نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت
ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے دولتِ مشترکہ کھیلوں 2026 میں باکسنگ، جوڈو اور پیرا ایتھلیٹکس کے تمغہ جیتنے والے کھلاڑیوں کو اعزاز سے نوازا؛ کھلاڑیوں سے اگلی نسل کی رہنمائی کرنے کی اپیل
ڈاکٹر مانڈویہ نے 36,000 کروڑ روپے کی توسیع شدہ کھیلو انڈیا اسکیم کو اجاگر کیا؛ کہا کہ یہ سرمایہ کاری بھارتی کھیلوں کی مسلسل ترقی کو یقینی بنائے گی
प्रविष्टि तिथि:
04 AUG 2026 5:32PM by PIB Delhi
نئی دہلی، 4 اگست: نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے آج ان بھارتی کھلاڑیوں کو اعزاز سے نوازا جو دولتِ مشترکہ کھیلوں 2026 میں باکسنگ، جوڈو اور پیرا ایتھلیٹکس میں شاندار اور تاریخی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے بعد وطن واپس آئے ہیں۔
چیمپئن کھلاڑیوں کو مبارکباد دیتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے ان سے اپیل کی کہ وہ اپنی مسابقتی کھیلوں کی زندگی کے بعد بھی بھارتی کھیلوں کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں اور کھلاڑیوں کی اگلی نسل کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کریں۔

اعزازی تقریب میں تمغے حاصل کرنے میں سر فہرست بھارتی باکسنگ دستے کے ان ارکان نے شرکت کی، جنہوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے باکسنگ میں 10 تمغے حاصل کیے، جن میں سات طلائی اور تین چاندی کے تمغے شامل تھے۔
مرکزی وزیر کھیل نے جوڈو دستے کو بھی اعزاز سے نوازا، جس نے اس شعبے میں دولتِ مشترکہ کھیلوں کی تاریخ میں بھارت کی بہترین کارکردگی پیش کرتے ہوئے چار تمغے حاصل کیے، جن میں دو تاریخی طلائی تمغے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پیرا ایتھلیٹکس دستے کو بھی اعزاز دیا گیا، جس نے گلاسگو میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی پیرا کھیلوں میں ایک اہم سنگِ میل قائم کیا۔

تمغہ جیتنے والے کھلاڑیوں کو طلائی تمغے کے لیے 30 لاکھ روپے، چاندی کے تمغے کے لیے 20 لاکھ روپے اور کانسے کے تمغے کے لیے 10 لاکھ روپے کے نقد انعامات پیش کیے گئے۔
کھلاڑیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے ان پر زور دیا کہ وہ اپنی کھیلوں کی زندگی سے آگے بڑھ کر سوچیں اور بھارتی کھیلوں کی اگلی نسل کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اب ازسرِ نو تیار کی گئی کھیلو انڈیا اسکیم کے لیے 36,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری مختص کی گئی ہے، اس لیے کھلاڑی ریٹائرمنٹ کے بعد کھیلوں کی اکیڈمیاں قائم کرنے اور نوجوان صلاحیتوں کو نکھارنے پر غور کریں۔

ڈاکٹر مانڈویہ نے کہا، "ہمیں صرف سرکاری ملازمت حاصل کرنے کے مقصد سے دولتِ مشترکہ کھیلوں کا تمغہ نہیں جیتنا چاہیے۔ میں آپ سب سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنی فعال کھیلوں کی زندگی مکمل کرنے کے بعد کھیلوں کی اکیڈمیاں چلائیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں کا مشن "بھارت سب سے پہلے" ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا، "جب آپ گلاسگو میں طلائی تمغے کے لیے کھیل رہے تھے، اسی دوران ہم نے 36,000 کروڑ روپے کی مجموعی سرمایہ کاری کے ساتھ توسیع شدہ کھیلو انڈیا اسکیم کا آغاز کیا، جو آنے والے برسوں میں بھارتی کھیلوں کی ترقی کے لیے مسلسل اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو یقینی بنائے گی۔"

