کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

 تجارت وصنعت کے مرکزی وزیر  جناب پیوش گوئل نے بھارت کی عالمی تجارتی رسائی بڑھانے کے لیے ملک گیرآزاد تجارتی معاہدہ ( ایف ٹی اے )کے مؤثر استعمال کی مہم پر زور دیا


بھارت کے نو آزاد تجارتی معاہدے(ایف ٹی اے) تقریباً 60 ٹریلین ڈالر کی مجموعی جی ڈی پی رکھنے والی معیشتوں پر محیط ہیں، جو عالمی تجارت کے تقریباً دو تہائی حصے تک ترجیحی رسائی فراہم کریں گے: جناب گوئل

زیرتکمیل آزاد تجارتی معاہدوں اور منڈیوں تک رسائی کومزید توسیع کرنے کی کوششوں کے ساتھ بھارت کو عالمی تجارت کے 75 فیصد حصے تک ایسی شرحوں پر رسائی حاصل ہو سکتی ہے جو مسابقتی ممالک کے مقابلے میں کم ہوں گی

اپریل سے جولائی کے دوران بھارت کی برآمدات تقریباً 317 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 36 سے 37 ارب ڈالر زیادہ ہیں

جناب گوئل نے زور دیا کہ ایف ٹی اے سے متعلق آگاہی اور رسائی کی مہم ملک کے ہر ضلع، ہر ایم ایس ایم ای، تاجر، کاروباری شخص، اسٹارٹ اپ اور خاتون کاروباری تک پہنچنی چاہیے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 03 SEP 2026 1:56PM by PIB Delhi

 تجارت وصنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے آج آزاد تجارتی معاہدوں(ایف ٹی اے) سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے ایک مرکوز، جامع اور ملک گیر کوشش پر زور دیا، تاکہ بھارت کی تجارت کو دنیا بھر میں وسعت دی جا سکے اور مارکیٹ تک بہتر رسائی کے فوائد ملک بھر کے کاروباری اداروں تک پہنچائے جا سکیں۔

نئی دہلی میں آج ’’ آزاد تجارتی معاہدوں(ایف ٹی اے)سے فائدہ اٹھانے کے لیے آؤٹ ریچ پروگرام‘‘ کے موضوع پر منعقدہ قومی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ بھارت کے بڑھتے ہوئے ایف ٹی اے نیٹ ورک کو ملک بھر کے کاروباری اداروں کے لیے برآمدات کے زیادہ مواقع میں تبدیل کرنے کے لیے مشترکہ اور مربوط کوشش کی ضرورت ہے۔

جناب گوئل نے کہا کہ اس پہل کو تیزی سے پورے ملک میں پہنچ جانا چاہیے اور بڑے یا چھوٹے، تمام 780 اضلاع میں آخری فرد، سب سے چھوٹے کاروباری، تاجر، صنعت کار، اسٹارٹ اَپ اور خاتون صنعت کار تک پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص کی بڑی یا چھوٹی شراکت بھارت کو ایک بڑی حد تک اندرونِ ملک مرکوز معیشت سے ایک اہم عالمی معاشی کردار رکھنے والے ملک میں تبدیل کرنے کے وسیع تر مقصد کے حصول میں نہایت قیمتی ثابت ہوگی۔

دن بھر جاری رہنے والی اس ورکشاپ میں مرکزی حکومت، ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے اعلیٰ افسران، برآمدات کے فروغ کی کونسلوں اور صنعتی انجمنوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کا مقصد بھارت کے بڑھتے ہوئے آزاد تجارتی معاہدوں کے نیٹ ورک کو بھارتی برآمد کنندگان، خصوصاً ایم ایس ایم ایز اور پہلی بار برآمد کرنے والوں کے لیے قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کرنا تھا۔

