شہری ہوابازی کی وزارت
شہری ہوابازی کی وزارت نے امرتسر سے ہب اینڈ اسپوک انٹرنیشنل فلائٹ آپریشنز کا افتتاح کیا
بھارت کی بین الاقوامی ہوا بازی ہب حکمت عملی کے تحت امرتسر دوسرا اسپوک ہوائی اڈہ بن گیا ہے
प्रविष्टि तिथि:
28 JUL 2026 11:00AM by PIB Delhi
شہری ہوا بازی کی وزرات نے آج امرتسر سے ہب اینڈ اسپوک طرز کی بین الاقوامی پروازوں کا افتتاح کیا، جس کے ساتھ امرتسر ملک کا دوسرا ہوائی اڈہ بن گیا ہے جو بین الاقوامی مسافروں کی نقل و حرکت کے لیے بھارت کے جدید ہب اینڈ اسپوک نظام میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ افتتاح حکومت کی اس حکمت عملی کے اگلے مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے جس کا مقصد بھارتی ہب ہوائی اڈوں کے ذریعے ملک بھر کے مسافروں کو بغیر رکاوٹ بین الاقوامی رابطہ فراہم کرتے ہوئے بھارت کو ایک عالمی ہوا بازی مرکز میں تبدیل کرنا ہے۔
یہ افتتاح 25 جون 2026 کو وارانسی سے بھارت کی پہلی ہب اینڈ اسپوک پروازوں کے کامیاب آغاز کے بعد عمل میں آیا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران یہ نظام ہموار طریقے سے چلتا رہا، جس سے اس ماڈل کی عملی افادیت ثابت ہوئی اور مسافروں کی جانب سے حوصلہ افزا ردِعمل موصول ہوا ۔اس مدت کے دوران ، وارانسی سے آنے والے مسافروں کو دہلی کے ذریعے اٹھارہ بین الاقوامی مقامات سے بغیر کسی رکاوٹ کے جوڑا گیا ہے ، جس سے بین الاقوامی سفر کو آسان بنانے میں پہل کی تاثیر کی تصدیق ہوتی ہے ۔

امرتسر ہوائی اڈے پر موجود سبھی اسٹیک ہولڈرزکو ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے مبارک باد دیتے ہوئے شہری ہوا بازی کے مرکزی وزیررام موہن نائیڈو نے کہاکہ ‘‘ہب اینڈ اسپوک صرف ہوا بازی کا ایک ماڈل نہیں بلکہ مواقع پیدا کرنے کا ایک ماڈل ہے۔ دہلی مرکزی ہب کے طور پر کام کرے گا، جبکہ امرتسر پنجاب، جموں و کشمیر اور ہماچل پردیش کے لیے ایک اہم بین الاقوامی دروازے کے طور پر ابھرے گا۔ بیرون ملک مقیم بھارتی برادری سے مضبوط روابط اور اپنے وسیع علاقائی دائرۂ اثر کے باعث امرتسر اُن بھارتی شہروں میں شامل ہے جو عالمی رابطوں میں اس تبدیلی سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھائیں گے۔’’
امرتسر بھارت کے اہم بین الاقوامی داخلی راستوں میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے، جہاں سے زائرین، بیرون ملک مقیم بھارتی برادری، کاروباری مسافر اور پنجاب و ملحقہ علاقوں کے سیاح سفر کرتے ہیں۔ ہب اینڈ اسپوک نظام میں اس کی شمولیت سے توقع ہے کہ بھارتی ہب ہوائی اڈوں کے ذریعے عالمی مقامات تک رسائی میں نمایاں بہتری آئے گی، جبکہ مسافروں کو زیادہ تیز، آسان اور قابلِ اعتماد سفری سہولت میسر ہوگی۔
قومی وژن پر زور دیتے ہوئے وزیر نے مزید کہا کہ ‘‘وزیراعظم جناب نریندر مودی جی کی دوراندیش قیادت میں بھارت عالمی معیار کے اپنے مسابقتی ہوا بازی مراکز قائم کرنے کی سمت کام کر رہا ہے۔ یہ صرف مسافروں کی سہولت بہتر بنانے کا معاملہ نہیں بلکہ بھارت کی فضائی خودمختاری کو مضبوط بنانے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش بھی ہے کہ بھارتی ہب دنیا سے بھارت کو جوڑنے کا مؤثر ذریعہ بنیں۔’’

