وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

ڈی آر آئی نے سپاری کی درآمد میں سیفٹا معاہدے کے بڑے پیمانے پر غیر قانونی استعمال کا پردہ فاش کردیا


کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات میں تقریباً 2,500 کروڑ روپے کے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کا انکشاف؛ تقریباً 75 لاکھ روپے نقد اور 160 میٹرک ٹن سپاری ضبط؛ 9 افراد گرفتار

گروہوں نے انڈونیشیا، تھائی لینڈ، ملیشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے دیگر ممالک سے سپاری درآمد کرکے اس کے اصل ملک کو غلط طور پر بنگلہ دیش ظاہر کیا

سپاری کی زیادہ تر دھوکہ دہی پر مبنی درآمدات کی کسٹمز کلیئرنس کرنے والی کسٹمز بروکر فرم کا لائسنس منسوخ

प्रविष्टि तिथि: 16 AUG 2026 10:51AM by PIB Delhi

محکمۂ محصولات کی انٹیلی جنس نے ایک ماہ تک جاری رہنے والی خفیہ معلومات پر مبنی کارروائی کے دوران ایک بڑے نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا ہے، جو جنوب مشرقی ایشیا سے سپاری بھارت درآمد کرکے اسے غلط طور پر بنگلہ دیشی ساخت کی ظاہر کرتا تھا اور جنوبی ایشیائی آزاد تجارتی علاقہ کے تحت رعایتی محصول کی سہولت کا دھوکہ دہی سے فائدہ اٹھاتا تھا۔ تحقیقات سے اب تک 2,500 کروڑ روپے سے زائد کے ممکنہ سرکاری محصول کے نقصان کا انکشاف ہوا ہے۔ اس معاملے میں اب تک 9 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

بھارت میں سپاری کی درآمد پر 100 فیصد بنیادی کسٹم ڈیوٹی عائد ہوتی ہے۔ تاہم، سیفٹا معاہدے کے تحت اہل درآمدات کو کسٹم ڈیوٹی سے مکمل چھوٹ حاصل ہے۔ بنگلہ دیش سے درآمد کی جانے والی سپاری کو بھی سیفٹا کے تحت کسٹم ڈیوٹی سے چھوٹ حاصل ہے، بشرطیکہ درآمدات مقررہ قواعدِ منشأ کے معیار پر پوری اتریں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001G7N4.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002HO1T.jpg

محکمۂ محصولات کی انٹیلی جنس کی جانب سے جمع کی گئی اور تیار کردہ خفیہ معلومات سے انکشاف ہوا کہ بعض گروہ بڑے پیمانے پر سپاری کی درآمدات پر سیفٹا کے تحت حاصل رعایتی سہولیات کا دھوکہ دہی سے دعویٰ کر رہے تھے۔ یہ گروہ دراصل انڈونیشیا، تھائی لینڈ، ملیشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے دیگر ممالک سے حاصل کردہ اور وہاں سے درآمد کی گئی سپاری بھارت لا رہے تھے، لیکن بھارت میں درآمد کی جانے والی سپاری کے ملکِ منشأ کو غلط طور پر بنگلہ دیش ظاہر کر رہے تھے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003O1IA.jpg

اس کے بعد کولکاتا اور وشاکھاپٹنم میں درآمد کنندگان، کسٹمز بروکرز اور آئی ای سی (درآمد و برآمد کوڈ) رکھنے والے افراد سے وابستہ متعدد مقامات پر بیک وقت تلاشی لی گئی۔ اس دوران کئی قابلِ اعتراض دستاویزات اور ایسے اہم شواہد برآمد ہوئے جن سے سپاری کا تعلق جنوب مشرقی ایشیائی ممالک سے ثابت ہوتا ہے۔ڈی آر آئی کے افسران نے تقریباً 75 لاکھ روپے نقد بھی برآمد کرکے ضبط کیے، جن کے بارے میں شبہ ہے کہ یہ غیر قانونی طور پر درآمد کیے گئے سامان کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم تھی۔ اس کے علاوہ تقریباً 160 میٹرک ٹن سپاری کی ایک زیرِ ترسیل کھیپ بھی ضبط کی گئی۔

اب تک کی تحقیقات سے سپاری کی بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی پر مبنی درآمدات کا انکشاف ہوا ہے، جن کے ذریعے حالیہ برسوں میں 2,500 کروڑ روپے سے زائد کی کسٹم ڈیوٹی کی ادائیگی سے بچ کر سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔اس معاملے کے اصل سرغنہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک سے سپاری بنگلہ دیش کے ایک برآمدی پروسیسنگ زون (ای پی زیڈ) میں درآمد کروانے کے بعد محض کنٹینرز اور بوریاں تبدیل کرکے اسے بھارت بھیجنے کا انتظام کرتے تھے اور اسے بنگلہ دیشی ساخت کی سپاری ظاہر کرتے تھے۔ انہوں نے بنگلہ دیشی حکام سے سیفٹا کے تحت سرٹیفکیٹِ منشأ بھی دھوکے سے حاصل کیے تھے۔اصل سرغنہ بھارتی درآمد کنندگان سے کھیپ کی ترسیل، دستاویزات کی تیاری، کسٹمز کلیئرنس اور نقل و حمل کا انتظام کرنے کے عوض بھاری کمیشن وصول کرتے تھے، جبکہ ادائیگیوں کی ایک بڑی مقدار نقد رقم میں جمع کی جاتی تھی۔

تحقیقات کے دوران حوالہ ذرائع اور مالی رقوم کی منتقلی اور ان کی تہہ در تہہ گردش کے لیے جعلی اداروں کے استعمال کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ مزید تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ ایک کسٹمز بروکر فرم اس معاملے میں سامنے آنے والی زیادہ تر دھوکہ دہی پر مبنی سپاری کی درآمدات کی کسٹمز کلیئرنس کی خاص طور پر ذمہ دار تھی۔ ڈی آر آئی کی جاری تحقیقات کے نتیجے میں مجاز اتھارٹی نے مذکورہ کسٹمز بروکر کا لائسنس معطل کردیا ہے۔ اس معاملے میں اب تک 9 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

ایسی غیر قانونی درآمدات سے ملک کے اندر سپاری پیدا کرنے والے کاشت کاروں اور جائز تجارت پر منفی اثر پڑتا ہے، کیونکہ ان کے نتیجے میں قیمتوں میں غیر منصفانہ اتار چڑھاؤ پیدا ہوتا ہے اور قانونی طور پر کاروبار کرنے والے اداروں کے لیے یکساں مسابقت کے مواقع متاثر ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، جہاں ان غیر قانونی سرگرمیوں سے سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچتا ہے، وہیں یہ ضابطے کے مطابق تجارتی طریقۂ کار اور سرحدی علاقوں کی معاشی سلامتی کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔

اس کارروائی کے ذریعے محکمۂ محصولات کی انٹیلی جنس نے ملکِ منشأ کو منظم طریقے سے غلط ظاہر کرنے، سیفٹا کے فوائد کا دھوکہ دہی سے فائدہ اٹھانے اور بڑے پیمانے پر کسٹمز محصولات کی چوری میں ملوث ایک منظم اور مضبوط نیٹ ورک کو مؤثر طور پر توڑ دیا ہے۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-2173


(रिलीज़ आईडी: 2300140) आगंतुक पटल : 17
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Gujarati , हिन्दी , Marathi , Tamil , Telugu , Malayalam