نے کہا کہ گزشتہ سات برس کے دوران بھارت کے طبی سیاحتی نظام سے 35 لاکھ مریض مستفید ہوئے ہیں، تاہم ملک کو اب سالانہ ایک کروڑ مریضوں کو طبی خدمات فراہم کرنے کا ہدف مقرر کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے پاس اس ہدف کو حاصل کرنے کی صلاحیت، وسائل، موزوں ڈاکٹر اور مناسب طبی نظام موجود ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اعلیٰ معیار، اخلاقی اصولوں، دیانت داری اور شفافیت کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے اور صحت خدمات فراہم کرنے والوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی مریضوں کی دیکھ بھال میں اضافی توجہ اور خدمت کا جذبہ دکھائیں۔

عالمی صحت کے بدلتے ہوئے منظرنامے کا حوالہ دیتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ دنیا کی آبادی عمر رسیدہ ہو رہی ہے، جبکہ بھارت نوجوان آبادی والا ملک ہے اور دنیا بھر میں جدید دور کی کئی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ صحت خدمات کے اخراجات بڑھ رہے ہیں اور دنیا کے کئی حصوں میں ڈاکٹروں، دندان سازوں اور ریڈیولوجسٹ سے ملاقات کے لئے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے، جبکہ پیچیدہ اور اعلیٰ درجے کی طبی خدمات کی بھی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن ممالک کے ساتھ بھارت آزاد تجارتی معاہدوں اور تجارتی مذاکرات کے ذریعے تعاون کر رہا ہے، وہ بڑی تعداد میں بھارت سے اعلیٰ معیار کی ادویات، ڈاکٹر، تکنیکی ماہرین، نرسیں اور نگہداشت کار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

وزیر موصوف نے احتیاطی صحت خدمات اور فلاح و بہبود کے جامع نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کیرالہ میں آیوروید اور ملک بھر میں اس کے پھیلاؤ، پہاڑی علاقوں میں قائم فلاح و بہبود کے مراکز اور صحت کے نظام سے وابستہ نرسوں اور نوجوان مرد و خواتین کی جانب سے فراہم کی جانے والی خدمات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت وہ سرزمین ہے جو بہترین انداز میں دنیا کی خدمت کر سکتی ہے اور متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ طبی سیاحت کے شعبے سے پیدا ہونے والے اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔

تعاون کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ ’بھارت ہیلتھ‘ کا مقصد صحت کے بکھرے ہوئے پورے شعبے کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ٹیم کی حیثیت سے مل جل کر کام کریں۔ جناب گوئل نے کہا کہ صحت کا شعبہ باہمی تعاون اور اشتراکِ عمل کی ضرورت کی بہترین مثال ہے، کیونکہ ایک معمولی سی غلطی کے بھی سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کو صحت خدمات کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اس معیار کو مریضوں کے لیے نمایاں اور قابلِ مشاہدہ بنانا چاہیے۔ انہوں نے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھتے ہوئے طبی سیاحت کے شعبے کو بڑے پیمانے پر وسعت دینے پر زور دیا اور کہا کہ بھارت کو دنیا میں دستیاب اعلیٰ ترین معیار کی بین الاقوامی صحت اور فلاح و بہبود کی خدمات کے لیے عالمی دروازے کے طور پر ابھرنا چاہیے۔

جناب گوئل نے کہا کہ دنیا کو بھارت سے اعلیٰ معیار کی ادویات، ڈاکٹر، تکنیکی ماہرین، نرسوں اور نگہداشت کاروں کی توقع ہے اور بھارت میں اس بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ یہ شعبہ دنیا کی خدمت کے ساتھ ساتھ معاشی مواقع اور سماجی فوائد پیدا کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔

بھارتی شہریوں کے لیے صحت خدمات کے حوالے سے جناب گوئل نے آیوشمان بھارت اسکیم کو اجاگر کیا، جس کے تحت غریب افراد اور ان کے اہل خانہ کو کسی کے بیمار ہونے کی صورت میں علاج کے اخراجات کی فکر نہیں کرنی پڑتی، کیونکہ حکومت ان کے علاج کے اخراجات برداشت کرتی ہے۔ انہوں نے 70 سال سے زیادہ عمر کے تمام افراد، خواہ ان کی آمدنی کچھ بھی ہو، کے لیے اضافی 5 لاکھ روپے کے صحت بیمہ کور کی فراہمی کا بھی ذکر کیا۔

جناب گوئل نے کہا کہ صحت خدمات کے حوالے سے بھارت کا نقطۂ نظر ہمیشہ دنیا کی خدمت کے اصول سے رہنمائی حاصل کرتا رہا ہے۔ اپنشد کے قول ’’سروے سنتو نِرامیا‘‘، جس کا مطلب ہے ’’سبھی مخلوقات بیماری سے پاک رہیں‘‘، کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت نے کبھی بھی صحت خدمات کو صرف اپنی قومی سرحدوں تک محدود نہیں سمجھا، بلکہ ہزاروں برس سے صحت کی دیکھ بھال کو پوری دنیا کی مشترکہ ذمہ داری تصور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایک دنیا، ایک صحت‘‘ اسی بنیادی سوچ کا حصہ ہے۔