مسافروں کے سفری تجربے کو بہتر بنانے کے علاوہ اس اقدام سے سیاحت، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی ترقی کو فروغ دے کر وسیع تر معاشی فوائد حاصل ہونے کی بھی توقع ہے۔ وزارت کی جانب سے کیے گئے مطالعات کے مطابق ہوا بازی کے ہب نظام کی ترقی سے 2030 تک تقریباً چار لاکھ براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں، جبکہ بھارت کی معیشت میں مزید 30 ارب امریکی ڈالر کا اضافہ متوقع ہے۔ 2047 تک مجموعی طور پر اس اقدام سے تقریباً ایک کروڑ ساٹھ لاکھ براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے اور قومی معیشت میں تقریباً 1.4 ٹریلین امریکی ڈالر کا اضافہ ہونے کا اندازہ ہے۔
امرتسر سے اس نظام کے آغاز کے بعد بین الاقوامی مسافر اب روانگی سے قبل امرتسر ہی میں چیک اِن، امیگریشن اور کسٹمز کی تمام کارروائیاں مکمل کر سکیں گے۔ ان کا سامان براہ راست ان کی آخری بین الاقوامی منزل تک بک کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں وہ مقررہ ہب ہوائی اڈے پر امیگریشن یا کسٹمز کی کارروائی دوبارہ کیے بغیر باآسانی اپنی اگلی بین الاقوامی پرواز میں منتقل ہو سکیں گے۔
امرتسر سے بین الاقوامی رابطوں پر ہب اینڈ اسپوک نظام کے انقلابی اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر نے کہاکہ ‘‘اب تک امرتسر سے سفر کرنے والے مسافروں کو صرف سات بین الاقوامی مقامات تک براہِ راست فضائی رابطہ حاصل تھا۔ ہب اینڈ اسپوک نظام کے آغاز کے بعد دہلی ہوائی اڈے کی عالمی سطح کی فضائی رابطہ سہولت امرتسر سے ہی مسافروں کو دستیاب ہو جائے گی۔ مسافر ایک ہی چیک اِن اور سامان کے ایک ہی بیگج ٹیگ کے ساتھ 20 سے زائد بین الاقوامی مقامات تک سفر کر سکیں گے، جس سے پورا سفری عمل کہیں زیادہ آسان اور ہموار ہو جائے گا۔ اس وقت ہر سال تقریباً ڈیڑھ لاکھ مسافر بین الاقوامی پروازیں پکڑنے کے لیے امرتسر سے دہلی سفر کرتے ہیں، جبکہ تقریباً اتنے ہی مسافر بیرونِ ملک سے دہلی کے راستے امرتسر پہنچتے ہیں۔ اس مربوط نظام کے تحت سفر نمایاں طور پر آسان ہونے سے ہمیں مسافروں کی تعداد میں تیزی سے اضافے کی توقع ہے۔’’
فضائی کمپنیوں کے اندازے کے مطابق صرف امرتسر سے ہی روزانہ تقریباً 250 مسافر دہلی کے ذریعے ہب اینڈ اسپوک نظام سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ آئندہ مہینوں میں مزید اسپوک ہوائی اڈوں کو اس نظام میں شامل کیے جانے کے بعد اگلے مرحلے میں روزانہ تقریباً 1,200 مسافروں، یعنی سالانہ تقریباً ساڑھے چار لاکھ مسافروں، کو اس سہولت سے فائدہ پہنچنے کی توقع ہے، جس سے علاقائی بھارت سے بین الاقوامی سفر کے لیے بلا رکاوٹ فضائی رابطے میں نمایاں توسیع ہوگی۔
یہ اقدام مسافروں کی سہولت میں نمایاں اضافہ کرتا ہے، جبکہ سلامتی، سفری سہولت اور ضابطہ جاتی تقاضوں کی مکمل پاسداری کے اعلیٰ ترین معیارات بھی برقرار رکھتا ہے۔

ہب اینڈ اسپوک نظام حکومت کی بین الاقوامی ہوا بازی ہب حکمت عملی کا ایک اہم ستون ہے، اس حکمتِ عملی کا مقصد بھارتی ہوائی اڈوں کو بین الاقوامی فضائی سفر کے لیے ترجیحی گیٹ وے بنانا، بھارتی فضائی کمپنیوں کے نیٹ ورک کو زیادہ مؤثر بنانا اور بیرون ملک ٹرانزٹ مراکز پر انحصار کم کرنا ہے۔بھارت کے منفرد جغرافیائی محل وقوع اور تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ہوائی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، اس پہل کا مقصد بین الاقوامی ٹرانزٹ مسافروں کا زیادہ سے زیادہ حصہ ملک کے اندر برقرار رکھنا اور ساتھ ہی بھارت کے ہوابازی کے شعبے کی عالمی مسابقت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
امرتسر سے ہب اینڈ اسپوک نظام کی پروازوں کا آغاز بھارت کی بین الاقوامی ہوا بازی ہب حکمت عملی کے مرحلہ وار نفاذ میں ایک اور اہم سنگِ میل ہے۔ مزید اسپوک ہوائی اڈے عملی تیاری کے آخری مراحل میں ہیں اور انہیں بھی مرحلہ وار اس نظام میں شامل کیا جائے گا، جس سے بھارتی ہب ہوائی اڈوں کے ذریعے ملک بھر میں بین الاقوامی سفر کے لیے بلا رکاوٹ فضائی رابطے کا ایک جامع نظام قائم ہوگا۔ یہ اقدام زیادہ مربوط، مؤثر اور عالمی سطح پر مسابقتی ہوا بازی کے نظام کی تشکیل کے ذریعے وکست بھارت @2047 کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

اس موقع پر شہری ہوا بازی وزارت کے سیکریٹری جناب سمیر کمار سنہا، شہری ہوا بازی کی وزارت کے ایڈیشنل سیکریٹری جناب پونیت کنسل، بھارتی ہوائی اڈہ اتھارٹی کے چیئرمین جناب وپن کمار، بھارتی ہوائی اڈہ اتھارٹی کے چیف ایڈوائزر جناب شرد کمار، ایئر انڈیا کے گروپ ہیڈ (گورننس) جناب پی۔ بالاجی، بیورو آف امیگریشن، کسٹمز اور سی آئی ایس ایف کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس تقریب میں مختلف صنعتی انجمنوں، ہوٹل اور مہمان نوازی کے شعبے سے وابستہ افراد، سفری شراکت داروں اور سیاحت کے شعبے کے نمائندوں کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔

سیاحت کے شعبے کے نمائندوں اور ہوا بازی و تجارت سے وابستہ دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز نے بھی شرکت کی، جس سے امرتسر سے بین الاقوامی فضائی رابطوں کو مضبوط بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر باہمی تعاون اور مشترکہ عزم کا اظہار ہوا۔
***
)ش ح۔ش آ۔ص ج)
718: UN No
(रिलीज़ आईडी: 2290282)
आगंतुक पटल : 23