نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن نے چینئی میں ایس آر ایم انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی 22ویں تقسیم اسناد تقریب میں شرکت کی
مصنوعی ذہانت اور کوانٹم ٹیکنالوجی جیسی اسٹریٹجک ٹیکنالوجیاں مستقبل تشکیل کریں گی: نائب صدرجمہوریہ
تحقیق اپنے اعلیٰ ترین مقصد کو اسی وقت حاصل کرتی ہے جب وہ معاشرے کی خدمت کرے: نائب صدرجمہوریہ
وکست بھارت@2047 کے سفر میں نوجوانوں کا کردار فیصلہ کن ہے: نائب صدرجہوریہ
2014 کے بعد اعلیٰ تعلیم میں نمایاں توسیع ہوئی ہے: نائب صدرجمہوریہ
’’صرف مستقبل کے لیے خود کو تیار نہ کریں، بلکہ مستقبل کی تشکیل کے لیے خود کو تیار کریں‘‘: نائب صدرجمہوریہ
رہنما اصول ’’ ملک پہلے‘‘ ہونا چاہیے: نائب صدر
تمل ناڈو میں منشیات سے متعلق بے ضابطگی کی نشاندہی کرنے والے طالب علم کے قتل پر نائب صدر جمہوریہ کا گہرے دکھ کا اظہار، سب سے منشیات کو ’نہیں‘ کہنے کی اپیل
प्रविष्टि तिथि:
16 AUG 2026 3:04PM by PIB Delhi
نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج چینئی کے قریب چنگل پٹو کے کٹانکولاتھور میں واقع ایس آر ایم انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (ایس آر ایم آئی ایس ٹی) کی 22ویں تقسیم اسناد تقریب سے خطاب کیا اور ڈگری حاصل کرنے والے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ ’ملک پہلے‘ کے اصول کی رہنمائی میں اپنے علم، مہارت اور اختراع کو قوم کی تعمیر کے لیے بروئے کار لائیں۔
نائب صدر جمہوریہ نے ڈگری حاصل کرنے والے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تقسیم اسناد صرف ڈگریاں حاصل کرنے کی تقریب نہیں بلکہ یہ برسوں کی محنت، نظم و ضبط اور تعلیم کا جشن ہونے کے ساتھ ذمہ داری اور خدمت کے ایک تاحیات سفر کا آغاز بھی ہے۔
سی پی رادھا کرشنن نے ایس آر ایم آئی ایس ٹی میں بین الشعبہ جاتی تعلیم، تخلیقی صلاحیت، انٹرپرینیورشپ اور تنقیدی سوچ کو فروغ دینے والے تعلیمی ماحول کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹر تحقیق، روبوٹکس، بایوٹیکنالوجی اور پائیدار ترقی جیسے شعبوں پر توجہ بڑھا رہا ہے، جو مستقبل کی معیشتوں اور معاشروں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کریں گے۔
نائب صدر جمہوریہ نے تحقیق کو عملی حل میں تبدیل کرنے کی ایس آر ایم آئی ایس ٹی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تحقیق کی اصل کامیابی اسی وقت ہے جب اس سے معاشرے کو فائدہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق اسی وقت حقیقی معنوں میں قابل ستائش بنتی ہے جب اس کے درست نتائج سامنے آئیں، معاشرے پر بامعنی اثر پڑے اور لوگوں کو عملی فائدہ حاصل ہو۔
کووڈ-19 وبا کے دوران ہندوستان کے ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان نے 100 سے زائد ممالک کو کووڈ ویکسین فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے اس انسانی امداد کو تجارتی مقصد نہیں بنایا۔ انہوں نے حال ہی میں کینیا کے اسپیکر کے ساتھ ہوئی گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہندوستان کی ویکسین امداد پر اظہار تشکر کیا تھا، جبکہ کئی مغربی ممالک نے غریب ممالک کو اسی طرح کی مدد فراہم نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی کوششوں نے انسانیت کے تحفظ میں مدد کی اور اس بات کا اعادہ کیا کہ ہندوستان امن، ترقی اور انسانی بہبود کے لیے کھڑا ہے۔