 تجارت وصنعت کے مرکزی وزیر نے کہا کہ بھارت ایسی معیشت بنے جسے دنیا بھر میں اس کی خدمات اور تعاون کے لیے پہچانا اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے اور وہ دنیا کا ایک قابلِ اعتماد شراکت دار بنے۔ انہوں نے کہا کہ اس اعتماد کو حقیقی قدر میں تبدیل ہونا چاہیے، اور یہ قدر 2047 تک بھارت کو 30 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کے قومی ہدف کے حصول کے لیے ملک بھر کی اجتماعی کوششوں سے سامنے آنی چاہیے، جس میں بین الاقوامی تجارت کا بہت بڑا حصہ شامل ہو۔

جناب گوئل نے کہا کہ بھارت اپنی معاشی ترقی کے سفر کے ایک اہم مرحلے سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے پہلی سہ ماہی میں مستقل قیمتوں پر مجموعی گھریلو پیداوار( جی ڈی پی) کی 7.8 فیصد شرحِ نمو کو نمایاں کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں غیر یقینی صورتحال اور شدید ہلچل کے باوجود 7.8 فیصد مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرحِ نمو حاصل کرنا ایک اہم کامیابی ہے۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ مایوسی پھیلانے والوں کی باتوں سے متاثر نہ ہوں۔

 تجارت وصنعت کے وزیرنے کہا کہ مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے اعداد و شمار حکومت، وزراء یا افسران نے تیار نہیں کیے ہیں، بلکہ یہ ایک جامع، زمینی  سطح سے شروع ہونے والے اور آزادانہ عمل کے ذریعے طے کیے جاتے ہیں، جسے وزارت شماریات کئی دہائیوں سے چلا رہی ہے۔

وزیر موصوف نے مسلسل، مستقل، انتھک اور نتائج پر مبنی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس عمل میں شامل کرکے پورے ملک کو ساتھ لے کر چلا جا سکے، نئے کاروباری افراد کو عالمی منڈیوں کا رخ کرنے کی ترغیب دی جا سکے اور پیدا ہونے والے بے پناہ مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

جناب گوئل نے کہا کہ بھارت کے نو آزاد تجارتی معاہدے، جو تقریباً 60 ٹریلین ڈالر کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) رکھنے والی معیشتوں پر مشتمل ہیں، عالمی تجارت کے تقریباً دو تہائی حصے تک ترجیحی رسائی فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چند ماہ اور برسوں میں کینیڈا، میکسیکو، چلی، مرکوسور، ساکو(ایس اے سی یو) ، خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی)اور اسرائیل کے ساتھ ہونے والے دیگرآزاد تجارتی معاہدہ ( ایف ٹی اے)، نیز آسیان، کوریا اور جاپان کے ساتھ موجودہ معاہدوں کا جائزہ لینے اور مارکیٹ تک مزید بہتر رسائی حاصل کرنے کے لیے دیگر اقدامات، مجموعی طور پر بھارت کو عالمی تجارت کے 75 فیصد حصے تک ایسی شرحوں پر رسائی فراہم کریں گے جو اس کے مسابقتی ممالک ک مقابلے میں کم ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ ترجیحی تجارتی معاہدہ  (پی ٹی اے)، آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے)یا دو طرفہ تجارتی معاہدہ (بی ٹی اے) بنیادی طور پر اس بات سے متعلق ہوتا ہے کہ بھارت کو اپنے حریف ممالک کے مقابلے میں بہتر شرح حاصل ہو۔ ٹیرف کی مطلق شرح اہم نہیں ہوتی بلکہ اسے مسابقتی ممالک کی شرحوں کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

جناب گوئل نے کہا کہ امریکا اور یورپی یونین کے تجارتی طریقۂ کار مختلف ہیں اور وہاں کاروباری اخراجات اور مزدوری کی لاگت بھی بالکل مختلف ہے۔ اس لیے بھارت کو دیگر منڈیوں میں اپنے مسابقتی ممالک، مثلاً ویتنام اور بنگلہ دیش، کی جانب سے ادا کی جانے والی شرحوں کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔

ٹیکسٹائل صنعت کی مثال دیتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ بھارت کو کئی برسوں سے بنگلہ دیش اور ویتنام کے ساتھ مقابلہ کرنے میں دشواری کا سامنا رہا ہے۔ بنگلہ دیش کو کم ترقی یافتہ ملک(ایل ڈی سی)کا درجہ اور ویتنام کو ایف ٹی اے کا فائدہ حاصل تھا، جس کی وجہ سے انہیں ترقی یافتہ منڈیوں تک صفر یا کم ڈیوٹی پر رسائی حاصل تھی، جبکہ بھارت کو زیادہ ڈیوٹی ادا کرنا پڑتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اب صورتحال بدل چکی ہے اور بھارت نے تقریباً تمام ترقی یافتہ منڈیوں میں اپنے مسابقتی ممالک کے مقابلے میں بہتر شرحیں حاصل کر لی ہیں۔ اب کارکردگی کے سوا کوئی عذر باقی نہیں، اور کارکردگی کا انحصار پیداوار کے پیمانے، معیار، محنت، صارفین کا اعتماد برقرار رکھنے اور معیار، مقررہ اوقات اور پیکیجنگ کے حوالے سے بروقت ترسیل پر ہوگا۔ انہوں نے کہا، ’’اب گیند مکمل طور پر ہمارے کورٹ میں ہے۔‘‘

جناب گوئل نے کہا کہ اس اجتماعی کوشش میں حکومت اور مختلف متعلقہ وزارتیں شامل ہوں گی، جبکہ وزارتِ تجارت اور محکمہ برائے صنعت و داخلی تجارت کے فروغ (ڈی پی آئی آئی ٹی) قیادت کریں گے اور تمام متعلقہ وزارتیں ان کے ساتھ ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ بتدریج باہمی رابطوں کے ذریعے تمام اہم وزارتوں کو شامل کیا جانا چاہیے، جن میں ٹیکسٹائل، ادویہ سازی، کیمیکلز اور الیکٹرانکس کی وزارتیں شامل ہیں، کیونکہ بھارت نے جو سفر شروع کیا ہے اس میں ان شعبوں کا اہم کردار ہے۔

پہلے سے نافذ العمل اور آئندہ نافذ ہونے والے ایف ٹی اے کے حوالے سے وزیر موصوف نے کہا کہ موجودہ سال کے لیے ایک بلند ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ بھارت-برطانیہ ایف ٹی اے 15 جولائی سے نافذ ہو چکا ہے، جبکہ ماریشس، عمان، متحدہ عرب امارات، آسٹریلیا اور برطانیہ کے ساتھ معاہدے پہلے ہی نافذ العمل ہیں۔ چار ممالک پر مشتمل ای ایف ٹی اےبھی جلد نافذ العمل ہوگا، جبکہ نیوزی لینڈ کے ساتھ معاہدہ بھی جلد نافذ ہوگا، جس کے بعد یورپی یونین کے 27 ممالک شامل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ جیسے ہی امریکا بھارت کے مسابقتی ممالک کے مقابلے میں بھارت کو ترجیحی شرح فراہم کرنے کے قابل ہوگا، دو طرفہ تجارتی معاہدہ(بی ٹی اے)حتمی شکل دے دیا جائے گا اور اس کی مزید تفصیلات کا اعلان کیا جائے گا۔

جناب گوئل نے کہا کہ بھارت نے تمام نوآزاد تجارتی معاہدہ( ایف ٹی اے) میں اچھا معاہدہ حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر معاہدہ دونوں فریقوں کے لیے یکساں فائدے کا حامل ہے، جبکہ کسانوں، ماہی گیروں، ایم ایس ایم ایز اور مزدوروں سے متعلق حساس شعبوں سمیت ادویہ سازی، ٹیکسٹائل، پراسیس شدہ زرعی خوراک اور زرعی مصنوعات جیسے اہم شعبوں کے مفادات کا بھی بھرپور خیال رکھا گیا ہے۔ ان شعبوں کے لیے بھارت نے ایسے معاہدے کیے ہیں جن پر وہ فخر کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ گہرے رابطے اور مشاورت کے بعد اچھی طرح طے کیے گئے ہیں، جن میں حساس شعبوں کو خاطر خواہ تحفظ فراہم کیا گیا ہے اور ان شعبوں میں برآمدات کی گنجائش پیدا کی گئی ہے جہاں بھارت کی دلچسپی اور مضبوطی ہے۔

