شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے جی ڈی پی تخمینوں کے اجرا کے بعد موصول ہونے والی اضافی معلومات

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 SEP 2026 2:43PM by PIB Delhi

وزارت نے 31 اگست 2026 کو مالی سال 2022-23 کو بنیادی سال  قرار دیتے ہوئے سالانہ اور سہ ماہی جی ڈی پی تخمینوں کا نظرثانی شدہ سلسلہ جاری کیا ہے۔ ان جی ڈی پی تخمینوں کو اشیا کی پیداوار کے پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) کے نئے سلسلے، بینکاری خدمات کے قیمت اشاریے (بی کے ایس پی آئی)، جن دونوں کا بنیادی سال 2022-23 ہے اور مختلف انتظامی ذرائع سے حاصل ہونے والے تازہ ترین اعداد و شمار کو استعمال کرتے ہوئے اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔

اب جاری کی جانے والی اضافی معلومات کا تعلق بنیادی طور پر درج ذیل امور سے ہے: دوہری تنسیخِ قیمت  کے طریقۂ کار کا اختیار کیا جانا اور اس کے نتیجے میں بعض صورتوں میں ظاہر ہونے والے منفی مضمر قیمت اشاریے؛ ان کا دیگر قیمتوں میں کمی بیشی کو ظاہر کرنے والے اشاریوں، مثلاً صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) اور تھوک قیمت اشاریہ (ڈبلیو پی آئی) کے ساتھ تقابل؛ برائے نام اور حقیقی مجموعی اضافی قدر (جی وی اے/جی ڈی پی) کے درمیان فرق؛ پیداواری/آمدنی کے نقطۂ نظر اور اخراجاتی نقطۂ نظر سے حاصل ہونے والے جی ڈی پی تخمینوں میں فرق؛ نیز نئے اور سابقہ سلسلۂ اعداد و شمار کی شرحِ نمو کا تقابلی جائزہ وغیرہ۔

ان امور کے بارے میں مزید وضاحت اور بہتر تفہیم پیدا کرنے کے لیے وزارت نے مختلف متعلقہ فریقوں کے استعمال کی غرض سے سوالات اور ان کے جوابات پر مشتمل یہ اضافی معلومات جاری کی ہیں، جو ضمیمے میں درج ہیں۔

ضمیمہ

جی ڈی پی کے تخمینوں سے متعلق سوالات اور جوابات

سوال نمبر-1

مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں مینوفیکچرنگ شعبے کے مجموعی اضافی قدر (جی وی اے) کے مضمر قیمت اشاریےمیں-1.5 فیصد کی منفی افراطِ زر کیسے ریکارڈ ہو سکتی ہے، جبکہ مینوفیکچرنگ کی پیداوار اور پیداواری اِن پٹ، دونوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے؟ اس کے برعکس زرعی شعبے میں افراطِ زر کی شرح 3.9 فیصد کیوں ریکارڈ ہوئی؟

جواب:

مینوفیکچرنگ شعبے کے مضمر قیمت اشاریے میں منفی افراطِ زر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مینوفیکچرنگ مصنوعات کی قیمتیں کم ہو گئی ہیں۔ یہاں پیداوار اور اِن پٹ کی قیمتوں کے اشاریوں اور مجموعی اضافی قدر (جی وی اے) کے مضمر قیمت اشاریے کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔

دوہری تنسیخِ قیمت کے طریقۂ کار کے تحت مینوفیکچرنگ شعبے کی کل پیداوار  اور درمیانی کھپت کی قیمتوں کو الگ الگ حقیقی قیمتوں میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد حقیقی جی وی اے کا تعین اس طرح کیا جاتا ہے کہ حقیقی درمیانی کھپت کو حقیقی پیداوار میں سے منہا کر دیا جاتا ہے۔

لہٰذا، جب اِن پٹ کی قیمتوں میں اضافہ پیداوار کی قیمتوں کے اضافے سے زیادہ تیز رفتار ہو تو قیمتوں میں اس باہمی نسبت کے نتیجے میں برائے نام جی وی اے، حقیقی جی وی اے کے مقابلے میں نسبتاً سست رفتاری سے بڑھ سکتا ہے۔ چنانچہ مضمر جی وی اے قیمت اشاریہ، جو برائے نام جی وی اے اور حقیقی جی وی اے کے تقابل سے اخذ کیا جاتا ہے، منفی افراطِ زر ظاہر کر سکتا ہے، حالاں کہ پیداوار اور اِن پٹ، دونوں کی قیمتیں بڑھ رہی ہوں۔

