امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

گمراہ کن موبائل ایپلی کیشنز

प्रविष्टि तिथि: 11 AUG 2026 4:10PM by PIB Delhi

وزارت داخلہ نے ملک میں ہر قسم کے سائبر جرائم سے مربوط اور جامع انداز میں نمٹنے کے لیے ‘انڈین سائبر کرائم کوآرڈی نیشن سینٹر’ (آئی4سی) قائم کیا ہے، جو وزارت کے ماتحت ایک منسلک دفتر کے طور پر کام کرتا ہے۔

‘نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل’ (این سی آر پی) https://cybercrime.gov.in کو آئی4سی کے ایک حصے کے طور پر شروع کیا گیا ہے، تاکہ عوام ہر قسم کے سائبر جرائم سے متعلق واقعات کی اطلاع دے سکیں۔ اس میں خواتین اور بچوں کے خلاف ہونے والے سائبر جرائم پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

‘سہیوگ’پورٹل شروع کیا گیا ہے تاکہ آئی ٹی ایکٹ- 2000 کی دفعہ 79 کی ذیلی دفعہ (3) کی شق (ب) کے تحت مجاز حکومت یا اس کی ایجنسی کی جانب سے آئی ٹی ثالثی اداروں کو نوٹس بھیجنے کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔ اس کا مقصد کسی غیر قانونی سرگرمی کے ارتکاب کے لیے استعمال ہونے والی معلومات، ڈیٹا یا مواصلاتی رابطے تک رسائی کو ہٹانے یا اسے غیر فعال کرنے میں سہولت فراہم کرنا ہے۔ 30 جون  - 2026 تک آئی4سی نے آئی ٹی ایکٹ -  2000 کی دفعہ 69(اے) اور دفعہ 79(3)(ب) کے تحت دھوکہ دہی پر مبنی قرض ایپس سمیت مجموعی طور پر 3,718 موبائل ایپس کو بلاک کیا ہے۔

آئی4سی کے تحت‘شہری مالیاتی سائبر فراڈ رپورٹنگ اور مینجمنٹ سسٹم’ (سی ایف سی ایف آر ایم ایس) سال -2021 میں شروع کیا گیا تھا، تاکہ مالی فراڈ کی فوری اطلاع دی جا سکے اور دھوکہ دہی کرنے والوں کو رقم ہتھیانے سے روکا جا سکے۔ آئی4سی کے زیرانتظام سی ایف سی ایف آر ایم ایس کے مطابق، 30 جون 2026 تک 32.80 لاکھ سے زائد شکایات میں 11,158 کروڑ روپے سے زیادہ کی مالی رقم محفوظ کی جا چکی ہے۔

آئی4سی نے بینکوں اور مالیاتی اداروں کے تعاون سے 10 ستمبر -  2024 کو سائبر جرائم میں ملوث مشتبہ افراد اور اداروں کی شناختی معلومات کا مشتبہ رجسٹر شروع کیا تھا۔ 30 جون 2026 تک بینکوں سے موصول ہونے والی 30.48 لاکھ سے زائد مشتبہ شناختی معلومات اور 32.08 لاکھ پہلے درجے کے ‘منیوول اکاؤنٹس’ اس مشتبہ رجسٹر میں شامل شریک اداروں کے ساتھ شیئر کیے گئے ہیں، جبکہ 25,698 کروڑ روپے مالیت کے مشتبہ لین دین کو مسترد کیا گیا ہے۔ 30 جون 2026 تک پولیس حکام کی جانب سے رپورٹ کیے گئے 15.75 لاکھ سے زائد سم کارڈز اور 5.77 لاکھ آئی ایم ای آئی نمبرز کو حکومت ہند نے بلاک کر دیا ہے۔

سائبر جرائم کی شکایات سے نمٹنے میں عملی کارکردگی کو بہتر بنانے اور یکسانیت کو یقینی بنانے کے لیے وزارت نے این سی آر پی-سی ایف سی ایف آر ایم ایس کے لیے ایک جامع معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پی) جاری کیا ہے۔ اس ایس او پی میں این سی آر پی کے ذریعے موصول ہونے والی شکایات کی کارروائی، بینکوں کے ساتھ رابطہ کاری، شکایات کے ازالے، پابندی کے اندراجات ختم کرنے اور فراڈ کے ذریعے ہتھیائی گئی رقم کو اس کے حقیقی حق داروں کو واپس کرنے کے لیے ایک یکساں طریق کار وضع کیا گیا ہے۔ متاثرین کو فراڈ کے ذریعے ہتھیائی گئی رقم فوری طور پر واپس کرنے کے لیے رقم واپسی ماڈیول اور بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جانے اور رقم پر پابندی کے اندراج سے متعلق شکایات کے بروقت ازالہ کے لیے شکایات کے ازالہ کا ماڈیول اپریل - 2026 سے فعال کر دئیے گئے ہیں۔

سائبر جرائم کے بارے میں عوامی بیداری مزید بڑھانے کے لیے مرکزی حکومت نے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں کالر ٹیون مہم، ایس ایم ایس کے ذریعے پیغامات کی تشہیر، آئی4سی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس یعنی ایکس (سابقہ ٹوئٹر)  (@ سائبر دوست)، فیس بک(سائبر دوست14سی)، انسٹاگرام(سائبر دوست14سی) اور ٹیلی گرام(سائبر دوستی4سی) ، ٹی وی مہم، ریڈیو مہم، اسکول مہم، سنیما گھروں میں اشتہارات، معروف شخصیات کے ذریعے تشہیر، آئی پی ایل مہم اور مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے تشہیر کے لیے مائی گوو کی خدمات حاصل کرنا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے تعاون سے سائبر سیفٹی اور سکیورٹی بیداری ہفتے منعقد کیے جا رہے ہیں، نوجوانوں اور اسٹوڈنٹس کے لیے ہینڈ بک شائع کی گئی ہے اور ملک بھر کے ریلوے اسٹیشنوں اور ہوائی اڈوں پر ڈجیٹل اسکرینوں کے ذریعے بھی بیداری پیغامات نشر کیے جا رہے ہیں۔

یہ معلومات وزارت داخلہ میں وزیر مملکت جناب بندی سنجے کمار نے ایوان زیریں- لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں دی۔

******

ش ح -ظ ا- ت ع

UR NO. 1830


(रिलीज़ आईडी: 2297663) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali-TR , Assamese , Punjabi , Gujarati , Telugu