امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر داخلہ اور کو آپریٹیو  کے وزیر جناب امت شاہ نے کولکتہ میں'میوزیم آف ورڈ' کے پہلے مرحلے کا افتتاح کیا


آج  میوزیم آف ورلڈ  وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی کے قوم کی ثقافتی نشاۃ ثانیہ کے عزم کو ٹھوس شکل دے رہا ہے

یہ میوزیم ہندوستان کی زبانوں، ثقافت اور ثقافتی نشاۃ ثانیہ کے سفر کو آنے والی نسلوں تک لے جانے کے لیے ایک طاقتور ذریعہ کے طور پر کام کرے گا

زبان الفاظ سے بنتی ہے، الفاظ جذبات سے بنتے ہیں اور ثقافت زبان سے بنتی ہے، اس سفر کو سمجھے بغیر ہندوستان کی ثقافتی نشاۃ ثانیہ مکمل نہیں ہو سکتی

ہم کبھی  اختراع سے پیچھے نہیں ہٹے اور ہمیشہ ہر وہ چیز قبول کی ہے ، یہی وجہ ہے کہ لاتعداد چیلنجوں اور رکاوٹوں  کے باوجود ہمارا ثقافتی سفر ہمالیہ کی طرح ثابت قدم ہے

میوزیم آف ورلڈ  کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے لیے وسعت دی جانی چاہیے، جس سے ہندوستانی زبانوں کو مستقبل کی ٹیکنالوجیز کے مطابق تیار کیا جا سکے

یہ میوزیم آف ورڈز  یعنی الفاظ کا عجائب گھر، زبان کے آغاز سے لے کر اب تک کے پورے سفر کی داستان سناتا ہے،جس میں اونکار سے لے کر قواعدِ زبان (گرامر)، شروتی اور اسمرتی کی قدیم روایات، تاڑ کے پتوں پر لکھی گئی تحریریں، پتھروں کے کتبے، پرنٹنگ پریس اور اب مصنوعی ذہانت تک کا پورا ارتقا شامل ہے

یہ میوزیم بصری، سمعی اور عمیق تجربات کے ذریعے ہندوستان کے کثیر لسانی شعور، علمی روایات اور اجتماعی یاد کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک اختراعی اقدام ہے

اس میوزیم نے غیر مرئی لفظ کو بصری، سمعی، اسپرش اور عمیق تجربے میں تبدیل کرنے کا اہم کام انجام دیا ہے

بنگال طویل عرصے سے ہندوستان کے ثقافتی شعور کا عالمی مینار رہا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ وہ ایک بار پھر دنیا کی رہنمائی کا کردار ادا کرے

آئیے ہم 2047 تک ایک وکست بھارت بنانے کا عزم کریں اور اپنے الفاظ، اپنی ثقافت اور اپنے خود اعتمادی سے طاقت حاصل کرتے ہوئے، وشو گرو کے طور پر ہندوستان کی مقام  کو بحال کرنے کا عہد  کریں

زبان کے لیے ہمارا عزم یہ ہونا چاہیے کہ ہر خاندان سیکھنے کا پہلا درس گاہ بنے، ہر یونیورسٹی اصل فکر کا مرکز بن کر ابھرے، ہر زبان ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت  صلاحیتوں سے بااختیار ہو

प्रविष्टि तिथि: 19 JUL 2026 7:36PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر داخلہ اور کو آپریٹو کے وزیر جناب امت شاہ نے آج مغربی بنگال کی راجدھانی کولکتہ میں 'میوزیم آف ورڈ' کے پہلے مرحلے کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری، وزیر خزانہ جناب سواپن داس گپتا، مرکزی داخلہ سکریٹری، مرکزی ثقافتی سکریٹری، ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) اور کئی دیگر معززین موجود تھے۔

1.jpeg

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ آج کا دن ملک کی زبانوں اور ثقافتوں کے لیے ایک اہم دن ہے۔ یہ شبد سنگرہالیہ ملک کی ثقافتی نشاۃ ثانیہ کے لیے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے عزم کو پورا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک یا ریاست کی ثقافت کا اظہار زبان کے بغیر ناممکن ہے اور جذبات سے جنم لینے والے الفاظ کے بغیر زبان نہیں بن سکتی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہماری آنے والی نسلیں یہ نہیں سمجھیں گی کہ زبان الفاظ سے بنتی ہے، الفاظ جذبات سے جنم لیتے ہیں، زبان ثقافت تخلیق کرتی ہے اور ثقافت کا اظہار نہیں ہوتا، اس ملک کی ثقافتی نشاۃ ثانیہ ممکن نہیں ہو گی۔ جناب شاہ نے اس یقین کا اظہار کیا کہ یہ 'شبد سنگرہالیہ' ملک کی زبانوں، ثقافت اور ثقافتی نشاۃ ثانیہ کے سفر کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے کا ایک طاقتور ذریعہ بن جائے گا۔