اہم بات یہ ہے کہ جی وی اے کے قیمت اشاریے میں منفی شرح کا مطلب لازماً حقیقی نمو میں کمی نہیں ہوتا۔ حقیقی جی وی اے کی شرحِ نمو کا انحصار حقیقی پیداوار اور حقیقی درمیانی کھپت میں ہونے والی باہمی نسبت کی تبدیلیوں پر ہوتا ہے۔

مندرجہ بالا صورتِ حال کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ذیل میں ایک مثالی وضاحت پیش کی گئی ہے:

اشاریہ

سال اول

سال دوم

شرحِ نمو

مجموعی پیداوار کی قدر

1,000 کروڑ

1,200 کروڑ

20.0فیصد

درمیانی کھپت

800 کروڑ

976 کروڑ

22.0فیصد

برائے نام مجموعی اضافی قدر — موجودہ قیمتوں پر

200 کروڑ

224 کروڑ

12.0فیصد

(پی پی آئی) آؤٹ پٹ اشاریہ

100

110

10.0فیصد

(پی پی آئی) ان پٹ اشاریہ

100

114

14.0فیصد

قیمتوں کے اثر کو نکالنے کے بعد پیداوار — مستقل قیمتوں پر

1,000 کروڑ

1,091 کروڑ

9.1فیصد

قیمتوں کے اثر کو نکالنے کے بعد اِن پٹ — مستقل قیمتوں پر

800 کروڑ

856 کروڑ

7.0فیصد

حقیقی اضافی قدر — مستقل قیمتوں پر

200 کروڑ

235 کروڑ

17.5فیصد

  • موجودہ قیمتوں پر  شرح نمو 12.0فیصد

  • مستقل قیمتوں پر  شرح نمو  17.5فیصد

 

اس مثال کے مطابق برائے نام جی وی اے میں 12فیصد اضافہ ہوتا ہے ، جبکہ حقیقی جی وی اے میں 17.5فیصد اضافہ ہوتا ہے ، جس کے نتیجے میں منفی مضمر جی وی اے ڈیفلیٹر ہوتا ہے ۔  اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تیار شدہ مصنوعات کی قیمتیں گر گئی ہیں ؛ بلکہ ، یہ ڈبل ڈیفلیشن کے تحت آؤٹ پٹ اور ان پٹ قیمتوں کی نسبتا حرکت کی عکاسی کرتا ہے ۔

مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی  میں مینوفیکچرنگ شعبے کی جی وی اے کا حساب دوہری تنسیخِ قیمت کے طریقۂ کار کے تحت کیا گیا ہے، جس میں پیداوار اور درمیانی کھپت  کی قیمتوں کے اثرات کو الگ الگ نکالا جاتا ہے۔ اس عرصے کے دوران اِن پٹ کی قیمتوں میں اضافہ، پیداوار کی قیمتوں کے مقابلے میں زیادہ تیز رہا۔ نتیجتاً، اس شعبے میں برائے نام جی وی اے کی شرحِ نمو نسبتاً کم، یعنی 7.7 فیصد رہی، جبکہ حقیقی جی وی اے کی شرحِ نمو 9.2 فیصد رہی۔ برائے نام اور حقیقی جی وی اے کی شرحِ نمو کے درمیان اس فرق کے نتیجے میں جی وی اے کا مضمر قیمت اشاریہ 1.5 فیصد منفی رہا۔

مثال کے طور پر، بعض سرگرمیوں میں اِن پٹ کی قیمتوں میں اضافہ پیداوار کی قیمتوں کے اضافے سے زیادہ پایا گیا۔ ان میں ٹیکسٹائل کی تیاری اور روئی کی جننگ، بنیادی دھاتوں  کی تیاری، ربڑ اور پلاسٹک کی مصنوعات کی تیاری وغیرہ شامل ہیں۔