جناب گوئل نے کہا کہ بھارت نے موجودہ سال کے لیے ایک ٹریلین ڈالر کی برآمدات کا ہدف مقرر کیا ہے، جو تقریباً 16 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال کے پہلے چار ماہ کے دوران برآمدات تقریباً 317 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ گزشتہ سال اپریل سے جولائی کے دوران یہ 280 ارب ڈالر تھیں۔ اس طرح صرف پہلے چار ماہ میں تقریباً 36 سے 37 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ عام طور پر کرسمس کے قریب پہنچنے کے ساتھ ملک کی برآمدات میں تیزی آتی ہے اور جنوری سے مارچ تک آخری سہ ماہی میں یہ عروج پر پہنچ جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ رجحان ایک اچھی علامت ہے اور اس شرحِ نمو کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔

اب تک دستیاب اگست کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ بھارت درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ اجتماعی کوششوں اور مزید مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ یہ مواقع ہر ضلع اور ہر ایسے شعبے تک پہنچیں گے جہاں موجودہ یا مستقبل میں ترقی کی صلاحیت موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی برآمدی مصنوعات کے دائرے کو وسیع کرے گا، نئے برآمد کنندگان کی حوصلہ افزائی کرے گا، چھوٹے برآمد کنندگان کو بڑے برآمد کنندگان میں تبدیل ہونے میں مدد دے گا اور بڑے برآمد کنندگان کو بھی ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔

جناب گوئل نے ایکسپورٹ پروموشن مشن (ای پی ایم )کے لیے تعاون طلب کیا اور ورکشاپ کے دوران اختراعی اور دانشمندانہ تجاویز پیش کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ضابطہ جاتی منظوریوں، ایس پی ایس(ایس پی ایس) اور ٹی بی ٹی منظوریوں جیسے اہم معاملات پر بھی تجاویز اور مشوروں کے لیے تیار ہے۔ اسی طرح پہاڑی علاقوں یا شمال مشرقی ریاستوں، بشمول کشمیر، اتراکھنڈ اور ہماچل سے ہونے والی برآمدات کو درپیش مشکلات میں کمی کے لیے جہاں ضرورت ہو، مال برداری کے اخراجات کی تلافی کے اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جہاں آبنائے ہرمز کے باعث مشکلات پیدا ہوتی ہیں، وہاں خاص طور پر چھوٹے برآمد کنندگان کی مدد کے لیے راستے تلاش کیے جانے چاہئیں۔

وزیر  موصوف نے مزید کہا کہ اب سے چار سال بعد، 2030 تک، بھارت کو اس ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جو کئی برس پہلے مقرر کیا گیا تھا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ بھارت کو کووڈ، دو جنگوں اور کئی دیگر چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے، لیکن کہا کہ کوششوں کو اپنے مقصد پر مرکوز رہنا چاہیے اور بھارت کو 2 ٹریلین ڈالر کے ہدف سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہدف بڑا ہوگا تو کارکردگی بھی بہتر ہوگی۔ اگر کچھ معمولی کمی رہ بھی جائے تو نتیجہ 2 ٹریلین ڈالر کے ہدف کے زیادہ سے زیادہ قریب ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 1.2 ٹریلین یا 1.3 ٹریلین ڈالر کا ہدف مقرر کرکے اسے حاصل کرنا کافی نہیں ہوگا، کیونکہ ملک کی ضروریات پوری کرنے، لاکھوں لوگوں کے لیے روزگار پیدا کرنے اور نئے کاروباری افراد کو آگے لانے کے لیے اس سے کہیں زیادہ کوشش درکار ہے۔

