کوئلے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سطحی کوئلہ/لگنائٹ کو گیس میں تبدیل کرنے کے منصوبوں کے فروغ کی اسکیم: وزارت نے درخواستوں کے بارے میں اپنی پوزیشن واضح کردی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 05 SEP 2026 11:22AM by PIB Delhi

یہ بات سامنے آئی ہے کہ بعض اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹس میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ سطحی کوئلہ/لگنائٹ کو گیس میں تبدیل کرنے کے منصوبوں کے فروغ کی اسکیم، جس کے لیے 37,500 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، کو کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔ وزارتِ کوئلہ درست حقائق ریکارڈ پر لاتے ہوئے واضح کرنا چاہتی ہے کہ ایسی رپورٹس قبل از وقت ہیں اور ان سے اسکیم یا درخواستوں کے عمل کی موجودہ صورتِ حال کی صحیح عکاسی نہیں ہوتی۔

سطحی کوئلہ/لگنائٹ کو گیس میں تبدیل کرنے کے منصوبوں کے فروغ کی اسکیم کو مرکزی کابینہ نے 13 مئی 2026 کو منظوری دی تھی، جس کے لیے مجموعی طور پر 37,500 کروڑ روپے کی مالی رقم مختص کی گئی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد ملک میں کوئلہ اور لگنائٹ کو گیس میں تبدیل کرنے کے عمل کی ترقی کو تیز کرنا اور ملکی کوئلے اور لگنائٹ کو زیادہ قدر والی مصنوعات، بشمول سنتھیسس گیس، میتھانول، امونیا اور یوریا میں تبدیل کرنے کو فروغ دینا ہے۔ ایسی قدر افزا مصنوعات کی تیاری کے لیے ملکی وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو ممکن بنا کر اس اسکیم کا مقصد درآمد شدہ خام مال پر انحصار کم کرنا اور بھارت کی توانائی اور اقتصادی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔

اسکیم کی منظوری کے بعد وزارتِ کوئلہ نے ممکنہ منصوبہ تیار کرنے والوں کی شرکت کی حوصلہ افزائی کے لیے مسلسل رابطہ کاری اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا۔ 28 مئی 2026 کو نئی دہلی، 11 جون 2026 کو حیدرآباد اور 18 جون 2026 کو ممبئی میں روڈ شوز منعقد کیے گئے۔ ان پروگراموں میں ریاستی حکومتوں، سرکاری اور نجی شعبے کی کمپنیوں، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں، سرمایہ کاروں، مالیاتی اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ان پروگراموں میں مرکزی وزیرِ کوئلہ و کانکنی اور وزارت کے اعلیٰ افسران بھی شریک ہوئے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت اسکیم کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے اور صنعت کی شرکت کو آسان بنانے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

اس اسکیم کے تحت درخواستِ پیشکش 7 جولائی 2026 کو جاری کی گئی، جس کے بعد درخواستیں جمع کرانے کے لیے آن لائن پورٹل شروع کیا گیا۔ مزید وضاحت کو یقینی بنانے اور ممکنہ درخواست دہندگان کو وضاحت طلب کرنے کا موقع فراہم کرنے کے لیے 20 جولائی 2026 کو درخواست سے قبل ایک کانفرنس منعقد کی گئی۔ اس کانفرنس کے دوران ممکنہ درخواست دہندگان نے اسکیم کی مختلف شقوں، اہلیت کے تقاضوں اور درخواست جمع کرانے کے طریقۂ کار سے متعلق سوالات کیے اور وضاحتیں طلب کیں۔ وزارت نے بھی دلچسپی رکھنے والے متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھا ہے تاکہ ان کی شرکت کو آسان بنایا جا سکے۔

درخواستیں جمع کرانے کی پہلے مرحلے کی آخری تاریخ 7 ستمبر 2026 ہے۔ لہٰذا پہلے مرحلے میں موصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد کا حتمی طور پر جائزہ یا اعلان اس وقت تک نہیں کیا جا سکتا جب تک درخواستیں جمع کرانے کی مدت ختم نہ ہو جائے۔ اس لیے جب درخواستیں جمع کرانے کی پہلی مدت ابھی جاری ہے، اس دوران یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ اسکیم کے لیے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی، قبل از وقت ہے اور موجودہ حقیقی صورتِ حال کی عکاسی نہیں کرتا۔

