صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
قومی صحت اتھارٹی کی جانب سے ڈیجیٹل صحت اور ذمہ دار مصنوعی ذہانت کے ذریعے علاج و نگہداشت کے تسلسل کو مضبوط بنانے پر برکس ڈائیلاگ کا انعقاد
علاج و نگہداشت کا تسلسل ہی اس بات کا حقیقی پیمانہ ہے کہ ڈیجیٹل صحت اور مصنوعی ذہانت عوام کی کس حد تک مؤثر خدمت کر رہے ہیں : سیکریٹری ، مرکزی وزارت صحت
چورانوے کروڑ سے زائد آبھا شناختی نمبر اور ایک ارب سے زیادہ منسلک ڈیجیٹل صحت ریکارڈز بھارت کے ڈیجیٹل صحت کے نظام کو تقویت دے رہے ہیں : محترمہ پُنیہ سلیلا سریواستو
مباحثے میں ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے اور مصنوعی ذہانت کو برکس ممالک میں باہم مربوط اور مریض مرکز صحت خدمات کے فروغ کے لیے کلیدی عوامل قرار دیا گیا
प्रविष्टि तिथि:
24 JUL 2026 3:00PM by PIB Delhi
برکس کے 16ویں وزرائے صحت اجلاس کے سلسلے میں آج "ڈیجیٹل صحت ریکارڈز سے مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ صحت خدمات تک: باہم مربوط ڈیٹا بنیادی ڈھانچے اور ذمہ دار مصنوعی ذہانت کے ذریعے علاج و نگہداشت کے تسلسل کو مضبوط بنانا" کے عنوان سے ایک ضمنی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس کا اہتمام وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے تحت قومی صحت اتھارٹی نے کیا۔ اجلاس میں برکس ممالک کے پالیسی سازوں، تکنیکی ماہرین اور صحت کے شعبے کے رہنماؤں نے شرکت کی اور مریض پر مرکوز، بلا رکاوٹ صحت خدمات کی فراہمی میں ڈیجیٹل صحت کے بنیادی ڈھانچے اور ذمہ دار مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے انقلابی کردار پر تبادلۂ خیال کیا۔
یہ ڈائیلاگ برکس ہیلتھ ٹریک کے تکنیکی ورکنگ گروپ-4 (ٹی ڈبلیو جی-4) کی "علاج و نگہداشت کے تسلسل" سے متعلق جامع رپورٹ کے نتائج پر مبنی تھا، جس میں صحت خدمات کی مختلف سطحوں، صحت فراہم کرنے والے اداروں اور برکس کے رکن ممالک کے درمیان مربوط اور بلا تعطل طبی خدمات کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ علاج و نگہداشت کا تسلسل تمام رکن ممالک کا مشترکہ پالیسی ہدف ہے، لیکن اس کے مؤثر نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ ایسا باہم مربوط ڈیجیٹل صحت کا بنیادی ڈھانچہ نہ ہونا ہے، جو مریض کے علاج کے پورے سفر کے دوران صحت سے متعلق معلومات کے ہموار تبادلے کو ممکن بنا سکے۔
اپنے کلیدی خطاب میں مرکزی وزارت صحت کی سکریٹری محترمہ پُنیہ سلیلا سریواستو نے کہا کہ گزشتہ دو روز کے دوران ہونے والی گفتگو نے مضبوط، منصفانہ اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ صحت کے نظام کو فروغ دینے کے لیے برکس ممالک کے مشترکہ عزم کی عکاسی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں تعاون برکس شراکت داری کے مضبوط ترین ستونوں میں سے ایک ہے، جو باہمی سیکھنے، مشترکہ اختراع اور سب کے لیے جامع صحت کی سہولت (یونیورسل ہیلتھ کوریج - یو ایچ سی) کے مشترکہ عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ علاج و نگہداشت کا تسلسل ہر صحت نظام کا بنیادی جزو ہے۔ ان کے مطابق تمام ممالک کے سامنے اصل چیلنج یہ ہے کہ ایک شہری کا صحت سے متعلق سفر، جس میں بیماری سے بچاؤ، تشخیص، علاج، بحالی اور طویل مدتی نگہداشت شامل ہے، مختلف اداروں، صحت فراہم کرنے والوں اور جغرافیائی حدود کے درمیان منقطع ہونے کے بجائے باہم مربوط رہے۔ انہوں نے کہا کہ علاج و نگہداشت کا تسلسل ہی اس بات کا حقیقی پیمانہ ہے کہ آیا ڈیجیٹل صحت اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) واقعی عوام کو مؤثر فوائد پہنچا رہے ہیں یا نہیں۔
