سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
حکومت نے منشیات کی طلب میں کمی، نشہ چھڑانے کی خدمات کے فروغ اور مرکزی امداد یافتہ اسکیموں کے تحت امدادی نظام کو زیادہ کارگر بنایا ہے: وزیرِ مملکت برائے سماجی انصاف و تفویض اختیارات، لوک سبھا میں اپنے تحریری جواب میں بی ایل ورما کا انکشاف
نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت ملک گیر بیداری مہمات کے ذریعے 29.68 کروڑ سے زائد شہریوں تک آگاہی پہنچائی گئی: بی ایل ورما
حکومت منشیات کی طلب میں کمی کے قومی ایکشن پلان (این اے پی ڈی ڈی آر) کے تحت ملک بھر میں نشہ چھڑانے اور باز آبادکاری کے 765 مراکز کی معاونت کر رہی ہے
प्रविष्टि तिथि:
23 JUL 2026 2:18PM by PIB Delhi
وزارت سماجی انصاف و تفویض اختیارات منشیات کی طلب میں کمی، مریضوں کی باز آبادکاری اور سماجی انصاف سے متعلق شعبوں میں بروقت مالی معاونت، زیادہ شفافیت اور خدمات کی مؤثر فراہمی کو یقینی بنانے کے واسطے مرکزی اعانت یافتہ اسکیموں کے نفاذ کو مسلسل مضبوط بنا رہی ہے۔ وزارت نے فنڈ جاری کرنے کے طریقۂ کار کو آسان بنانے، نشہ چھڑانے کے مراکز کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے اور ملک بھر میں بازآبادکاری کی خدمات تک رسائی بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔
یہ معلومات وزیرِ مملکت برائے سماجی انصاف و تفویض اختیارات، بی ایل ورما نے رکنِ پارلیمنٹ محترمہ پرتِما منڈل کی جانب سے پوچھے گئے متعدد سوالات کے تحریری جواب میں لوک سبھا کو دی ہیں۔
وزیر موصوف نے ایوان کو بتایا کہ محکمہ نے مختلف مرکزی اعانت یافتہ اسکیموں کے تحت تجاویز کی بروقت جانچ اور فنڈ کے بروقت اجراء کو یقینی بنانے کے واسطے ایک سخت نگرانی کا نظام قائم کیا ہے۔ اس کے علاوہ، شراکت دار غیر سرکاری تنظیموں (این جی او) کو گرانٹ جاری کرنے کے عمل کو آسان بنانے کے واسطے نظرثانی شدہ معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پی) نافذ کیا گیا ہے، تاکہ منشیات کی طلب میں کمی کے قومی ایکشن پلان (این اے پی ڈی ڈی آر) اور اٹل وایو ابھیودے یوجنا جیسی اسکیموں پر عمل درآمد کرنے والی تنظیموں کے لیے دستاویزی تقاضے کم ہوسکے اور انتظامی کارکردگی میں بہتری لائی جا سکے۔
منشیات کے استعمال کی روک تھام کے لیے حکومت کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے جناب بی ایل ورما نے کہا کہ وزارت منشیات کی طلب میں کمی کے قومی ایکشن پلان (این اے پی ڈی ڈی آر) کے تحت ایک جامع اور شواہد پر مبنی حکمتِ عملی پر عمل کر رہی ہے۔ یہ حکمتِ عملی نئی دہلی میں واقع آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے (منشیات کی لت کے علاج کا قومی مرکز) کی جانب سے ہندوستان میں منشیات کے استعمال کی وسعت اور رجحانات پر کیے گئے پہلے قومی سروے کے نتائج پر مبنی ہے۔

سروے کے مطابق بالغ افراد (18 سے 75 سال عمر) میں شراب سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی نشہ آور شے ہے، جس کے استعمال کنندگان کی تعداد تقریباً 15.10 کروڑ ہے۔ اس کے بعد تقریباً 2.90 کروڑ افراد بھنگ (کینابس)، 1.90 کروڑ افراد اوپیوئیڈ کے عادی، 1.10 کروڑ افراد نشہ آور ادویات، جبکہ 60 لاکھ افراد سانس کے ذریعے استعمال کی جانے والی نشہ آور اشیا استعمال کرتے ہیں۔10 سے 17 سال کی عمر کے بچوں اور کمسن افراد میں سروے کے مطابق تقریباً 40 لاکھ اوپیوئیڈ استعمال کرنے والے، 30 لاکھ شراب کے عادی، 30 لاکھ سانس کے ذریعے استعمال کی جانے والی نشہ آور اشیا استعمال کرنے والے، اور 20 لاکھ بھنگ (کینابس) استعمال کرنے والے ہیں، جس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ عوامی بیداری، روک تھام اور علاج سے متعلق اقدامات کو مسلسل جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔
وزیر موصوف نے مزید بتایا کہ منشیات کی طلب میں کمی کے قومی ایکشن پلان(این اے پی ڈی ڈی آر) کے تحت وزارت ریاستی حکومتوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں، غیر سرکاری تنظیموں (این جی او) اور سرکاری اسپتالوں کو پرہیز کی تعلیم، عوامی بیداری، مشاورت، علاج اور باز آبادکاری کی خدمات کے لیے مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔ اس وقت وزارت ملک بھر میں 344 مربوط نشہ مکت مراکز، 45 کمیونٹی پر مبنی ہم جماعتی زیر قیادت مداخلتی مراکز، 76 آؤٹ ریچ اور ڈراپ اِن مراکز، 145 ضلعی نشہ مکتی مراکز اور 155 نشہ کے علاج مراکز کی معاونت کر رہی ہے۔
تحریری جواب میں مزید بتایا گیا کہ 15 اگست 2020 کو شروع کیے گئے اور اگست 2023 میں ملک کے تمام اضلاع میں چلائے گئے نشہ مکت بھارت ابھیان، منشیات کے استعمال کے خلاف دنیا کی سب سے بڑی عوامی بیداری مہموں میں سے ایک بن چکا ہے۔
اب تک اس مہم کے ذریعے ملک بھر میں انجام دی جانے والی بیداری سرگرمیوں کے ذریعے 29.68 کروڑ سے زائد شہریوں تک آگاہی کی رسائی بہم پہنچائی جا چکی ہے، جن میں 11.43 کروڑ سے زیادہ نوجوان اور 8.05 کروڑ خواتین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک لاکھ 17 ہزار سے زائد "نشہ مکتی متر" بھی اس مہم سے وابستہ ہو چکے ہیں تاکہ عوامی شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ مزید برآں، 28.29 لاکھ سے زائد افراد کا علاج اور بازآبادکاری عمل میں لائی گئی، جبکہ ملک بھر کے 21.73 لاکھ تعلیمی اداروں میں عوامی رابطہ اور بیداری کی سرگرمیاں بھی انجام دی گئیں۔
علاج کی سہولیات تک رسائی کو آسان بنانے کے لیے وزارت نے این ایم بی اے 2.0 موبائل ایپ متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے شہری اپنے قریب ترین نشہ چھڑانے کے مرکز کا پتہ لگا سکتے ہیں۔ مالی سال 2024-25 کے دوران پسماندہ اضلاع میں 55 نئے ضلعی نشہ مکتی مراکز کی منظوری دی گئی، جبکہ 2025-26 میں مزید 21 مراکز قائم کیے گئے، جس سے ملک میں نشہ چھڑانے کے بنیادی ڈھانچے میں مزید توسیع ہوئی۔
وزیر موصوف نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ دسمبر 2024 میں ڈیولپمنٹ اینڈ ریسرچ سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ اور 2025 میں نیتی آیوگ کی جانب سے کیے گئے آزادانہ تیسرے فریق کے جائزوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ منشیات کی طلب میں کمی کے قومی ایکشن پلان سے ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے اور ملک بھر میں منشیات کے استعمال کے خلاف بیداری پیدا کرنے کے حوالے سے نمایاں پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔
حکومت نشہ سے پاک اور سماجی طور پر ہمہ گیر ہندوستان کے عزم کو مزید مضبوط بناتے ہوئے بازآبادکاری کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع، احتیاطی اقدامات کو فروغ، عمل درآمد کے طریقۂ کار کو آسان بنانے اور مرکزی معاونت یافتہ اسکیموں کی مؤثر فراہمی کو یقینی بنانے کے واسطے مسلسل کام کر رہی ہے۔ عوامی شراکت داری، بہتر نظم ونسق اور ٹیکنالوجی سے لیس خدمات کی فراہمی کے ذریعے وزارت متاثرہ اور حساس طبقات کے تحفظ اور سب کے لیے سماجی انصاف کے فروغ کے تئیں اپنی عہد بندی پر قائم ہے۔
******
(ش ح ۔ م ش ع ۔ م ا)
UR. No-434
(रिलीज़ आईडी: 2288302)
आगंतुक पटल : 21