مزید برآں متعلقہ فریقوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی بنیاد پر وزارت کو مطلع کیا گیا ہے کہ تلچر فرٹیلائزرز لمیٹڈ (ٹی ایف ایل) اور این ٹی پی سی لمیٹڈ اپنی اپنی درخواستیں آن لائن پورٹل کے ذریعے پہلے ہی جمع کرا چکی ہیں۔ یہ امر بذاتِ خود اس دعوے کو غلط ثابت کرتا ہے کہ اسکیم کے لیے ’’کوئی درخواست دہندہ نہیں‘‘ ہے۔ وزارت دیگر ممکنہ درخواست دہندگان کے ساتھ بھی رابطے میں ہے، جو منصوبوں کی تیاری اور درخواستوں کو حتمی شکل دینے کے مختلف مراحل میں ہیں۔

اسکیم کے تحت تجویز کردہ منصوبوں کے بڑے پیمانے اور پیچیدہ نوعیت کے پیشِ نظر، ممکنہ درخواست دہندگان کو درخواستیں جمع کرانے سے قبل وسیع پیمانے پر تیاری کا کام انجام دینا ہوتا ہے۔ اس میں قبل از امکان عمل درآمد رپورٹس تیار کرنا، ٹیکنالوجی کے مختلف متبادل کا جائزہ لینا، کوئلہ، لگنائٹ اور دیگر خام مال کی فراہمی کے انتظامات طے کرنا، منصوبے کی اقتصادی افادیت کا جائزہ لینا اور منصوبے کی تفصیلی تجاویز تیار کرنا شامل ہے۔ لہٰذا توقع ہے کہ آخری تاریخ قریب آنے کے ساتھ مزید درخواست دہندگان اپنی تجاویز کو حتمی شکل دے کر جمع کرا سکتے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ اس اسکیم کو اس انداز میں مرتب کیا گیا ہے کہ صنعت کو شرکت کے متعدد مواقع فراہم ہوں۔ درخواستوں کے مختلف مراحل مسلسل بنیاد پر جاری رہیں گے۔ ایک مرحلے کے لیے درخواستیں جمع کرانے کی مدت ختم ہوتے ہی اگلا مرحلہ اگلے ہی دن شروع ہو جائے گا اور دو ماہ تک جاری رہے گا۔ اس سے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ وہ کمپنیاں جو منصوبے کی تیاری مکمل کرنے کے لیے مزید وقت چاہتی ہیں، صرف اس وجہ سے شرکت کے موقع سے محروم نہ رہیں کہ وہ پہلے مرحلے میں درخواست دینے کے لیے تیار نہیں ہو سکیں۔ بڑے پیمانے پر کوئلہ/لگنائٹ کو گیس میں تبدیل کرنے کے منصوبوں کے لیے درکار وسیع تیاری اور سرمایہ کاری کو مدنظر رکھتے ہوئے درخواستوں کے مسلسل مراحل کا یہ طریقۂ کار دانستہ طور پر اختیار کیا گیا ہے۔

وزارت کو اس اسکیم میں صنعت کی مضبوط شرکت کا پورا یقین ہے۔ توقع ہے کہ اس اقدام کے ذریعے تقریباً 2.5 لاکھ کروڑ روپے سے 3 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا، جو تقریباً 25 منصوبوں میں کی جائے گی اور تقریباً 50,000 براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ یہ اسکیم حکومت کے اس وسیع تر مقصد کے حصول میں بھی نمایاں کردار ادا کرے گی جس کے تحت 2030 تک 100 ملین ٹن کوئلہ گیس کاری کی صلاحیت حاصل کرنا ہے۔

وزارت ایک بار پھر واضح کرتی ہے کہ یہ اسکیم ابھی عمل درآمد کے ابتدائی مرحلے میں ہے اور درخواستیں جمع کرانے کی پہلی مدت 7 ستمبر 2026 تک جاری ہے۔ لہٰذا اس عبوری مرحلے میں یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ اسکیم کو ’’کوئی درخواست دہندہ نہیں ملا‘‘۔ اسکیم کی کامیابی اور اس میں شرکت کی سطح کا جائزہ مقررہ درخواست کے عمل اور اس کے بعد کے مراحل کی تکمیل کے بعد لیا جانا چاہیے، نہ کہ قبل از وقت کیے گئے جائزوں کی بنیاد پر۔

وزارت کو یقین ہے کہ اسکیم میں صنعت کی جانب سے مسلسل شرکت جاری رہے گی اور یہ بھارت میں کوئلہ اور لگنائٹ کو گیس میں تبدیل کرنے کے شعبے کی ترقی کو نمایاں فروغ فراہم کرے گی۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-3051


(ریلیز آئی ڈی: 2306914) وزیٹر کاؤنٹر : 11