مزید برآں، اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کے تحقیقی مقالوں میں اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ جو ممالک دوہری تنسیخِ قیمت کا طریقۂ کار استعمال کرتے ہیں، وہاں عالمی سطح پر توانائی اور خام مال کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے دوران مینوفیکچرنگ شعبے کے مضمر قیمت اشاریوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ یا منفی شرحیں دیکھنے میں آ سکتی ہیں۔ ترقی یافتہ معیشتیں، جو بڑی حد تک درآمد شدہ خام مال پر انحصار کرتی ہیں، بین الاقوامی سپلائی چین میں اتار چڑھاؤ کے دوران اکثر مینوفیکچرنگ کے شعبے میں منفی ڈیفلیٹرز کا سامنا کرتی ہیں۔

لہٰذا، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مینوفیکچرنگ مصنوعات کی قیمتیں کم ہو گئی ہیں۔ درحقیقت، یہ دوہری تنسیخِ قیمت کے طریقۂ کار کے تحت پیداوار اور اِن پٹ کی قیمتوں میں ہونے والی باہمی نسبت کی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔

اس کے برعکس، سہ ماہی بنیاد پر زرعی شعبے کی جی وی اے کا تخمینہ پہلے پیداوار کے تخمینوں کی مدد سے مستقل قیمتوں  پر لگایا جاتا ہے۔ اس کے بعد زرعی شعبے کی موجودہ قیمتوں  پر جی وی اے کا تخمینہ، مستقل قیمتوں پر حاصل شدہ تخمینے کو متعلقہ پروڈیوسر پرائس انڈیکس کے ذریعے قیمتوں کے مطابق ایڈجسٹ کرتے ہوئے اخذ کیا جاتا ہے۔

مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران زراعت، جنگلات اور ماہی گیری  کے گروپ کا آؤٹ پٹ پروڈیوسر پرائس انڈیکس تقریباً 5 فیصد بڑھا۔ چونکہ زرعی پیداوار کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور زرعی شعبے کی برائے نام جی وی اے بڑی حد تک انہی پیداوار کی قیمتوں سے متاثر ہوتی ہے، اس لیے اس کی مضمر افراطِ زر کی شرح مثبت، یعنی 3.9 فیصد رہی۔

2۔ گزشتہ سال کی موجودہ قیمتوں پر جی ڈی پی کو 86 لاکھ کروڑ روپے سے گھٹا کر 80 لاکھ کروڑ روپے کر دیا گیا ہے، تاکہ رواں سال کی جی ڈی پی بہتر دکھائی دے۔ اگر گزشتہ سال کا عدد نظرثانی نہ کیا جاتا تو موجودہ قیمتوں پر شرحِ نمو 2.6 فیصد ہوتی۔

جواب:

پہلی سہ ماہی کی جی ڈی پی کے تخمینوں کا تقابل کرتے وقت جی ڈی پی کے سلسلۂ اعداد و شمار میں کی جانے والی نظرثانی کے پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔ مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی کے تخمینے میں تبدیلی اس لیے نہیں کی گئی کہ موجودہ سال کی شرحِ نمو کو مصنوعی طور پر زیادہ دکھایا جا سکے۔ یہ تبدیلی جی ڈی پی کے اعداد و شمار میں مرحلہ وار طریقۂ کار  اور اعداد و شمار کی نظرثانی کا نتیجہ ہے۔

سہ ماہی جی ڈی پی کے تخمینے عموماً بینچ مارک-اشاریہ طریقۂ کار  کے تحت تیار کیے جاتے ہیں۔ اس طریقۂ کار میں سہ ماہی تخمینوں میں ہونے والی تبدیلی کا اندازہ متعلقہ اعلیٰ تعدد والے معاشی اشاریوں  میں ہونے والی تبدیلی کی بنیاد پر لگایا جاتا ہے۔

گزشتہ سال کے بینچ مارک تخمینے میں نظرثانی، اپنے آپ میں، نہ تو رواں سال کی بنیادی معاشی سرگرمی میں کوئی مصنوعی اضافہ پیدا کرتی ہے اور نہ ہی تخمینے کے لیے استعمال ہونے والے اشاریوں میں کوئی مصنوعی اضافہ پیدا کرتی ہے۔

سہ ماہی جی ڈی پی کے سلسلے میں سینکڑوں سے زائد مقداری یا قدر پر مبنی اشاریے استعمال کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ان میں بعض مقداری اشاریے یہ ہیں: فصلوں کی پیداوار میں شرحِ نمو؛ سیمنٹ کی پیداوار کے اشاریے میں شرحِ نمو؛ تیار شدہ اسٹیل کی کھپت میں شرحِ نمو؛ کمرشل گاڑیوں کی فروخت میں شرحِ نمو؛ وغیرہ۔

