کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

بھارت-کمبوڈیا مشترکہ ورکنگ گروپ برائے تجارت و سرمایہ کاری (جے ڈبلیو جی ٹی آئی) کا تیسرا اجلاس کمبوڈیا کے نوم پنہ میں منعقدہوا


مالی سال 2026-2025 میں بھارت-کمبوڈیا دوطرفہ تجارت میں 36 فیصد سے زیادہ اضافہ، حجم 406.78 ملین امریکی ڈالر تک پہنچا

प्रविष्टि तिथि: 24 AUG 2026 5:13PM by PIB Delhi

بھارت اور کمبوڈیا کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپ (جے ڈبلیو جی ٹی آئی) کا تیسرا اجلاس 24 اگست 2026 کو کمبوڈیا کے نوم پنہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت بھارت کی وزارتِ تجارت و صنعت کے محکمۂ تجارت کے جوائنٹ سکریٹری جناب امت ورما اور کمبوڈیا کی وزارتِ تجارت کے بین الاقوامی تجارت کے ڈائریکٹر جنرل جناب لونگ کیم وی چیت نے کی۔

دونوں فریق نے دوطرفہ تجارت میں حوصلہ افزا پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ مالی سال 2026-2025 میں بھارت اور کمبوڈیا کے درمیان تجارت 36 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 406.78 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ مالی سال میں 299 ملین امریکی ڈالر تھی۔ اپریل تا جون 2026 کی سہ ماہی میں بھی تجارت میں سالانہ بنیاد پر مزید 63.25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کمبوڈیا اس وقت آسیان میں بھارت کا آٹھواں سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور آسیان کے ساتھ بھارت کی مجموعی تجارت میں اس کا حصہ 0.31 فیصد ہے، جو تجارت میں مزید اضافے کے وسیع امکانات کی عکاسی کرتا ہے۔

اجلاس میں تجارت کو متنوع بنانے اور مزید وسعت دینے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔ اس سلسلے میں روایتی طب، ای-گورننس کے ماڈیولز، بھارتی فارماکوپیا کو تسلیم کرنے، تجارتی اعداد و شمار میں مطابقت پیدا کرنے اور اہم تجارتی نمائشوں و کاروباری وفود سے متعلق معلومات کے تبادلے میں تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں 2 جون 2026 کو نوم پنہ میں کے ایچ کیو آر سے منسلک دکانداروں کے یہاں یو پی آئی کے ذریعے ادائیگی کی سہولت کامیابی سے شروع کیے جانے کا بھی خیرمقدم کیا گیا۔ اس کے اگلے مرحلے کے طور پر کمبوڈیا کی ادائیگی کی ایپلی کیشنز کے ذریعے بھارت میں یو پی آئی کیو آر کوڈ اسکین کرنے کی سہولت فراہم کرنے پر بھی بات چیت کی گئی، جس سے کمبوڈیا کے مسافروں کو بھارت میں یو پی آئی سے منسلک ادائیگی کے ٹرمینلز استعمال کرنے میں آسانی ہوگی۔

اجلاس میں دونوں فریق کے درمیان کسٹمز تعاون سے متعلق مفاہمت نامہ پر اتفاق کا بھی خیرمقدم کیا گیا اور اس پر جلد دستخط کرنے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس معاہدے سے کسٹمز کے طریقۂ کار میں یکسانیت پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

دونوں فریق نے زراعت اور منڈی تک رسائی سے متعلق امور، رنگوں اور روغن کی تجارت میں توسیع، نیز بینکاری اور بیمہ کے شعبوں میں تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں ممالک نے بھارت اور کمبوڈیا کے درمیان دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے کی تکمیل کے لیے جاری مذاکرات کا خیرمقدم کیا اور اس پر جلد دستخط کرنے پر اتفاق کیا۔

یہ ادارہ جاتی شکل اختیار کرنے کے بعد تجارت و سرمایہ کاری سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپ کا تیسرا اجلاس تھا۔ اجلاس میں بھارت اور کمبوڈیا کے درمیان تجارتی و اقتصادی شراکت داری کی گہرائی اور بڑھتے ہوئے امکانات کی دوبارہ توثیق کی گئی۔ مشترکہ ورکنگ گروپ کا اگلا اجلاس 2027 میں بھارت میں منعقد ہوگا۔

بھارت-کمبوڈیا مشترکہ ورکنگ گروپ کے تیسرے اجلاس کے موقع پر جناب امت ورما نے کمبوڈیا کے انڈر سکریٹری آف اسٹیٹ عالی جناب ٹیتھ رِتھی پول سے بھی مفید گفتگو کی۔ بات چیت میں دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری کو مضبوط بنانے، ادویہ سازی کے شعبے میں تعاون اور یو پی آئی-کے ایچ کیو آر ڈیجیٹل ادائیگیوں کے کامیاب ربط سمیت مختلف امور کا احاطہ کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔

جناب امت ورما نے کمبوڈیا میں انڈین بزنس چیمبر کے ارکان سے بھی ملاقات کی۔ بات چیت میں دوطرفہ تجارتی معاہدے سے متعلق مذاکرات کو تیز کرنے، کمبوڈیا میں بھارتی سرمایہ کاری کو آسان بنانے اور تعلیم، صحت، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، زراعت اور سیاحت سمیت 5 سے 7 ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

اجلاس میں بھارت میں ’’کمبوڈیا میں سرمایہ کاری‘‘ کے عنوان سے روڈ شو منعقد کرنے کی تجویز پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیاتاکہ آسیان کی منڈیوں تک رسائی کے خواہاں بھارتی کاروباری اداروں کے لیے کمبوڈیا کو پیداواری مرکز کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، انڈین بزنس چیمبر، ایف آئی سی سی آئی اور جے بی سی کے ذریعے نجی شعبے کی آرا اور تجاویز مشترکہ ورکنگ گروپ تک پہنچانے کے لیے ایک مؤثر نظام قائم کرنے پر بھی بات چیت ہوئی۔

***

ش ح۔ ک ا۔ ع د

U.NO.2526


(रिलीज़ आईडी: 2302822) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Bengali , Gujarati , Tamil , Malayalam