امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
حکومت 15 ستمبر2026 سے چینی کے ڈیلروں کے لئے ذخیرہ رکھنے کی حد کم کرکے 2,000 کوئنٹل کرنے جارہی ہے
ذخیرہ رکھنے کی نئی حد کا مقصد چینی کی ذخیرہ اندوزی اور قیاس آرائی پر مبنی تجارت کو روکنا، جبکہ مناسب دستیابی اور قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنا کر صارفین کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 SEP 2026 1:57PM by PIB Delhi
حکومت ہندوستان نے ملک کی اندرونی منڈی میں چینی کی مناسب دستیابی کو یقینی بنانے اور چینی کی ذخیرہ اندوزی و قیاس آرائی پر مبنی تجارت کو روکنے کے لیے چینی کے ڈیلروں کے لیے ذخیرہ رکھنے کی حد 4,000 کوئنٹل سے کم کرکے 2,000 کوئنٹل کر نے جارہی ہے۔ یہ نئی حد 15 ستمبر- 2026 سے 30 نومبر- 2026 تک نافذ العمل رہے گی۔فی الحال ملک بھر میں چینی کے ڈیلروں کے لیے 4,000 کوئنٹل کی ذخیرہ رکھنے کی حد یکم اگست 2026 سے نافذ ہے۔ حکومت نے اب مزید اقدامات کرتے ہوئے اس حد کو کم کرکے 2,000 کوئنٹل کر دیا ہے۔
ترمیم شدہ دفعات کے تحت 15 ستمبر- 2026 سے چینی کا ڈیلر:
- کسی بھی چینی کے ذخیرے کو اس کی وصولی کی تاریخ سے 30 دن سے زیادہ عرصے تک اپنے پاس نہیں رکھ سکے گا۔
- ملک بھر میں کسی بھی وقت اور کسی بھی مقام پر 2,000 کوئنٹل سے زیادہ چینی ذخیرہ نہیں کر سکے گا۔
- تاہم، خطے کی مخصوص مارکیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کولکاتہ اور اس کے توسیعی میٹروپولیٹن علاقوں کے لیے ذخیرہ رکھنے کی حد 4,000 کوئنٹل برقرار رہے گی۔
- کولکاتہ کا علاقہ اتر پردیش اور مہاراشٹر سے چینی حاصل کرتا ہے اور اسے ملک کے مشرقی حصہ جس میں شمال مشرقی خطے میں سپلائی کرتا ہے۔ اسی لیے کولکاتہ اور اس کے توسیعی میٹروپولیٹن علاقوں کے لیے موجودہ 4,000 کوئنٹل کی حد برقرار رکھی گئی ہے۔
اس اقدام کا مقصد ذخیرہ اندوزی کو مزید روکنا، قیاس آرائی پر مبنی تجارت کی حوصلہ شکنی کرنا اور چینی کے ذخیرے کے ضرورت سے زیادہ جمع ہونے کو روکنا ہے۔ اس سے سپلائی چین کے ذریعے چینی کی منظم نقل و حرکت میں سہولت ملے گی اور صارفین کو مناسب قیمتوں پر چینی کی مسلسل دستیابی یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
سخت نگرانی اور ذخیرے کی فزیکل تصدیق
حکومت نے ملک بھر میں چینی کے ذخیرے کی سخت نگرانی اور فزیکل تصدیق کا عمل شروع کیا ہے، جس میں شوگر ملوں، ڈیلروں اور تاجروں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کارروائی سے مقررہ حد سے زیادہ ذخیرہ رکھنے، ذخیرے کی معلومات ظاہر نہ کرنے اور چینی کے ذخیرے کی نقل و حرکت و فروخت میں بے ضابطگیوں کے معاملات کی نشاندہی کرنے میں مدد ملی ہے۔
ان اقدامات اور مارکیٹ میں چینی کی بہتر دستیابی کے نتیجے میں حالیہ دنوں میں مل سے فروخت ہونے والی چینی(ایکس-مل شوگر) کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد کمی آئی ہے۔ خوردہ قیمتوں میں بھی کمی کا رجحان شروع ہو گیا ہے اور توقع ہے کہ وہ مل سے فروخت ہونے والی چینی کی قیمتوں میں کمی کے رجحان کی پیروی کریں گی۔
ذخیرے کا باقاعدہ اعلان اور مسلسل نگرانی
حکومت چینی کی مارکیٹ میں ہونے والی پیش رفت پر مسلسل قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ محکمہ خوراک و عوامی تقسیم(ڈپارٹارٹمنٹ آف فوڈ اینڈ پبلک ڈسٹری بیوشن) کے آن لائن پورٹل کے ذریعے چینی کے ذخیرے کی باقاعدہ تفصیلات فراہم کرنے اور انہیں اپ ڈیٹ کرنے کا نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔ملک بھر میں چینی کے ذخیرے کی فزیکل تصدیق، جس میں شوگر ملیں، ڈیلر اور تاجر شامل ہیں، آنے والے ہفتوں میں بھی جاری رہے گی۔حکومت نے صارفین کو یقین دلایا ہے کہ وہ اندرونی منڈی میں چینی کی مناسب دستیابی، منظم سپلائی اور قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے، جبکہ حقیقی اور جائز تجارت و تقسیم کی سرگرمیاں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہیں گی۔
*****
) ش ح – ظ الف – اش ق )
UR No. 2864
(ریلیز آئی ڈی: 2305474)
وزیٹر کاؤنٹر : 5