2.jpeg

مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ شبد سنگرہالیہ میں پانینی کی گرامر کے پورے کردار کو خوبصورتی سے دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رِگ وید میں کہا گیا ہے کہ ہمارے پاس ہر طرف سے فلاح و بہبود کے خیالات آتے رہیں، جنہیں کسی کے ذریعہ دبایا نہیں جانا چاہئے، جس میں کوئی رکاوٹ نہیں بن سکتا، اور ہمیں ان خیالات کی بنیاد پر اپنی سماجی زندگی کو آگے بڑھانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم میں کوئی تنگ نظری پیدا نہیں ہو سکتی کیونکہ خود ہمارے نظام فکر میں کوئی تنگ نظری نہیں ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ جب ہم بھومی پوجن کرتے ہیں اور شانتی منتر کا جاپ کرتے ہیں، تو ہم جانوروں، پودوں اور پوری کائنات میں امن کی دعا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تنگ نظری کبھی بھی ہندوستانی ثقافت کی علامت نہیں بن سکتی۔

3.jpeg

جناب امت شاہ نے کہا کہ شبد سنگرہالیہ ہماری زبانوں اور ثقافت کو ہمیشہ کے لیے آنے والی نسلوں کو سکھائے گا، انھیں ہماری ثقافت سے متعارف کرائے گا اور انھیں جینے کا طریقہ سکھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی نظریات پر نظر نہیں رکھی۔ انہوں نے کہا کہ اومکار سے الفاظ کی تشکیل اور گرامر کی تخلیق سے شروتی اسمرتی تک، مخطوطات اور نوشتہ جات سے پرنٹنگ مشین تک – یہ پورا میوزیم الفاظ کے سفر کو بیان کرتا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ شبد سنگرہالیہ کو ڈیجیٹل اور اے آئی تک پھیلاتے ہوئے ہندوستانی زبانوں کو مستقبل کی ٹیکنالوجی کے مطابق تیار کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جدت سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے اور ہر اچھی چیز کو اپنایا ہے، یہی وجہ ہے کہ کئی ناکامیوں کے باوجود ہمارا ثقافتی سفر ہمالیہ کی طرح مضبوطی سے کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شبد سنگرہالیہ ہندوستان کے کثیر لسانی شعور، علمی روایت اور عوامی یادداشت کو بصری، صوتی اور تجرباتی شکلوں میں محفوظ رکھنے کی ایک اختراعی کوشش ہے۔

4.jpeg

مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ بنگال میں کئی طرح کے سنگراہالیہ  ہیں اور انہیں یقین ہے کہ شبد سنگرہالیہ بہت ہی کم وقت میں اپنا مقام قائم کر لے گا۔ یہاں آنے والے لفظوں کے متلاشی اس سے ضرور کچھ نہ کچھ حاصل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ الفاظ اور الفاظ کی سائنس کو اگلی نسل تک متعارف کرانا ایک نازک اور مشکل کام تھا لیکن وزارت ثقافت نے اسے پورا کر دیا ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ الفاظ کو کوئی نہیں باندھ سکتا، لیکن اس میوزیم نے الفاظ کی سائنس کو باندھ دیا ہے۔ الفاظ سنے، بولے، جیے، اور اگلی نسل تک منتقل کیے جاسکتے ہیں۔ شبد سنگرہالیہ یہ کام کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ شبد سنگرہالیہ کے ذریعے ثقافت کی وزارت نے غیر مرئی ورثے کو مرئی، قابل سماعت، اسپرش اور تجرباتی بنانے کا کام کیا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ میوزیم میں جب کہا جاتا ہے کہ دنیامیں سب سے پہلا لفظ کون سا بولا گیا ہوگا اور جب اومکار سامنے آتا ہے تو ہمیں بھی لگتا ہے کہ اومکار ہی دنیا کا سب سے پہلا لفظ ہوگا۔  انہوں نے کہا کہ جب ہم اپنی زبان میں اپنی ماں کی لوری سنتے ہیں تو وہ ہمیں اپنی ماں کی یاد دلاتی ہیں۔ جناب  شاہ نے کہا کہ میوزیم میں مختلف قسم کے نمونے اور مخطوطات رکھے گئے ہیں جو کہ قابل توجہ اور تجرباتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میوزیم میں ملک کی بہت سی بولیوں، زبانوں اور ہر علاقے کی لوک ثقافت کو محفوظ کیا گیا ہے، جو ہمارے ثقافتی سفر کو الفاظ کے ذریعے بیان کرتا ہے۔ یہاں بہت سے نوشتہ جات، تانبے کی تختیاں، برچ کی چھال کے مسودات اور بہت سی مطبوعہ کتابیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکسٹ اور آڈیو ریکارڈنگ کے بعد اب ہمیں اے آئی کا سفر مکمل کرنا ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ میوزیم میں ہر ایک گیلری کو انتہائی سائنسی انداز میں بنایا گیا ہے۔ واقفیت کی جگہ زبان کی ابتدا سے شروع ہوتی ہے۔ زبان کے ارتقاء کو افسانوں، لوریوں اور حسی تجربات کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر انسان کو اپنی مادری زبان سے لگاؤ ​​ہوتا ہے۔ ہمیں اس تعلق کو اپنے کردار کا حصہ بنانا چاہیے۔