سب سے پہلے، مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی  کے  جی ڈی پی کا تخمینہ 29 اگست 2025 کو اُس وقت رائج 2011-12 بنیادی سال پر مبنی سلسلۂ اعداد و شمار کے تحت جاری کیا گیا تھا۔ اس سلسلے کے مطابق، مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں موجودہ قیمتوں پر جی ڈی پی کا تخمینہ 86.05 لاکھ کروڑ روپے لگایا گیا تھا۔

دوسرے، فروری 2026 میں وزارت نے 2022-23 کو بنیادی سال قرار دیتے ہوئے جی ڈی پی کے اعداد و شمار کا نیا سلسلہ متعارف کرایا۔ بنیادی سال میں تبدیلی کے حصے کے طور پر جی ڈی پی کی پوری تاریخی مدت کے تخمینوں پر جامع نظرثانی کی جاتی ہے، تاکہ تازہ ترین اعداد و شمار کے ذرائع، بہتر طریقۂ کار، نظرثانی شدہ دائرۂ کار اور دیگر متعلقہ معلومات کو شامل کیا جا سکے۔ چنانچہ نئے سلسلے کے تحت مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں موجودہ قیمتوں پر جی ڈی پی  کا تخمینہ 80.32 لاکھ کروڑ روپے لگایا گیا۔

تیسرے، جب 5 جون 2026 کو مالی سال 2025-26 کے جی ڈی پی کے ابتدائی/عارضی تخمینے  جاری کیے گئے، تو مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی کے تخمینے کو مزید اپ ڈیٹ کرکے 80.44 لاکھ کروڑ روپے کر دیا گیا۔ یہ تبدیلی اس عرصے تک دستیاب ہونے والے نئے اشاریوں اور اعداد و شمار کو شامل کرنے اور انہیں اپ ڈیٹ کرنے کی عکاسی کرتی تھی۔

چوتھے، اس کے بعد صنعتی پیداوار کے اشاریے (آئی آئی پی) اور پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) کے نئے سلسلے دستیاب ہوئے، جنہیں جی ڈی پی  کی تیاری میں شامل کر لیا گیا۔ ان نئے اعداد و شمار کو شامل کرنے کے لیے 2022-23 سے آگے کے متعلقہ جی ڈی پی تخمینوں کو بھی اپ ڈیٹ کرنا ضروری تھا۔ نتیجتاً، مالی سال 2025-26  کی پہلی سہ ماہی میں موجودہ قیمتوں پر جی ڈی پی کو نظرثانی کرکے 80.00 لاکھ کروڑ روپے کر دیا گیا۔

لہٰذا، 86.05 لاکھ کروڑ روپے سے 80.00 لاکھ کروڑ روپے تک کی تبدیلی جی ڈی پی  کے سلسلے میں مرحلہ وار کی جانے والی نظرثانی کا نتیجہ ہے۔ یہ نظرثانیاں بنیادی سال میں تبدیلی، بہتر اعداد و شمار کے ذرائع اور طریقۂ کار کو شامل کرنے، اور دستیاب اشاریوں کو اپ ڈیٹ کرنے کے باعث کی گئیں۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ گزشتہ سال کی جی ڈی پی میں جان بوجھ کر کمی کی گئی، تاکہ موجودہ سال کی شرحِ نمو کو محض حسابی طور پر زیادہ دکھایا جا سکے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ سابقہ 2011-12 بنیادی سال پر مبنی سلسلۂ اعداد و شمار کے تحت 86.05 لاکھ کروڑ روپے کا تخمینہ، نظرثانی شدہ 2022-23 بنیادی سال پر مبنی موجودہ سلسلے کے تحت مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی  کے موجودہ تخمینے کے ساتھ براہِ راست قابلِ تقابل نہیں ہے۔ اس کے بجائے، شرحِ نمو کا حساب ایک ہی اور تازہ ترین قابلِ تقابل جی ڈی پی  سلسلے کے تخمینوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، یعنی 2022-23 کو بنیادی سال رکھنے والے نئے سلسلے کے مطابق۔ چنانچہ مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے لیے 88.27 لاکھ کروڑ روپے کے جی ڈی پی  تخمینے کا موزوں تقابل مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی کے سابقہ 80.32 لاکھ کروڑ روپے کے تخمینے سے کیا جانا چاہیے، نہ کہ سابقہ اور اب متروک 2011-12 بنیادی سال کے سلسلے میں دیے گئے 86.05 لاکھ کروڑ روپے کے تخمینے سے۔

