PIB Backgrounder
ہندوستان کی دفاعی طاقت
خود انحصاری کے ذریعے قومی سلامتی کا استحکام
प्रविष्टि तिथि:
14 AUG 2026 4:44PM by PIB Delhi
ہندوستان کے دفاع کا استحکام
گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان کے دفاعی شعبے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ یہ ایک زیادہ مضبوط، خود کفیل اور عالمی سطح پر معتبر قوت کے طور پر ابھرا ہے۔ آتم نربھر بھارت کے وژن، مسلسل اصلاحات، سرمایہ کاری اور مقامی اختراعات نے دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کیا ہے۔ ملک کی دفاعی صنعتی بنیاد میں بھی نمایاں وسعت ہوئی ہے۔ ہندوستان اپنے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر اس تبدیلی کا جشن منا رہا ہے، جو اپنی خودمختاری کے تحفظ اور عالمی سلامتی میں تعاون کرنے کی ہندوستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیت اور اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
دفاعی سرمایہ کاری سے فوجی صلاحیتوں کو تقویت
- دفاعی بجٹ میں 3.1 گنا اضافہ: دفاعی بجٹ 2013-14 میں 2.53 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر 2026-27 میں 7.85 لاکھ کروڑ روپے ہو گیا ہے۔
- سرمایہ جاتی اخراجات میں 2.3 گنا اضافہ: سرمایہ جاتی اخراجات بھی 2014-15 میں 94,587.95 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2026-27 میں 2.19 لاکھ کروڑ روپے ہو گئے ہیں، جس سے فوج کی مسلسل جدید کاری کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔


مقامی دفاعی پیداوار کو فروغ دینے والی سرمایہ کاری
- 2025-26 میں دفاعی پیداوار ریکارڈ 1.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔
- 76 فیصد دفاعی پیداوار سرکاری شعبے کے اداروں اور 24 فیصد نجی شعبے کی جانب سے کی گئی۔

ملکی صنعتی بنیاد سے دفاعی برآمدات میں توسیع
- دفاعی برآمدات میں 56 گنا اضافہ: دفاعی برآمدات مالی سال 2013-14 میں 686 کروڑ روپے سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 38,424 کروڑ روپے ہو گئیں۔
- دفاعی برآمدات اب 80 سے زائد ممالک تک پہنچ رہی ہیں اور گزشتہ بارہ برسوں میں ان میں 5,500 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔
- مالی سال 2025-26 میں نجی شعبے نے 17,353 کروڑ روپے، یعنی 45.16 فیصد دفاعی برآمدات میں حصہ ڈالا، جبکہ دفاعی سرکاری شعبے کے اداروں (ڈی پی ایس یو) کا حصہ 21,071 کروڑ روپے، یعنی 54.84 فیصد رہا۔
- حکومت کا ہدف ہے کہ 2029 تک سالانہ دفاعی پیداوار 3 لاکھ کروڑ روپے اور دفاعی برآمدات 50,000 کروڑ روپے تک پہنچائی جائیں۔


اختراعات کے ذریعے تکنیکی بنیاد کو استحکام
- دفاعی تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کے لیے مختص بجٹ 2014-15 میں 13,716.14 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2026-27 میں 29,100.25 کروڑ روپے ہو گیا ہے، جو 112 فیصد سے زائد اضافہ ہے۔
- 2022-23 سے دفاعی تحقیق و ترقی کے بجٹ کا 25 فیصد حصہ صنعت، اسٹارٹ اپس اور تعلیمی اداروں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔
- 24 ڈی آر ڈی او لیبارٹریوں میں موجود ٹیسٹنگ سہولیات کو ڈیفنس ٹیسٹنگ پورٹل (ڈی ٹی پی ) کے ذریعے قابلِ رسائی بنایا گیا ہے۔ وزارتِ دفاع کے زیر انتظام یہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم ملکی دفاعی سازوسامان تیار کرنے والے اداروں، اسٹارٹ اپس اور صنعتوں کو خصوصی سرکاری ٹیسٹنگ سہولیات کے لیے معاوضے کے عوض رسائی کی درخواست دینے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جس سے مقامی دفاعی پیداوار کو فروغ دینے میں مدد ملتی ہے۔
