ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
مرکزی وزیر ماحولیات نے پنچکولہ میں ’ گدھ کا عالمی یومِ آگاہی2026‘ کی تقریبات کی قیادت کی اور ’بحران سے بحالی تک – ہندوستان کے گدھوں کا تحفظ‘ کے موضوع پر منعقدہ قومی ورکشاپ کا افتتاح کیا
جناب بھوپیندر یادو نے گدھوں کے لیے محفوظ علاقوں ( زونز )کے مسلسل قیام اور جنگل میں انواع کی بحالی میں مدد کے لیے تکنیکی صلاحیتوں کو فروغ دینے پر زور دیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 SEP 2026 10:49AM by PIB Delhi
گدھ کا عالمی یومِ آگاہی 2026 آج ہریانہ کے پنچکولہ میں منایا گیا۔ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے اس موقع پر ’بحران سے بحالی: ہندوستان کے گدھوں کا تحفظ‘ کے موضوع پر منعقدہ قومی سطح کی ایک ورکشاپ کا افتتاح کیا۔ اس تقریب میں ہریانہ کے وزیر مملکت برائے ماحولیات، جنگلات اور جنگلی حیات جناب راؤ نربیر سنگھ کے علاوہ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی مرکزی وزارت (ایم او ای ایف سی سی) اور ہریانہ کی ریاستی حکومت کے سینئر عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔
یہ پروگرام ایم او ای ایف سی سی، سنٹرل زو اتھارٹی (سی زیڈ اے)، ہریانہ فاریسٹ اینڈ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ، بمبئی نیچرل ہسٹری سوسائٹی (بی این ایچ ایس) اور جٹایو کنزرویشن بریڈنگ سینٹر (جے سی بی سی)، پنجور کے اشتراک سے منعقد کیا گیا۔ اس میں ہندوستان میں گدھوں کے تحفظ کے لیے باہمی تعاون کی کوششوں کو مزید مستحکم کرنے کے مقصد سے جنگلات کے سینئر عہدیداروں، سائنس دانوں، حیوانات کے ڈاکٹروں، چڑیا گھر کے ماہرین، تحفظِ فطرت کے ماہرین اور دیگر متعلقہ فریقوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب یادو نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومت کا ماحولیاتی تحفظ کا نقطۂ نظر ایک جامع ماحولیاتی نظام پر مبنی تحفظ کے ماڈل پر استوار ہے اور یہ کسی ایک نوع تک محدود نہیں ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ انواع کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے مختلف اقدامات میں یہ نقطۂ نظر نمایاں ہوتا ہے، خواہ وہ بڑی بلیوں، سلوتھ بیئر، گریٹ انڈین بسٹارڈ، ڈولفن، گھڑیال، جنگلی آبی بھینس یا گدھوں کا تحفظ ہو۔ گدھوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہندوستان متنوع اقسام کے مقامی اور نقل مکانی کرنے والے گدھوں کا مسکن ہے، جن میں سفید پشت والے، لمبی چونچ والے، پتلی چونچ والے، سرخ سر والے، مصری، ہمالیائی گریفن، یوریشین گریفن، سنیریئس اور داڑھی والے گدھ شامل ہیں، اور ان کے کامیاب تحفظ کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔
جناب یادو نے مردار خور صفائی کرنے والوں کے طور پر گدھوں کے انتہائی اہم ماحولیاتی کردار پر روشنی ڈالی اور انہیں قدرت کا اپنا صفائی کا نظام قرار دیا۔ جانوروں کی لاشوں کو تیزی سے تلف کرنے کے ذریعے گدھ غذائی اجزا کی دوبارہ گردش میں سہولت فراہم کرتے ہیں اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو موسمیاتی تبدیلی اور انسانوں و جنگلی حیات کے درمیان تنازعات جیسے چیلنجوں کا سامنا ہے، جبکہ 1990 کی دہائی سے ہندوستان میں گدھوں کی آبادی میں تیزی سے کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کی بنیادی وجوہ میں ان کی غذائی زنجیر میں خلل اور ان جانوروں کے علاج میں درد کش ادویات کا استعمال شامل ہے جن کی لاشیں گدھ کھاتے ہیں۔
وزیر موصوف نے گدھوں کے تحفظ کے لیے پالیسی سازی میں ’پوری حکومت‘ اور ’پورے معاشرے‘ کے نقطۂ نظر کے تحت مربوط کوششوں پر زور دیا۔ انہوں نے گدھوں کے لیے محفوظ ویٹرنری طریقۂ کار اختیار کرتے ہوئے گدھ سے محفوظ زون قائم کرنے، محفوظ خوراک کی دستیابی یقینی بنانے اور جنگل میں گدھوں کی آبادی کی بحالی میں مدد کے لیے تکنیکی صلاحیت سازی کی مسلسل کوششوں پر زور دیا۔ وزیر موصوف نے ویٹرنری ماہرین، مویشی مالکان، مقامی انتظامیہ اور برادریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ گدھوں کے تحفظ میں فعال طور پر حصہ لیں اور مردہ جانوروں کی لاشوں کے محفوظ انتظام کے طریقوں کو فروغ دیں۔