مرکزی وزارت صحت کی سکریٹری نے کہا کہ کوئی بھی ملک اکیلے مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ مستقبل کے صحت نظام کی تعمیر نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ برکس ممالک کو کئی مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں بڑی اور متنوع آبادی، دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان نمایاں تفاوت، دائمی اور غیر متعدی بیماریوں کا بڑھتا ہوا بوجھ، اور صحت کے شعبے میں افرادی قوت کی کمی شامل ہیں۔ ان کے مطابق یہی چیلنجز باہم مربوط ڈیجیٹل صحت کے بنیادی ڈھانچے اور ذمہ دار مصنوعی ذہانت کو مربوط اور عوام پر مرکوز صحت خدمات کی فراہمی کے لیے ناگزیر اوزار بناتے ہیں۔
ڈیجیٹل صحت کے باہم مربوط ریکارڈز کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے محترمہ پُنیہ سلیلا سریواستو نے کہا کہ ایک فرد کا صحت سے متعلق سفر متعدد صحت فراہم کرنے والے اداروں اور طبی مراکز پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ صحت سے متعلق معلومات محفوظ اور بلا رکاوٹ انداز میں مریض کے ساتھ منتقل ہوتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ باہمی مطابقت، کھلے معیارات اور مضبوط نظم و نسق پر مبنی ڈیجیٹل صحت ریکارڈز صحت فراہم کرنے والوں کے درمیان معلومات کے خلا کو پُر کرتے ہیں، طبی فیصلوں کو بہتر بناتے ہیں، خدمات کی غیر ضروری تکرار کم کرتے ہیں، مریضوں کے ریفرل اور بعد از علاج نگرانی کے نظام کو مضبوط کرتے ہیں اور علاج و نگہداشت کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے محترمہ سریواستو نے کہا کہ ذمہ دار مصنوعی ذہانت پہلے ہی صحت کی خدمات کو بہتر بنانے میں مؤثر کردار ادا کر رہی ہے۔ اس کے ذریعے ایسے مریضوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے جو دائمی بیماریوں کے انتظامی پروگراموں سے باہر ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں، بروقت مداخلت ممکن بنائی جا رہی ہے، اور دور دراز و محروم علاقوں میں خدمات انجام دینے والے صفِ اول اور کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کو طبی فیصلوں میں معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کی مؤثریت اسی حد تک ہے جس حد تک اس کی بنیاد مضبوط ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے پر قائم ہو، لہٰذا قابلِ اعتماد، باہم مربوط اور شہری مرکز ڈیجیٹل صحت کے نظام ہی مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ صحت خدمات کی اصل بنیاد ہونے چاہییں۔
بھارت کے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے مرکزی صحت سکریٹری محترمہ پُنیہ سلیلا سریواستو نے بتایا کہ آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) کے تحت صحت کے شعبے کے لیے ایک وفاقی طرز کا ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے وفود کو آگاہ کیا کہ بھارت میں 94 کروڑ سے زائد آبھا (آیوشمان بھارت ہیلتھ اکاؤنٹ) شناختی نمبر جاری کیے جا چکے ہیں، 10 لاکھ سے زیادہ صحت کے پیشہ ور افراد اور 5 لاکھ سے زائد صحت مراکز کو منفرد ڈیجیٹل شناخت فراہم کی گئی ہے، جبکہ شہریوں کو علاج و نگہداشت کے پورے سلسلے میں ایک ارب سے زیادہ منسلک ڈیجیٹل صحت ریکارڈز تک محفوظ رسائی بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
انہوں نے اس سال کے آغاز میں اے آئی انڈیا امپیکٹ سمٹ کے دوران متعارف کرائے گئے صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے لیے اسٹریٹجک فریم ورک ( ساہی ) کا بھی ذکر کیا، جو صحت کی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کا ایک جامع خاکہ فراہم کرتا ہے، تاکہ اخلاقیات، شفافیت، تحفظ اور شہریوں کے اعتماد کو یقینی بنایا جا سکے۔
