ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

قومی حیاتیاتی تنوع اتھارٹی نے رسائی اور منافع میں شراکت کے نظام کے تحت 33 ریاستوں، مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں اور قومی اداروں میں تقریباً 3.79 کروڑ روپے تقسیم کیے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 09 AUG 2026 10:46AM by PIB Delhi

قومی حیاتیاتی تنوع اتھارٹی نے رسائی اور منافع میں شراکت کے نظام کے تحت تقریباً 3.79 کروڑ روپے کی رقم 33 ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈز (ایس بی بیز)، مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی حیاتیاتی تنوع کونسلوں (یو ٹی بی سیز)، آئی سی اے آر-قومی بیورو برائے نباتاتی جینیاتی وسائل (این بی پی جی آر)، اور ہریانہ ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈ کے ذریعے حصار بووائن اسپرم اسٹیشن اینڈ ریسرچ سینٹر میں تقسیم کی ہے۔

یہ رقم ہندوستان کی زرعی حیاتیاتی تنوع کی متعدد اقسام پر مشتمل ہے، جن میں ٹماٹر، مرچ، بینگن، پھول گوبھی، تربوز، کریلا، لوکی، بھنڈی، سرسوں کی مختلف اقسام کے بیج اور گہرے منجمد (ڈیپ فریز) ساہیوال نسل کے مویشیوں کا مَنی شامل ہیں۔ یہ اے بی ایس رقم میسرز بائر سائنس اینڈ اِنوویشن پرائیویٹ لمیٹڈ، میسرز ایچ ایم کلاز انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ اور میسرز ایڈوانٹا انٹرپرائزز لمیٹڈ جیسی کمپنیوں سے وصول کی گئی، جنہوں نے تحقیق اور تجارتی استعمال کے لیے سبزیوں اور تیل دار اجناس کے جینیاتی وسائل تک رسائی حاصل کی تھی۔

اس کے علاوہ جمہوری سوشلسٹ جمہوریہ سری لنکا کی حکومت کے محکمۂ حیوانی پیداوار و صحت کی جانب سے ساہیوال نسل کے مویشیوں کے مَنی تک رسائی کے عوض بھی اے بی ایس کی رقم حاصل ہوئی۔ حیاتیاتی تنوع ایکٹ، 2002 کے تحت نافذ ہندوستان کا اے بی ایس نظام، جو ناگویا پروٹوکول سے ہم آہنگ ہے، اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ جب دوسرے ممالک کے صارفین حیاتیاتی وسائل تک رسائی حاصل کریں تو اس کے فوائد منصفانہ اور مساوی بنیادوں پر تقسیم کیے جائیں۔

چونکہ متعلقہ کمپنیوں نے حیاتیاتی وسائل تک رسائی منڈیوں، تاجروں یا دیگر واسطہ داروں کے ذریعے حاصل کی تھی، اس لیے ان وسائل کے اصل ماخذ کی نشاندہی ممکن نہ ہو سکی۔ ایسے معاملات میں قومی حیاتیاتی تنوع اتھارٹی نے ماہرین کی ایک کمیٹی کی تیار کردہ اور اتھارٹی سے منظور شدہ فوائد کی تقسیم کے طریقۂ کار کو اختیار کیا۔

اے بی ایس کی یہ رقم ان ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈز اور حیاتیاتی تنوع کونسلوں میں متناسب طور پر تقسیم کی گئی جہاں متعلقہ فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے وزارتِ زراعت و کسانوں کی بہبود کی جانب سے شائع کردہ زیرِ کاشت رقبے کے اعداد و شمار کو بنیاد بنایا گیا۔ مستفیدین کو فراہم کیے گئے حیاتیاتی وسائل اور جاری کی گئی اے بی ایس رقم کی تفصیلات ذیل میں درج ہیں۔

حیاتیاتی وسائل

کمپنی

جاری کی گئی اے بی ایس رقم

ریاستیں / مستفیدین

پھول گوبھی کے بیج کی اقسام اور ہائبرڈ اقسام

بائر سائنس اینڈ اِنّوویشن پرائیویٹ لمیٹڈ اور ایچ ایم کلاز انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ

26.98 لاکھ روپے

30 ایس بی بیز / یو ٹی بی سیز

تربوز کے بیج کی اقسام اور ہائبرڈ اقسام

بائر سائنس اینڈ اِنوویشن پرائیویٹ لمیٹڈ اور ایچ ایم کلاز انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ

24.32 لاکھ روپے

25 ایس بی بیز / یو ٹی بی سیز

ٹماٹر کے بیج کی اقسام اور ہائبرڈ اقسام

بائر سائنس اینڈ اِنّوویشن پرائیویٹ لمیٹڈ اور ایچ ایم کلاز انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ

86.56 لاکھ روپے

31 ایس بی بیز / یو ٹی بی سیز

مرچ کے بیج کی اقسام اور ہائبرڈ اقسام

بائر سائنس اینڈ اِنّوویشن پرائیویٹ لمیٹڈ اور ایچ ایم کلاز انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ

