الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

نیشنل ای-گورننس پلان (این ای جی پی) معمول کی خدمات کے مراکز اور ڈسٹرکٹ ای-گورننس سوسائٹیز کے ذریعےملک بھر میں شفاف، مؤثر اور شہریوں کی ضروریات پر مبنی ڈیجیٹل خدمات فراہم کرکے زمینی سطح تک حکومتی نظام کو تقویت دے رہے ہیں


معمول کی خدمات کے مراکز کی تعداد 83,950 سے بڑھ کر 5,01,731 ہو گئی ہے، جن سے 2.5 لاکھ سے زائد گرام پنچایتوں کا احاطہ کیاگیا اور26- 2025کے دوران 48 کروڑ سے زیادہ لین دین  انجام دیے گئے

قومی ای۔گورننس پلان (این ای جی پی) کی مضبوط بنیاد پر ڈیجیٹل انڈیا قائم ہو کر ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کو مزید وسعت دے رہا ہے اور شہریوں پر مرکوز حکمرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنا رہا ہے

प्रविष्टि तिथि: 29 JUL 2026 2:42PM by PIB Delhi

نیشنل ای-گورننس پلان (این ای جی پی):

نیشنل ای۔گورننس پلان ( این ای جی پی) کی منظوری حکومت نے مئی 2006 میں اس وژن کے ساتھ دی تھی کہ تمام سرکاری خدمات عام شہری کو اس کے اپنے علاقے میں معمول کی خدمات کی فراہمی کے مراکز کے ذریعے دستیاب ہوںاور یہ خدمات کم لاگت پر مؤثر، شفاف اور قابلِ اعتماد انداز میں فراہم کی جائیں۔نیشنل ای۔گورننس پلان ( این ای جی پی) کے تحت قائم کیے گئے بنیادی ڈیجیٹل ڈھانچے میں درج ذیل شامل ہیں:

  • ریاستی ڈیٹا سینٹرز (ایس ڈی سی )
  • ریاست گیر ایریا نیٹ ورکس (ایس ڈبلیو اے این)
  • ریاستی خدمات کی فراہمی کے گیٹ ویز (ایس ایس ڈی جی)
  • معمول کی خدمات کے مراکز (سی ایس سی)
  • نیشنل  ای۔گورننس پلان (این ای جی پی) کے تحت متعدد مشن موڈ منصوبے بھی شروع کیے گئے، جن میں پاسپورٹ خدمات، اراضی ریکارڈ کے انتظام کا نظام ، ای۔آفس ، عوامی تقسیم کے نظام کی کمپیوٹرائزیشن وغیرہ شامل ہیں۔

ڈیجیٹل انڈیا پروگرام:

 

حکومت نے جولائی 2015 میں ڈیجیٹل انڈیا پروگرام کا آغاز کیا، جس کے تحت نیشنل ای۔گورننس پلان (این ای جی پی) کو اس پروگرام میں ضم کر دیا گیا۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد تین باہم مربوط اہداف کو حاصل کرنا ہے:ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا،سرکاری خدمات کو ڈیجیٹل ذرائع سے فراہم کرنا،ڈیجیٹل خواندگی اور روزگار کے مواقع کے ذریعے شہریوں کو بااختیار بنانا ہے۔

حال ہی میں منعقد ہونے والے اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران فرانس کے صدر ایمنوئل میکرون نے کہا کہ بھارت نے ایسا بنیادی ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ (ڈی پی آئی) قائم کیا ہے، جیسا دنیا کے کسی دوسرے ملک نے نہیں بنایا۔

اہم ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچےکے اقدامات:

بھارت نے ایک منفرد ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ تیار کیا ہے، جس نے ملک کے عوام کے لیے بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل حل فراہم کرنا ممکن بنایا ہے۔

آدھار:

  • اب تک 1.44 بلینسے زیادہ آدھار نمبرز جاری کیے جا چکے ہیں۔
  • آدھار سے منسلک براہِ راست فوائد کی منتقلی(ڈی بی ٹی) کے ذریعے مختلف فلاحی اسکیموں(56 وزارتوں کی 318 اسکیموں)کے تحت دی جانے والی نقد مالی امداد براہِ راست مستحقین کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جاتی ہے۔ اس نظام نے متعدد دستاویزات کی ضرورت کو کم کیا گیا ہے اور فرضی یا دُوہرے اندراج والے مستحقین کے مسئلے کا خاتمہ کیا گیا ہے۔ ملک بھر میں ڈی بی ٹی کے ذریعے 52 لاکھ کروڑ روپے سے زائد رقم منتقل کی جا چکی ہے۔

یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی):

  • یو پی آئی سے 55.49 کروڑ سے زیادہ افراد اور 6.5 کروڑ تاجر مستفید ہو رہے ہیں، جبکہ 731 بینک ایک ہی پلیٹ فارم کے ذریعے اس سے منسلک ہیں، جس کے باعث یہ دنیا کا سب سے بڑا ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام بن چکا ہے۔
  • یو پی آئی کے ذریعے بھارت میں ہونے والی 85 فیصد ڈیجیٹل ادائیگیاں انجام پاتی ہیں، جبکہ دنیا بھر میں ہونے والی حقیقی وقت کی تقریباً 50 فیصد ڈیجیٹل ادائیگیاں بھی اسی نظام کے ذریعے کی جاتی ہیں۔

ڈیجی لاکر:  اِس پلیٹ پر 71.66 کروڑ سے زیادہ صارفین رجسٹرڈ ہیں، جبکہ اس پلیٹ فارم کے ساتھ منسلک 2,822 اداروں کی جانب سے 936.03 کروڑ سے زائد ڈیجیٹل دستاویزات جمع کئے گئے ہیں۔

نئے دور کی طرز حکمرانی کے لیے  مربوط موبائل ایپلی کیشن ( اُمنگ):اُمنگ  پلیٹ فارم پر افراد کے لیے 2,575 سرکاری خدمات دستیاب ہیں، جن میں ریاست مدھیہ پردیش کی حکومت کے ذریعے جوڑی گئی 48 خدمات بھی شامل ہیں۔

ای-نجیونی ایسا پلیٹ فارم ہے جو اسمارٹ فون کے ذریعے ڈاکٹروں اور طبی ماہرین تک تیز، آسان اور براہِ راست رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے ملک بھر میں 48 کروڑ سے زائد مریض مستفید ہو چکے ہیں۔

میری پہچان / نیشنل سنگل سائن آن ( این ایس ایس او صارف کی توثیق کا نظام ہے، جس میں ایک ہی لاگ اِن شناخت  کے ذریعے متعدد آن لائن ایپلی کیشنز اور سرکاری خدمات تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس وقت مختلف وزارتوں / ریاستوں کی 17,540 خدمات اس نظام کے ساتھ مربوط کی جا چکی ہیں۔

 معمول کی خدمات کے مراکز ( سی ایس سی) کے ذریعے خدمات کی معاونت کے ساتھ فراہمی:

  •  نیشنل ای-گورننس پلان کے ایک اہم جزو سی ایس سی اسکیم کی منظوری ستمبر 2006 میں دی گئی تھی۔اس کے بعد اگست 2015 میں ڈیجیٹل انڈیا پروگرام کے تحت اس کی تشکیل نو کرتے ہوئے اسے سی ایس سی 2.0 کی شکل دی گئی۔ اس کا مقصد ملک کی تقریباً 2.5 لاکھ گرام پنچایتوں میں کم از کم ایک معمول کی خدمات کے مراکز قائم کرنا تھا۔
  • سی ایس سی کے ذریعے حکومت سے شہری کو (جی 2سی) کاروبار سے شہری کو (بی2 سی)، مالیاتی، تعلیمی، صحت، عوامی سہولیات، زراعت اور دیگر متعدد ڈیجیٹل خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس وقت سی ایس سیC نیٹ ورک کے ذریعے 800 سے زائد ڈیجیٹل خدمات مہیا کی جا رہی ہیں، جن سے ہر سال کروڑوں شہری مستفید ہوتے ہیں۔
  • ریاست وار (بشمول مدھیہ پردیش) اور ضلع وار (بشمول ستنا) سی  ایس سی کی فہرست www.csc.gov.in پر دیکھی جا سکتی ہے۔ کُل فعال سی ایس سی کی تعداد درج ذیل ہیں:

 

 

مئی 2014 تک

مئی 2026 تک

سی ایس سی کی تعداد

83,950

5,01,731

 

  • سی ایس سی کے ساتھ 2,56,743 گرام پنچایتوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
  • مالی سال26- 2025کے دوران سی ایس سی نیٹ ورک کے ذریعے مجموعی طور پر 4,854.03 لاکھ لین دین انجام دیے گئے، جبکہ مالی سال 15-2014 میں یہ تعداد 457.29 لاکھ تھی۔ یہ اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سی ایس سی  نیٹ ورک کے ذریعے فراہم کی جانے والی شہریوں پر مرکوز خدمات سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد اور خدمات کے استعمال میں نمایاں اضافہ درج کیا گیا ہے۔
  • ریاست وار لین دین  کی تفصیلات ضمیمہ-Iمیں دی گئی ہیں، جبکہ مدھیہ پردیش بشمول ضلع ستنا کی ضلع وار لین دین کی تفصیلات ضمیمہ– II میں شامل ہیں۔

