ریلوے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

کنٹینر ٹرین آپریٹرز کے لیے خوشخبری، ایک ہی آل انڈیا لائسنس کے تحت تمام راستوں پر ٹرینیں چلانے کی اجازت، کاروبار میں آسانی کو فروغ


 انڈین  ریلوے نے لائسنسنگ کے نظام کو آسان بنا یا،اصلاحات سے نقل و حمل کے اخراجات اور آلودگی میں کمی، سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ کم اور صنعت، خصوصاً چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو فائدہ ہوگا

دیگر اصلاحات میں 25 کروڑ روپے کی یکساں رجسٹریشن فیس اور لائسنس کی توسیع پر تجدیدی فیس کا خاتمہ شامل

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 05 AUG 2026 8:32PM by PIB Delhi

 انڈین  ریلوے نے ماڈل کنسیشن معاہدے (ایم سی اے) میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے، جو  انڈین  ریلوے کے نیٹ ورک پر کنٹینر ٹرینیں چلانے کے لیے آپریٹرز کو اجازت دینے کے نظام کو منظم کرتا ہے۔ منظور شدہ ترامیم کے تحت کنٹینر ٹرین آپریٹرز کو ایک ہی آل انڈیا لائسنس کے تحت پورے ریلوے نیٹ ورک کے تمام راستوں پر کنٹینر ٹرینیں چلانے کی اجازت ہوگی۔ اس کے لیے 25 کروڑ روپے کی یکساں رجسٹریشن فیس مقرر کی گئی ہے۔ اس طرح مختلف راستوں کے زمروں کے لیے الگ الگ اجازت ناموں اور فیس کے سابقہ نظام کو ختم کر دیا گیا ہے۔ ان ترامیم کو گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے باقاعدہ طور پر نافذ کیا جائے گا۔

تمام راستوں کے لیے ایک ہی لائسنس

منظور شدہ ترامیم کے تحت لائسنس کے لیے موجودہ راستہ وار درجہ بندی ختم کر دی جائے گی۔ ریلوے کی وزارت کی منظوری سے کنٹینر ٹرین آپریٹرز کو ایک ہی آل انڈیا لائسنس جاری کیا جائے گا، جس کے تحت وہ انڈین  ریلوے کے پورے نیٹ ورک کے تمام راستوں پر کنٹینر ٹرینیں چلا سکیں گے۔

یکساں رجسٹریشن فیس

مختلف زمروں کے راستوں کے لیے مختلف رجسٹریشن فیس وصول کرنے کا سابقہ نظام ختم کر دیا گیا ہے۔ اب ہر درخواست گزار کو  انڈین  ریلوے کے پورے نیٹ ورک کے تمام راستوں پر آپریشن کے لیے 25 کروڑ روپے کی ناقابلِ واپسی یکساں رجسٹریشن فیس جمع کرانی ہوگی۔

توسیع پر کوئی فیس نہیں

منظور شدہ ترامیم کے مطابق کنٹینر ٹرین آپریٹر کو دی گئی اجازت کی مدت ختم ہونے کے بعد مزید 20 سال کے لیے توسیع  دی جا سکتی ہے۔ مجاز اتھارٹی درخواست موصول ہونے پر تسلی بخش کارکردگی کی بنیاد پر اسی آپریٹر کی اجازت میں توسیع کرے گی۔ اس توسیع یا مستقبل میں اسی آپریٹر کو دی جانے والی کسی بھی مزید توسیع پر کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔

موجودہ آپریٹرز کے لیے رعایت

جن آپریٹرز کے پاس پہلے سے زمرہ اول کے لائسنس موجود ہیں، وہ اپنی رعایتی مدت ختم ہونے تک موجودہ زمرے کے تحت کام جاری رکھ سکتے ہیں۔ نئے لائسنس کے تحت لائسنس کی تجدید یا توسیع کے وقت ان سے کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔

زمرہ دوم، سوم اور چہارم کے آپریٹرز بھی اپنی رعایتی مدت ختم ہونے تک موجودہ زمروں کے تحت کام جاری رکھ سکتے ہیں۔ نئے لائسنس کے تحت تجدید یا توسیع کی صورت میں انہیں 15 کروڑ روپے ادا کرنے ہوں گے۔ یہ رقم نئے لائسنس کی 25 کروڑ روپے کی فیس اور پہلے سے ادا کیے گئے 10 کروڑ روپے کے درمیان فرق ہے۔ یہ رقم ناقابلِ واپسی ہوگی۔یہ آپریٹرز اپنی 20 سالہ رعایتی مدت مکمل ہونے سے پہلے بھی نئے لائسنس میں منتقلی کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ قبل از وقت نئے لائسنس میں منتقلی کے لیے بھی انہیں 15 کروڑ روپے ادا کرنے ہوں گے۔

صنعت کے لیے فوائد

یکساں رجسٹریشن فیس اور توسیع کی فیس ختم کیے جانے سے آپریٹرز کے لیے ضابطہ جاتی اور تعمیلی اخراجات میں کمی آنے اور منظوری کے عمل کو آسان بنانے کی توقع ہے۔آسان لائسنسنگ نظام سے نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شرکت اور کنٹینر ٹرینوں کے آپریشن میں توسیع کی حوصلہ افزائی ہونے کی توقع ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں ریل کے ذریعہ مال برداری کا نظام مزید بہتر ہوگا۔ کنٹینروں کی نقل و حمل کے لیے ریل کے زیادہ استعمال سے صنعت، خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لاجسٹکس اخراجات میں کمی آنے کی توقع ہے، کیونکہ انہیں مال کی نقل و حمل کے لیے زیادہ مؤثر اور کم لاگت کا ذریعہ فراہم ہوگا۔کنٹینر ٹریفک کو سڑک سے ریل کی جانب منتقل کرنے میں اضافے سے شاہراہوں پر ٹریفک کے دباؤ میں کمی، ایندھن کی کھپت میں کمی اور کاربن کے اخراج میں کمی آنے کی بھی توقع ہے، جس سے زیادہ پائیدار مال برداری کے نظام کو فروغ ملے گا۔

یکساں اور آسان لائسنسنگ نظام کی جانب قدم

منظور شدہ ترامیم کا مقصد  انڈین  ریلوے کے پورے نیٹ ورک میں کنٹینر ٹرین آپریٹرز کے لیے ایک آسان اور یکساں لائسنسنگ نظام قائم کرنا ہے۔ ان اصلاحات سے منظوری کے عمل کو مزید ہموار بنانے کے ساتھ ساتھ ماڈل کنسیشن معاہدے کے تحت کنٹینر ٹرینوں کے آپریشن کے لیے ایک مشترکہ ضابطہ جاتی نظام فراہم ہونے کی توقع ہے۔

******

 

ش ح -ظ ا- ش ب ن

UR NO. 1707


(ریلیز آئی ڈی: 2297014) وزیٹر کاؤنٹر : 20