ہندوستان کی دفاعی صنعتی بنیاد کو مضبوط بنانے والے اہم اقدامات
ہندوستان مقامی سطح پر دفاعی سازوسامان کی تیاری، جدید بنیادی ڈھانچے اور نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کے ذریعے اپنی دفاعی صنعتی صلاحیت کو وسعت دے رہا ہے۔ یہ فروغ پاتا ہوا ماحولیاتی نظام ملکی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، اختراعات کو فروغ دینے اور ایک مضبوط و مستحکم دفاعی سپلائی چین کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
دفاعی خریداری میں اصلاحات
- دفاعی حصول کونسل (ڈاے سی ): ہندوستان میں دفاعی خریداری کے اعلیٰ ترین ادارے دفاعی حصول کونسل (ڈی اے سی) نے مقامی سطح پر تیار کردہ دفاعی سازوسامان کی خریداری کے ذریعے آتم نربھر بھارت کے وژن کو فروغ دیا ہے۔ کونسل نے ڈی آر ڈی او کے ڈیزائن کردہ اور ہندوستانی صنعت کے تیار کردہ نظاموں کے لیے 6 لاکھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کی خریداری کی ضرورت کی منظوری دی ہے۔
- اہم مقامی دفاعی خریداریوں سے جنگی صلاحیتوں میں اضافہ: منظوری دیے گئے منصوبوں میں 62,000 کروڑ روپے مالیت کے 97 تیجس ایم کے اے-1 لڑاکا طیارے اور 62,700 کروڑ روپے مالیت کے 156 ایل سی ایچ پرچنڈ ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔ ان خریداریوں سے ہندوستان کی مقامی ایرو اسپیس اور دفاعی سازوسامان کی تیاری کی صلاحیت میں مزید اضافہ ہوگا۔
- دفاعی حصول کا طریقۂ کار(ڈی اے پی 2020):ڈی اے پی 2020نے مقامی دفاعی خریداری اور ملکی سطح پر پیداوار کو مزید مضبوط کیا۔ اس کے ذریعے دفاعی ڈیزائن، تحقیق و ترقی اور پیداوار کے شعبوں میں ہندوستانی کمپنیوں کے لیے مواقع میں بھی اضافہ ہوا۔
- دفاعی خریداری کا طریقۂ کار(ڈی اے پی 2016): ڈی اے پی 2016 نے میک اِن انڈیا کو فروغ دیتے ہوئے دفاعی خریداری کے عمل کو مزید منظم اور مؤثر بنایا۔ اس نے دفاعی خریداری میں بعد کی اصلاحات کے لیے بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا۔
- دفاعی خریداری مینوئل(ڈی پی ایم 2025): ڈی پی ایم 2025نے تقریباً 1 لاکھ کروڑ روپے کی ریونیو خریداری کو مزید منظم اور آسان بنایا۔ اس کے تحت منظوری کے عمل کو تیز کیا گیا، مقامی منصوبوں کے لیے جرمانوں میں نرمی کی گئی اور طویل مدتی آرڈرز کی یقین دہانی کرائی گئی۔
|
دفاعی حصول کا طریقۂ کار کامسودہ(ڈی اے پی ) 2026
ڈی اے پی 2026 میں دفاعی خریداری کے زمروں کو مزید آسان بنانے اور مقامی سطح پر ڈیزائن و ترقی کے عمل کے لیے مضبوط تعاون کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس میں مقامی مواد کے استعمال کی ضرورت کو بڑھا کر 60 فیصد تک کرنے کی بھی تجویز ہے۔
|
اختراعات کو فروغ دینا — آئی ڈی ای ایکس، اے ڈی آئی ٹی آئی اورٹی ڈی ایف
- دفاعی مہارت کے لیے اختراعات کی اسکیم: 498.78 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ آئی ڈی ای ایکس اسکیم نے مارچ 2026 تک 676 اسٹارٹ اپس، ایم ایس ایم ایز اور اختراع کاروں کو شامل کیا، جس کے نتیجے میں 551 ڈیزائن اور ترقیاتی معاہدے کیے گئے۔
- آدتی اسکیم: 2023-24 سے 2025-26 تک 750 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ منظور شدہ آدتی اسکیم، دفاعی اختراعی تنظیم (ڈی آئی او) کے ذریعے مالی معاونت فراہم کرتی ہے، تاکہ جدید دفاعی ٹیکنالوجیز کی ترقی کو تیز کیا جا سکے۔
- ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ فنڈ: یہ اسکیم اہم دفاعی ٹیکنالوجیز کی ترقی کے لیے 50 کروڑ روپے تک کی گرانٹ فراہم کرتی ہے۔ جون 2026 تک 334 کروڑ روپے مالیت کے 80 منصوبے زیرِ عمل تھے، جبکہ ڈیپ ٹیکنالوجی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے مزید 500 کروڑ روپے کے فنڈ کی منظوری دی گئی ہے۔
ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صنعتی شمولیت
- ڈی آر ڈی او کے ڈیولپمنٹ کم پروڈکشن پارٹنر فریم ورک کے تحت 134 شراکت دار کمپنیوں کو ٹیکنالوجیز منتقل کی گئیں۔
- 2,180 ٹیکنالوجی ٹرانسفر معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔
- مارچ 2026 تک صنعت کے استعمال کے لیے 2,780 سے زائد املاک دانش کے حقوق دستیاب کرائے گئے۔
مقامی سطح پر تیاری اور ملکی پیداوار
- مئی 2026 تک 10 مثبت مقامی بنانے کی فہرستیں، جن میں ڈی ایم اے اورڈی ڈی ی کی پانچ پانچ فہرستیں شامل ہیں، جاری کی گئیں۔ ان میں 5,521 اشیا شامل ہیں، جس سے دفاعی پیداوار میں آتم نربھرتا کو فروغ ملا ہے۔
- سریجن ڈیفنس ایکوپمنٹ ایمپاورمنٹ پلیٹ فارم (ڈی ای ای پی) ایک ڈیجیٹل ذخیرہ ہے جو مقامی دفاعی مصنوعات کی خریداری کو فروغ دیتا ہے۔ مئی 2026 تک اس پر 41,000 سے زائد وینڈرز اور 2.7 لاکھ مصنوعات درج تھیں، جس سے ملکی سپلائی چین مزید مضبوط ہوئی ہے۔
- اپریل 2026 تک اتر پردیش ڈیفنس انڈسٹریل کوریڈور میں 42,057 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے وعدے حاصل ہوئے، جن میں سے 4,409 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری عملی طور پر شروع ہو چکی ہے۔
- تمل ناڈو ڈیفنس انڈسٹریل کوریڈور میں 32,699 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متوجہ ہوئی، جس میں سے 6,446 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری عمل میں آ چکی ہے، جس سے ہندوستان کی دفاعی مینوفیکچرنگ بنیاد مزید مضبوط ہوئی ہے۔
- لکھنؤ میں برہموس انٹیگریشن اینڈ ٹیسٹنگ فیسلٹی نے میزائلوں کی تیاری شروع کر دی ہے۔
کاروبار میں آسانی اور دفاعی تجارت
- صنعتی لائسنس کی مدت 7 (+3) سال سے بڑھا کر 15 (+3، زیادہ سے زیادہ 18) سال کر دی گئی ہے، جبکہ اسلحہ ایکٹ کے تحت اب تاحیات مدت بھی دی جا رہی ہے۔
- نظرثانی شدہ ڈیفنس ایگزم پورٹل درخواستوں کی ابتدا سے اختتام تک آن لائن کارروائی، کمپنیوں کی خودکار تصدیق، آسان رجسٹریشن، حقیقی وقت میں ٹریکنگ اور محفوظ ادائیگی کے انضمام کی سہولت فراہم کرتا ہے، جس سے دفاعی تجارت مزید شفاف اور مؤثر ہوئی ہے۔
- دفاعی شعبے میں ایف ڈی آئی کی حد خودکار راستے کے تحت 74 فیصد اور حکومت کے راستے کے ذریعے 100 فیصد تک بڑھا دی گئی ہے۔ مارچ 2026 تک اس شعبے میں 6,670.59 کروڑ روپے کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) موصول ہوئی۔
ان اصلاحات نے دفاعی پیداوار کے لیے ایک زیادہ سازگار ماحول تشکیل دیا ہے، جس میں ادارہ جاتی تعاون مضبوط ہوا ہے اور اختراع سے عملی استعمال تک کے مراحل کے لیے مزید واضح راستے فراہم کیے گئے ہیں۔
ہندوستان کی دفاعی خود انحصاری کو آگے بڑھانا: مالی سال 2025-26
ہندوستان کے دفاعی منظرنامے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جس کے نتیجے میں ملکی صلاحیت، تکنیکی جدت اور آپریشنل مضبوطی میں اضافہ ہوا ہے۔ مقامی سطح پر دفاعی سازوسامان کی تیاری اب گولہ بارود، میزائل، پروپلشن، فضائی دفاع اور بحری پلیٹ فارمز تک پھیل چکی ہے، جسے حکومت اور صنعت کے درمیان مضبوط تعاون سے مزید تقویت مل رہی ہے۔
مقامی سطح پر تیاری کے ذریعے آپریشنل خود انحصاری کو تقویت