سال 2026 کے ایشیائی کھیلوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے، ڈاکٹر مانڈویہ نے کھلاڑیوں پر زور دیا کہ وہ دولتِ مشترکہ کھیلوں میں حاصل کی گئی کامیابی کی رفتار کو برقرار رکھیں۔ معزز وزیر نے کہا، "میں چاہتا ہوں کہ آپ سب اس حوصلہ افزائی کو استعمال کرتے ہوئے 2026 کے ایشیائی کھیلوں میں مزید طلائی تمغے حاصل کریں۔ جن کھلاڑیوں نے چاندی اور کانسے کے تمغے جیتے ہیں، انہیں طلائی تمغے کے لیے کوشش کرنی چاہیے، جبکہ طلائی تمغہ جیتنے والے کھلاڑیوں کو اپنی بہترین کارکردگی کے اس معیار کو برقرار رکھنا چاہیے۔"
مرکزی وزیر نے کھلاڑیوں سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ اپنے کوچز کے تعاون اور خدمات کو کبھی فراموش نہ کریں۔ ڈاکٹر مانڈویہ نے کہا، "آپ میں سے کسی کو بھی اپنے کوچز کے تعاون کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔ یہ حقیقی لگن کی علامت ہے، اور گرو کی رہنمائی انسان کو زندگی میں بہت آگے لے جاتی ہے۔"

بھارت کا باکسنگ دستہ گلاسگو سے سات طلائی اور تین چاندی کے تمغوں کے ساتھ وطن واپس آیا۔ سات طلائی تمغے حاصل کرنے والے کھلاڑیوں میں پریتی پوار (54 کلوگرام)، جیسمن لامبوریا (57 کلوگرام)، ساکشی چودھری (51 کلوگرام)، پریا گھنگھاس (60 کلوگرام)، اروندھتی چودھری (70 کلوگرام)، سچن سیواچ (60 کلوگرام) اور انکش پنگھال (80 کلوگرام) شامل ہیں۔تین چاندی کے تمغہ جیتنے والے کھلاڑیوں میں جدومنی سنگھ (55 کلوگرام)، اولمپک تمغہ جیتنے والی لولینا بورگوہین (75 کلوگرام) اور نریندر بروال (90 پلس کلوگرام) شامل ہیں۔ سات طلائی تمغوں کی یہ کامیابی دولتِ مشترکہ کھیلوں میں بھارتی خواتین باکسروں کی اب تک کی بہترین کارکردگی بھی ثابت ہوئی۔
بھارتی جوڈو ٹیم کو بھی خصوصی طور پر سراہا گیا، کیونکہ اس نے دولتِ مشترکہ کھیلوں میں اپنی اب تک کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

بھارت نے گلاسگو میں جوڈو کے 12 مقابلوں میں حصہ لیا اور چار تمغے حاصل کیے، جن میں دو طلائی، ایک چاندی اور ایک کانسے کا تمغہ شامل ہے۔ یہ کارکردگی 2022 کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے، جب بھارت نے تین تمغے حاصل کیے تھے اور اس میں کوئی طلائی تمغہ شامل نہیں تھا۔ اس تاریخی کامیابی کی قیادت کھیلو انڈیا کے کھلاڑیوں اسمتا ڈے اور ہرش سنگھ نے کی، جنہوں نے جوڈو میں بھارت کے لیے دولتِ مشترکہ کھیلوں کے پہلے طلائی تمغے جیت کر تاریخ رقم کی۔ اسمتا ڈے دولتِ مشترکہ کھیلوں میں طلائی تمغہ جیتنے والی بھارت کی پہلی خاتون جوڈو کھلاڑی بنیں، جبکہ ہرش سنگھ یہ اعزاز حاصل کرنے والے بھارت کے پہلے مرد جوڈو کھلاڑی بنے۔

تمام کھیلوں میں تمغے جیتنے والے کھلاڑیوں کو حکومت کی جانب سے کھیلو انڈیا، ٹاپس اور تربیت و مقابلوں کے سالانہ کیلنڈر (اے سی ٹی سی) پروگراموں کے ذریعے مدد فراہم کی گئی۔ انہیں ایس اے آئی نیشنل سینٹرز آف ایکسیلنس میں قومی تربیتی کیمپوں، بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے مواقع، ضروری ساز و سامان اور تربیتی سہولیات بھی مہیا رہیں۔

*****
ش ح ۔ع و۔ خ م
U. No.1310
(रिलीज़ आईडी: 2294485)
आगंतुक पटल : 13