امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
محکمۂ امورِ صارفین نے قانونی پیمائش (بھارتی معیاری وقت) ضوابط، 2026ء مشتہر کر دیے
ان ضوابط کا مقصد پورے ملک میں بھارتی معیاری وقت کو مشترکہ وقت کے معیار کے طور پر قائم کرنا ہے؛ ضوابط 180 دن بعد نافذ العمل ہوں گے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 AUG 2026 11:27AM by PIB Delhi
محکمۂ امورِ صارفین نے 27 اگست 2026ء کو قانونی پیمائش (بھارتی معیاری وقت) ضوابط، 2026ء مشتہر کر دیے ہیں۔ یہ ضوابط سرکاری گزٹ میں اشاعت کی تاریخ سے 180 دن بعد نافذ العمل ہوں گے۔
ان ضوابط کے تحت بھارتی معیاری وقت (آئی ایس ٹی) کو قانونی، انتظامی، تجارتی اور دیگر سرکاری مقاصد کے لیے پورے ملک میں مشترکہ معیاری وقت قرار دیا گیا ہے۔ 180 دن کی مدت حکومت کے مختلف محکموں، کاروباری اداروں، تعلیمی و دیگر اداروں اور تنظیموں کو اپنے نظام میں مطلوبہ تبدیلیاں کرنے کا موقع فراہم کرے گی تاکہ ضوابط کے نافذ ہونے سے پہلے تمام ضروری انتظامات مکمل کیے جاسکیں۔
ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظاموں کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث ایک مشترکہ معیاری وقت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ بینکاری اور رقمی ادائیگیوں، مواصلات، ریلویز، بجلی کے نظام، کمپیوٹر نیٹ ورکس اور سرکاری ریکارڈ کا انحصار درست وقت اور وقت کے اندراج پر ہوتا ہے۔ وقت کے مختلف ذرائع میں فرق ہونے سے ایسی سرگرمیوں کی باہمی ہم آہنگی اور ان کے ریکارڈ کے اندراج میں دشواری پیدا ہوسکتی ہے۔ ان ضوابط کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ملک بھر کے اہم نظام درست اور یکساں بھارتی معیاری وقت استعمال کریں۔
مشترکہ معیاری وقت سے درج ذیل امور میں مدد ملے گی:
- بینکاری اور رقمی ادائیگیوں کے لین دین میں وقت کا درست اندراج؛
- ریلویز، ہوائی اڈوں اور دیگر ذرائعٔ نقل و حمل کے نظام میں بہتر باہمی ہم آہنگی؛
- دور مواصلاتی اور انٹرنیٹ نیٹ ورکس کا قابلِ اعتماد طور پر کام کرنا؛
- بجلی کے نظام میں وقت کا درست تعین؛
- سرکاری اور قانونی ریکارڈ کی درست دیکھ بھال؛ اور
- ہنگامی خدمات اور دیگر وقت کے لحاظ سے حساس خدمات میں بہتر باہمی ہم آہنگی۔
بھارتی وقت کے ذرائع کا استعمال
حکومت ملک بھر میں بھارتی اداروں اور قانونی پیمائش کی تجربہ گاہوں کے ذریعے درست بھارتی معیاری وقت کی ترسیل کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کر رہی ہے۔ ان ضوابط میں ناوک (این اے وی آئی سی)، بھارت کا مصنوعی سیاروی نظامِ رہنمائی اور حکومت سے منظور شدہ دیگر بھارتی وقت کے ذرائع کو قابلِ اعتماد اور محفوظ طریقے سے درست وقت کی ترسیل کے لیے استعمال کرنے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔
اس وقت کئی نظام غیر ملکی مصنوعی سیاروی ذرائع سے حاصل ہونے والے وقت استعمال کرتے ہیں۔ بھارتی وقت کی ترسیل کے لیے ملکی بنیادی ڈھانچے کی تیاری سے اہم نظاموں کے لیے مزید متبادل دستیاب ہوں گے اور بیرونی وقت کے ذرائع پر انحصار کم ہوگا۔
وائٹ ریبٹ ٹیکنالوجی کا عملی مظاہرہ
’ایک ملک، ایک وقت‘ اقدام کے تحت جولائی 2026ء میں بنگلورو کی علاقائی معیاری حوالہ تجربہ گاہ (آر آر ایس ایل) میں وائٹ ریبٹ ٹیکنالوجی پر مبنی بھارتی معیاری وقت کی ترسیل کے عملی مظاہرے کے نیٹ ورک کو فعال کیا گیا۔
اس نظام کے ذریعے بینکاری، دور مواصلات، بجلی، نقل و حمل اور رقمی حکمرانی سمیت مختلف شعبوں میں بھارتی معیاری وقت کی ترسیل کا کامیاب عملی مظاہرہ کیا گیا ہے۔ محکمہ نے سائنسی و صنعتی تحقیقاتی کونسل کی قومی طبیعیاتی تجربہ گاہ (سی ایس آئی آر-این پی ایل)، بھارتی خلائی تحقیقی تنظیم (آئی ایس آر او)، بھارتی تمسّکات و مبادلہ بورڈ (ایس ای بی آئی)، قومی تمسّکات مبادلہ (این ایس ای)، بھارت سنچار نگم لمیٹڈ (بی ایس این ایل) اور دیگر متعلقہ اداروں کے اشتراک سے آر آر ایس ایل بنگلورو اور این ایس ای چنئی کے درمیان بھارتی معیاری وقت کی محفوظ ترسیل کا بھی عملی مظاہرہ کیا ہے۔
ضوابط کے نفاذ سے قبل 180 دن کی مدت متعلقہ اداروں کو اپنے موجودہ نظاموں کا جائزہ لینے، ضروری تکنیکی تبدیلیاں کرنے اور ضوابط پر عمل درآمد کے لیے تیاری کا موقع فراہم کرے گی۔
قانونی پیمائش (بھارتی معیاری وقت) ضوابط، 2026ء ملک بھر میں وقت پر منحصر نظاموں اور سرکاری مقاصد کے لیے بھارتی معیاری وقت کو ایک مشترکہ معیاری حوالہ فراہم کریں گے۔
***
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-2765
(ریلیز آئی ڈی: 2304629)
وزیٹر کاؤنٹر : 7