ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

منگولیا کے اولان باتر میں یو این سی سی ڈی، کوپ 17 کے موقع پر ہندوستان نے کھلے قدرتی ماحولیاتی نظام اور گھاس کے میدانوں سے متعلق اپنی نوعیت کی پہلی رہنما کتاب جاری کی


امور ماحولیات کے مرکزی وزیر نے جنگلات کے ساتھ کھلے قدرتی ماحولیاتی نظام کے سائنسی بنیادوں پر تحفظ کی ضرورت پر زور دیا

 قدرتی چراگاہیں حیاتیاتی تنوع، ذریعۂ معاش اور موسمیاتی لچک کے لیے ضروری :  جناب بھوپیندر یادو

प्रविष्टि तिथि: 17 AUG 2026 6:17PM by PIB Delhi

ہندوستان نے 17 اگست 2026 کو منگولیا کے اولان باتر میں صحراؤں کے بڑھنے کی روک تھام سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن (یو این سی سی ڈی) کے فریقین کی کانفرنس کے 17ویں اجلاس (سی او پی17) میں ہندوستان کے گھاس کے میدانوں اور دیگر کھلے قدرتی ماحولیاتی نظام (او این ایز) کے بارے میں اپنی نوعیت کی پہلی رہنما کتاب جاری کی۔اس دستاویز میں ہندوستان کے گھاس کے میدانوں، سوانا، صحراؤں اور دیگر کھلے قدرتی ماحولیاتی نظام کے بھرپور تنوع، ماحولیاتی اہمیت اور سماجی و اقتصادی افادیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ ان ماحولیاتی نظاموں کے تحفظ، بحالی اور پائیدار انتظام کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔

اس رہنما کتاب کے اجرا سے قبل حکومت ہند کے ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کے وزیر جناب  بھوپیندر یادو کا خصوصی ویڈیو پیغام پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گھاس کے میدان، جھاڑی دار علاقے اور نالے طویل عرصے سے صرف اس بنیاد پر نظر انداز کیے جاتے رہے ہیں کہ وہاں درخت نہیں ہوتے، حالانکہ یہ ماحولیاتی نظام ایسی انواع کو پناہ دیتے ہیں جو دنیا میں کہیں اور نہیں پائی جاتیں اور چرواہا برادریوں کے روزگار کا ذریعہ بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جدید سائنس بھی مقامی برادریوں کی اس سمجھ کی تائید کرتی ہے کہ  قدرتی چراگاہیں حیاتیاتی تنوع، ذریعۂ معاش اور موسمیاتی لچک کے لیے۔

جناب یادو نے کہا کہ یہ رہنما کتاب ان کے دل کے قریب ہے، کیونکہ انہوں نے راجستھان کے اجمیر میں پرورش پائی، جہاں چراگاہیں اور صحرائی جھاڑی دار علاقے ان کے آس پاس تھے اور انہیں اکثر ’بنجر زمین‘ کہا جاتا تھا۔ انہوں نے روایتی اوران یا گوچر زمینوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دیہات میں محفوظ رکھے جانے والے ان علاقوں کے بارے میں مقامی برادریاں بخوبی سمجھتی تھیں کہ زمین، مویشی اور خود ان کی زندگی ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔

مرکزی وزیر نے اس رہنما کتاب کو ہندوستان کے کھلے قدرتی ماحولیاتی نظام کو تسلیم کرنے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا اور جنگلات کے ساتھ ان ماحولیاتی نظاموں کے سائنسی بنیادوں پر تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ رہنما کتاب ان ماحولیاتی نظاموں کو سمجھنے اور ان کے تحفظ کے لیے مزید بیداری پیدا کرے گی۔

یہ رہنما کتاب حکومت ہند کی وزارت ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کی سرپرستی اور رہنمائی میں یو این سی سی ڈی کوپ17 کے ایک سرکاری سائیڈ ایونٹ میں جاری کی گئی۔ اس کی اشاعت اور تقریب کا اہتمام اشوکا ٹرسٹ فار ریسرچ اِن ایکولوجی اینڈ دی انوائرنمنٹ (اے ٹی آر ای ای) نے انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این)، سینٹر آف ایکسیلنس آن سسٹین ایبل لینڈ مینجمنٹ (سی او ای-ایس ایل ایم)، انڈین کونسل آف فارسٹ ریسرچ اینڈ ایجوکیشن (آئی سی ایف آر ای) اور اسپیس ایپلی کیشنز سینٹر (ایس اے سی)، اسرو کے تعاون سے کیا۔

