وزارت خزانہ
ڈی آر آئی نے ہندوستان کی شمال مشرقی سرحد پر نگرانی مزید سخت کی گئی
ڈی آر آئی کی تین بڑی کارروائیوں میں 15 کلو گرام میتھامفیٹامائن، 11 میٹرک ٹن بیرونِ ملک سے لائے گئے پوست کے بیج اور میانمار سے اسمگل کی گئی 10 میٹرک ٹن چھالیہ ضبط؛ تین افراد گرفتار
प्रविष्टि तिथि:
07 AUG 2026 3:06PM by PIB Delhi
ہندوستان کی شمال مشرقی سرحد پر سرحد پار اسمگلنگ اور منشیات کی غیر قانونی ترسیل کے خلاف اپنی مسلسل کارروائی کو جاری رکھتے ہوئے، محکمہ محصولات کی خفیہ معلوماتی شاخ (ڈی آر آئی) نے میزورم اور آسام میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر متعدد کارروائیاں انجام دیں، جن کے نتیجے میں 15 کلو گرام میتھامفیٹامائن گولیاں، تقریباً 11 میٹرک ٹن بیرونِ ملک سے لائے گئے پوست کے بیج اور 10 میٹرک ٹن اسمگل شدہ غیر ملکی چھالیہ ضبط کی گئی۔
منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف ایک بڑی خفیہ اطلاعاتی کارروائی کے دوران، گزشتہ روز ڈی آر آئی کے افسران نے میزورم کے آئیزول -چمفائی روڈ پر آئیزول سے تقریباً 40 کلومیٹر دور ساکئی بنگلہ کے قریب ایک ایمبولینس کو روکا۔ شبہ تھا کہ اس ایمبولینس کو طبی ہنگامی صورتحال کی آڑ میں منشیات کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ایمبولینس کی تلاشی کے دوران ایک سفید ایچ ڈی پی ای تھیلے میں چھپائے گئے اینٹ نما شکل کے 15 پیکٹ برآمد ہوئے، جن میں 15 کلو گرام گلابی مائل نارنجی رنگ کی میتھامفیٹامائن گولیاں موجود تھیں۔ یہ تھیلا مریض کے بستر کے پاس رکھا ہوا تھا، جس پر ایک فرضی مریض کو لٹایا گیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ ممنوعہ اشیاء میانمار سے میزورم کے چمفائی-زوکھاوتر سیکٹر کے راستے اسمگل کر کے لائی گئی تھیں اور انہیں آسام منتقل کیا جانا تھا۔ برآمد شدہ میتھامفیٹامائن اور اسے لے جانے کے لیے استعمال کی گئی ایمبولینس کو این ڈی پی ایس ایکٹ، 1985 کے تحت ضبط کر لیا گیا ہے۔ ایمبولینس ڈرائیور اور اس کے دو ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

5 اور 6 اگست 2026 کی درمیانی شب، خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی ایک اور کارروائی میں، ڈی آر آئی کے افسران نے آسام رائفلز کے تعاون سے آسام کے ضلع کریم گنج کے بدرپور میں واقع ایک گودام پر تلاشی کی کارروائی کی۔اس کارروائی کے دوران تقریباً 11 میٹرک ٹن بیرونِ ملک سے لائے گئے پوست کے بیج برآمد کیے گئے۔ یہ پوست کے بیج ایچ ڈی پی ای تھیلوں میں چھپائے گئے تھے، جن پر تجارتی چائے کی کھیپ سے متعلق نشانات درج تھے۔ اس کے علاوہ گتے کے پیکٹوں اور احاطے میں بکھرے ہوئے کھلے ذخیرے کی شکل میں بھی یہ اشیاء موجود تھیں۔ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یہ سامان ہندوستان-میانمار کی دشوار گزار سرحد کے راستے اسمگل کر کے ہندوستان لایا گیا تھا، جسے بعد ازاں ملک کے مختلف حصوں میں تقسیم کیا جانا تھا۔ تقریباً 1.67 کروڑ روپے مالیت کے ان پوست کے بیجوں کو کسٹمز ایکٹ، 1962 کے تحت ضبط کر لیا گیا ہے۔

پوست کے بیج کئی کھانوں اور مختلف پکوانوں میں بطور جزو اور مصالحے کے طور پر بڑے پیمانے پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ہندوستان میں ان کی درآمد سخت ضابطہ جاتی نگرانی کے تابع ہے۔ ہندوستان کی غیر ملکی تجارت پالیسی کے تحت پوست کے بیج صرف مخصوص ممالک سے اور مرکزی ادارہ برائے انسدادِ منشیات کے زیر انتظام رجسٹریشن کے نظام کے ذریعے ہی درآمد کیے جا سکتے ہیں۔ ان حفاظتی اقدامات کا مقصد درآمد شدہ مال کی مکمل نگرانی کو یقینی بنانا اور غیر قانونی طور پر کاشت کی گئی پیداوار کو جائز سپلائی نظام میں شامل ہونے سے روکنا ہے۔غیر منظور شدہ بیرونِ ملک سے لائے گئے پوست کے بیجوں کی اسمگلنگ نہ صرف ان ضابطوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ قانونی تجارت اور نگرانی کے نظام کو بھی متاثر کرتی ہے۔
اس سے قبل 5 اگست 2026 کو ڈی آر آئی کے افسران نے رنگیا ریلوے اسٹیشن پر ٹرین نمبر 22411 سے لے جائے جا رہے ایک پارسل کو روکا اور ٹرین کے پارسل وین سے بیرونِ ملک سے لائی گئی چھالیہ کی 10 میٹرک ٹن مقدار پر مشتمل 120 بوریاں برآمد کیں۔ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ کھیپ میانمار سے اسمگل کر کے ہندوستان لائی گئی تھی اور اسے شمال مشرقی خطے سے باہر کے بازاروں میں پہنچایا جا رہا تھا۔ تقریباً 1 کروڑ روپے مالیت کی ضبط شدہ چھالیہ کو کسٹمز ایکٹ، 1962 کے تحت قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

چھالیہ، جسے عام طور پر سپاری کہا جاتا ہے، ہندوستان کی شمال مشرقی سرحدوں کے راستے سب سے زیادہ اسمگل کی جانے والی اشیاء میں سے ایک ہے۔ بیرونِ ملک سے لائی گئی چھالیہ کی بڑے پیمانے پر اسمگلنگ سے نہ صرف حکومت کو محصولات کا نمایاں نقصان ہوتا ہے بلکہ اس سے مقامی کاشت کاروں کی روزی روٹی بھی متاثر ہوتی ہے۔چھالیہ کی غیر قانونی تجارت سرحدی علاقوں میں سرگرم منظم اسمگلنگ نیٹ ورکس سے روابط کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک مسلسل تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
*****
ش ح۔ش ت۔ر ب
U-1563
(रिलीज़ आईडी: 2296072)
आगंतुक पटल : 12