عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

برکس انسدادِ بدعنوانی ورکنگ گروپ کے دوسرے اجلاس کا حیدرآباد میں آغاز


سیکریٹری رچنا شاہ نے مفرور مجرموں کے خلاف مؤثر کارروائی اور غیر قانونی اثاثوں کی بازیابی کے لیے برکس ممالک کے درمیان مزید مضبوط تعاون پر زور دیا

प्रविष्टि तिथि: 04 AUG 2026 2:02PM by PIB Delhi

حیدرآباد، 4 اگست 2026: برکس (بی آر آئی سی ایس) انسدادِ بدعنوانی ورکنگ گروپ (اے سی ڈبلیو جی) کے دوسرے دو روزہ اجلاس کا آج حیدرآباد میں آغاز ہوا۔ 4 اور 5 اگست 2026 کو منعقد ہونے والے اس اجلاس کے ساتھ اثاثوں کی بازیابی سے متعلق برکس ماہرین کے نیٹ ورک کا دوسرا اجلاس بھی منعقد کیا جا رہا ہے۔

افتتاحی اجلاس میں حکومتِ ہند کے محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) کی سیکریٹری محترمہ رچنا شاہ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری رچنا شاہ نے کہا کہ بدعنوانی پائیدار اور جامع ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی کے باعث عوامی وسائل، جو اسپتالوں، اسکولوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر خرچ ہونے چاہییں، ان کا رخ دوسری جانب مڑ جاتا ہے، جس سے نہ صرف ترقی متاثر ہوتی ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ملک بدعنوانی کے چیلنج سے محفوظ نہیں اور نہ ہی کوئی ملک تنہا اس پر قابو پا سکتا ہے۔ انہوں نے غیر قانونی مالی رقوم کی منتقلی کی روک تھام، عوامی وسائل کے تحفظ اور عالمی انسدادِ بدعنوانی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اجتماعی، مربوط اور مستقل بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

سیکریٹری رچنا شاہ نے کہا کہ برکس انسدادِ بدعنوانی ورکنگ گروپ کا دوسرا اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب شفافیت، جوابدہی، بین الاقوامی تعاون اور اختراعی اقدامات کو فروغ دینا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پار بدعنوانی سے نمٹنے کے حوالے سے برکس کے مشترکہ عزم کو عملی تعاون اور ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

معاشی جرائم میں ملوث مفرور افراد کے بڑھتے ہوئے چیلنج کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک ایسے مجرموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننا چاہیے جو جرائم کے ذریعے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے مفرور مجرموں کا سراغ لگانے، ان کی حوالگی میں تعاون بڑھانے، لوٹے گئے اثاثوں کی بازیابی اور ایسے قانونی و انتظامی خلا کو ختم کرنے پر زور دیا جو مجرموں اور غیر قانونی رقوم کی سرحد پار نقل و حرکت کو ممکن بناتے ہیں۔

انہوں نے بدعنوانی کے مقدمات میں مطلوب مفرور افراد کا سراغ لگانے اور ان کی حوالگی میں تعاون کے لیے برکس غیر رسمی تعاون کے ذخیرۂ معلومات  کی تشکیل میں ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے برکس ممالک کے درمیان بدعنوانی کے مقدمات میں مطلوب مفرور افراد کی تلاش، ان کی حوالگی میں تعاون کو فروغ دینے اور بین الاقوامی اشتراک کو مضبوط بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ماہرین کے برکس نیٹ ورک سے متعلق جاری تبادلۂ خیال کا بھی خیرمقدم کیا اور رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں ٹھوس اور عملی نتائج کے حصول کے لیے مل کر کام کریں۔

سیکریٹری رچنا شاہ نے اثاثوں کی بازیابی سے متعلق برکس ماہرین کے نیٹ ورک کو عملی شکل دیے جانے کا بھی خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ معلومات کے غیر رسمی تبادلے کے لیے تیار کردہ معیاری فارمیٹ، مقامی رابطہ افسران اور ماہرین کی رہنما فہرست (ڈائریکٹری) کے ساتھ مل کر، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان زیادہ تیز، براہِ راست اور مؤثر تعاون کو ممکن بنائے گی۔

