ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ماحولیات کے مرکزی وزیر نے نئی دہلی میں ’ٹائیگر لینڈ اسکیپس: تحفظ، حیاتیاتی معیشت اور روزگار و آمدنی پیدا کرنے کے لیے ماحول دوست سیاحت‘ کے موضوع پر بین الاقوامی ورکشاپ کا افتتاح کیا


ماحولیاتی تحفظ کی بنیاد، فطرت کے ساتھ ہم آہنگی اور انسان و فطرت کے بقائے باہمی پر ہونی چاہیے: جناب بھوپیندر یادو

آئی بی سی اے اور اے ڈی بی نے زمین کی تزئین کے تحفظ، پائیدار ترقی، صلاحیت سازی، علم کے تبادلے اور فطرت کے لحاظ سے مثبت مالیاتی اقدامات میں تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے مفاہمت نامے پر دستخط کیے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 SEP 2026 11:47AM by PIB Delhi

ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے آج نئی دہلی میں نئی دہلی میں ’ٹائیگر لینڈ اسکیپس: تحفظ، حیاتیاتی معیشت اور روزگار و آمدنی پیدا کرنے کے لیے ماحول دوست سیاحت‘ کے موضوع پر بین الاقوامی ورکشاپ کا افتتاح کیا۔ یہ ورکشاپ بین الاقوامی بگ کیٹ الائنس (آئی بی سی اے)، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) اور ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت (ایم او ای ایف سی سی) کے تحت نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی (این ٹی سی اے) کی جانب سے مشترکہ طور پر 2 سے 3 ستمبر 2026 تک منعقد کی جا رہی ہے۔

اس موقع پر ڈائس پر موجود معزز شخصیات میں سکریٹری (ای ایف سی سی) جناب تنمے کمار، ڈائریکٹر جنرل (جنگلات) اور خصوصی سکریٹری (ای ایف سی سی) جناب سشیل کمار اوستھی، ڈائریکٹر جنرل آئی بی سی اے جناب ایس پی یادو اور بھارت کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر محترمہ میا اوکا شامل تھیں۔ اس کے علاوہ وزارت، آئی بی سی اے، این ٹی سی اے اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے اعلیٰ افسران اور شیر کے مسکن والے ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔

ورکشاپ میں شیر کے مسکن کو قدرتی سرمایہ تسلیم کرنے، ماحولیاتی نظام کی خدمات کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور اس بات کا جائزہ لینے پر توجہ مرکوز کی جائے گی کہ تحفظ، حیاتیاتی معیشت اور ماحول دوست سیاحت کس طرح پائیدار روزگار، مقامی سطح پر آمدنی پیدا کرنے اور طویل مدتی ماحولیاتی تحفظ کے اہم محرکات کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image001_20260902114845_fbd34d.jpg

 

افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب یادو نے پروجیکٹ ٹائیگر کے تحت بھارت کے شاندار تحفظاتی سفر کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ شیروں کی بقا کا براہِ راست تعلق جنگلات، گھاس کے میدانوں، دریاؤں، شکار کی انواع، جنگلی حیات کی گزرگاہوں اور مقامی برادریوں کی صحت اور خوشحالی سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیروں کے مسکن قیمتی قدرتی سرمایہ ہیں، جو آبی تحفظ، کاربن کے جذب، موسمیاتی توازن، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور روزگار میں معاونت جیسی اہم ماحولیاتی خدمات فراہم کرتے ہیں۔

مرکزی وزیر نے اس ضرورت پر زور دیا کہ تحفظ کی حکمتِ عملی کو صرف کسی ایک نوع کے تحفظ تک محدود رکھنے کے بجائے مربوط زمینی منظرنامے کے انتظام کی جانب بڑھایا جائے، تاکہ ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ سماجی و اقتصادی ترقی کو بھی فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے قدرتی نظام پر مبنی حل، جدید مالیاتی طریقۂ کار اور مقامی برادریوں پر مبنی ماحول دوست سیاحت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