جناب گوئل نے دفاتر کو ایک ہی مقام پر قائم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دفاتر ریاستوں میں موجود ہیں اور مستقبل میں انہیں ریاستی سطح پر ضروری تعاون فراہم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس رفتار اور جوش و جذبے کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ انجینئرنگ، الیکٹرانکس، کیمیکلز، ادویہ سازی، ٹیکسٹائل، سمندری مصنوعات، زراعت، جواہرات و زیورات اور چمڑے سمیت ہر شعبے میں مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فہرست کی کوئی انتہا نہیں ہے۔

انہوں نے خدمات کے شعبے میں بھی بہت سے نئے شعبوں کے کھلنے کو نمایاں کیا اور کہا کہ آج ہر ملک ترقی کی نئی بلندیوں کی جانب بڑھ رہا ہے، جبکہ انہوں نے مالیاتی شعبے کا بھی حوالہ دیا۔

جناب گوئل نے تکنیکی معیارات اور صحت و صفائی سے متعلق ایس پی ایس معیارات کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو کسی بھی غیر اخلاقی چیز کے لیے ذریعہ یا گزرگاہ نہیں بننا چاہیے اور اسے دنیا کے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کی حیثیت برقرار رکھنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کو حقیقی قدر میں اضافہ کرنا ہوگا اوراصل ملک کے سرٹیفکیٹ کی بھی حقیقی اہمیت ہونی چاہیے۔

وزیر  موصوف نے کہا کہ آئندہ قائم ہونے والے 100 بھاویا پارکس میں برآمد کنندگان کو ترجیحی بنیادوں پر تعاون فراہم کیا جائے گا۔ ان لوگوں کو پارکس کی الاٹمنٹ میں رعایت دی جائے گی جو زیادہ سطح کی سرمایہ کاری اور سرگرمی کے عزم کا اظہار کریں گے۔ برآمد کنندگان کو پلگ اینڈ پلے بنیادوں پر کام کرنے کے لیے درکار سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ ایکسپورٹ پروموشن مشن یا صنعتی پارکس کے ذریعے موجودہ صنعتی کلسٹرز کو بھی تعاون فراہم کیا جائے گا۔

جناب گوئل نے گزشتہ ماہ یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا حوالہ دیا، جس میں کاروباری اداروں سے کہا گیا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مختلف شعبوں کی مصنوعات عالمی منڈیوں تک پہنچیں اور بین الاقوامی معیار پر صرف پورا اترنے کے بجائے اسے عبور کریں۔

انہوں نے کہا کہ یہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے اور ملک کو اس کوشش کو مشن کی صورت میں آگے بڑھانا ہوگا۔

اپنے خطاب کے اختتام پر جناب گوئل نے متعدد تجاویز پیش کیں۔

اول: ہر ریاست کو ایسی مصنوعات اور صنعتی کلسٹرز کی نشاندہی کرنی چاہیے جہاں آزاد تجارتی معاہدہ ( ایف ٹی اے )پہلے ہی کاروباری اداروں کو فائدہ پہنچا رہے ہیں اور جہاں ان فوائد سے پوری طرح استفادہ نہیں کیا جا رہا، تاکہ حکومت یہ جائزہ لے سکے کہ کس قسم کی مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔

دوم: پہلی بار برآمد کرنے والے کاروباری اداروں اور نئی مصنوعات کی نشاندہی کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ای کامرس ایم ایس ایم ایز اور پہلی بار برآمد کرنے والوں کو عالمی منڈیوں میں داخل ہونے کے لیے نسبتاً آسان راستہ فراہم کرتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت ایسی تبدیلیاں کی گئی ہیں جن سے ای کامرس کے ذریعے بڑے پیمانے پر برآمدات کی حوصلہ افزائی ہو۔