نائب صدر جمہوریہ نے بتایا کہ وزیراعظم نے ان سے کہا تھا کہ ملک کے مختلف حصوں میں ایمس قائم ہونے چاہئیں تاکہ طبی سہولتیں اور طبی تعلیم ہر ہندوستانی تک پہنچ سکے۔
انہوں نے 2014 کے بعد ملک میں اعلیٰ تعلیم کی توسیع کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس عرصے میں 16 آئی آئی آئی ٹی، 8 مرکزی یونیورسٹیاں، 8 آئی آئی ایم، 7 آئی آئی ٹی، 2 آئی آئی ایس ای آر، ایک این آئی ٹی اور 12 ایمس قائم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق آج ہندوستان میں 1,425 سے زیادہ یونیورسٹیاں، 54,000 کالج اور 16,850 اسٹینڈ الون ادارے موجود ہیں۔
جناب سی پی رادھا کرشنن نے اعلیٰ تعلیم میں خواتین کے داخلے میں نمایاں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2014-15 میں یہ تعداد 1.57 کروڑ تھی، جو 2023-24 میں بڑھ کر 2.24 کروڑ ہوگئی، یعنی 42.2 فیصد اضافہ ہوا۔ انہوں نے کانووکیشن تقریبات میں ڈگریاں اور تمغے حاصل کرنے والی خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد کو خوش آئند قرار دیا۔
نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ڈگری حاصل کرنے والے طلبہ ہندوستان کے ’وکست بھارت@2047‘ کے سفر کے ایک اہم مرحلے میں داخل ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ، اختراعی، جامع اور خود کفیل ہندوستان کا وژن ہر نوجوان سے قوم کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے عوام، خاص طور پر نوجوان ہیں۔ طلباء کو پیغام دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’صرف مستقبل کے لیے خود کو تیار نہ کریں، بلکہ مستقبل کی تشکیل کے لیے خود کو تیار کریں۔‘‘
نائب صدر جمہوریہ نے طلبہ سے منشیات اور ہر طرح کے نشہ آور مادوں کے استعمال سے دور رہنے کی اپیل کی اور کہا کہ وہ ’’توجہ بھٹکانے والی چیزوں پر نظم و ضبط، لالچ پر مقصد اور آسان شارٹ کٹ کے بجائے بہترین کارکردگی‘‘ کو ترجیح دیں۔
انہوں نے تمل ناڈو میں منشیات کے کاروبار سے متعلق معلومات فراہم کرنے پر ایک طالب علم کے قتل کے حالیہ واقعے کو انتہائی تکلیف دہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے انہوں نے اپنے ہی خاندان کے ایک فرد کو کھو دیا ہو۔
نائب صدر جمہوریہ نے نئے گریجویٹس طلباء سے ’راشٹر پہلے‘ کو اپنا رہنما اصول بنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کا علم، اختراع اور محنت ہندوستان کی ترقی، سلامتی اور خوشحالی میں کارآمد ہونی چاہیے۔ انہوں نے آئینی اقدار کو برقرار رکھنے، تنوع کا احترام کرنے، قومی اتحاد کو مضبوط بنانے اور محدود ذاتی مفاد سے بالاتر ہوکر وسیع تر قومی مفاد کو مقدم رکھنے پر زور دیا۔
اختتامی کلمات میں انہوں نے طلباء سے کہا کہ وہ ہندوستان کی لازوال اقدار ’گیان‘ (علم)، ’کرتویہ‘ (فرض)، ’کرونا‘ (ہمدردی) اور ’سیوا‘ (خدمت) کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
اس موقع پر نائب صدر جمہوریہ نے مہندرا اینڈ مہندرا لمیٹڈ کے آٹوموٹیو بزنس کے صدر آر ویلسامی کو اعزازی ڈگری کا سرٹیفکیٹ پیش کیا اور طلبا کو تمغے، رینک اور ڈگریاں تقسیم کیں۔ انہوں نے طلبہ سے ’نشہ کو نہ کہیں‘ کا عہد بھی لیا۔
تقریب میں تمل ناڈو و کیرالَم کے گورنر راجندر وشواناتھ ارلیکر، ایس آر ایم آئی ایس ٹی کے چانسلر ڈاکٹر ٹی آر پارِویندر، پرو چانسلر (انتظامیہ) ڈاکٹر روی پچا متھو، پرو چانسلر (اکیڈمکس) ڈاکٹر پی ستیانارائنن، وائس چانسلر ڈاکٹر سی متھمیزھ چیلوَن اور دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔






*****
ش ح ۔ م د۔ م ص
(U : 2180 )
(रिलीज़ आईडी: 2300184)
आगंतुक पटल : 9