ای۔ڈسٹرکٹ مشن موڈ پروجیکٹ ( ایم ایم پی): نے ضلع سطح پر شہریوں پر مرکوز زیادہ استعمال ہونے والی خدمات، جیسے سرٹیفکیٹس (آمدنی، ذات، رہائش، پیدائش اور موت)، پنشن، محصولات سے متعلق خدمات اور لائسنس وغیرہ کی الیکٹرانک فراہمی کو ممکن بنایا ہے۔ تمام 36 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقریباً 2,000 ای۔ڈسٹرکٹ/ای۔گورنمنٹ خدمات کو ڈیجی لاکر اور ای۔ڈسٹرکٹ پلیٹ فارم کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے، جس سے شہریوں کو کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ ان خدمات تک رسائی حاصل ہو رہی ہے۔

ڈسٹرکٹ ای۔گورننس سوسائٹیز ( ڈی ای جی ایس): ڈی ای جی ایس متعلقہ ریاستی حکومتوں اور ضلع انتظامیہ کے تحت رجسٹرڈ سوسائٹیز ہیں۔ یہ ضلع اور ذیلی ضلع سطح پر ای۔ڈسٹرکٹ، سی ایس سی اور دیگر ای-گورننس/ڈیجیٹل انڈیا اقدامات کے نفاذ اور نگرانی کے لیے مرکزی ادارہ جاتی نظام کے طور پر کام کرتی ہیں، جس میں ضلع خدمات کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے کا نفاذ، صلاحیت سازی اور ضلع سطح کے محکموں اور متعلقہ شراکت داروں کے درمیان رابطہ کاری شامل ہیں۔

ڈیجیٹل اقدامات کا جائزہ:

  • حکومت نے وقتاً فوقتاً ڈیجیٹل انڈیا پروگرام کے تحت ای-گورننس اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور اثرات کے مطالعے کیے ہیں، جن میں باقاعدہ نگرانی، متعلقہ شراکت داروں سے مشاورت اور آزاد انہ  طور پرتیسرے فریق کے ذریعے جائزے شامل ہیں۔
  • سال 2025 میں ’ڈیجیٹل انڈیا پروگرام: شہریوں کی رائے اور قابلِ عمل معلومات‘ کے عنوان سے ایک سروے پر مبنی مطالعہ کیا گیا، جس کا مقصد ڈیجیٹل خدمات کے استعمال اور اس کے بڑھتے ہوئے اثرات کا جائزہ لینا تھا۔ اس مطالعے سے معلوم ہوا کہ 90 فیصد جواب دہندگان ڈیجیٹل خدمات  خاص طور پر آدھار، یو پی آئی/بھیم، ڈیجی لاکر، راشن کارڈ خدمات اور دیگر ڈیجیٹل خدمات سے واقف تھے اور انہیں استعمال کر چکے تھے،نیز71 فیصد افراد نے ڈیجیٹل انڈیا کی خدمات کو کم از کم مہینے میں ایک بار استعمال کیا، جن میں سے 77 فیصد نے بتایا کہ وقت کے ساتھ ان کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ 88 فیصد جواب دہندگان نے بھارت کے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے جیسے آدھار اور یو پی آئی اور اس کی بڑھتی ہوئی عالمی پہچان پر فخر کا اظہار کیا۔
  • الیکٹرانک گورننس اسکیم کا تیسرے فریق کے ذریعے جائزہ نومبر 2025 میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن ( آئی آئی پی اے)، دہلی کے ذریعے کیا گیا۔ اس مطالعے میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل انڈیا پروگرام نے ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے معلومات تک رسائی کو بہتر بنانے اور سرکاری خدمات کو مربوط کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے شہریوں کو خدمات کی فراہمی کے نظام میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے۔اس پروگرام نے شفافیت میں اضافہ کیا، خدمات کی فراہمی کے وقت میں کمی کی، کاغذ سے پاک اور بغیر  چہرے کی پہچان کے بغیر  طرز حکمرانی کو فروغ دیا، ڈیجیٹل شمولیت کو وسعت دی اور بہتر سماجی و معاشی نتائج کے ذریعے شہریوں کو بااختیار بنایا۔