سوم: ایکسپورٹ پروموشن کونسلز (ای ای ایس)کے درمیان رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنایا جائے اور ای پی سیز کو اپنی متعلقہ صنعتوں کی زمینی  سطح تک پہنچنا چاہیے۔ جناب گوئل نے تشویش کا اظہار کیا کہ ای پی سیز اور صنعت کے درمیان رابطہ معاشی و کاروباری نظام کے نچلے طبقے، آخری سطح اور براہِ راست برآمد کنندگان تک نہیں پہنچ پا رہا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ای پی سیز اپنی معلومات اور پیغامات کو برآمد کنندگان اور صنعت کے نچلے درجے تک کس حد تک پہنچا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صنعتی انجمنوں کو بھی اسی طرح آخری فرد اور سب سے چھوٹی صنعتی اکائی تک پہنچنا ہوگا۔ حکومت، صنعتی انجمنوں اور ای پی سیز کے درمیان رابطہ کاری کو مزید مضبوط کیا جانا چاہیے، جبکہ ملک کے مختلف حصوں اور ہر ضلع سے زیادہ سے زیادہ افراد کو بین الاقوامی وفود میں شامل کیا جائے، تاکہ درست مصنوعات کو درست عالمی منڈیوں میں پیش کیا جا سکے۔ بالخصوص شعبہ جاتی وفود کی تعداد میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔

چہارم: صنعتی انجمنوں کو اپنے لیے اہداف مقرر کرنے چاہئیں، جبکہ ایکسپورٹ پروموشن کونسلز (ای ایف سی) کو مزید بلند اہداف طے کرنے چاہئیں۔ انہیں اپنے اراکین اور ایم ایس ایم ایز تک مقامی زبانوں اور آسانی سے سمجھ میں آنے والے مواد کے ذریعے معلومات پہنچانی چاہئیں، مزید اراکین کو شامل کرنا چاہیے اور حکومت اور برآمد کنندگان کے درمیان تعاون کا مرکزی ستون اور رابطے کا مؤثر ترین ذریعہ بننا چاہیے۔

آخر میں، جناب گوئل نے کہا کہ محکمہ کو شعبہ  کے لحاظ سے یا کلسٹر  کے لحاظ سے  ورکشاپس منعقد کرنی چاہئیں اور ضلع یا ریاستی سطح پر ایک رابطہ افسر کے ساتھ سہولت کاری کا نظام قائم کرنا چاہیے۔ مدد کے لیے رابطہ کرنے والے برآمد کنندگان کو جواب دینے کا وقت بہت کم ہونا چاہیے، جہاں ممکن ہو فوری جواب دیا جائے، جبکہ ہر صورت میں آن لائن سہولت دستیاب ہونی چاہیے تاکہ ہر کام کے لیے بار بار سفر کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔

جناب گوئل نے اعتماد کا اظہار کیا کہ مل جل کر کام کرنے سے ملک میں زمینی سطح پر لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، ملک کے لیے اربوں ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوگا اور آنے والی نسلوں کو بڑے پیمانے پر برآمدی کاروبار میں شامل ہونے کی ترغیب ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت آج امرت کال کے دوران ایک ترقی پذیر ملک سے 2047 تک 30 ٹریلین ڈالر کی معاشی قوت رکھنے والی ترقی یافتہ قوم میں تبدیل ہو رہا ہے۔

اپنے خطاب میں محکمہ تجارت کے سیکریٹری جناب راجیش اگروال نے ورکشاپ کے بنیادی مقصد کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد تمام متعلقہ فریقوں، بشمول مرکزی اور ریاستی حکومتوں، ایکسپورٹ پروموشن کونسلز اور صنعتی اداروں کو ایک ساتھ لانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ورکشاپ کے مختلف سیشن اس طرح ترتیب دیے گئے تھے کہ مختلف شعبوں میں صنعتوں کے لیے پیدا ہونے والے مخصوص مواقع سے تمام ریاستوں کو آگاہ کیا جا سکے۔

