کامرس اور صنعت کی وزارتہ
کارپوریٹ اموراورخزانہ کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتارمن نے این آئی سی ڈی آئی ٹی کی اعلیٰ سطحی نگرانی اتھارٹی کے تیسرے اجلاس کی صدارت کی اور این آئی سی ڈی پی کے تحت منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا
محترمہ سیتارمن نے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی تیزی سے تکمیل، اراضی کی الاٹمنٹ، سرمایہ کاری اور اشیاء کی تیاری شروع کرنے پر زور دیا
تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے فوری طور پر استعمال کے قابل بنیادی ڈھانچے کے ساتھ سرمایہ کاروں کیلئے تیار صنعتی ماحول کی ضرورت پر زور دیا
جناب پیوش گوئل نے بھارت صنعتی ترقیاتی اسکیم (بھویہ) اور مستقبل میں صنعتی ترقی کیلئے پی ایم گتی شکتی کے مطابق مربوط علاقائی ترقی کے نقطۂ نظر کو اپنانے پر زور دیا
بھارت صنعتی ترقیاتی اسکیم (بھویہ) کو پہلے مرحلے میں ریاستوں کی جانب سے غیر معمولی طور پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے
प्रविष्टि तिथि:
17 AUG 2026 8:54PM by PIB Delhi
کارپوریٹ اموراور خزانہ کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتارمن نے آج نئی دہلی میں قومی صنعتی راہداری ترقی و عمل درآمد ٹرسٹ (این آئی سی ڈی آئی ٹی) کی اعلیٰ سطحی نگرانی اتھارٹی کے تیسرے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں قومی صنعتی راہداری ترقیاتی پروگرام (این آئی سی ڈی پی) کے تحت منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور صنعتی راہداریوں کی ترقی کے اگلے مرحلے کیلئے ترجیحات پر غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس میں مرکزی وزیرِ تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل، مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو اور نیتی آیوگ کے نائب چیئرمین جناب اشوک کمار لاہڑی موجود تھے۔
اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے محترمہ نرملا سیتارمن نے این آئی سی ڈی پی کے تحت ہونے والی نمایاں پیش رفت کو سراہا اور کہا کہ زمینی سطح پر سامنے آنے والے حوصلہ افزا نتائج سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور طلب کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ موجودہ صنعتی اراضی اور بنیادی ڈھانچے کی گنجائش ختم ہونے سے پہلے ہی آئندہ صنعتی اراضی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق کاموں کا لائحۂ عمل تیار کر لیا جانا چاہیے۔
محترمہ سیتارمن نے کہا کہ مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے، رسد کے شعبے میں مسابقت کو مضبوط بنانے اور عالمی سطح پر مسابقتی صنعتی ماحول تشکیل دینے کے لیے صنعتی راہداریاں حکومتِ ہند کی حکمتِ عملی کا ایک اہم ستون ہیں۔
محترمہ سیتارمن نے گزشتہ اعلیٰ سطحی اجلاس کی اہمیت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ صنعتی راہداریوں کی ترقی کو‘ٹیم انڈیا’ کے جذبے کے تحت آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ انہوں نے پروگرام کی کامیابی کے لئے ‘فائر’ راہداری یعنی مال برداری، صنعتی ترقی، ریلوے اور ایکسپریس ویز کے درمیان تال میل کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
