صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
انڈین فارین سروس کے زیرِ تربیت افسران نے صدر جمہوریہ سے ملاقات کی
بھارت کے دنیا کے ساتھ روابط ہمیشہ عوام کی امنگوں کے عین مطابق ہونے چاہئیں: صدر جمہوریہ دروپدی مرمو
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 AUG 2026 4:22PM by PIB Delhi
انڈین فارین سروس کے 2025 بیچ کے زیرِ تربیت افسران اور بھوٹان کے دو سفارت کار، جو اس وقت سشما سوراج انسٹی ٹیوٹ آف فارین سروس میں ابتدائی تربیتی پروگرام سے گزر رہے ہیں، نے آج 27 اگست 2026 کو راشٹرپتی بھون میں صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو سے ملاقات کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے بھارتی وزارتِ خارجہ کے زیرِ تربیت افسران کو مبارکباد دی اور کہا کہ انہیں بیرونِ ملک بھارت کی نمائندگی کرنے، ملک کے مفادات کو آگے بڑھانے اور دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ بھارت کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا اعزاز اور ذمہ داری حاصل ہوگی۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ بھارت کی اقتصادی ترقی دنیا کے ساتھ ہمارے روابط کے لیے نئے امکانات پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے سفارت کاروں کو مشورہ دیا کہ وہ سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، قابلِ تجدید توانائی اور اختراع جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں پیدا ہونے والے نئے مواقع پر گہری نظر رکھیں اور ایسی شراکت داریاں قائم کریں جو بھارت کے مفادات کو آگے بڑھائیں۔ انہوں نے کہا کہ سفارت کاری کو براہِ راست بھارت کی خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ دنیا کے ساتھ بھارت کے روابط ہمیشہ اس کے عوام کی امنگوں کے عین مطابق ہونے چاہئیں: ’’راشٹر ہِت سروپری‘‘ یعنی ’’ملکی مفاد سب سے مقدم‘‘۔ یہ اصول بھارتی وزارتِ خارجہ کے افسران کی پیشہ ورانہ زندگی کا مستقل رہنما اصول ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے ملک 2047 تک ’’وکست بھارت‘‘ کے ہدف کی جانب آگے بڑھ رہا ہے، سفارت کاری کا کردار بھی مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ سفارت کاروں کو اپنے روابط صرف سرکاری دفاتر اور رسمی اجلاسوں تک محدود نہیں رکھنے چاہئیں۔ انہیں یونیورسٹیوں، کاروباری اداروں، محققین، اختراع کاروں، ثقافتی اداروں، سول سوسائٹی اور مقامی برادریوں تک بھی رسائی حاصل کرنی چاہیے۔ انہوں نے افسران کو بیرونِ ملک مقیم بھارتی برادری کے ساتھ بامعنی روابط قائم کرنے کا مشورہ دیا، خصوصاً بیرونِ ملک مقیم بھارتی نوجوان نسل کو بھارت سے جڑے رہنے کی ترغیب دینے اور ان کے لیے ملک کی ترقی کے سفر میں اپنا کردار ادا کرنے کے مواقع تلاش کرنے پر زور دیا۔

صدر جمہوریہ نے اس بات پر زور دیا کہ خود سفارت کاری کی نوعیت بھی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی نے ممالک کے باہمی رابطے، کاروبار کے طریقۂ کار اور شہریوں کے سرکاری خدمات تک رسائی حاصل کرنے کے انداز کو تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک بھارت کے سفارتی مشنز کو بھی اس تبدیلی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا ہوگا۔ ٹیکنالوجی کو بہتر حکمرانی اور عوام سے مزید مؤثر روابط کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے، لیکن اسے کبھی انسانی ہمدردی کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے سفارت کاروں پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ضرورت کے وقت بھارتی مشنز ہمیشہ اپنے شہریوں کے لیے قابلِ رسائی اور دستیاب رہیں۔ انہیں حالیہ برسوں میں بڑے پیمانے پر کیے گئے انخلا اور انسانی امداد کے آپریشنز کے ذریعے قائم کی گئی روایت کو جاری رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مدد کے لیے رجوع کرنے والے ہر بھارتی شہری کو یہ محسوس ہونا چاہیے کہ اس کا سفارتی مشن قابلِ رسائی، ہمدرد اور قابلِ اعتماد ہے۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ انڈین فارین سروس کے افسران نہ صرف ایسے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں جس کا تہذیبی سفر ہزاروں برس پر محیط ہے، بلکہ وہ ایک نوجوان، متحرک اور امنگوں سے بھرپور بھارت کی بھی نمائندگی کرتے ہیں۔ امن، تکثیریت، مذاکرات، بقائے باہمی اور تنوع کا احترام بھارت کے تہذیبی نظریے ’’وَسُدھیو کُٹمبکم‘‘ میں گہرائی سے پیوست ہیں۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ ایک ایسی دنیا میں، جو روز بروز غیر یقینی اور پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، سفارت کاروں کو چست و فعال، جستجو رکھنے والا اور مسلسل سیکھنے کے لیے آمادہ ہونا چاہیے۔ سب سے بڑھ کر انہیں انکساری کو برقرار رکھنا چاہیے۔ انہوں نے زیرِ تربیت نوجوان افسران پر زور دیا کہ بیرونِ ملک سفر کے دوران ہمیشہ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ وہ صرف حکومتِ ہند کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ 1.4 ارب بھارتیوں اور ان کی امیدوں اور امنگوں کی بھی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے انہیں دیانت داری، راست بازی اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھنے کی تلقین کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔ ت ف۔ ن م۔
U- 2661
(ریلیز آئی ڈی: 2303815)
وزیٹر کاؤنٹر : 16