ان خطابات میں برآمدات کے فروغ کے لیے ایک مستقل اور ریاستوں کے اشتراک پر مبنی حکمتِ عملی اختیار کرنے کے حکومت کے عزم کی توثیق کی گئی اور آنے والے برسوں میں آزاد تجارتی معاہدہ ( ایف ٹی اے )سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے محکمہ تجارت کے لائحۂ عمل کو بھی واضح کیا گیا۔

ایکسپورٹ پروموشن مشن (ای پی ایم)اور ’’ضلع بطور ایکسپورٹ ہب(ڈی ای ایچ )‘‘ اقدام پر خصوصی خطاب میں بتایا گیا کہ یہ مشن ایسے بنیادی ستونوں پر قائم کیا گیا ہے جن کا مقصد برآمدی قرض تک آسان رسائی، ضابطہ جاتی تقاضوں کو آسان اور ڈیجیٹل بنانا اور ایف ٹی اے سے متعلق دستاویزات، بشمول قواعداصل کے سرٹیفکیٹ کے حصول میں براہِ راست مدد فراہم کرنا ہے۔ یہ مشن علاقائی حکام کے بارے میں آگاہی کو بھی فروغ دیتا ہے اور اس معلوماتی خلا کو پُر کرنے میں مدد کرتا ہے جس کی سب سے زیادہ ضرورت پہلی نسل کے برآمد کنندگان اور ایم ایس ایم ای برآمد کنندگان کو ہوتی ہے۔

آئی ٹی پی او کے چیئرمین جناب جاوید اشرف نے خصوصی خطاب میں بھارتی برآمد کنندگان کے لیے عالمی منڈیوں سے روابط مضبوط بنانے پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے برآمدات کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات کی اہمیت پر زور دیا اور بھارتی برآمد کنندگان کی مدد میں آئی ٹی پی او کے اہم اور تبدیلی لانے والے کردار کو بھی اجاگر کیا۔

ایک اور پریزنٹیشن میں بھارت کے حالیہ آزاد تجارتی معاہدہ ( ایف ٹی اے) سے پیدا ہونے والے عالمی منڈی کے مواقع پر توجہ مرکوز کی گئی۔ ایف ٹی اے سے فائدہ اٹھانے کے حوالے سے ریاستی سطح کا نقطۂ نظر بھی ریاست راجستھان کی جانب سے پیش کیا گیا، جس میں برآمدات کی سہولت کاری کے عملی تجربات کی بنیاد پر صورتحال بیان کی گئی۔

دوپہر کے سیشن میں ریاستوں پر مرکوز چھ متوازی گروپ تشکیل دیے گئے، جن میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو علاقائی بنیادوں پر منظم کیا گیا۔ ہر سیشن کی مشترکہ صدارت محکمہ تجارت کے ایک سینئر افسر اور موجود سینئر ترین ریاستی افسر نے کی۔ ہر گروپ میں ہونے والی گفتگو کا مرکز مخصوص برآمدی کلسٹرز اور مصنوعات کی نشاندہی، ایف ٹی اے کے فوائد سے استفادہ کرنے میں برآمد کنندگان کو درپیش عملی رکاوٹوں اور مرکزی حکومت سے درکار آئندہ تعاون کی نشاندہی تھا۔ ہر گروپ کی اہم سفارشات اختتامی اجلاس میں پیش کی گئیں، جس کے بعد اظہار تشکر کیا گیا۔

یہ ورکشاپ محکمہ تجارت کی جانب سے برآمدات کے فروغ کے لیے مرکز اور ریاستوں کے درمیان رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے اور اس بات کو یقینی بنانے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے کہ بھارت کے آزاد تجارتی معاہدوں کے فوائد ملک بھر میں ضلع اور کلسٹر  کی سطح پر صنعت کاروں اور برآمد کنندگان تک پہنچیں۔

***

(ش ح ۔ م م ع ۔م ذ)

U.No: 2981


(ریلیز آئی ڈی: 2306346) وزیٹر کاؤنٹر : 9