وزیرِ خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ اب توجہ منصوبوں کی منظوری سے ہٹ کر بنیادی ڈھانچے کی بروقت تکمیل، اراضی کی الاٹمنٹ، سرمایہ کاری اور اشیا کی تیاری شروع کرنے پر مرکوز ہونی چاہیے۔ انہوں نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ اراضی، رابطہ کاری، بنیادی سہولیات، قانونی منظوریوں اور منصوبوں کے لیے قائم خصوصی مقصدی اداروں (ایس پی وی) کے اختیارات سے متعلق رکاوٹوں کو دور کریں۔
انہوں نے وزیرِ اعظم گتی شکتی منصوبے کے ذریعے مربوط منصوبہ بندی اور سرمایہ کار دوست اراضی الاٹمنٹ کے نظام کے مسلسل استعمال کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کے لیے رہائش، صحت کی سہولیات، ہنرمندی کی ترقی، عوامی نقل و حمل اور دیگر سماجی سہولیات صنعتی ترقی کا لازمی حصہ ہونی چاہئیں۔
محترمہ سیتارمن نے سرکاری سرمایہ جاتی اخراجات میں اضافے، ایس اے ایس سی آئی کے تحت ریاستوں کو تعاون، مینوفیکچرنگ شعبے سے وابستہ چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے لئے بہتر قرض سہولت اور ملکی مینوفیکچرنگ و سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے مقصد سے ٹیکس اور کسٹم سے متعلق اقدامات کے ذریعے بنیادی ڈھانچے اور مینوفیکچرنگ کے لیے حکومتِ ہند کی حمایت کو بھی اجاگر کیا۔
مرکزی وزیرِ تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے صنعتی راہداری منصوبوں پر تیز رفتار اور نتائج پر مبنی عمل درآمد پر زور دیا، جس میں بروقت سرمایہ کاری اور منصوبوں کے عملی طور پر شروع ہونے پر زیادہ توجہ مرکوز کی جائے۔
جناب گوئل نے کہا کہ بھارت صنعتی ترقیاتی اسکیم (بھویہ) اور مستقبل کی صنعتی ترقی کو وزیرِ اعظم گتی شکتی کے مطابق بنایا جانا چاہیے اور مربوط علاقائی ترقی کے نقطۂ نظر کے تحت اس کی منصوبہ بندی کی جانی چاہیے۔
انہوں نے سرمایہ کاروں تک ہدفی رسائی اور صنعتی مراکز کی مؤثر تشہیر پر زور دیا، جس میں بھارت کے آزاد تجارتی معاہدوں سے پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھانا اور ملک و خطے کے لحاظ سے مخصوص صنعتی مراکز کے قیام کے امکانات تلاش کرنا شامل ہے۔
جناب گوئل نے سرمایہ کاروں کی ضروریات کے مطابق موزوں مقامات کے انتخاب اور ایسے تیار صنعتی ماحول کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیا، جس میں پلگ اینڈ پلے بنیادی ڈھانچہ، تیار شدہ فیکٹریاں، مزدوروں کے لیے رہائش اور معاون معاشی و سماجی بنیادی سہولیات موجود ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا نقطۂ نظر سرمایہ کاری اور صنعتی سرگرمیوں کے آغاز میں تیزی لانے میں معاون ثابت ہوگا۔
قومی صنعتی راہداری ترقیاتی پروگرام میں اب 13 ریاستوں اور 7 صنعتی راہداریوں میں پھیلے 20 منظور شدہ منصوبے شامل ہیں۔
چار صنعتی اسمارٹ شہردھولیرا، شیندرا-بڈکن، گریٹر نوئیڈا اور وکرم ادیوگ پوری پیداواری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
اگست 2024 میں منظور کیے گئے 12 منصوبوں پر بھی پیش رفت جاری ہے، جن میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، اراضی کی الاٹمنٹ اور سرمایہ کاروں کے ساتھ رابطہ کاری جیسے کام بیک وقت انجام دیے جا رہے ہیں۔
اب تک تقریباً 5,348 ایکڑ پر پھیلے 469 قطعہ ہائے اراضی الاٹ کئے جا چکے ہیں، جن میں تقریباً 2.21 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے اور تقریباً 1.29 لاکھ افراد کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کا امکان ہے۔ ان میں سے 134 صنعتی یونٹس پہلے ہی پیداوار شروع کر چکے ہیں، جبکہ 95 یونٹس زیرِ تعمیر ہیں۔
بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے قومی آبی گزرگاہوں کو صنعتی راہداریوں کے ساتھ مربوط کرنے پر زور دیا اور راہداریوں کی ترقی کے لیے آبی گزرگاہوں کو ممکنہ ریڑھ کی ہڈی کے طور پر استعمال کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے کی تجویز پیش کی۔
انہوں نے ملک کے صنعتی دائرے کو وسعت دینے کے لیے شمال مشرقی ریاستوں میں صنعتی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی ضرورت پر بھی زور دیا، بالخصوص ان مقامات پر جہاں مضبوط رابطہ کاری، اراضی کی دستیابی، مقامی وسائل کا فائدہ اور منڈی کی صلاحیت موجود ہو۔
نیتی آیوگ کے نائب چیئرمین جناب اشوک کمار لاہڑی نے ریاستی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ صنعتی راہداری پروگرام کے منظور شدہ ادارہ جاتی اور قانونی ڈھانچے کے مطابق منصوبوں کے لیے قائم خصوصی مقصدی اداروں (ایس پی وی) کو مناسب منصوبہ بندی، ترقیاتی اور بلدیاتی اختیارات دینے کو ترجیح دیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان اختیارات کی مؤثر منتقلی سے ایس پی وی کو بروقت فیصلے کرنے، متعدد ریاستی اداروں پر انحصار کم کرنے اور زیادہ مربوط، مؤثر اور سرمایہ کار دوست ترقی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
اجلاس کا آغاز صنعت و داخلی تجارت کے فروغ کے محکمے (ڈی پی آئی آئی ٹی) کے سکریٹری اور این آئی سی ڈی آئی ٹی کے چیئرمین جناب امر دیپ سنگھ بھاٹیہ کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ انہوں نے گزشتہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد ہونے والی پیش رفت اور اتھارٹی کے سامنے موجود اہم عملی نفاذ سے متعلق مسائل کا خاکہ پیش کیا۔
اس کے بعد این آئی سی ڈی آئی ٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب رجت کمار سینی نے صنعتی راہداری منصوبوں کی موجودہ صورتِ حال پر ایک پیشکش پیش کی۔ اس میں کاموں میں پیش رفت، اراضی کی الاٹمنٹ اور سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ریاستوں کے ساتھ تال میل کی ضرورت والے منصوبہ جاتی مخصوص امور کو بھی شامل کیا گیا۔
شرکت کرنے والی ریاستوں کے نمائندوں نے منصوبہ وار پیش رفت، عمل درآمد میں درپیش اہم چیلنجوں اور ان شعبوں پر تبادلۂ خیال کیا جہاں مربوط تعاون کی ضرورت ہے۔ ان مباحثوں نے منصوبہ جاتی مخصوص مسائل کو حل کرنے اور عمل درآمد میں تیزی لانے کے لیے مرکز اور ریاستوں کے درمیان مرکوز تعاون کا ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا۔
اعلیٰ سطحی اتھارٹی نے اس بات پر زور دیا کہ پیش رفت کا اگلا پیمانہ یہ ہوگا کہ مکمل اور جاری منصوبے کتنی تیزی سے فعال مینوفیکچرنگ مراکز، سرمایہ کاری اور روزگار میں تبدیل ہوتے ہیں۔
اعلیٰ سطحی اتھارٹی نے بھارت صنعتی ترقیاتی اسکیم (بھویہ) کے نفاذ کا بھی جائزہ لیا، جس کے تحت ملک بھر میں سرمایہ کاری کے لیے تیار 100 پلگ اینڈ پلے صنعتی پارکوں کی ترقی کا تصور پیش کیا گیا ہے۔
پہلے مرحلے میں منظوری کے لیے تجویز کردہ 20 منصوبوں کے مقابلے میں ریاستوں کی جانب سے 87 درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جو ملک بھر میں اس اسکیم کے لیے زبردست دلچسپی کی عکاسی کرتی ہیں۔
