بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
ہندوستان کے بحری گورنینس کے شعبے میں ڈیجیٹل کایا پلٹ کے عمل کو تیز کرتے ہوئے ای-سمندرا پلیٹ فارم کا آغاز
ہندوستان نے بحری جہازوں کے عملہ کی سلامتی، تحفظ اور فلاح و بہبود کے تئیں عزم کو مزید مضبوط کیا: سربانند سونووال
بحری جہازوں کے عملہ کی زندگی میں آسانی پیدا کرنے کے مقصد سے سنگل ونڈو ڈیجیٹل خدمات، 24 گھنٹے شکایات کے ازالے کی سہولت اور فلاح و بہبود کے مزید مضبوط اقدامات
प्रविष्टि तिथि:
08 AUG 2026 5:49PM by PIB Delhi
نئی دہلی، 8 اگست 2026: ہندوستان نے بحری شعبے کی گورنینس کو ڈیجیٹل بنانے کی سمت اہم قدم اٹھاتے ہوئے ای-سمندرا پلیٹ فارم کا آغاز کیا ہے۔ یہ ایک جامع ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، جس پر بحری جہازوں کے عملے، شپنگ کمپنیوں، بندرگاہوں اور بحری شعبے سے وابستہ دیگر متعلقہ فریقوں سے متعلق خدمات کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بحری جہازوں کے عملہ کی فلاح و بہبود، سلامتی اور خدمات کی فراہمی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے متعدد اصلاحات کا بھی اعلان کیا گیا۔
بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں (ایم او پی ایس ڈبلیو) کے مرکزی وزیرسربانند سونووال نے وزارت کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف میری ٹائم ایڈمنسٹریشن(ڈی جی ایم اے) کی جانب سے ممبئی میں منعقدہ قومی سطح کے متعلقہ فریقوں کے اجلاس ’’بحری جہازوں کے عملہ کی سلامتی، تحفظ اور فلاح و بہبود اور ای-سمندرا کا افتتاح‘‘ کے دوران اس پلیٹ فارم کا افتتاح کیا۔
ای-سمندرا پلیٹ فارم کے ساتھ ساتھ ڈی جی ایم اے نے بحری انتظامیہ کو جدید بنانے اور بحری جہازوں کے عملہ کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانے کے مقصد سے متعدد اقدامات بھی پیش کیے۔ ان میں حال ہی میں شروع کیا جانے والا 24×7 شکایات کے ازالے کا نظام ای-ناوک ، جلد شروع ہونے والا سی فیرر ٹریکنگ ڈیش بورڈ، ڈیجیٹل سی فیرر ایمپلائمنٹ ایگریمنٹ(ڈی-ایس ای اے) اور سی فیرر ویلفیئر فنڈ سوسائٹی (ایس ڈبلیو ایف ایس) کے تحت فلاحی اقدامات کو مزید مضبوط بنانا شامل ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب سربا نند سونووال نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان کے بحری شعبے کے کایا پلٹ کے عمل میں بحری جہازوں کے عملہ کو ملک کی طویل مدتی ترقی کی حکمت عملی کے مرکز میں رکھا گیا ہے۔
جناب سربانند سونووال نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی دوراندیش قیادت میں ہندوستان میری ٹائم انڈیا وژن 2030 اور میری ٹائم امرت کال وژن 2047 کے ذریعے بحری شعبے کے کایا پلٹ کی سمت آگے بڑھ رہا ہے۔ بحری جہازوں کا عملہ اس سفر کا مرکز ہے۔ ہمارا عزم واضح ہے: ہر ہندوستانی بحری کارکن محفوظ، باعزت اور معاونت یافتہ ماحول میں کام کرے۔ چونکہ ہندوستان ایک عالمی بحری طاقت کے طور پر اپنی حیثیت مضبوط کر رہا ہے، ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ اس ترقی کو آگے بڑھانے والے افراد بے خوف، محفوظ اور وقار کے ساتھ کام کریں۔
ہندوستان کی بڑھتی ہوئی بحری صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ ملک دنیا بھر میں بحری جہازوں کے عملہ کی فراہمی کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے اور انہوں یہ اعتماد ظاہر کیا کہ ہندوستان جلد ہی دنیا کا سب سے بڑا بحری افرادی قوت فراہم کرنے والا ملک بن جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان دنیا میں جہازوں کی ری سائیکلنگ کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے اور اسے دنیا کے پانچ بڑے جہاز سازی والے ممالک میں شامل کرنے کے لیے بھی کام کیا جا رہا ہے۔
بحری نظم ونسق کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے آغاز پر سربانند سونووال نے کہا ’’ای-سمندرا پلیٹ فارم محض ایک تکنیکی پلیٹ فارم نہیں ہے؛ یہ بحری نظم ونسق کو آسان، زیادہ شفاف اور متعلقہ فریقوں پر مرکوز بنانے کی سمت اہم قدم ہے۔ ٹیکنالوجی اسی وقت بامعنی ہوتی ہے جب وہ لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لائے۔ ای-سمندرا پلیٹ فارم کے ذریعے ہم بحری جہازوں کے عملے کے لیے زندگی میں آسانی اور بحری شعبے کے لیے کاروبار کرنے میں آسانی کو یقینی بنا رہے ہیں۔‘‘
وزارتِ بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے سکریٹری وجے کمار نے کہا کہ ہندوستان کی بحری پالیسی اب تین ستونوں پر مبنی ہے، جن میں مرچنٹ شپنگ ایکٹ 2025 شامل ہے، جس میں بحری جہازوں کے عملے کو کلیدی کارکنوں کا درجہ دیا گیا ہے، اس کے علاوہ میری ٹائم امرت کال وژن 2047 اور ’کم سے کم حکومت، زیادہ سے زیادہ نظم ونسق‘ کا اصول شامل ہے۔
