پارلیمانی امور کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وزارتِ پارلیمانی امور کی جانب سےنوجوانوں میں جمہوری شعور کو مضبوط بنانے کے لیے یوتھ پارلیمنٹ پروگرام کا انعقاد

प्रविष्टि तिथि: 29 JUL 2026 1:41PM by PIB Delhi

جمہوری شعور اور پارلیمانی آگاہی کو فروغ دینے کے لیے وزارتِ پارلیمانی امور تین زمروں کے تحت یوتھ پارلیمنٹ پروگرام کا انعقاد کرتی ہے۔

  1. مسابقت پرمبنی یوتھ پارلیمنٹ پروگرام- وزارتِ پارلیمانی امور شراکت دار اداروں کے تعاون سے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کے لیے مندرجہ ذیل یوتھ پارلیمنٹ مقابلوں کا انعقاد کرتی ہے:
  1. حکومتِ قومی راجدھانی خطہ دہلی (این سی ٹی دہلی) کے محکمۂ تعلیم اور نئی دہلی میونسپل کونسل کے محکمۂ تعلیم کے تحت اسکولوں کی سطح پریوتھ پارلیمنٹ مقابلہ۔
  2. مرکزی ودیالیہ کی سطح پر قومی یوتھ پارلیمنٹ مقابلہ۔
  • iii. جواہر نوودیہ ودیالیہ کی سطح پر قومی یوتھ پارلیمنٹ مقابلہ۔
  1. یونیورسٹیوں اور کالجوں کی سطح پر قومی یوتھ پارلیمنٹ مقابلہ۔
  2. ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں کی سطح پر قومی یوتھ پارلیمنٹ مقابلہ۔
  1. شرکت پر مبنی یوتھ پارلیمنٹ پروگرام-وزارتِ پارلیمانی امور نے یوتھ پارلیمنٹ پروگرام کی رسائی کو ملک کے ان حصوں اور طبقات تک بڑھانے کے لیے جہاں اب تک یہ سہولت نہیں پہنچ سکی تھی، قومی یوتھ پارلیمنٹ اسکیم ( این وائی پی ایس) کا ویب پورٹل متعارف کرایا ہے۔یہ پروگرام رضاکارانہ نوعیت کا ہے اور این وائی پی ایس 2.0 کے ذریعے ملک بھر کے تمام شہریوں کے لیے کھلا ہے۔ اس میں شرکت کے لیے جنس، ذات، برادری، مذہب، نسل، خطے یا مقام کی کوئی پابندی نہیں ہے۔شرکاء مقررہ رہنما اصولوں کے مطابق ادارہ جاتی/طبقاتی شرکت کے زمرے کے تحت یوتھ پارلیمنٹ اجلاس منعقد کر سکتے ہیں، یا انفرادی شرکت کے زمرے کے تحت آن لائن کوئز میں حصہ لے سکتے ہیں۔کامیاب شرکت کے بعد این وائی پی ایس ہیلپ ڈیسک کے ذریعے شرکاء کے لیے سرٹیفکیٹ جاری کیے جاتے ہیں۔اب تک ویب پورٹل پر مبنی قومی یوتھ پارلیمنٹ اسکیم (این وائی پی ایس) میں تقریباً 1.7 لاکھ طلبہ اور شہری حصہ لے چکے ہیں۔
  2. ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو یوتھ پارلیمنٹ مقابلوں کے انعقاد کے لیے مالی امداد-وزارتِ پارلیمانی امور ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو یوتھ پارلیمنٹ مقابلوں کے انعقاد کے لیے مالی امداد بھی فراہم کرتی ہے۔ اس کے تحت ہونے والے حقیقی اخراجات کی باز ادائیگی کی جاتی ہے، بشرطیکہ متعلقہ دعوے مقررہ طریقۂ کار کے مطابق جمع کرائے جائیں اور سالانہ مقررہ حد  کے اندر ہوں۔مالی معاونت کی باز ادائیگی کی حد درج ذیل ہے:جن قانون ساز اسمبلیوں  کے ارکان کی تعداد 100 تک ہے، ان کے لیے زیادہ سے زیادہ 3 لاکھ روپے۔جن قانون ساز اداروں میں ارکان کی تعداد 101 سے 200 تک ہے، ان کے لیے زیادہ سے زیادہ 4 لاکھ روپے۔جن قانون ساز اداروں میں ارکان کی تعداد 200 سے زیادہ ہے، ان کے لیے زیادہ سے زیادہ 5 لاکھ روپے۔ قانون ساز اسمبلی کے بغیرمرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے لیےزیادہ سے زیادہ 2 لاکھ روپے۔

وزارتِ پارلیمانی امورملک کے شہریوں میں پارلیمانی شعور بیدار کرنے کے لیے الگ سے کوئی خصوصی تربیتی یا آگاہی پروگرام منعقد نہیں کرتی۔ تاہم، ہر یوتھ پارلیمنٹ مقابلے کے آغاز سے قبل، جس کا ذکر پوائنٹ (1) میں کیا گیا ہے، شرکت کنندہ اداروں کے پرنسپل، انچارج اساتذہ اور رابطہ کاروں کے لیے آگاہی کورس (اورینٹیشن کورس) منعقد کیا جاتا ہے تاکہ انہیں یوتھ پارلیمنٹ اجلاس کے انعقاد کے طریقۂ کار اور طریقوں سے واقف کرایا جا سکے۔ ان آگاہی کورسز میں شرکت کے لیے متعلقہ  اداروں کو کسی بھی قسم کی مالی معاونت فراہم نہیں کی جاتی ہے۔ یکم اپریل 2025 سے 31 مارچ 2026 تک منعقد کیےجانے والے ایسےکورسز کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔

 

نمبر شمار

مسابقے

شرکاء

طریقہ

  1.  

جواہر نوودیہ ودیالیہ (جے این وی) کے لیے 27واں قومی یوتھ پارلیمنٹ مقابلہ، 2025-26

100 اسکولوں کے پرنسپل اور انچارج اساتذہ

ورچوئل طریقے سے

  1.  

کیندریہ ودیالیہ (کے وی ایس) کے لیے 36واں قومی یوتھ پارلیمنٹ مقابلہ، 2025-26

200 اسکولوں کے پرنسپل اور انچارج اساتذہ

ورچوئل طریقے سے

  1.  

دہلی کے اسکولوں کے لیے 58واں یوتھ پارلیمنٹ مقابلہ، 2025-26

41 اسکولوں کے پرنسپل اور انچارج اساتذہ

فزیکل طریقے سے

  1.  

ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں (ای ایم آر ایس) کے لیے پہلا قومی یوتھ پارلیمنٹ مقابلہ، 2025-26

36 اسکولوں کے پرنسپل اور انچارج اساتذہ

فزیکل طریقے سے

 

 

یہ معلومات قانون و انصاف کے وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) اور پارلیمانی امور کے وزیرِ مملکت جناب ارجن رام میگھوال نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کی ہیں۔

******

 

( ش ح ۔ م ش ع ۔ م ا )

Urdu.No-843


(रिलीज़ आईडी: 2291073) आगंतुक पटल : 14
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Gujarati , Tamil , Kannada