وزارات ثقافت
سارناتھ کے قدیم بودھ مت مقام کو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کر لیا گیا
प्रविष्टि तिथि:
25 JUL 2026 6:04PM by PIB Delhi
جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں منعقدہ یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی کے 48ویں اجلاس میں ایک اہم فیصلے کے تحت ہندوستان کی جانب سے 2025-26 کے لیے نامزد "سارناتھ کا قدیم بودھ مت مقام" کو یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔اس اعزاز کے ساتھ سارناتھ ہندوستان کا 45واں ثقافتی مقام بن گیا ہے، جسے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں جگہ ملی ہے۔
یہ عالمی اعزاز ہندوستان کے دیرینہ ثقافتی ورثے کا اعتراف ہے، جو ملک کی متنوع روایات، شاندار تعمیراتی فن، علاقائی شناخت اور تاریخی تسلسل کو عالمی سطح پر نمایاں کرتا ہے۔



یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں سارناتھ کے قدیم بودھ مت مقام کو شامل کیے جانے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر ثقافت جناب گجیندر سنگھ شیخاوت اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس تاریخی کامیابی کا خیر مقدم کرتے ہوئے ملک کے عوام کو مبارکباد پیش کی۔
رہنماؤں نے اپنے سوشل میڈیا پیغامات میں اس کامیابی کو ہندوستان کے ثقافتی ورثے کے لیے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ یہ اعزاز ملک کی عظیم تہذیبی روایت اور عالمی سطح پر اس کے ثقافتی تشخص کا اعتراف ہے۔

بوسان میں 48ویں عالمی ورثہ کمیٹی کے اجلاس میں ہندوستانی وفد کا اظہارِ تشکر
سارناتھ کا قدیم بودھ مت مقام
عالمی ورثے میں شامل اس مشترکہ مقام کے دو اہم حصے ہیں: چوکھنڈی استوپا اور سارناتھ کے آثارِ قدیمہ (جس میں دھمیکھ استوپا، دھرم راجیکا استوپا، مول گندھ کٹی وہار، اشوک ستون وغیرہ شامل ہیں)۔ یہ دونوں مقامات اتر پردیش کے شہر وارانسی میں واقع ہیں۔ یہ قدیم سارناتھ کے تعمیراتی اور آثارِ قدیمہ کے ورثے کو محفوظ رکھتے ہیں، جسے بودھ مت کی روایت میں مختلف ناموں، جیسے رشی پتن، اشی پتن اور مرگ داو سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ تمام نام اس مقدس مقام کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں چھٹی صدی قبل مسیح میں گوتم بدھ تشریف لائے تھے اور اپنا پہلا وعظ دیا تھا، جو "دھرم چکر پرورتن" (قانون کے پہیے کو حرکت دینا) کے نام سے معروف ہے۔ اسی واقعے سے بودھ سنگھ کی بنیاد پڑی اور آٹھ گنا مقدس راستے کے اصولوں کا آغاز ہوا۔
خود گوتم بدھ نے سارناتھ کو بودھ مت کے چار اہم درشن مقامات میں شمار کیا تھا۔ صدیوں کے دوران شاہی سرپرستی، خانقاہی نظام اور عام عقیدت مندوں کی معاونت سے یہ مقام ترقی کرتا رہا۔ گوتم بدھ کے پہلے وعظ کی نسبت سے منسوب مقام اور ان کے اولین شاگردوں سے ملاقات کی جگہ کے اطراف متعدد استوپے، مندر اور وہار تعمیر کیے گئے۔ بارہویں صدی عیسوی میں زوال اور بعد ازاں تباہی کے باعث یہ مقام گمنامی میں چلا گیا، یہاں تک کہ اٹھارہویں صدی میں دوبارہ دریافت ہوا۔
یہ مقام قبل از موریہ دور (پانچویں تا چوتھی صدی قبل مسیح) سے لے کر تیسری صدی قبل مسیح اور پھر بارہویں صدی عیسوی میں سارناتھ کی تباہی تک تعمیر کیے گئے قدیم آثار پر مشتمل ہے، جن میں بعد کے ادوار کی چند تعمیرات بھی شامل ہیں۔
سارناتھ، آثارِ قدیمہ کے سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی جانب سے سب سے زیادہ کھدائی کیے جانے والے مقامات میں سے ایک ہے۔ ان کھدائیوں کے نتیجے میں تقریباً 16 صدیوں (پانچویں تا چوتھی صدی قبل مسیح سے بارہویں صدی عیسوی تک) پر محیط تہہ در تہہ انسانی آبادی اور تہذیبی ارتقا کے شواہد سامنے آئے۔