تقریب میں حکومت، سائنسی و تحقیقی اداروں، بین الاقوامی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔

 

پیش کی گئی پریزنٹیشنز اور مباحثوں میں ہندوستان کے گھاس کے میدانوں اور دیگر کھلے قدرتی ماحولیاتی نظام (او این ایز) کے تنوع اور پھیلاؤ، ان کی ماحولیاتی اہمیت اور ہندوستان کے لینڈ ڈی گریڈیشن نیوٹرلٹی (ایل ڈی این) اہداف کے حصول میں ان کی بحالی کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔ سائنسی معلومات کو مزید مضبوط بنانے، زمین کی تباہی کے بہتر جائزے اور زمینی سطح پر جامع منصوبہ بندی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

رہنما کتاب میں ہندوستان بھر کے اہم کھلے قدرتی ماحولیاتی نظاموں سے متعلق معلومات یکجا کی گئی ہیں، جن میں ان کے جغرافیائی حالات، ماحولیاتی خصوصیات، حیاتیاتی تنوع اور ان سے وابستہ برادریوں و قبائلی آبادیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس میں چرواہی نظام، آتش زدگی کی ماحولیات اور کاربن کے ذخیرے جیسے موضوعات پر خصوصی ابواب بھی شامل ہیں۔ ہندوستان کے کھلے قدرتی ماحولیاتی نظام ہمالیائی اور ترائی کے گھاس زاروں سے لے کر تھار اور بنّی کے خطوں، دکن کے سوانا، چٹانی سطح مرتفع، بیابانی نالوں، جھاڑی دار علاقوں، ساحلی ماحولیاتی نظام اور صحرائی مناظر تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ ماحولیاتی نظام متنوع حیاتیاتی تنوع کو سہارا دیتے ہیں، مٹی اور پانی کے قدرتی عمل میں حصہ لیتے ہیں، اپنی مٹی میں خاطر خواہ مقدار میں کاربن ذخیرہ کرتے ہیں اور چرواہی، مویشی پر مبنی اور زرعی روزگار کو برقرار رکھتے ہیں۔

تقریب میں قومی و بین الاقوامی ماہرین، سائنسی اداروں، سول سوسائٹی اور کمیونٹی پر مبنی تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ دو خصوصی ’فائر سائیڈ چیٹس‘ بھی منعقد ہوئیں۔ ان مباحثوں میں گھاس کے میدانوں اور خشک خطوں کے تحفظ و بحالی، عوام پر مرکوز چراگاہی نظام کی حکمرانی، موسمیاتی لچک اور کھلے قدرتی ماحولیاتی نظام کے بڑے پیمانے پر تحفظ و پائیدار انتظام کے لیے درکار ادارہ جاتی، سائنسی اور پالیسی اقدامات پر غور کیا گیا۔

اس رہنما کتاب کے اجرا نے زمین کی بحالی اور پائیدار زمین کے انتظام کے لیے سائنسی معلومات پر مبنی اور زمینی منظرنامے کی سطح پر جامع نقطہ نظر کے تئیں ہندوستان کے عزم کی توثیق کی۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ گھاس زار، چراگاہیں اور دیگر کھلے قدرتی ماحولیاتی نظام کو زمین کی تباہی، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، موسمیاتی لچک اور پائیدار روزگار سے متعلق اہم مباحث میں مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے۔

توقع ہے کہ یہ رہنما کتاب پالیسی سازوں، محققین، تحفظِ ماحول کے ماہرین، ترقیاتی اداروں اور ان برادریوں کے لیے ایک مفید وسیلہ ثابت ہوگی جو ہندوستان کے گھاس زاروں اور دیگر کھلے قدرتی ماحولیاتی نظام کے تحفظ، بحالی اور پائیدار انتظام کے لیے کام کررہے ہیں۔ کوپ 17 میں اس کا اجرا ہندوستان کو اپنے متنوع کھلے قدرتی ماحولیاتی نظام دنیا کے سامنے پیش کرنے اور زمین کی بحالی، چراگاہوں اور لینڈ ڈی گریڈیشن نیوٹرلٹی سے متعلق عالمی مباحث میں ان کی نمائندگی مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بھی فراہم کرتا ہے۔

 

************

 

ش ح ۔   م    د۔  م  ص

(U :2191  )


(रिलीज़ आईडी: 2300642) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Kannada , Malayalam