کووڈ کے دوران بھارت کی جانب سے کئے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ بھارت نے ان ممالک کو مفت ویکسین فراہم کیں جو انہیں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، جبکہ دیگر ممالک کو بھی انتہائی کم قیمت پر ویکسین فراہم کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کی ویکسین جہاں تقریباً 25 سے 30 ڈالر میں فروخت کی جا رہی تھیں، وہیں بھارتی ویکسین کی ایک خوراک تقریباً 2 سے 3 ڈالر میں دستیاب تھی۔ جناب گوئل نے زور دے کر کہا کہ بھارت نے کبھی دوسروں کی مجبوری یا مصیبت سے فائدہ اٹھا کر منافع کمانے کی کوشش نہیں کی۔

وزیر موصوف نے یاد دلایا کہ کووڈ کے دوران جب ضروری ادویات بھارت میں دستیاب تھیں تو وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے اس وقت استعمال ہونے والی ادویات کی برآمد پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کووڈ کے علاج کے لیے بہت کم ادویات مؤثر ثابت ہوئی تھیں، تاہم پیراسیٹامول، بعض دیگر ادویات، انجیکشن، انجیکٹیبل ادویات اور طبی استعمال کی اشیا کی ضرورت تھی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان ادویات کے ذخیرے کو بے ایمان تاجروں، بعض کمپنیوں یا دولت مند ممالک کی جانب سے بڑی مقدار میں خرید کر ذخیرہ کر لینے سے محفوظ رکھنے کے لیے برآمدی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ بصورت دیگر صرف دولت مند افراد ہی علاج حاصل کر پاتے، جبکہ غریب اور محروم آبادی، ترقی پذیر ممالک اور بھارت کی غریب و نچلے متوسط طبقے کی آبادی ان ضروری ادویات سے محروم ہو سکتی تھی۔

جناب گوئل نے کہا کہ بھارت نے نہ صرف یہ یقینی بنایا کہ ملک میں ضرورت مند ہر فرد کو ضروری ادویات دستیاب ہوں، بلکہ دستیاب ادویات اور طبی آلات کی منصفانہ تقسیم بھی دنیا بھر کے ممالک میں یقینی بنائی، خواہ وہ امیر ہوں یا غریب۔ 100 سے زیادہ ممالک کو مفت ادویات فراہم کی گئیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بھارت نے اپنے پاس موجود وسائل سے ناجائز منافع نہیں کمایا، بلکہ انہیں دوسروں کے ساتھ یا تو مفت یا لاگت کی قیمت پر بانٹا۔

جناب گوئل نے اسے بھارت کی بنیادی اقدار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سنجیونی کے تیسرے ایڈیشن کے ذریعے اس بات کو اجاگر کیا جا رہا ہے کہ بھارت ملک اور دنیا کی خدمت میں کس قدر مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو یہ یقینی بناتے رہنا چاہیے کہ اپنے شہریوں کے لیے صحت خدمات کے معیار پر کوئی سمجھوتا نہ ہو اور مختلف اقدامات کے ذریعے معیاری اور بروقت صحت خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

وزیر موصوف نے صحت کے شعبے میں معیار، اخلاقیات اور دیانت داری کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ معیار ہی بھارت کے مستقبل کا تعین کرے گا اور اگر بھارت کو 2047 تک ایک ترقی یافتہ ملک بننا ہے تو کوالٹی کونسل آف انڈیا سب سے اہم اداروں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ معیار برقرار رکھنا بھارت کے مستقبل کی بنیاد ہوگا۔

جناب گوئل نے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے عمل میں پیشہ ورانہ دیانت داری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل ایکریڈیٹیشن بورڈ فار ہاسپٹلز اینڈ ہیلتھ کیئر پرووائیڈرز (این اے بی ایچ) کا نظام پیشہ ورانہ انداز میں اور کسی بھی بیرونی اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر چلایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت یا حکومت کی جانب سے ایک بھی معاملہ این اے بی ایچ کو بھیجا نہیں گیا ہے اور یہ نظام پیشہ ورانہ طور پر چلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ اگر این اے بی ایچ یا کوئی بھی تصدیقی ادارہ غیر اخلاقی طریقوں میں ملوث ہو تو اس کی شکایت کریں اور ایسا کوئی معاملہ سامنے آنے پر وزارت سے رجوع کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی سب سے بڑی ترجیح بدعنوانی کا مکمل خاتمہ ہے۔

جناب گوئل نے اختتام پر ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ بھارت کو ہر بھارتی مریض کو بھی وہی اعلیٰ معیار کی صحت خدمات فراہم کرنی چاہئیں جو دنیا کے کسی بھی حصے سے آنے والے مریض کو دی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ہر شخص اپنے اور اپنے خاندان کے لیے بہترین صحت خدمات چاہتا ہے، اسی طرح صحت کے پورے نظام کی ذمہ داری ہے کہ بھارت یا بیرونِ ملک سے آنے والے ہر فرد کو بلا تفریق، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، یکساں اعلیٰ معیار کی صحت خدمات فراہم کی جائیں۔

***

ش ح۔ ک ا۔ ۔ع د

U.NO.3105


(ریلیز آئی ڈی: 2307461) وزیٹر کاؤنٹر : 8