مرکزی وزیر داخلہ اور کو آپریٹو جناب امت شاہ نے کہا کہ لسانیات ایک ایسی سائنس ہے جو قدرتی طور پر تیار ہوئی ہے۔ زبان یقیناً سائنسی ہے، لیکن یہ ضرورت کی بنیاد پر تیار ہوئی۔ زبانیں بہت فطری طور پر نشوونما پاتی ہیں، اسی لیے انہیں معاشرے میں قبول کیا جاتا ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ ہمارے ملک کی ہر زبان کو زندہ رکھنے میں بہت سے عظیم شخصیات ، شاعروں اور ادیبوں نے اپنا تعاون دیا ہے۔ میوزیم میں گیلری ان کے اعزاز کے لیے بنائی گئی ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ اس ملک کا مستقبل اس کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلباء کی تعداد پر منحصر نہیں ہے۔ اس ملک کے مستقبل کا انحصار نوجوانوں اور نوعمروں کی تعداد پر ہے جو اس کی لائبریریوں کا دورہ کرتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ لائبریری کو اپنی شخصیت کی تشکیل کے لیے استعمال کریں۔

مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ بنگال مجموعی طور پر بھارتی شعور کا ایک عالمی مینارِ نور رہا ہے۔ ایک طویل دور ایسا بھی آیا جب ہمارے بھارتی ثقافتی شعور کو بنگال سے الگ کرنے کی کوشش کی گئی۔ محدود اور غیر ملکی نظریات نے ملک اور دنیا میں بنگال کے تعاون کی صلاحیت کو کمزور کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بنگال میں مہارشی اربندو، سوامی وویکانند اور رام کرشن پرمہنس جیسے عظیم رہنما پیدا ہوئے اور یہیں چیتنیہ مہاپربھو بھی ہوئے ۔ بنگال نے ہی ملک کو بہترین سائنسداں، ادیب اور سب سے بڑے انقلابی نیتا جی سبھاش چندر بوس دیے۔ بنگال ہمیشہ ملک سے پانچ دہائیاں آگے رہ کر قوم کی رہنمائی کرتا تھا۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ بھارتی شعور کا یہ فکری مینارِ نور ایک بار پھر اپنی پوری طاقت کے ساتھ پوری دنیا کے شعور کو بیدار کرنے کا کام کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مودی جی اور شبھیندو جی کی قیادت میں بنگال میں آنے والی تبدیلی کی بدولت انہیں پورا یقین ہے کہ بنگال دیکھتے ہی دیکھتے بھارتی شعور کا ایک روشن مینار بن جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہارشی اربندو کو پڑھے بغیر ہم بھارت کو نہیں سمجھ سکتے۔ مہارشی اربندو نے بھارت کے ماضی اور حال کو لکھا اور اس کے مستقبل کی بھی نشاندہی کر کے اسے نئی نسل کے سامنے پیش کیا۔ مہارشی اربندو کا ہی فرمان ہے کہ ایک دن بھارت ماتا یقیناً دوبارہ 'وشو گرو' کے عہدے پر فائز ہوگی اور پوری دنیا کو اپنا بہتردینے کی کوشش کرے گی۔

جناب امت شاہ نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ الفاظ اور زبان کو سمجھیں، صحیح تلفظ کریں اور اپنے تاثرات کو موثر بنانے کے لیے گرامر کو ضم کریں۔ اس سے معاشرے میں نوجوانوں کی قبولیت میں کئی گنا اضافہ ہوگا۔

وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ آج پورا ملک 'وندے ماترم' کی 150 ویں سالگرہ منا رہا ہے اور ایسے تاریخی موقع پر اس 'شبد سنگراہالیہ' یعنی الفاظ کے عجائب گھر کا افتتاح ہو رہا ہے۔ اسٹیج پر کھڑے ہو کر جب ہم مکمل وندے ماترم گیت سنتے ہیں، تب ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت ماتا کے لیے ہمارے دل میں کیا جذبہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے احساس اور شعور سے آزادی کے 76-77 سال تک ملک محروم رہا۔ یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ آج ہر اسکول میں پورا وندے ماترم گایا جاتا ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 2024 میں بنگالی کو کلاسیکی زبان کا درجہ دیا تھا۔ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی 125 ویں یوم پیدائش بھی حال ہی میں منائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ شیاما پرساد مکھرجی تھے جنہوں نے شاعر گرو ٹیگور کو کولکتہ یونیورسٹی میں بنگالی زبان میں کانووکیشن سے خطاب کیا۔ برطانوی دور حکومت میں ہندوستان کی کسی بھی یونیورسٹی میں یہ پہلا موقع تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج بنگال ایک بار پھر 'سونار بنگلہ' بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ انسان سمجھتا ہے کہ زبان کو اس نے بنایا ہے، لیکن ان کا ماننا ہے کہ زبان نے انسان کو بنایا ہے۔ کوئی بھی شخص تب انسان بنتا ہے جب اس کے اندر احساس اور جذبہ بیدار ہوتا ہے، اور زبان ہی اس جذبے کو بیدار کرتی ہے۔ زبان کی بنیاد لفظ اور اپنی زبان کے الفاظ ہیں۔ 'شبد سنگراہالیہ' ان ہی الفاظ کو آگے بڑھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ زبان کے لیے پانچ اصول (سوتر) بہت اہم ہیں۔ ان میں یہ شامل ہے کہ - خاندان کی زبان ہی پہلی درسگاہ بنے، بچے کی تعلیم ماں کی زبان (مادری زبان) میں ہو، اور اسکول و یونیورسٹیاں بنیادی اور تخلیقی سوچ کا مرکز بنیں، تب ہی ہم نئی تخلیقات میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی اور اچھوتی سوچ کی شروعات یونیورسٹیوں کو کرنی چاہیے۔ ہر بھارتی زبان کو ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت  کی صلاحیتوں سے لیس کر کے انہیں ایک ہزار سال کی اضافی زندگی دینے کی کوشش ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لائبریریاں اور میوزیم  صرف عمارتوں تک محدود نہ رہیں، بلکہ ان کے اندر کے جذبات اور پیغامات نوجوانوں اور بچوں تک پہنچیں، اور اس کے لیے باقاعدہ مہم چلائی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہر نوجوان اپنی مادری زبان کے ساتھ ساتھ ایک اور بھارتی زبان ضرور سیکھے۔ اس طرح ہم نہ صرف اپنی مادری زبان کو بلکہ بھارت کی تمام زبانوں کو طویل عمر دینے کی سمت میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔ جناب شاہ نے کہا کہ اگر حکومتیں، تعلیمی نظام اور خاص طور پر ملک کے عوام ان پانچوں باتوں پر عمل کریں، تو یہ زبانوں کی خدمت میں ایک بہت بڑا تعاون ہوگا۔

5.jpeg

جناب امت شاہ نے کہا کہ بھارتی ثقافت کا مینارِ نور مانی جانے والی بنگال کی اس سرزمین سے ہمیں یہ عزم  کرنا چاہیے کہ ہم لفظوں کے ذریعے اپنی ثقافت کو طاقت دیں گے۔ ثقافت سے ہم اپنا خود اعتمادی جگائیں گے، اور اسی خود اعتمادی کی بدولت 2047 تک 'وکست بھارت' یعنی ترقی یافتہ ہندوستان بنا کر بھارت ماتا کو 'وشو گرو' بنانے کا اپنا خواب پورا کریں گے۔ یہ 'شبد سنگراہا لیہ' اس عظیم مقصد کی بنیاد بنے گا۔

*******

U.No: 150

ش ح۔ن ا۔ ش ب


(रिलीज़ आईडी: 2286409) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Telugu , English , हिन्दी , Assamese , Bengali , Bengali-TR , Punjabi , Gujarati , Kannada