3۔ جب صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) میں افراطِ زر 3.9 فیصد اور تھوک قیمت اشاریہ (ڈبلیو پی آئی) میں 9 فیصد سے زیادہ ہو، تو جی ڈی پی کی مضمر افراطِ زر کی شرح 2.5 فیصد کو کیسے سمجھا جائے؟

جواب:

قیمتوں میں اس فرق کو سمجھنے کے لیے یہ بات مدِنظر رکھنا ضروری ہے کہ جی ڈی پی  ڈیفلیٹر مجموعی خالص اضافی قدر میں قیمتوں کے اثر کو ظاہر کرنے والا ایک مضمر قیمت اشاریہ ہے، نہ کہ اشیا اور خدمات کی خرید و فروخت میں استعمال ہونے والی قیمتوں کا براہِ راست پیمانہ۔ اس لیے اس میں کوئی تضاد نہیں، کیونکہ جی ڈی پی ڈیفلیٹر، سی پی آئی اور ڈبلیو پی آئی معیشت کے مختلف پہلوؤں کی پیمائش کرتے ہیں اور ان تینوں کا دائرۂ کار اور اشیا و خدمات کا وزن  بھی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔

ان معاشی اشاریوں کے لیے استعمال ہونے والی اشیا اور خدمات کی ٹوکریاں بھی ان کے مختلف مقاصد کے مطابق الگ الگ ہوتی ہیں:

صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی): یہ گھریلو صارفین کی جانب سے آخری مرحلے پر استعمال کی جانے والی مخصوص اشیا اور خدمات کی ٹوکری کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔

تھوک قیمت اشاریہ (ڈبلیو پی آئی): یہ تھوک فروش کی سطح پر بڑی مقدار میں فروخت ہونے والی اشیا، خام مال اور تیار شدہ مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس میں خدمات شامل نہیں ہوتیں۔

مضمر جی ڈی پی ڈیفلیٹر:

یہ موجودہ قیمتوں پر جی ڈی پی اور مستقل قیمتوں پر جی ڈی پی کے تناسب سے حاصل کیا جاتا ہے اور اس کا دائرۂ کار پوری معیشت پر محیط ہوتا ہے۔ اس میں حکومتی اخراجات، کارپوریٹ سرمایہ کاری، برآمدات، اور مالی و غیر مالی خدمات—مثلاً بینکاری، آئی ٹی اور رئیل اسٹیٹ—سب شامل ہیں۔

چونکہ بعض خام مال کی قیمتیں بہت زیادہ تھیں، جبکہ خدمات کے بعض شعبوں میں افراطِ زر بہت کم رہا، اس لیے مجموعی جی ڈی پی ڈیفلیٹر میں اشیا کی صارف یا تھوک منڈی میں نظر آنے والی بلند افراطِ زر کی شرح کا اثر کم ہو گیا۔

لہٰذا، مضمر جی ڈی پی ڈیفلیٹر کا سی پی آئی یا ڈبلیو پی آئی کے ساتھ یکساں سمت میں حرکت کرنا ضروری نہیں ہے۔ دائرۂ کار، وزن، قیمتوں کے تصور اور معیشت کے مختلف شعبوں کی نسبتی کارکردگی میں فرق کے باعث جی ڈی پی ڈیفلیٹر کی شرح صارف قیمت یا تھوک قیمت کی افراطِ زر کی شرح سے نمایاں طور پر مختلف ہو سکتی ہے۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ہر انفرادی شے یا اشیا کے گروپ کی قیمتوں کے اثر کو ختم کرنے (ڈفلیشن) کے لیے اسی شے یا گروپ سے متعلقہ قیمت اشاریہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، مضمر جی ڈی پی ڈیفلیٹر ایک اخذ کردہ عدد ہے، جو اشیا اور اشیا کے گروپ کی سطح پر استعمال کیے جانے والے 300 سے زائد انفرادی قیمت ڈیفلیٹرز کے مجموعی قیمت اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔

4۔ دوہری تنسیخِ قیمت کا طریقۂ کار نجی حتمی صارفی اخراجات (پی ایف سی ای) پر کیسے لاگو ہوتا ہے اور کیا یہ پی ایف سی ای کے حساب میں براہِ راست شامل ہوتا ہے؟

جواب:

دوہری تنسیخِ قیمت کا طریقۂ کار پی ایف سی ای کے حساب میں براہِ راست استعمال نہیں ہوتا۔

دوہری تنسیخِ قیمت دراصل پیداواری جانب پر استعمال ہونے والا ایک طریقۂ کار ہے، جس کے ذریعے کسی صنعت کی مجموعی اضافی قدر (جی وی اے) کا مستقل قیمتوں پر تخمینہ لگایا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے مجموعی پیداوار  اور درمیانی کھپت  کی قیمتوں کے اثرات کو الگ الگ نکالا جاتا ہے۔ چونکہ پی ایف سی ای حتمی طلب کا ایک پیمانہ ہے، یعنی حتمی استعمال کے لیے اشیا اور خدمات پر ہونے والے اخراجات، اس لیے اس میں درمیانی کھپت کو منہا کرنے کا مرحلہ موجود نہیں ہوتا۔

سہ ماہی سطح پر پی ایف سی ای کا تخمینہ اشیا اور اشیا کے مختلف گروپوں کی تفصیلی سطح پر لگایا جاتا ہے۔ مختلف اشیا، مثلاً غذائی اشیا اور تیار شدہ مصنوعات کے لیے پہلے مناسب مقداری اشاریوں کی مدد سے مستقل قیمتوں پر تخمینے تیار کیے جاتے ہیں اور اس کے بعد متعلقہ صارف قیمت اشاریوں کی مدد سے موجودہ قیمتوں پر تخمینے اخذ کیے جاتے ہیں۔

پی ایف سی ای کے تحت شامل متعدد خدمات، مثلاً تعلیم، صحت، ریستوراںاور رہائش کی خدمات کے لیے موجودہ قیمتوں پر تخمینے متعلقہ پیداواری اشاریوں  کی مدد سے تیار کیے جاتے ہیں، جبکہ ان کے مستقل قیمتوں پر تخمینے مناسب قیمت اشاریوں کی مدد سے اخذ کیے جاتے ہیں۔

لہٰذا، دوہری تنسیخِ قیمت کا طریقۂ کار پیداواری جانب جی وی اے کے تخمینے کے لیےاہم ہے، لیکن پی ایف سی ای کے براہِ راست تخمینے کے لیے استعمال ہونے والا طریقۂ کار نہیں ہے۔

5۔ کان کنی کے شعبے میں برائے نام جی وی اے اور حقیقی جی وی اے کے تخمینوں کے درمیان اتنا بڑا فرق کیوں ہے؟

جواب:

سہ ماہی جی ڈی پی کی تیاری میں کان کنی اور کھدائی کے شعبے کی مستقل قیمتوں پر جی وی اے کا تخمینہ متعلقہ صنعتی پیداوار کے اشاریے (آئی آئی پی) کو مقداری اشاریے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے تیار کیا جاتا ہے۔

مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی (اپریل تا جون 2026) کے دوران کان کنی اور کھدائی کے شعبے میںآئی آئی پی کی شرحِ نمو: اپریل: -3.8 فیصد، مئی: -1.4 فیصد،جون: 1.6 فیصدرہی۔

آئی آئی پی میں شرحِ نمو

تفصیل

اپریل 2026

مئی 2026

جون 2026

کان کنی اور کھدائی

-3.8فیصد

-1.4فیصد

1.6فیصد

(الف) ایندھن کے معدنیات

-5.6فیصد

-6.1فیصد

-1.8فیصد

(ب) دھاتی معدنیات، بشمول نادر ارضی معدنیات

12.4فیصد

18.3فیصد

39.4فیصد

(ج) غیر دھاتی معدنیات، بشمول معمولی معدنیات

-10.3فیصد

-6.1فیصد

-11.7فیصد

 

یہ صورتِ حال بڑی حد تک مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران کان کنی اور کھدائی کے شعبے کی حقیقی جی وی اے میں 2.4 فیصد کی منفی شرحِ نمو سے مطابقت رکھتی ہے۔

