محنت اور روزگار کی وزارت
ڈاکٹر منسکھ منڈاویا نے کہا کہ آئی ایل او کے مطابق بھارت کے سماجی تحفظ کے نیٹ ورک میں اب 101 کروڑ شہری شامل ہیں
مرکزی وزیر ڈاکٹر منڈاویا نے کہا کہ ایک متوازن ترقیاتی ماڈل ضروری ہے جو کارکنوں کی بہبود کے ساتھ ساتھ آجرین کے مفادات کو بھی آگے بڑھائے
ڈاکٹر منڈاویا نے کہا کہ جی ڈی پی کی فیصدی نمو کے حساب سے روزگار کی تخلیق بارہ سال پہلے 0.008 فیصد سے بڑھ کر آج 1.11 فیصد ہو گئی ہے
مرکزی وزیر موصوف نے کہا کہ اچھی طرح چلنے والے نجی ہسپتالوں کو ای ایس آئی سی سہولیات کے طور پر نامزد کیا جا سکتا ہے
آئی ایل او کے نمائندے نے ایک ارب سے زیادہ شہریوں کو سماجی تحفظ فراہم کرنے پر بھارت کو مبارکباد دی
प्रविष्टि तिथि:
31 JUL 2026 1:47PM by PIB Delhi
نئی دہلی میں آج چوتھے عالمی صنعتی تعلقات سمٹ میں مرکزی وزیر برائے محنت و روزگار اور نوجوانوں کے امور و کھیل ڈاکٹر منسکھ منڈاویا نے کہا کہ بھارت کے سماجی تحفظ کے نظام میں اب تقریباًًً 101 کروڑ افراد، یعنی آبادی کا 68 فیصد سے زیادہ حصہ شامل ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ یہ اعداد و شمار گذشتہ ہفتے حیدرآباد میں برکس محکمہ محنت وزرا کے اجلاس میں بین الاقوامی محنت تنظیم (آئی ایل او) نے نمایاں کیے تھے، جو بھارت کی سماجی تحفظ کی کوریج کی عالمی سطح پر تسلیم شدگی کی گواہی دیتے ہیں۔

یہ سمٹ آل انڈیا آرگنائزیشن آف ایمپلائرز (اے آئی او ای) نے فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (فِکسی) اور آئی ایل او کے تعاون سے منعقد کیا ہے۔
ڈاکٹر منسکھ منڈاویا نے کہا کہ ہم آہنگ صنعتی تعلقات کے لیے اقتصادی ترقی اور روزگار کی تخلیق کو ایک ساتھ آگے بڑھانے کے لیے حکومتوں، صنعت، آجرین، کارکنوں اور ٹریڈ یونینوں کے درمیان مسلسل ہم آہنگی ضروری ہے۔ وزیر موصوف نے زور دیا کہ صنعتی کاری قومی ترقی کے لیے ضروری ہے کیوں کہ یہ روزگار کی تخلیق کو آگے بڑھاتی ہے۔ مرکزی وزیر موصوف نے خود مدد گروپوں اور تعاون پر مبنی ماڈلز، خاص طور پر خواتین کی قیادت میں اقدامات کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو بھی نمایاں کیا، جو روزگار کے مواقع کو وسیع کرنے، معیشت کو مضبوط بنانے اور خواتین کی تفویضِ اختیارات کو فروغ دینے میں اہم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ”ایک متوازن ترقیاتی ماڈل ضروری ہے جو کارکنوں کی بہبود اور سماجی تحفظ کو آگے بڑھائے، نیز آجرین کے لیے کاروبار میں آسانی کو یقینی بنائے۔“

ڈاکٹر منڈاویا نے زور دیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں، مستحکم ٹیکسیشن، بڑھتی ہوئی بچت، زیادہ خریداری کی طاقت اور بڑھتی ہوئی مینوفیکچرنگ کے ساتھ ساتھ پائیدار اقتصادی نمو نے ترقی اور روزگار کا ایک مثبت چکر پیدا کیا ہے۔ بہتر ہوتی ہوئی روزگار کی لچک کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جی ڈی پی میں ہر ایک فیصد اضافہ 1.11 فیصد روزگار کی نمو پیدا کر رہا ہے، جب کہ بارہ سال پہلے روزگار کی نمو 0.008 فیصد تھی۔
ڈاکٹر منڈاویا نے یہ بھی اشارہ کیا کہ ایمپلائیز اسٹیٹ انشورنس کارپوریشن (ای ایس آئی سی) کو اپنے اسکیم کے تحت دیکھ بھال فراہم کرنے والا واحد ادارہ نہیں رہنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ اچھی طرح چلنے والے نجی ہسپتالوں کو ای ایس آئی سی سہولیات کے طور پر نامزد کیا جا سکتا ہے، جب کہ انھوں نے کارپوریشن میں آنے والی اصلاحات کا ذکر کیا۔ انھوں نے ایمپلائیز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او) کے مکمل ڈیجیٹل دعووں اور ایک واحد یو اے این پر اکاؤنٹس کی خودکار منتقلی کے اقدام کی طرف بھی اشارہ کیا، جس میں یو پی آئی پر مبنی واپسی پر غور کیا جا رہا ہے۔
آئی ایل او ڈبلیو ٹی برائے جنوبی ایشیا اور بھارت کے لیے کنٹری آفس کی ڈائریکٹر محترمہ مچیکو میاموٹو نے سماجی تحفظ کی کوریج کو وسیع کرنے پر بھارت کو مبارکباد دی، اور بتایا کہ آئی ایل او کے تخمینے کے مطابق، ملک میں کم از کم ایک سماجی تحفظ کے معیار کے تحت ایک ارب سے زیادہ افراد شامل ہو چکے ہیں۔ انھوں نے زور دیا کہ یہ کام یابی آنے والے دنوں میں بھارت کی اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
مرکزی وزیر ڈاکٹر منڈاویا نے دیگر معززین کے ساتھ مل کر دو روزہ سمٹ کی یاد میں ایک سووینیر بھی جاری کیا۔

***
(ش ح - ع ا)
U.No. 1087
(रिलीज़ आईडी: 2292763)
आगंतुक पटल : 7