سارناتھ کے آثارِ قدیمہ میں 1907-1908 کے دوران کی گئی کھدائیاں
(ماخذ: آثارِ قدیمہ کا سروے آف انڈیا )
سارناتھ کو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیے جانے کے بعد بودھ مت کے چار اہم ترین زیارتی مقامات میں سے تین، یعنی لمبنی (نیپال)، مہابودھی مندر، بودھ گیا (بہار) اور اب سارناتھ (اتر پردیش) عالمی ورثے کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس کے علاوہ سانچی، نالندہ، اجنتا (ہندوستان)، انورادھاپور (سری لنکا)، پہاڑ پور (بنگلہ دیش)، اور ٹیکسلا و تختِ باہی (موجودہ پاکستان) جیسے اہم بدھ مت مقامات بھی یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہیں۔
سارناتھ بطور یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ
سارناتھ کے قدیم مقام کو 1998 میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی عارضی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ اس مقام کو عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کرنے کی باضابطہ تجویز جنوری 2025 میں عالمی ورثہ کمیٹی کو پیش کی گئی۔ اس کے بعد تقریباً 18 ماہ تک جاری رہنے والے سخت تکنیکی جائزے، مشاورتی اداروں کے ساتھ متعدد اجلاسوں اور آئی کوموس کے مشن کی جانب سے مقام کے معائنے کے بعد جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں عالمی ورثہ کمیٹی کے ارکان نے آج شام یہ تاریخی فیصلہ کیا۔

24 تا 29 ستمبر 2025 کے دوران سارناتھ میں کھدائی سے برآمد ہونے والی سیڑھی کا معائنہ کرتی آئی کوموس کی تکنیکی جائزہ ٹیم

سارناتھ کے کھدائی سے برآمد آثار کا فضائی منظر
(ماخذ: آثارِ قدیمہ کا سروے آف انڈیا)
عالمی ورثہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران عالمی ورثہ کمیٹی کے 21 رکن ممالک، رکن ریاستوں، یونیسکو سیکریٹریٹ، عالمی ورثہ مرکز اور یونیسکو کے مشاورتی اداروں آئی کوموس، آئی یو سی این اور آئی سی سی آر او ایم نے اس تاریخی کامیابی پر ہندوستانی وفد کو مبارکباد پیش کی۔
"سارناتھ کا قدیم بودھ مت مقام" کو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں معیار (iii) اور (vi) کے تحت شامل کیا گیا ہے۔ معیار (iii) کے تحت سارناتھ کی دیرپا روحانی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے، کیونکہ بودھ مت کے چار اہم ترین درشن مقامات میں شامل اس مقام پر صدیوں کے دوران متعدد مذہبی عمارتیں اور یادگاریں تعمیر اور ازسرِنو تعمیر کی گئیں۔
اسی طرح معیار (vi) کے تحت اس مقام کے گوتم بدھ کی زندگی کے ان اہم واقعات سے براہِ راست اور ٹھوس تعلق کو تسلیم کیا گیا ہے، جن میں ان کا پہلا وعظ اور اپنے اولین شاگردوں سے ملاقات شامل ہے۔ ان واقعات کی اہمیت اور ان کے پیغام کی عکاسی سارناتھ میں صدیوں کے دوران تعمیر کی گئی متعدد یادگاروں سے ہوتی ہے، جو گوتم بدھ کی تعلیمات اور تری رتن کے تصور کی نمائندگی کرتی ہیں۔

1904-06 کے دوران مول گندھ کٹی وہار کے ساتھ کھدائی سے برآمد اشوک ستون اور شیر دار دارالحکومت (لائن کیپیٹل) کا منظر
(ماخذ: آثارِ قدیمہ کا سروے آف انڈیا)

1904-06 کے دوران کھدائی سے برآمد اشوک کا شیر دار ستون، جسے بعد میں ہندوستان کا قومی نشان قرار دیا گیا
(ماخذ: آثارِ قدیمہ کا سروے آف انڈیا)
یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں ان مقامات کو شامل کرنے کا مقصد 196 ممالک میں موجود ثقافتی، قدرتی اور مخلوط ورثوں میں پائی جانے والی غیر معمولی عالمی اہمیت کی بنیاد پر مشترکہ انسانی ورثے کا تحفظ اور فروغ ہے۔
ہندوستان نے 2021 سے 2025 تک عالمی ورثہ کمیٹی کی رکنیت بھی حاصل کی، جبکہ جولائی 2024 میں نئی دہلی میں پہلی بار عالمی ورثہ کمیٹی کے اجلاس کی میزبانی بھی کی۔