احتیاطی نگرانی اور ٹیکنالوجی پر مبنی حکمرانی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے سیکریٹری رچنا شاہ نے کہا کہ بدعنوانی کے بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل شناخت، الیکٹرانک خدمات کی فراہمی، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام اور شفاف خریداری کے نظام بدعنوانی اور مالی بے ضابطگیوں کے امکانات کو کم کرنے، صوابدیدی اختیارات کو محدود کرنے اور عوامی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے گورنمنٹ ای-مارکیٹ پلیس (جی ای ایم)، جو ملک کا قومی عوامی خریداری پورٹل ہے اور براہِ راست فائدہ منتقلی (ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر - ڈی بی ٹی) پروگرام کو ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات کی نمایاں مثالیں قرار دیا۔ انہوں نے بغیر روبرو اور کاغذ سے پاک ٹیکس نظام، دیگر سرکاری خدمات میں ڈیجیٹل نظام، ٹیکنالوجی سے تقویت یافتہ نگرانی، اعداد و شمار پر مبنی نگرانی کے نظام اور شکایات کے ازالے کے مؤثر طریقۂ کار کا بھی ذکر کیا۔

سیکریٹری رچنا شاہ نے کہا کہ ’’اختراع اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کے ذریعے اخلاقی طرزِ حکمرانی‘‘ کے موضوع پر منعقد ہونے والا ذیلی اجلاس رکن ممالک کو توسیع پذیر نگرانی کے مؤثر طریقوں، ٹیکنالوجی پر مبنی حل اور بدعنوانی کی پیشگی روک تھام کے نظام سے متعلق اپنے تجربات اور بہترین عملی اقدامات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے کا اہم موقع فراہم کرے گا۔

دو روزہ پروگرام کے دوران بدعنوانی کے مقدمات میں مطلوب مفرور افراد کا سراغ لگانے اور ان کی حوالگی میں تعاون کے لیے برکس غیر رسمی تعاون کے ذخیرۂ معلومات (ریپوزیٹری)، برکس قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ماہرین کے نیٹ ورک اور اثاثوں کی بازیابی سے متعلق برکس ماہرین کے نیٹ ورک کے دوسرے اجلاس پر تفصیلی غور و خوض کیا جائے گا۔ پروگرام میں ’’اختراع اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کے ذریعے اخلاقی طرزِ حکمرانی‘‘ کے موضوع پر ایک خصوصی اجلاس بھی شامل ہے، جبکہ مالیاتی ٹیکنالوجی (فِن ٹیک) اور ورچوئل ڈیجیٹل اثاثوں (وی ڈی ایز) سے پیدا ہونے والے نئے خطرات اور بدعنوانی سے حاصل ہونے والی غیر قانونی آمدنی کو چھپانے اور منی لانڈرنگ میں ان کے ممکنہ غلط استعمال سے نمٹنے کے موضوع پر بھی ایک خصوصی سیشن منعقد ہوگا۔

اس سے قبل اپنے افتتاحی خطاب میں برکس انسدادِ بدعنوانی ورکنگ گروپ کے چیئرمین جناب جے اشوک کمار نے شریک وفود کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کی مسلسل شمولیت، تعمیری تجاویز اور تعاون کے جذبے پر اظہارِ تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ہونے والی پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلسل مکالمہ اور برکس ممالک کا مشترکہ عزم انسدادِ بدعنوانی کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

جناب جے اشوک کمار نے کہا کہ رواں سال ورکنگ گروپ کی توجہ ایسے عملی ذرائع اور مؤثر نظام تیار کرنے پر مرکوز رہی، جن کے ذریعے برکس ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکے، جبکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا کہ یہ اقدامات پہلے سے موجود بین الاقوامی نظاموں اور طریقۂ کار کی غیر ضروری تکرار کا سبب نہ بنیں۔

******

( ش ح ۔ م م ۔ م ا )

Urdu.No-1273


(रिलीज़ आईडी: 2294254) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Tamil , Marathi , हिन्दी , Bengali , Bengali-TR , Gujarati , Telugu