مرکزی وزارت صحت کی سکریٹری نے زور دے کر کہا کہ بھارت اپنے تجربات کو کسی ایسے نمونے کے طور پر پیش نہیں کر رہا جسے جوں کا توں اپنایا جائے، بلکہ برکس ممالک میں موجود متعدد کامیاب تجربات میں سے ایک مثال کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ باہم مربوط معیارات، ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے، ذمہ دار مصنوعی ذہانت کے لیے نظم و نسق کے فریم ورک، سائبر سکیورٹی، صحت کے شعبے کی افرادی قوت کی استعداد کار میں اضافہ، اور مشترکہ تحقیق و اختراع کے میدان میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں۔
مرکزی وزارت صحت کی سکریٹری محترمہ پُنیہ سلیلا سریواستو نے "علاج و نگہداشت کے تسلسل کے لیے ڈیجیٹل صحت کے بنیادی ڈھانچے" سے متعلق برکس کے تکنیکی ورکنگ گروپ-4 کی جامع رپورٹ کے اجراء کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے برکس ممالک کی مشترکہ مہارت، تجربے اور اختراع کی عکاسی کرنے والا ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے تمام رکن ممالک اور تکنیکی ورکنگ گروپ کو اس جامع رپورٹ کی تیاری پر مبارکباد دی اور کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگرچہ برکس ممالک کے صحت کے نظام ایک دوسرے سے مختلف ہیں، لیکن سب ایک ایسے صحت نظام کے مشترکہ وژن پر متفق ہیں جو باہم مربوط، منصفانہ اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔
اپنے خطاب کے اختتام پر محترمہ سریواستو نے کہا کہ اگرچہ ڈیجیٹل صحت کے ریکارڈز اس نظام کی بنیادی بنیاد فراہم کرتے ہیں، لیکن ذمہ دار مصنوعی ذہانت موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے علاج و نگہداشت کے تسلسل کو ایک نئی جہت دینے کا منفرد موقع فراہم کرتی ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے قومی صحت اتھارٹی (این ایچ اے) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب سنیل کمار برنوال نے "علاج و نگہداشت کے تسلسل کے لیے ڈیجیٹل صحت کے بنیادی ڈھانچے" سے متعلق برکس کے تکنیکی ورکنگ گروپ-4 (ٹی ڈبلیو جی-4) کی جامع رپورٹ (کمپینڈیم) پر تفصیلی پیشکش کی اور اس کے اہم نتائج اور سفارشات بیان کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ برکس ممالک کے ڈیجیٹل صحت کے نظاموں کی موجودہ صورتحال کا جامع جائزہ پیش کرتی ہے اور باہم مربوط ڈیجیٹل صحت کے بنیادی ڈھانچے کے ذریعے علاج و نگہداشت کے بلا رکاوٹ تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے درکار بنیادی عناصر کی نشاندہی کرتی ہے۔
برکس ممالک میں ڈیجیٹل صحت کی صورتحال کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے جناب برنوال نے ہر رکن ملک کی منفرد صلاحیتوں اور اختراعی اقدامات کو اجاگر کیا، ساتھ ہی ان مشترکہ چیلنجز کی بھی نشاندہی کی جن کا سامنا تمام برکس ممالک کو ہے۔ ان میں بکھرے ہوئے صحت معلوماتی نظام، باہمی مطابقت کی محدود صلاحیت، مختلف خطوں میں ڈیجیٹل ترقی کی غیر یکساں سطح، دائمی اور غیر متعدی بیماریوں کا بڑھتا ہوا بوجھ، صحت کے شعبے میں افرادی قوت کی کمی، اور ڈیٹا کے مؤثر نظم و نسق کے لیے مضبوط فریم ورک کی ضرورت شامل ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ اگرچہ برکس ممالک کے صحت کے نظام ایک دوسرے سے مختلف ہیں، لیکن سب کا مشترکہ مقصد ایسے صحت کے نظام کی تشکیل ہے جو باہم مربوط، مریض پر مرکوز اور مضبوط ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ جامع رپورٹ علاج و نگہداشت کے تسلسل کو مضبوط بنانے کے لیے ایک عملی فریم ورک فراہم کرتی ہے، جس میں باہم مربوط ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینا، کھلے معیارات کو اپنانا، محفوظ اور مریض کی رضامندی پر مبنی ڈیٹا کے تبادلے کو یقینی بنانا، اور مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینا شامل ہے۔
