محنت اور روزگار کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ای پی ایف اسکیم 2026 کے تحت پروویڈنٹ فنڈ ٹرسٹوں کی مستثنیٰ حیثیت کو سابقہ طور پر باقاعدہ بنانے کے لیے ایمنسٹی کی سہولت


ای پی ایف او نے ممکنہ مستفیدین سے درخواستیں طلب کیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 SEP 2026 1:05PM by PIB Delhi

ملازمین کے پروویڈنٹ فنڈ (ای پی ایف) اسکیم 2026 میں ایمنسٹی کی دفعات کو عبوری اقدام کے طور پر شامل کیا گیا ہے، جسے 29 جون 2026 کو مطلع کیا گیا تھا۔ ان دفعات کے تحت ایسے پروویڈنٹ فنڈ (پی ایف) ٹرسٹوں کو اپنی مستثنیٰ حیثیت کو باقاعدہ بنانے کا ایک مرتبہ موقع فراہم کیا گیا ہے، جو انکم ٹیکس ایکٹ، 1961 (1961 کی دفعہ 43) کے تحت تسلیم شدہ ہیں، لیکن انہیں ملازمین کے پروویڈنٹ فنڈز اور متفرق دفعات (ای پی ایف اینڈایم پی)ایکٹ، 1952 کی دفعہ 17 یا سماجی تحفظ (سی او ایس ایس)کے ضابطہ، 2020 کی دفعہ 143 کے تحت باضابطہ استثنیٰ کا حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔

ایمنسٹی کے عملی رہنما اصول، جن میں درخواست دینے کا طریقہ، ضابطہ کار سے متعلق تقاضے وغیرہ شامل ہیں، 11 جولائی 2026 کو جاری کیے گئے تفصیلی سرکلر میں فراہم کیے گئے ہیں۔ ایمنسٹی کی دفعات اطلاع جاری ہونے کی تاریخ سے چھ ماہ کی مدت تک، یعنی 28 دسمبر 2026 تک نافذ العمل رہیں گی۔مستثنیٰ حیثیت کو سابقہ طور پر باقاعدہ بنانے کے علاوہ، پروویڈنٹ فنڈ ٹرسٹوں کو دیگر اہم فوائد بھی حاصل ہوں گے، جن میں سی او ایس ایس ، 2020 کے تحت مقرر بعض تقاضوں، مثلاً ملازمین کی کم از کم تعداد، فنڈ کے حجم اور تین سالہ تعمیل کی شرط سے استثنیٰ شامل ہے۔سابقہ بنیاد پر حیثیت کو باقاعدہ بنائے جانے کے بعد، کوئی ادارہ یہ انتخاب کر سکتا ہے کہ وہ مستثنیٰ ادارے کے طور پر یا غیر مستثنیٰ ادارے کے طور پر ضوابط کی پابندی کرے۔

ملازمین کے پروویڈنٹ فنڈ ادارہ (ای پی ایف او) اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ ممکنہ درخواست دہندگان کو ایمنسٹی کی دفعات سے مناسب طور پر آگاہ کیا جائے اور اس کے فیلڈ دفاتر کے ذریعے انہیں پورے عمل کے دوران مناسب رہنمائی فراہم کی جائے۔ اس بیداری مہم کے تحت مختلف متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے اور مشاورت کا عمل جاری ہے۔ ای پی ایف او نے انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف انڈیا (آئی سی اے آئی) جیسے پیشہ ور اداروں سے بھی رابطہ کیا ہے۔ اس ادارے کے ارکان یعنی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس متعدد اداروں کا قانونی یا انکم ٹیکس آڈٹ انجام دیتے ہیں۔ ان میں ایسے ادارے بھی شامل ہیں جنہوں نے پروویڈنٹ فنڈ ٹرسٹ قائم کر رکھے ہیں۔ اس لیے یہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس ان پروویڈنٹ فنڈ ٹرسٹوں کی شناخت کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہیں جو ممکنہ طور پر ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔آئی سی اے آئی سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے ارکان کے درمیان ایمنسٹی کی دفعات کو عام کریں، تاکہ پروویڈنٹ فنڈ ٹرسٹوں کی جانب سے اس اسکیم کے لیے زیادہ سے زیادہ درخواستیں موصول ہوسکیں۔اس کے علاوہ، ای پی ایف او کے فیلڈ دفاتر، مثلاً زونل آفس اتر پردیش اور زونل آفس کولکاتا نے متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ سمینار اور ورکشاپس بھی منعقد کیے ہیں۔

اس کے علاوہ، ای پی ایف او نے محکمہ انکم ٹیکس سے بھی رابطہ کیا ہے اور انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت تسلیم شدہ پروویڈنٹ فنڈ ٹرسٹوں کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ ای پی ایف او نے درخواست کی ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت کسی ادارے کو منظوری دینے سے قبل، ملازمین کے پروویڈنٹ فنڈز اور متفرق دفعات ایکٹ، 1952 یا سماجی تحفظ کے ضابطہ، 2020 کے تحت اس ادارے کی کوریج اور استثنیٰ کی حیثیت کی متعلقہ جانچ بھی کی جائے۔ اس کے علاوہ، ایسے پروویڈنٹ فنڈ ٹرسٹوں کی موجودہ منظوری واپس لینے کی درخواست بھی کی گئی ہے، جن کے پاس ای پی ایف او کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ استثنیٰ کا حکم نامہ موجود نہیں ہے۔

اداروں کے پروویڈنٹ فنڈ ٹرسٹ ای پی ایف او کے 11 جولائی 2026 کو جاری کردہ سرکلر میں درج تفصیلات کے مطابق ایمنسٹی اسکیم کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ )یہ سرکلر ای پی ایف او کی ویب سائٹ https://www.epfo.gov.in پر دستیاب ہے۔(

 

 ش ح۔ م ش۔ ج ا

U.No. 2926


(ریلیز آئی ڈی: 2305881) وزیٹر کاؤنٹر : 9