- ہندوستانی فوج نے اپنے ذخیرے میں شامل 175 اقسام کے گولہ بارود میں سے 159 کو مقامی سطح پر تیار کرکے تقریباً 91 فیصد خود کفالت حاصل کر لی ہے۔
- ہندوستان نے اگنی-4 انٹرمیڈیٹ رینج بیلسٹک میزائل اور اگنی-5 لانگ رینج سرفیس ٹو سرفیس بیلسٹک میزائل کے کامیاب تجربات کیے ہیں، جن کے آپریشنل اور تکنیکی پیرامیٹرز کی توثیق ہوئی ہے۔
- تارا گلائیڈ ویپن اور رودراایم--IIایئر ٹو سرفیس میزائل نے بھی زمینی اہداف کے خلاف مقامی سطح پر تیار کردہ درست نشانہ بنانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔
- ڈی آر ڈی او نے متعدد مقامی دفاعی نظاموں کو ترقی دی ہے، جن میں کوشا لانگ رینج ایئر ڈیفنس میزائل اور ویری شارٹ رینج ایئر ڈیفنس سسٹم شامل ہیں۔ میزائل انٹرسیپٹرز، قلیل فاصلے کے ہتھیاروں اور لیزر ٹیکنالوجی پر مشتمل ایک مربوط فضائی دفاعی نظام کا بھی کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔
- ڈی آر ڈی او نے فعال طور پر ٹھنڈے کیے جانے والے اسکریم جیٹ کمبسٹر کا 12 منٹ طویل زمینی تجربہ کامیابی سے مکمل کیا، جو ہائپرسونک میزائلوں کی ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔
بحری دفاع اور حملہ کرنے صلاحیتوں میں اضاطہ
- ہندوستانی بحریہ نے 12 جنگی جہازوں اور آبدوزوں کو اپنے بیڑے میں شامل کیا، جن میں آئی این ایس سورت، آئ این یس نیل گری اور آئی این ایس واگھشیر شامل ہیں۔
- آئی این ایس مہندرگیری، جو ایک اسٹیلتھ فریگیٹ ہے، بھی 75 فیصد سے زائد مقامی مواد کے ساتھ بحریہ میں شامل کیا گیا۔
- شاچی ، 11 نیکسٹ جنریشن آف شور پٹرول ویسلز میں سے پہلا جہاز، لانچ کیا گیا۔ آئی این ایس دوناگیری، آئی این ایس سنشودھک اور آئی این ایس اگرے کو بھی بحریہ میں شامل کیا گیا، جس کے ساتھ مقامی طور پر تیار کردہ سندھایک کلاس سروے فلیٹ کی تکمیل ہوئی اور بحری نگرانی و سروے کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
- ڈی آر ڈی او نے نیول اینٹی شپ میزائل—میڈیم رینج کا کامیاب تجربہ کیا اور کثیر سطحی بیلسٹک میزائل دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ اس سے مختلف نوعیت کے فضائی اور بحری خطرات کا مقابلہ کرنے کی ہندوستان کی صلاحیت مزید مضبوط ہورہی ہے۔
ہندوستان کی دفاعی تبدیلی نے فوجی تیاری، دفاعی مینوفیکچرنگ اور داخلی سلامتی کے شعبوں میں مزید مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔
2047 تک ہندوستان کی دفاعی امنگوں کو تقویت
ہندوستان کی دفاعی تبدیلی خود انحصاری، تکنیکی صلاحیت اور عالمی اعتماد کی جانب واضح پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔ مضبوط مقامی پیداوار، تحقیق و ترقی، اختراعات اور صنعتی شمولیت زمین، فضا اور سمندری شعبوں میں دفاعی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنا رہی ہیں۔ بڑھتی ہوئی دفاعی برآمدات اور اسٹریٹجک شراکت داریاں ایک قابلِ اعتماد عالمی دفاعی شراکت دار کے طور پر ہندوستان کے کردار کو مضبوط کر رہی ہیں۔ جدید ٹیکنالوجیز اور ملکی سطح پر دفاعی پیداوار میں مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے ہندوستان مستقبل کی سلامتی کی ضروریات پوری کرنے اور 2047 تک ایک تکنیکی طور پر ترقی یافتہ دفاعی طاقت کے طور پر اپنی حیثیت مضبوط کرنے کے لیے ضروری صلاحیتیں تیار کر رہا ہے۔
حوالے:
وزارت دفاع
اطلاعات و نشریات کی وزارت
پریس انفارمیشن بیورو
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
*****
ش ح۔ ک ح۔ ش ب ن
U.No. 2147
(रिलीज़ आईडी: 2299849)
आगंतुक पटल : 14