سارناتھ میں اینٹوں سے تعمیر شدہ نذرانۂ عقیدت کے استوپوں پر سائنسی بنیادوں پر تحفظ کا کام جاری
سارناتھ کے قدیم بودھ مت مقام کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ نیا ہندوستان عالمی سطح پر اپنی تہذیبی اور ثقافتی وراثت کو نمایاں کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ یہ اعزاز آثارِ قدیمہ کے سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی جانب سے اس تاریخی ورثے کے تحفظ اور مؤثر انتظام کے لیے کی جانے والی مسلسل کوششوں کا بھی اعتراف ہے۔
گزشتہ ڈیڑھ سو برس سے زیادہ عرصے سے آثارِ قدیمہ کا سروے آف انڈیا سارناتھ کے قدیم بودھ مت مقام پر کھدائی اور تحفظ کا کام انجام دے رہا ہے، جس کے نتیجے میں یہ ثابت ہوا کہ یہی وہ مقام ہے جہاں شاکیہ مونی بدھ نے اپنا پہلا وعظ دیا تھا۔
کھدائی کے دوران موریہ دور کا مشہور شیر دار اشوک ستون، جسے بعد میں ہندوستان کا قومی نشان قرار دیا گیا، اور کلاسیکی گپتا فن کا شاہکار دھرم چکر پرورتن بودھ کا مجسمہ دریافت ہوا۔ یہ نوادرات اس وقت ہندوستان کے اولین مقامی عجائب گھر میں محفوظ ہیں، جو 1904 میں قائم کیا گیا تھا۔
عالمی ثقافتی ورثے کا درجہ ہندوستان کی اس شناخت کو مزید مستحکم کرے گا کہ بودھ مت کی جنم بھومی یہی سرزمین ہے، جبکہ جاپان، تھائی لینڈ، سری لنکا، میانمار، کمبوڈیا، ویتنام، جنوبی کوریا اور منگولیا جیسے ممالک کے ساتھ ثقافتی سفارت کاری کو بھی نئی تقویت ملے گی۔
یہ اعتراف بودھ مت کے ثقافتی ورثے کو بین الاقوامی روابط کے ایک مؤثر پل کے طور پر فروغ دینے کی ہندوستان کی کوششوں کو مزید تقویت دے گا اور عالمی ورثے کے لیے نامزدگی کے عمل اور تاریخی ورثے کے تحفظ میں ہندوستان کی مہارت کو بھی اجاگر کرے گا۔
گزشتہ سال پیرس میں یونیسکو کے صدر دفتر میں منعقد ہونے والے عالمی ورثہ کمیٹی کے 47ویں اجلاس میں ہندوستان کے مراٹھا فوجی مناظر کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔
اس نئی شمولیت کے بعد عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں ہندوستان کے مقامات کی تعداد 45 ہو گئی ہے، جس کے ساتھ ہندوستان دنیا میں چھٹے اور ایشیا بحرالکاہل خطے میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ اب تک 196 ممالک 1972 کے عالمی ثقافتی ورثہ کنونشن کی توثیق کر چکے ہیں۔
ہندوستان کے 69 مقامات فی الحال عالمی ثقافتی ورثے کی عارضی فہرست میں شامل ہیں، اور مستقبل میں کسی بھی مقام کو عالمی ورثہ قرار دیے جانے کے لیے اس فہرست میں شامل ہونا لازمی شرط ہے۔ ہر رکن ملک ہر سال صرف ایک مقام کو عالمی ورثہ کمیٹی کے غور کے لیے نامزد کر سکتا ہے۔
ہندوستان میں عالمی ثقافتی ورثے سے متعلق تمام معاملات کے لیے آثارِ قدیمہ کا سروے آف انڈیا مرکزی نوڈل ادارے کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس عالمی اعتراف کے ساتھ ہندوستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ سارناتھ کی غیر معمولی عالمی اہمیت کے تحفظ کے لیے پائیدار سیاحت کو فروغ دے گا، بفر زون میں غیر منصوبہ بند تعمیرات کی روک تھام کرے گا اور اس تاریخی مقام کی اصلیت اور سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے گا۔
***
ش ح ۔ م د ۔ م ص
U : 587
(रिलीज़ आईडी: 2289431)
आगंतुक पटल : 12