برائے نام تخمینے  مختلف معدنی گروپوں کے متعلقہ حقیقی تخمینوں پر متعلقہ پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) لاگو کرکے اخذ کیے جاتے ہیں۔ مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے پی پی آئی کے اعداد و شمار کان کنی اور کھدائی کے شعبے میں قیمتوں میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

خصوصاً خام پٹرولیم اور قدرتی گیس  کی قیمتوں میں اپریل، مئی اور جون کے دوران بالترتیب 69.5 فیصد، 72.2 فیصد اور 33.7 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ دھاتی خام معدنیات کی کان کنی میں افراطِ زر کی شرح بالترتیب 27.6 فیصد، 25.2 فیصد اور 23.5 فیصد رہی۔

پی پی آئی کی بنیاد پر افراطِ زر

اشیا کا نام

اپریل 2026

مئی 2026

جون 2026

کان کنی اور کھدائی

22.0

21.2

15.5

(الف) دھاتی خام معدنیات کی کان کنی

27.6

25.2

23.5

(ب) کوئلہ اور لگنائٹ کی کان کنی

-1.6

-2.3

-1.6

(ج) دیگر کان کنی اور کھدائی

6.9

6.5

8.7

(د) خام پٹرولیم اور قدرتی گیس کا استخراج

69.5

72.2

33.7

 

لہٰذا حقیقی اور برائے نام جی وی اے کی شرحِ نمو میں نمایاں فرق بنیادی طور پر معدنیات کی قیمتوں میں ہونے والے زبردست اضافے کا نتیجہ ہے، خصوصاً خام پٹرولیم و قدرتی گیس اور دھاتی خام معدنیات کی قیمتوں میں اضافے کا۔ اسے حقیقی اور برائے نام تخمینوں کے درمیان کسی عدم مطابقت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ چنانچہ مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی  میں کان کنی اور کھدائی کے شعبے کی برائے نام جی وی اے کی شرحِ نمو 22.3 فیصد رہی۔

6۔ اگر مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں موجودہ اور مستقل، دونوں قیمتوں پر جی ڈی  پی کے تخمینوں میں فرق  بہت زیادہ ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگلے دورِ نظرثانی میں، جب یہ فرق ایڈجسٹ کیا جائے گا، جی ڈی  پی  کے تخمینوں میں بھی نمایاں نظرثانی ہوگی؟

جواب:

فرق دراصل ایک شماریاتی توازنی جزو ہے، جو پیداواری طریقۂ کار اور اخراجاتی طریقۂ کار کے ذریعے تیار کیے گئے جی ڈی پی کے تخمینوں کے درمیان فرق سے پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے صرف اس فرق کے حجم یا اس میں ہونے والی تبدیلی کو بنیاد بنا کر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ رپورٹ کی گئی جی ڈی پی کم یا زیادہ ظاہر کی گئی ہے۔

مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے تخمینے اس مرحلے پر دستیاب معلومات کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں اور ان میں مزید نظرثانی ممکن ہے، کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ زیادہ جامع اور تازہ ترین بنیادی اعداد و شمار دستیاب ہوتے رہتے ہیں۔ جب اضافی معلومات کو شامل کیا جاتا ہے تو مختلف طریقۂ کار کے تحت تیار کیے گئے تخمینوں میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں شماریاتی فرق بھی کم یا زیادہ ہو سکتا ہے۔

لہٰذا، اگرچہ موجودہ فرق آئندہ نظرثانی کے مراحل میں تبدیل ہو سکتی ہے، لیکن پہلے سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ جی ڈی پی میں لازماً اضافہ ہوگا یا کسی مخصوص مقدار سے نظرثانی ہوگی۔ نظرثانی کی سمت اور حجم کا انحصار بنیادی طور پر پیداواری اور اخراجاتی جانب کے تخمینوں میں ہونے والی نظرثانی پر ہوگا، نہ کہ صرف فرق کو میکانکی طور پر ایڈجسٹ کرنے پر۔

اہم بات یہ ہے کہ موجودہ قیمتوں پر جی ڈی پی کے حتمی تخمینے جاری کیے جانے کے وقت فرق بہت معمولی یا صفر کے قریب رہ جاتی ہے، جیسا کہ مالی سال 2022-23 اور 2023-24 کے معاملے میں بھی دیکھا گیا تھا۔

*****

ش ح۔  ا ک ۔ت ع

U.No. 2927


(ریلیز آئی ڈی: 2305989) وزیٹر کاؤنٹر : 7