اس بات پر زور دیا گیا کہ بھویہ منصوبوں کی منصوبہ بندی اور جانچ وزیرِ اعظم گتی شکتی کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہونی چاہیے، اور صنعتی علاقوں اور ان کے اطراف بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی صنعتی ترقی کے لازمی حصے کے طور پر کی جانی چاہیے۔
بھویہ منصوبہ صنعتی راہداری منصوبوں سے حاصل ہونے والے تجربے سے فائدہ اٹھائے گا۔ تجاویز کی جانچ میں تیار شدہ اراضی کی دستیابی، صنعتی طلب کی قابلِ اعتماد موجودگی، مضبوط رابطہ کاری، یقینی بنیادی سہولیات، قابلِ عمل مرحلہ وار ترقی اور ابتدائی مرحلے میں سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی صلاحیت جیسے عوامل پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
اجلاس میں ہونے والی بات چیت نے صنعتی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے اگلے مرحلے کے لیے ایک واضح سمت متعین کی۔ پیش رفت کا اندازہ صرف تعمیر شدہ بنیادی ڈھانچے کی بنیاد پر نہیں لگایا جائے گا، بلکہ اس بات سے بھی لگایا جائے گا کہ منصوبے کتنی تیزی سے سرمایہ کاری راغب کرتے ہیں، پیداوار شروع کرتے ہیں اور معاشی سرگرمی و روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں۔
اجلاس میں بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال، مہاراشٹر کے وزیرِ اعلیٰ جناب دیویندر فڑنویس، بہار کے وزیرِ اعلیٰ جناب سمراٹ چودھری، ہریانہ کے وزیرِ اعلیٰ جناب نائب سنگھ سینی، کیرالہ کے وزیرِ اعلیٰ جناب وی ڈی ستیسن، اتراکھنڈ کے وزیرِ اعلیٰ جناب پشکر سنگھ دھامی، شریک ریاستوں کے وزرا، حکومتِ ہند اور ریاستی حکومتوں کے اعلیٰ عہدیداران اور دیگر متعلقہ فریقین نے بھی ورچوئل ذرائع سے شرکت کی۔
این آئی سی ڈی آئی ٹی کے بارے میں
قومی صنعتی راہداری ترقی و عمل درآمد ٹرسٹ (این آئی سی ڈی آئی ٹی) حکومتِ ہند کی جانب سے ملک بھر میں صنعتی راہداریوں کی مربوط اور یکجا ترقی کے لیے قائم کیا گیا ایک ٹرسٹ ہے۔ یہ وزارتِ تجارت و صنعت کے صنعت و داخلی تجارت کے فروغ کے محکمے (ڈی پی آئی آئی ٹی) کے انتظامی کنٹرول میں کام کرتا ہے اور قومی صنعتی راہداری ترقیاتی پروگرام کے منظور شدہ ڈھانچے کے تحت صنعتی مراکز میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں معاونت فراہم کرتا ہے۔ بھویہ اسکیم کے تحت منصوبوں کے لیے قائم خصوصی مقصدی اداروں (ایس پی وی) میں حکومتِ ہند کی شراکت اور ایکویٹی معاونت این آئی سی ڈی آئی ٹی کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے۔
این آئی سی ڈی سی کے بارے میں
قومی صنعتی راہداری ترقیاتی کارپوریشن لمیٹڈ (این آئی سی ڈی سی) وزارتِ تجارت و صنعت کے صنعت و داخلی تجارت کے فروغ کے محکمے (ڈی پی آئی آئی ٹی) کے انتظامی کنٹرول کے تحت کام کرنے والا ایک خصوصی مقصدی ادارہ (ایس پی وی) ہے۔ این آئی سی ڈی سی قومی صنعتی راہداری ترقیاتی پروگرام کے تحت صنعتی راہداری منصوبوں کی ترقی سے متعلق سرگرمیوں کو انجام دیتا ہے اور ان کے نفاذ میں تال میل قائم کرتا ہے۔ یہ سرمایہ کاری کے لیے تیار صنعتی علاقوں اور اسمارٹ صنعتی شہروں کی ترقی کے لیے ریاستی حکومتوں اور منصوبوں کے لیے قائم خصوصی مقصدی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔ بھویہ اسکیم کے تحت این آئی سی ڈی سی کو اسکیم کے نفاذ اور نگرانی کے لیے منصوبہ جاتی انتظامی ایجنسی کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

***
ش ح۔ ک ا۔ م ش
U.NO.2256
(रिलीज़ आईडी: 2300736)
आगंतुक पटल : 6