اس کے علاوہ معمول کی خدمات کے مراکز ( سی ایس سی) کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے درج ذیل جائزے بھی کیے گئے:

  • معمول کی خدمات کے مراکز ( سی ایس سی) اسکیم (سی ایس سی 1.0) کا ایک آزادانہ اثراتی جائزہ سینٹر فار انوویشنز اِن پبلک سسٹمز (سی آئی پی ایس) حیدرآباد کے ذریعے کیا گیا۔سی ایس سی 1.0 کے جائزہ مطالعے سے یہ بات سامنے آئی کہ سی ایس سی اقدام میں مؤثر کارکردگی اور طویل مدتی پائیداری کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔سی ایس سی اسکیم نہ صرف شہری خدمات کی مؤثر اور بہتر فراہمی کا ایک مضبوط ذریعہ ہے بلکہ دیہی آبادی میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور سماجی و اقتصادی ترقی کی سرگرمیوں کو تیز کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
  • سی ایس سی 2.0 کا وسط مدتی اثراتی جائزہ انڈین اسکول آف بزنس (آئی ایس بی) حیدرآباد کے ذریعے کیا گیا۔ رپورٹ میں تجزیہ کیا گیا کہ سی ایس سی مراکز نے شہریوں کے سفر کے فاصلے میں 27.25 کلومیٹر، سفر کے وقت میں 40.43 منٹ، انتظار کے وقت میں 69.45 منٹ، سفر کے اخراجات میں 52.12 روپے اور ہر لین دین پر اجرت کے نقصان میں 179.44 روپے کی کمی کی۔
  • اختتامی مدت کا اثراتی جائزہ  اکیڈمی آف مینجمنٹ اسٹڈیز ( اے ایم ایس) کے ذریعے کیا گیا۔ جائزے میں بتایا گیا کہ 98 فیصد مستفیدین کے ذریعےسی ایس سی کے ذریعہ مطلوبہ خدمات حاصل کرنے میں کامیاب رہے، 93 فیصد افراد نے اپنی زندگیوں پر مثبت اثرات محسوس کیے، جبکہ 95 فیصد افراد نےسی ایس سی کے ذریعے فراہم کی جانے والی خدمات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

حکومت نےسی ایس سی کو آخری سطح تک ڈیجیٹل خدمات کی فراہمی کے مراکز کے طور پر مزید مضبوط بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں درج ذیل شامل ہیں:

  • بھارت نیٹ کے ذریعے گرام پنچایتوں اور دیہی اداروں تک براڈبینڈ رابطے کی توسیع دی گئی۔جون 2026 تک ملک بھر میں بھارت نیٹ پروجیکٹ کے تحت مجموعی طور پر 2.21 لاکھ گرام پنچایتوں )جی پی) کو خدمات کے لیے تیار کیا جا چکا ہے۔
  • سی ایس سی کے ذریعے شہریوں پر مرکوز ڈیجیٹل خدمات کے دائرہ کار میں توسیع۔
  • سی ایس ای ای -گورننس سروس انڈیا لمیٹڈ نےایس پی ای سی ٹی اے پلیٹ فارم میں ڈیٹا پر مبنی نگرانی اورسی ایس سی آپریشنز کے تجزیے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی سیگمنٹیشن ماڈیول تیار اور نافذ کیا ہے۔ یہ ماڈیول مصنوعی ذہانت(اے آئی) ، مشین لرننگ (ایم ایل)اور لارج لینگویج ماڈلز (ایل ایل ایم) کا استعمال کرتے ہوئے خدمات کی فراہمی اور لین دین کے نمونوں کی بنیاد پر گاؤں کی سطح پر صنعت کاری (وی ایل ای) کی درجہ بندی کرتا ہے اور سی ایس سی خدمات کو مناسب کاروباری شعبوں میں تقسیم کرتا ہے۔
  • ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف سیکریٹریز/چیف ایڈمنسٹریٹرز سے یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ سی ایس سی منصوبے کے نفاذ میں ریاستی/مرکزی زیر انتظام حکومتوں اور ضلع ای-گورننس سوسائٹیز(ڈی ای جی ایس) کی شمولیت کو مضبوط بنانے، وی ایل ای کے انتخاب اور ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی ای-ڈسٹرکٹ خدمات کو سی ایس سی پورٹل کے ساتھ مربوط کرنے کے لیے اقدامات کریں، تاکہ وی ایل ای کی پائیداری اور شہریوں پر مبنی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنایا جا سکے۔
  • ڈیجیٹل سیوا پورٹل کو مزید بہتر بنانا، مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی اضافی خدمات کو ڈیجیٹل سیوا پورٹل کے ساتھ مربوط کرنا اور گاؤں کی سطح پر صنعتکاری(وی ایل ای) کی صلاحیت سازی اور مہارتوں کی ترقی شامل ہے۔
  • خدمات کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانا اور مرکزی وزارتوں اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ قریبی رابطہ کاری کے ذریعے کام کرنا شامل ہے۔