اس پروگرام میں بحری صنعت، بحری جہازوں کے عملے کی تنظیموں، بھرتی اور تقرری کی ایجنسیوں، بحری تربیتی اداروں، جہاز کےمالکان، سرکاری ایجنسیوں اور ملک بھر سے بحری شعبے سے وابستہ ماہرین کے نمائندوں نے شرکت کی۔
سکریٹری وجے کمار نے کہا ’’ای-سمندرا پلیٹ فارم بحری خدمات کو ایک واحد ڈیجیٹل ونڈو کے تحت لے آئے گا، جہاں خدمات کی تکمیل تک کے تمام مراحل، آن لائن ادائیگی، بر وقت نگرانی اور ڈیجیٹل طور پر جاری کیے جانے والے سرٹیفکیٹ دستیاب ہوں گے۔ ہمارا مقصد صرف طریقہ کار کو آن لائن منتقل کرنا نہیں، بلکہ انہیں قابلِ پیش گوئی، شفاف اور مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے قابل بنانا ہے۔‘‘
ہندوستان کی فعال بحری افرادی قوت 2013 میں تقریباً 1.03 لاکھ سے بڑھ کر 2025 میں 3.23 لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے، جو ملک کی تیزی سے بڑھتی ہوئی بحری افرادی قوت کے لیے ڈیجیٹل خدمات کی فراہمی، ضابطہ کاری اور فلاح و بہبود کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو واضح کرتی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل آف میری ٹائم ایڈمنسٹریشن شیام جگن ناتھن نے ای-سمندرا ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو انتہائی انقلابی پلیٹ فارم قرار دیا، جو بحری انتظامیہ کو دفاتر میں جسمانی موجودگی پر مبنی نظام سے نکال کر ’ڈیجیٹل فرسٹ‘ اور ’فیس لیس گورننس‘ کی جانب لے جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا، ’’ای-سمندرا پلیٹ فارم بحری انتظامیہ کو دفاتر میں جسمانی موجودگی پر مبنی ماڈل سے تبدیل کرکے ایک مربوط ڈیجیٹل نظام میں ڈھالتا ہے۔ یہ ’ڈیجیٹل فرسٹ‘ اور ’فیس لیس گورننس‘ کی جانب منتقلی کی نمائندگی کرتا ہے، جس کے ذریعے جہاز پر موجود بحری عملہ بھی سرکاری خدمات تک اتنی ہی آسانی سے رسائی حاصل کرسکے گا جتنی آسانی سے ساحل پر موجود کوئی شخص حاصل کرسکتا ہے۔‘‘
پروگرام میں عالمی جہاز رانی پر اثرانداز ہونے والے حالیہ جغرافیائی و سیاسی بحرانوں کے حوالے سے ڈی جی ایم اے کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو بھی اجاگر کیا گیا۔ وزارت کے مطابق ڈی جی ایم اے نے 16,000 سے زیادہ بحری جہازوں کی آمد و رفت کی نگرانی کی، 40,000 سے زائد مواصلاتی معاملات کو نمٹایا اور وزارت خارجہ، ہندوستانی سفارتی مشن، ہندوستانی بحریہ، جہازوں کے مالکان اور بحری شعبے سے وابستہ دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشترکہ کوششوں کے ذریعے 4,000 سے زیادہ پھنسے ہوئے ہندوستانی بحری کارکنوں کی بحفاظت وطن واپسی میں تعاون کیا۔
حکام نے ’ساگر میں یوگ‘ جیسے اقدامات کو بھی اجاگر کیا، جس کا مقصد بحری جہازوں کے عملے کی جسمانی اور ذہنی صحت کو فروغ دینا ہے، جبکہ ’ساگر میں سمان‘ اقدام کا مقصد خواتین بحری کارکنوں کے لیے مواقع اور معاونت کو مضبوط بنانا ہے۔ وزارت نے کہا کہ حالیہ برسوں میں خواتین بحری کارکنوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو بحری افرادی قوت میں وسیع تر شمولیت کی عکاسی کرتا ہے۔
پروگرام کے دوران جناب سربانند سونووال نے بھرتی اور تقرری کی خدمات فراہم کرنے والی ایجنسیوں کے نمائندوں، بحری شعبے سے وابستہ فریقوں، کیڈٹس اور نوجوان بحری پیشہ ور افراد سے بھی بات چیت کی اور بھرتی، روزگار، فلاح و بہبود، ضابطوں کی پابندی اور پیشہ ورانہ ترقی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے ہندوستان کے بحری شعبے سے وابستہ نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ تحفظ، پیشہ ورانہ مہارت، وقار اور مسلسل سیکھنے کی اقدار کو برقرار رکھیں اور انہیں حکومت کی جانب سے مسلسل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
ای-سمندرا پلیٹ فارم کا آغاز ہندوستان میں ٹیکنالوجی سے تقویت یافتہ، شفاف اور شہریوں پر مرکوز بحری گورنینس کی جانب منتقلی میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ متعدد خدمات کو ایک مشترکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر یکجا کرنے کی پہل سے حکومت کو توقع ہے کہ خدمات کی فراہمی میں بہتری آئے گی، ضابطوں کی پابندی کا بوجھ کم ہوگا، شفافیت مضبوط ہوگی اور ہندوستان کی پوزیشن ایک نمایاں عالمی بحری ملک کے طور پر مزید مستحکم ہوگی۔






******
(ش ح ۔ م ش ع ۔ م ا)
UR. No-1662
(रिलीज़ आईडी: 2296694)
आगंतुक पटल : 11