اس سے قبل مرکزی وزیر نے جے سی بی سی، پنجور کے دورے کے ساتھ اپنے دن کا آغاز کیا، جہاں انہوں نے اس مرکز کا دورہ کیا، مرکز کے بارے میں ایک پریزنٹیشن کا جائزہ لیا اور گدھوں کے تحفظ سے وابستہ عہدیداروں کے ساتھ بات چیت کی۔ یہ مرکز ہریانہ کے محکمہ جنگلات اور بی این ایچ ایس کی مشترکہ پہل ہے اور سفید پشت والے، لمبی چونچ والے اور پتلی چونچ والے گدھوں کی تحفظاتی افزائش کے لیے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔
بتایا گیا کہ مرکز میں سائنسی نگہداشت، مصنوعی انکیوبیشن، ویٹرنری نگہداشت، افزائش نسل اور جینیاتی انتظام کے کام انجام دیے جاتے ہیں۔ 2025-26 کے دوران جے سی بی سی نے 356 گدھوں کو اپنے یہاں رکھا اور کامیابی کے ساتھ 35 گدھوں کے بچوں کو کامیاب افزائش کی۔ مرکز نے دوبارہ جنگل میں چھوڑنے/متعارف کرانے کے لیے 87 گدھوں کو دوبارہ جنگل میں متعارف کرانے کے لیے جاری کیا یا اس میں تعاون کیا، 90 پرندوں کو تحفظ کے دیگر اداروں میں منتقل کیا اور 22 اداروں کے 1,222 شرکاء کو تربیت دی، جس سے گدھوں کے تحفظ کے لیے تکنیکی صلاحیت کو مزید تقویت ملی۔
اس موقع پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب راؤ نربیر سنگھ نے پنجور کے جٹایو کنزرویشن بریڈنگ سینٹر (جے سی بی سی) میں گدھوں کے تحفظ کے پروگرام میں حاصل ہونے والی اہم پیش رفت اور کامیابیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے زور دیا کہ تحفظاتی افزائش نسل کی کامیابی کو محض پیدا ہونے والے جانوروں کی تعداد سے نہیں ناپا جانا چاہیے، بلکہ صحت مند اور جینیاتی طور پر منظم آبادیوں کے قیام، سائنسی علم کی تخلیق، تکنیکی صلاحیت کی ترقی اور جنگل میں انواع کی بحالی میں شراکت کی بنیاد پر جانچا جانا چاہیے۔

افتتاحی اجلاس کے دوران اس موقع پر ایک کافی ٹیبل بک ’اسٹوری آف جٹایو: سیونگ انڈیاز ولچر‘ کا اجرا بھی کیا گیا۔ اس کتاب میں گدھوں کی گھٹتی ہوئی آبادی سے لے کر جے سی بی سی، پنجور کے قیام اور اس کے ذریعے تحفظاتی افزائش کے کامیاب پروگرام تک، ہندوستان میں گدھوں کے تحفظ کی قابلِ ذکر داستان بیان کی گئی ہے۔ مزید برآں، گدھوں کے تحفظ کے موضوع پر منعقدہ آن لائن مصوری کے مقابلے اور ڈیجیٹل فوٹوگرافی مقابلے کے فاتحین میں انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔
گدھ سے آگاہی کے عالمی دن 2026 کے موقع پر قومی ورکشاپ کا انعقاد اس نئے عزم کے ساتھ کیا گیا کہ ہندوستان کے مختلف مناظر میں گدھ پھلتے پھولتے رہیں اور اپنا اہم ماحولیاتی کردار ادا کرتے رہیں۔ ’بحران سے بحالی تک‘ کا سفر سائنس، پالیسی، تحفظاتی افزائش، محفوظ قدرتی مناظر(علاقوں) اور برادریوں کی شرکت کے ذریعے گدھوں کے تحفظ کے لیے ہندوستان کے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔


***
UR-3068
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2307130)
وزیٹر کاؤنٹر : 6