صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پردھان منتری نیشنل ڈائلاسس پروگرام سے متعلق تازہ معلومات


پی ایم این ڈی پی اس وقت تمام 36 ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں نافذ ہے، جس کے تحت 751 اضلاع کا احاطہ کیا جا رہا ہے، اس پروگرام کے تحت 1,856 ہیموڈائلاسس مراکز میں 13,535 ہیموڈائلاسس مشینیں نصب ہیں، جبکہ 44 مربوط اضلاع بھی اس میں شامل ہیں

مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے پروگرام کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جاتا ہے، اگر کوئی ڈائلاسس مرکز غیر فعال پایا جاتا ہے تو اس کی اطلاع متعلقہ ریاست یا مرکز کے زیرانتظام علاقے کو دی جاتی ہے تاکہ ضروری اصلاحی کارروائی کی جا سکے

प्रविष्टि तिथि: 11 AUG 2026 1:32PM by PIB Delhi

‘صحتِ عامہ’ اور ‘اسپتال’ ریاستی موضوعات ہیں۔ تاہم، حکومت ہند قومی صحت مشن (این ایچ ایم) کے تحت ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، بشمول ڈائلیسس خدمات، کے لیے تکنیکی اور مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔

وزیراعظم قومی ڈائلیسس پروگرام (پی ایم این ڈی پی) کا آغاز ہیموڈائلیسس خدمات تک رسائی بہتر بنانے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔ اس کے تحت ملک بھر کے ضلع اسپتالوں اور دیگر صحت مراکز میں ڈائلیسس مراکز قائم کیے گئے اور مستحق مریضوں کو مفت ڈائلیسس کی سہولت فراہم کی گئی۔ ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی جانب سے 30 جون 2026 تک فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق یہ پروگرام اس وقت تمام 36 ریاستوں/مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں نافذ ہے اور 751 اضلاع (بشمول 44 منسلک اضلاع) کا احاطہ کرتا ہے۔ ان اضلاع میں 1,856 ہیموڈائلیسس مراکز قائم ہیں، جہاں 13,535 ہیموڈائلیسس مشینیں نصب ہیں۔

پی ایم این ڈی پی کے تحت ڈائلیسس مراکز ریاستوں/مرکز کے زیرانتظام علاقوں سے ان کے سالانہ پروگرام پر عمل درآمد کے منصوبوں (پی آئی پیز) میں موصول ہونے والی تجاویز کی بنیاد پر قائم کیے گئے۔ یہ منصوبے ضروریات اور موجودہ سہولتوں کے درمیان فرق کے تجزیے کی بنیاد پر تیار کیے جاتے ہیں۔ ان تجاویز پر قومی پروگرام رابطہ کمیٹی کے اجلاسوں میں غور کیا جاتا ہے اور منظوری کی اطلاع کارروائی کی روداد (آر او پیز) کے ذریعے دی جاتی ہے۔ پی ایم این ڈی پی کے تحت قائم کیے گئے ڈائلیسس مراکز کی ریاست/مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے لحاظ سے مجموعی تعداد، جس میں گزشتہ دو برسوں کے دوران شامل کیے گئے مراکز بھی شامل ہیں ضمیمہ اول میں دی گئی ہے۔

وزارت مشترکہ جائزہ مشن (سی آر ایم) اور اعلیٰ افسران کے دوروں کے ذریعے پروگرام کی باقاعدگی سے نگرانی کرتی ہے۔ ایسے جائزوں کے دوران اگر کوئی ڈائلیسس مرکز غیر فعال پایا جاتا ہے تو متعلقہ ریاست/مرکز کے زیرانتظام علاقے کو اس سے آگاہ کیا جاتا ہے تاکہ ضروری اصلاحی کارروائی کی جا سکے۔ ڈائلیسس مراکز کو بروقت فعال کرنے اور ڈائلیسس ٹیکنیشنز سمیت مناسب تربیت یافتہ افرادی قوت کی تعیناتی کی ذمہ داری متعلقہ ریاست/مرکز کے زیرِانتظام علاقے کی حکومت اور جہاں کوئی شراکت دار ادارہ خدمات انجام دے رہا ہو، اس ادارے کی ہے۔

 

ضمیمہ اول

گزشتہ دو برسوں کے دوران پی ایم این ڈی پی کے تحت قائم کیے گئے ڈائلیسس مراکز کی ریاست/مرکز کے زیرانتظام علاقے کے لحاظ سے مجموعی تعداد

 

نمبر شمار

ریاستیں/ مرکز کے زیر انتظام علاقے

مالی سال

 2024-25

مالی سال

 2025-26

1

جزائرانڈومان اور نکوبار

8

8

2

آندھرا پردیش

59

61

3

اروناچل پردیش

11

11

4

آسام

54

74

5

بہار

38

38

6

چندی گڑھ

1

1

7

چھتیس گڑھ

35

39

8

ڈی اینڈ این ایچ/ڈی ڈی

2

2

9

دہلی

7

16

10

گوا

16

18

11

گجرات

272

282

12

ہریانہ

21

21

13

ہماچل پردیش

24

24

14

جموں و کشمیر

23

29

15

جھارکھنڈ

24

24

16

کرناٹک

200

214

17

کیرالہ

111

113

18

لداخ

2

2

19

لکشدیپ

4

4

20

مدھیہ پردیش

67

70

21

مہاراشٹر

65

158

22

منی پور

9

9

23

میگھالیہ

5

5

24

میزورم

4

5

25

ناگالینڈ

4

7

26

اوڈیشہ

67

68

27

پڈوچیری

2

2

28

پنجاب

40

40

29

راجستھان

35

35

30

سکم

4

4

31

تمل ناڈو

141

146

32

تلنگانہ

95

101

33

تری پورہ

8

8

34

اتر پردیش

75

75

35

اتراکھنڈ

19

19

36

مغربی بنگال

69

73

صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر مملکت جناب پرتاپ راؤ جادھو نے آج ایوان بالا- راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ بات کہی۔

 

******

ش ح -ظ ا-  ت ع

UR NO. 1802

 


(रिलीज़ आईडी: 2297576) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Bengali-TR , Punjabi , Tamil