***

 

ضمیمہ-I

مالی سال26- 2025کے دوران سی ایس سی ماحولیاتی نظام (پورٹل + نان پورٹل) کے ذریعے لین دین کی ریاست/ مرکز کے زیر انتظام ریاستوں کے لحاظ سے حیثیت

ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے

مالی سال26- 2025 کے دوران لین دین کی تعداد (ایک لاکھ میں)

آندھرا پردیش

167.3

اروناچل پردیش

1.81

آسام

118.17

بہار

510.82

چھتیس گڑھ

215.69

گوا

1.31

گجرات

125.13

ہریانہ

146.17

ہماچل پردیش

81.43

جھارکھنڈ

181.13

کرناٹک

124.89

کیرالہ

47.31

مدھیہ پردیش

223.24

مہاراشٹر

340.53

منی پور

3.12

میگھالیہ

10.57

میزورم

3.97

ناگالینڈ

2.33

اڈیشہ

245.82

پنجاب

54.13

راجستھان

413.32

سکم

0.66

تمل ناڈو

120.98

تلنگانہ

37.62

تریپورہ

23.23

اتر پردیش

1177.55

اتراکھنڈ

71.95

مغربی بنگال

341.11

مجموعی طور پر ریاستوں کی حیثیت

4791.28

انڈمان اور نکوبار

1.39

چنڈی گڑھ

0.41

دادرا اور نگرحویلی اور دمن دیو

0.78

دہلی

21.55

جموں و کشمیر

35.76

لداخ

0.1

لکشدیپ

0.07

پڈوچیری

2.69

مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی مجموعی حیثیت

62.75

کل میزان

4854.03

 

ضمیمہ II

ریاست مدھیہ پردیش میں مالی سال26- 2025 میں ضلع  کی حیثیت سے لین دین

نمبر شمار

ضلع کا نام

مالی سال 26-2025 میں کل لین دین (لاکھ میں)

1

آگر مالوہ

2.20

2

علیراج پور

1.97

3

انوپ پور

2.19

4

اشوک نگر

4.34

5

بالاگھاٹ

7.04

6

بڑوانی

2.07

7

بیتول

5.93

8

بھنڈ

3.42

9

بھوپال

2.82

10

برہان پور

1.67

11

چھتر پور

7.29

12

چھندواڑہ

7.62

13

دموہ

3.63

14

دتیا

4.24

15

دیواس

4.10

16

دھار

3.39

17

ڈنڈوری

3.00

18

مشرقی نیمار

2.28

19

گونا

3.75

20

گوالیار

3.51

21

ہردا

0.81

22

ہوشنگ آباد

2.10

23

اندور

3.58

24

جبل پور

13.13

25

جھبوا

2.04

26

کٹنی

5.16

27

کھرگون

3.97

28

منڈلا

4.73

29

مندسور

3.38

30

مورینا

6.21

31

نرسنگھ پور

3.12

32

نیمچ

1.99

33

مؤگنج

0.73

34

نیواڑی

1.52

35

پنا

2.94

36

رائسین

3.32

37

راج گڑھ

4.46

38

رتلام

3.37

39

ریوا

5.16

40

ساگر

7.16

41

ستنا

5.43

42

سیہور

2.01

43

سیونی

28.36

44

شہڈول

3.04

45

شاجاپور

2.80

46

شیوپور

1.45

47

شیو پوری

3.87

48

سیدھی

3.36

49

سنگرولی

3.15

50

ٹیکم گڑھ

2.91

51

اجین

4.54

52

اُمریا

2.02

53

ودیشا

3.43

54

میہر

0.70

55

پنڈھورنا

0.83

کُل میزان

223.24

 

یہ معلومات 29جولائی2026 کو لوک سبھا میں الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے لوک سبھا میں دی۔

***

)ش ح۔م ش۔ص ج)

844: UN No

 

 

 


(रिलीज़ आईडी: 2291166) आगंतुक पटल : 15
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Gujarati , हिन्दी , Bengali , Tamil , Kannada