جناب یادو نے زور دیتے ہوئے کہا، ’’فطرت کے ساتھ ہم آہنگی اور انسان و فطرت کا بقائے باہمی ماحولیاتی تحفظ کی بنیاد ہونا چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ زمین کا تحفظ معیاری خوراک کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے، جو بالآخر انسانی نسل کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ دنیا کو صحرائی کیفیت میں اضافے، مٹی میں نمی کی کمی اور مٹی کے معیار میں گراوٹ جیسے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں شیروں کے مسکن کا تحفظ انتہائی اہمیت اختیار کر جاتا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے فطرت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لیے مقامی برادریوں کے روایتی علم اور تجربے سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

مرکزی وزیر نے ورکشاپ کے شرکا سے اپیل کی کہ وہ روایتی علم کو باقاعدہ دستاویزی شکل دینے اور تحفظ، حیاتیاتی معیشت اور ماحول دوست سیاحت کے شعبوں میں پالیسی سازی کے عمل میں اس علم و دانش کو شامل کرنے کی ضرورت پر غور کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس ورکشاپ میں علم کے تبادلے، صلاحیت سازی، مقامی روایتی علم کے تبادلے اور پالیسی سازی کے طریقۂ کار میں تبدیلی پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیاتی تحفظ سے متعلق پالیسیوں کی تشکیل میں عالمی جنوب کے مقامی علم و دانش کو یکجا کرنے کے لیے بین الاقوامی بگ کیٹ الائنس (آئی بی سی اے) کو قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image002_20260902114858_a1491d.jpg

اس موقع پر بین الاقوامی بگ کیٹ الائنس (آئی بی سی اے) اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کرکے اپنی شراکت داری کو باقاعدہ شکل دی۔ یہ قدم زمینی منظرنامے کے تحفظ، پائیدار ترقی، صلاحیت سازی، معلومات کے تبادلے اور فطرت دوست مالیاتی اقدامات کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔ جناب یادو نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے وژن کے تحت بین الاقوامی بگ کیٹ الائنس (آئی بی سی اے) کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئی بی سی اے سات بڑی بلی کی انواع کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ممالک اور اداروں کے درمیان تعاون کے ایک عالمی پلیٹ فارم کے طور پر اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

آئی بی سی اے اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان شراکت داری کا خیرمقدم کرتے ہوئے محترمہ میا اوکا نے بتایا کہ 2026 میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی بھارت کے ساتھ شراکت داری کے 40 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی کے شعبے میں اپنے وسیع تجربے کو شیروں اور دیگر بڑی بلی کی انواع کے مسکن والے ممالک کے ساتھ مشترک کر رہا ہے۔ محترمہ اوکا نے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک بڑی بلی کی انواع کے مسکن والے ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر لانے، بھارت کے تحفظاتی تجربے کو ان کے ساتھ بانٹنے اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے پائیدار مالیاتی مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اس ورکشاپ میں بنگلہ دیش، بھوٹان، کمبوڈیا، ملائیشیا، نیپال اور ویتنام کے ممتاز بین الاقوامی ماہرین اور حکومتی نمائندوں کے ساتھ ساتھ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت کے اعلیٰ افسران، ملک بھر کے ریاستی محکمۂ جنگلات اور ٹائیگر ریزرو کے نمائندوں، ترقیاتی شراکت داروں، محققین، تحفظِ ماحول کے شعبے سے وابستہ ماہرین اور دیگر اہم متعلقہ فریقوں نے شرکت کی۔ یہ ورکشاپ تجربات کے تبادلے، علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے اور پائیدار ترقی کے اہداف کو آگے بڑھاتے ہوئے زمینی منظرنامے کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے جدید طریقۂ کار کی نشاندہی کا ایک منفرد پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔

********

 

ش ح۔ع ح   ۔رض

U-2923

 


(ریلیز آئی ڈی: 2305866) وزیٹر کاؤنٹر : 7