وزارت دفاع
آپریشن سندور نے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ہندوستان اپنے شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے: وزیرِ دفاع
وزیرِ دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے دہلی چھاؤنی کے بیس اسپتال میں ’’سندور مہارکت دان یاترا‘‘ کے تحت خون کے عطیے کے کیمپ کا افتتاح کیا؛ مہاراشٹر سے ایک ہزار کھلاڑیوں نے بھی خون عطیہ کیا۔ آج عطیہ کیا گیا خون ضرورت مند فوجیوں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے ایک قابلِ اعتماد ذخیرہ ثابت ہوگا: وزیرِ دفاع
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 AUG 2026 1:51PM by PIB Delhi
وزیرِ دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے 9 اگست 2026 کو دہلی چھاؤنی کے بیس اسپتال میں منعقدہ ’’سندور مہارکت دان یاترا‘‘ کے تحت خون کے عطیے کے کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’آپریشن سندور نے ہماری مسلح افواج کی بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا اور پوری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ہندوستان اپنی خواتین کے سندور کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔‘‘ وزیرِ دفاع نے ہندوستانی مسلح افواج کی اس کامیابی کو سراہا کہ انہوں نے پاکستان میں موجود دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کا خاتمہ کیا اور یہ یقینی بنایا کہ ہندوستان کی طرف بری نظر ڈالنے کی جرأت کرنے والوں کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
’’سندور مہارکت دان یاترا‘‘ کے حوالے سے مماثلت بیان کرتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ جس طرح آپریشن سندور نے جرأت و بہادری کی مثال پیش کی، اسی طرح یہ عظیم خون کے عطیے کا کیمپ ہمدردی اور انسان دوستی کی علامت ہے۔ اس کیمپ میں خون عطیہ کرنے والوں میں مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والے تقریباً ایک ہزار پہلوان اور کھلاڑی بھی شامل تھے، جنہوں نے بے لوث خدمت کے جذبے اور مسلح افواج کے ساتھ یکجہتی کا شاندار مظاہرہ کیا۔
عطیہ کنندگان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ آج عطیہ کیا گیا خون مستقبل میں ضرورت مند فوجیوں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے ایک قابلِ اعتماد ذخیرہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے خون کے عطیے کو جیو دان اور مہا دان قرار دیتے ہوئے کہا کہ سائنس اور طب کے میدان میں غیر معمولی ترقی کے باوجود اب تک انسانی خون کا کوئی مصنوعی متبادل تیار نہیں کیا جا سکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ خون صرف انسانی جسم ہی پیدا کر سکتا ہے اور ایک انسان سے دوسرے انسان کو عطیہ کیا جا سکتا ہے، اس لیے خون کا عطیہ انسان دوستی اور خیرات کی بلند ترین صورتوں میں سے ایک ہے۔
جناب راج ناتھ سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ خون عطیہ کرنے والا اور خون حاصل کرنے والا، دونوں اپنے اپنے انداز میں قوم کی خدمت کر رہے ہوتے ہیں۔ انہوں نے عوام، بالخصوص نوجوانوں سے اپیل کی کہ خون عطیہ کرنے کو ایک سماجی روایت بنائیں۔ انہوں نے کہا: ’’جب ہم 2047 میں اپنی آزادی کے سو برس مکمل ہونے کا جشن منائیں گے تو ہمارا مقصد صرف ایک ترقی یافتہ معیشت تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہمیں ایک ایسے ہمدرد اور انسان دوست معاشرے کا بھی تصور کرنا چاہیے جہاں لوگ صحت مند اور محفوظ ہوں اور خون جیسا قیمتی وسیلہ ضرورت کے وقت آسانی سے دستیاب ہو۔‘‘
نوجوانوں سے تندرستی کو ترجیح دینے کی اپیل کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے زور دیا کہ ایک صحت مند اور جسمانی طور پر مستعد شخص معاشرے کے لیے زیادہ قیمتی سرمایہ ثابت ہوتا ہے اور خون کے عطیے جیسے عظیم انسانی فریضے انجام دینے کے لیے بہتر طور پر تیار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومت کھیلو انڈیا اور فٹ انڈیا جیسے اقدامات کے ذریعے عوام، بالخصوص نوجوانوں، کو تندرستی کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنانے کی ترغیب دے رہی ہے۔
مہاراشٹر کی شجاعت اور انسان دوستی کی پائیدار روایت کا ذکر کرتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ چھترپتی شیواجی مہاراج کی میراث آج بھی نسل در نسل لوگوں کو تحریک دیتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جسمانی قوت کا حقیقی مقصد دوسروں کا تحفظ کرنا اور وطن کی حفاظت کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چھترپتی شیواجی مہاراج کی سرزمین سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں اور پہلوانوں کی یہ خدمت قوم کے لیے ایک عظیم اور قابلِ قدر خدمت کے طور پر ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
اس تقریب میں مہاراشٹر کے نائب وزیرِ اعلیٰ جناب ایکناتھ شندے؛ آیوش کے وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) جناب پرتاپ راؤ جادھو؛ حکومتِ مہاراشٹر کے وزیرِ صنعت جناب اُدے رویندر سمانت؛ رکنِ پارلیمان ڈاکٹر شری کانت لتا ایکناتھ شندے؛ بری فوج کے سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ؛ مسلح افواج کی طبی خدمات کے ڈائریکٹر جنرل (اے ایف ایم ایس) سرجن وائس ایڈمرل آرتی سرین؛ ایڈجوٹنٹ جنرل لیفٹیننٹ جنرل وی پی ایس کوشک؛ دہلی چھاؤنی کے بیس اسپتال کے کمانڈنٹ میجر جنرل وشال چودھری اور فوجی و سول انتظامیہ کی متعدد ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
اے ایف ایم ایس کے لیے خون کے مناسب ذخائر کو برقرار رکھنا خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ فوجی اسپتال نہ صرف معمول کی طبی ضروریات پوری کرتے ہیں بلکہ آپریشنل، صدمے سے متعلق اور ہنگامی حالات میں بھی طبی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ تقریباً 500 رضاکارانہ عطیہ کنندگان کی شرکت نے ’’خود سے پہلے خدمت‘‘ کے جذبے کی ایک بار پھر توثیق کی اور اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ ہر اہل شہری باقاعدہ رضاکارانہ خون کے عطیے کے ذریعے انسانی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-1680
(ریلیز آئی ڈی: 2296806)
وزیٹر کاؤنٹر : 94
یہ ریلیز پڑھیں:
English
,
हिन्दी
,
Marathi
,
Bengali
,
Bengali-TR
,
Assamese
,
Manipuri
,
Punjabi
,
Gujarati
,
Tamil
,
Malayalam