جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بھارت نے  غیر فوسل ایندھن بجلی کی صلاحیت میں 300 گیگا واٹ کا تاریخی سنگ میل  حاصل  کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 09 AUG 2026 2:31PM by PIB Delhi

ملک کی  صاف ستھری  توانائی کی منتقلی  اور ماحولیاتی کارروائی  کے اہداف میں ایک  بڑا سنگ میل  حاصل کرتے ہوئے بھارت نے 31 جولائی 2026 تک غیر فوسل ایندھن پر مبنی بجلی پیدا کرنے کی  تنصیبی  صلاحیت میں 300 گیگا واٹ  کا ہندسہ عبور  کر لیا ہے۔ یہ 2030 تک حاصل کیے جانے والے 500 گیگا واٹ کے ہدف سے  60 فیصد سے زیادہ ہے۔

غیر فوسل ایندھن کی صلاحیت کی تفصیلات (31.07.2026 تک):

  • شمسی توانائی:   164.59 گیگا واٹ
  • پون  توانائی : 58.14 گیگا واٹ
  • پن بجلی ( بڑی اور چھوٹی): 57.24 گیگا واٹ
  • بائیو پاور: 11.75 گیگا واٹ
  • ایٹمی توانائی: 8.78 گیگا واٹ
  • مجموعی غیر فوسل صلاحیت: 300.50 گیگا واٹ

ملک کی  بجلی پیدا کرنے کی کل صلاحیت  (جو فی الحال  تقریباً 552 گیگا واٹ ہے) میں غیر فوسل ایندھن کی بجلی کی صلاحیت کا حصہ 54 فیصد سے زیادہ ہو گیا ہے۔

 اس تبدیلی کے لیے حکومت کی طرف سے فراہم کردہ اہم پالیسی  کے تعاون سے یہ یادگار حصولیابی بھارت کی ایک آتم نربھر  توانائی کے ماحولیاتی نظام کی تعمیر اور 2030 تک 500 گیگا واٹ غیر فوسل صلاحیت کے ہدف کو حاصل کرنے کی جانب تیز رفتار پیش رفت کو اجاگر کرتی ہے۔

صاف ستھری توانائی کی پیداوار میں یہ اضافہ مختلف شعبوں کے شاندار تعاون کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ شمسی توانائی اس ترقی کا بنیادی انجن بنی ہوئی ہے، جو 2014 میں محض 2.8 گیگا واٹ سے بڑھ کر فی الحال  تقریباً 165 گیگا واٹ تک پہنچ چکی ہے۔ اسی کے ساتھ پون توانائی   کے شعبے میں بھی زبردست  اضافہ دیکھا گیا  ہے، جو 2014 میں 21 گیگا واٹ سے بڑھ کر اب  58 گیگا واٹ سے زیادہ ہو گئی ہے۔

 ملک میں سال 26-2025 کے دوران  ریکارڈ 55.29 گیگا واٹ غیر فوسل ایندھن پر مبنی بجلی کی صلاحیت  کی تنصیب ہوئی تھی،  جس میں 44.6 گیگا واٹ شمسی توانائی اور 6 گیگا واٹ  پون توانائی  کا اہم حصہ رہا۔

قابل تجدید توانائی کی صلاحیت میں  یہ تیز رفتار پیش رفت ملک میں قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار    سے بھی ظاہر ہوتی ہے، جو 15-2014 میں 190.96 بلین یونٹ سے بڑھ کر 26-2025 میں 477.79 بلین یونٹ  ہو گئی ہے۔

اس تیز رفتار توسیع میں مددکرنے اور رسد کے نظام میں خودمختاری کو یقینی بنانے کے لیے، بھارت نے اپنی گھریلو مینوفیکچرنگ  کی صلاحیتوں کو یکسر بدل دیا ہے۔ ملک کی   اعلی کارکردگی والی شمسی  تنصیبات  اور اندرون ملک  تیار کردہ ماڈیولز پر توجہ مرکوز کرنے والی پیدوار سے منسلک مراعات (پی ایل آئی) اسکیم کی بدولت  سولر پی وی ماڈیولز کے لیے اپرووڈ لسٹ آف ماڈلز اینڈ مینوفیکچررز ( اے ایل ایم ایم)  کے تحت  اندراج شدہ  صلاحیت 2014 میں محض 2.3 گیگا واٹ سے بڑھ کر 200 گیگا واٹ کے تاریخی سنگ میل کو عبور کر چکی ہے۔

صاف ستھری توانائی کی منتقلی اب صرف ایک ماحولیاتی عہد  نہیں ہے بلکہ یہ بھارت کی صنعتی مسابقت، توانائی کی خودمختاری اور معاشی لچک کی تشکیل کے لئے مرکزی حیثیت رکھتی   ہے۔

جدید  اور قابلِ تجدید توانائی کی وزارت  نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن  کے نفاذ کے ذریعے بھارت کو گرین ہائیڈروجن اور اس کے مشتقات کی پیداوار، استعمال اور برآمد کا ایک عالمی مرکز بنانے کے لیے صنعتوں سے کاربن کے اخراج کو کم کرنے کی بڑی مہم بھی چلا رہی ہے۔

*****

(ش ح- ن  ا)

U.N:1681


(ریلیز آئی ڈی: 2296834) وزیٹر کاؤنٹر : 76