اس ضمنی اجلاس میں ایک اعلیٰ سطحی پینل ڈسکشن بھی ہوا، جس میں برکس کے رکن ممالک اور شراکت دار ممالک کے نمائندوں اور ماہرین نے شرکت کی۔ انہوں نے باہم مربوط ڈیجیٹل صحت کے بنیادی ڈھانچے اور ذمہ دار مصنوعی ذہانت کے ذریعے علاج و نگہداشت کے تسلسل کو مضبوط بنانے کے حوالے سے اپنے تجربات اور بہترین طریقۂ کار کا تبادلہ کیا۔
مباحثے کے دوران اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ مختلف ممالک کس طرح ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے سے فائدہ اٹھا کر مختلف طبی مراکز اور صحت کے نظاموں میں علاج و نگہداشت کے تسلسل کو بہتر بنا رہے ہیں۔ برازیل کے نمائندوں نے قومی صحت ڈیٹا نیٹ ورک (آر این ڈی ایس) کے حوالے سے اپنے تجربات بیان کیے اور بتایا کہ اس نظام نے کاغذی ریفرل کے طریقۂ کار کو ختم کرکے پورے ملک میں صحت سے متعلق معلومات کے ایک متحدہ قومی تبادلہ نظام کی بنیاد رکھی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ٹیلی ہیلتھ خدمات کا دائرہ اب ملک کی تقریباً 80 فیصد بلدیات تک پھیل چکا ہے، جس کے نتیجے میں دور دراز اور محروم علاقوں، بشمول ایمیزون کے خطے، میں ماہر ڈاکٹروں کی صحت خدمات تک رسائی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
انڈونیشیا کے نمائندوں نے ملک میں مربوط بنیادی صحت نگہداشت کے ماڈل کو ہزاروں پسکیسماس (بنیادی صحت مراکز) تک تیزی سے وسعت دینے کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے ساتو صحت ڈیجیٹل صحت پلیٹ فارم کے نفاذ پر بھی روشنی ڈالی، جسے انڈونیشیا کے 17 ہزار سے زائد جزیروں پر مشتمل وسیع جزیرہ نما ملک میں، رابطے کے مسائل کے باوجود، علاج و نگہداشت کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے ڈھالا گیا ہے۔
پینل نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت صحت کی خدمات کو بہتر بنانے کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے، لیکن اس کا محفوظ اور مؤثر استعمال معیاری، باہم مربوط صحت کے ڈیٹا اور مقامی سطح پر تصدیق شدہ طبی شواہد پر منحصر ہے۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی صحت کے حل کو بڑے پیمانے پر نافذ کرنے سے قبل برکس ممالک کو مضبوط نظم و نسق کے فریم ورک، معیاری ڈیٹا، باہمی مطابقت کے معیارات، توثیقی نظام، سائبر سکیورٹی، صحت کے شعبے کی افرادی قوت کی استعداد کار میں اضافے اور پائیدار مالی وسائل پر سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔
اس ڈائیلاگ میں برکس ممالک نے اس مشترکہ عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مضبوط، جامع اور عوام پر مرکوز صحت کے نظام کی تشکیل کے لیے ڈیجیٹل اختراع اور ذمہ دار مصنوعی ذہانت سے بھرپور استفادہ کریں گے، تاکہ سب کے لیے جامع صحت کی سہولت کو فروغ دیا جا سکے اور پورے صحت کے نظام میں علاج و نگہداشت کے تسلسل کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
اس تقریب میں روس کے نائب وزیرِ صحت ولادیمیر زیلنسکی، برازیل کے آرتھر فرنانڈیس دا سلوا، ایتھوپیا کی ڈاکٹر ہیووٹ سولومن، انڈونیشیا کے ڈاکٹر ہارڈیتیا سوریہ وانتو، عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) بھارت میں صحت نظام کی ٹیم لیڈر ڈاکٹر گریس اچنگورا، برکس کے رکن اور شراکت دار ممالک کے وزراء، سینئر حکام اور مندوبین نے شرکت کی۔
**********
(ش ح – ع و - م الف)
U.No:513
(रिलीज़ आईडी: 2288910)
आगंतुक पटल : 12