83.76 لاکھ روپے

32 ایس بی بیز / یو ٹی بی سیز

بینگن کے بیج کی اقسام اور ہائبرڈ اقسام

بائر سائنس اینڈ اِنّوویشن پرائیویٹ لمیٹڈ اور ایچ ایم کلاز انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ

7.18 لاکھ روپے

31 ایس بی بیز / یو ٹی بی سیز

کریلا، لوکی، بینگن، پھول گوبھی، تیز مرچ، بھنڈی اور ٹماٹر کا جینیاتی ذخیرہ

ایڈوانٹا انٹرپرائزز لمیٹڈ

148.00 لاکھ روپے

31 ایس بی بیز / یو ٹی بی سیز

سرسوں کے بیج کی اقسام

ایڈوانٹا انٹرپرائزز لمیٹڈ

0.57 لاکھ روپے

آئی سی اے آر-این بی پی جی آر، نئی دہلی

ساہیوال نسل کے مویشیوں کا منی (سیمین)

محکمۂ حیوانی پیداوار و صحت، سری لنکا

0.98 لاکھ روپے

حصار بووائن اسپرم اسٹیشن اینڈ ریسرچ سینٹر (ہریانہ ایس بی بی کے ذریعے)

اے بی ایس کی رقم کا سب سے بڑا حصہ درج ذیل ریاستوں کو جاری کیا گیا، جو متعلقہ فصلوں کی کاشت میں ان کے نمایاں کردار کی عکاسی کرتا ہے:

نمبر شمار

ریاست / مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ

جاری کی گئی رقم

1.

مدھیہ پردیش

46.93 لاکھ روپے

2.

مغربی بنگال

44.76 لاکھ روپے

3.

اڈیشہ

44.08 لاکھ روپے

4.

گجرات

34.76 لاکھ روپے

5.

آندھرا پردیش

29.21 لاکھ روپے

6.

بہار

29.20 لاکھ روپے

7.

کرناٹک

21.34 لاکھ روپے

8.

چھتیس گڑھ

18.49 لاکھ روپے

9.

تمل ناڈو

16.57 لاکھ روپے

10.

اتر پردیش

16.24 لاکھ روپے

11.

مہاراشٹر

16.15 لاکھ روپے

12.

تلنگانہ

9.24 لاکھ روپے

13.

ہریانہ

8.76 لاکھ روپے

14.

آسام

8.49 لاکھ روپے

15.

جھارکھنڈ

8.14 لاکھ روپے

16.

پنجاب

7.41 لاکھ روپے

17.

راجستھان

5.17 لاکھ روپے

18.

دیگر

13.70 لاکھ روپے

مستفید ہونے والے ایس بی بیز اور یو ٹی بی سیز ان فنڈز کو عوامی حیاتیاتی تنوع رجسٹروں کی تیاری اور تجدید، حیاتیاتی تنوع کے قدرتی مسکن میں تحفظ (اِن سِٹو) اور قدرتی مسکن سے باہر تحفظ (ایکس سِٹو)، حیاتیاتی تنوع کے ورثہ مقامات کو مضبوط بنانے، حیاتیاتی تنوع انتظامی کمیٹیوں کی صلاحیت سازی اور مقامی برادریوں کی سماجی و معاشی ترقی جیسی سرگرمیوں پر خرچ کرنے کے پابند ہیں۔ اس سے یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ ہندوستان کے حیاتیاتی وسائل کے تجارتی استعمال سے حاصل ہونے والے فوائد کو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور مقامی برادریوں کی فلاح و بہبود میں دوبارہ سرمایہ کاری کی صورت میں صرف کیا جائے۔

یہ رقوم جاری کرنا کنمنگ-مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک پر عمل درآمد کے لیے ہندوستان کے عزم کی توثیق کرتا ہے، بالخصوص ہدف 13 کے تحت جینیاتی وسائل کے استعمال سے حاصل ہونے والے فوائد کی منصفانہ اور مساوی تقسیم، اور ہدف 4 کے تحت جینیاتی تنوع کے تحفظ کے حوالے سے۔ یہ اقدام پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) کے حصول میں بھی معاون ہے، جن میں ایس ڈی جی 2 (بھوک کا خاتمہ)، ایس ڈی جی 12 (ذمہ دارانہ کھپت اور پیداوار)، ایس ڈی جی 15 (خشکی پر زندگی) اور ایس ڈی جی 17 (اہداف کے لیے شراکت داریاں) شامل ہیں۔

قومی حیاتیاتی تنوع اتھارٹی کی جانب سے اے بی ایس کے تحت مجموعی طور پر تقسیم کی جانے والی رقم اب 166 کروڑ روپے سے تجاوز کر چکی ہے اور ہر نئی تقسیم حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، سائنسی تحقیق اور ان برادریوں کے معاش کے درمیان تعلق کو مزید مستحکم کرتی ہے جو ہندوستان کے قیمتی حیاتیاتی وسائل کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-1671


(ریلیز آئی ڈی: 2296763) وزیٹر کاؤنٹر : 61