کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے اسپین، بیلجیم، فن لینڈ اور ایسٹونیا کا کامیاب دورہ مکمل کیا، جس سے یورپ کے ساتھ ہندوستان کی اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوطی ملی


جناب پیوش گوئل نے آئندہ دس برسوں میں ہندوستان اور اسپین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور سیاحت کو دس گنا بڑھانے کے لیے '10×10×10' وژن پیش کیا

برسلز کے دورے کے دوران ہندوستان نے مہارتوں کی ترقی، صنعتی تعاون اور دفاعی اشتراک کے شعبوں میں نئی تجاویز پیش کیں

جناب پیوش گوئل نے فن لینڈ کی کمپنیوں کو ہندوستان میں مینوفیکچرنگ، تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت دی

جناب پیوش گوئل نے ایسٹونیا میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے ساتھ اپنا یورپ کا دورہ مکمل کیا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دینا تھا

جناب پیوش گوئل کے اس دورے سے ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان مجوزہ آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) سے متعلق سرمایہ کاری، مارکیٹ تک رسائی اور ضابطہ جاتی تعاون پر جاری مذاکرات کو بھی تقویت ملی

प्रविष्टि तिथि: 19 JUL 2026 7:51PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے 13 سے 18 جولائی 2026 تک اسپین، بیلجیم، فن لینڈ اور ایسٹونیا کا پانچ روزہ کامیاب دورہ کیا۔ اس موقع پر ان کے ساتھ ہندوستانی صنعت و تجارت سے وابستہ اعلیٰ سطحی کاروباری وفد بھی موجود تھا۔ دورے کے دوران انہوں نے چاروں ممالک میں وزراء، اعلیٰ سرکاری عہدیداروں، صنعت کاروں، کاروباری رہنماؤں اور مختلف شعبوں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔ اس دورے کا مقصد یورپ کے ساتھ ہندوستان کی اقتصادی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا، تکنیکی تعاون میں وسعت لانا اور کاروباری روابط کو مضبوط بنانا تھا۔ یہ دورہ ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) سے متعلق مذاکرات کی کامیاب تکمیل کے بعد پیدا ہونے والی مثبت رفتار کو آگے بڑھانے کی ایک اہم کوشش بھی تھا۔

اسپین میں جناب پیوش گوئل نے پہلے نائب وزیر اعظم اور وزیر معیشت، تجارت و کاروبار کارلوس کیورپو کابالیرو اور وزیر صنعت و سیاحت جورڈی ہیریو بوہیر سے تفصیلی بات چیت کی۔ انہوں نے کاروباری نمائندوں کی شرکت کے ساتھ ہندوستان-اسپین مشترکہ کمیشن کا سالانہ اجلاس منعقد کرنے کی تجویز پیش کی، جبکہ اسپین نے دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے خصوصی "انڈیا ٹیم" قائم کرنے کی تجویز دی۔

دونوں ممالک نے ہندوستان کے یونائیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) اور اسپین کے بیزم  ڈیجیٹل ادائیگی پلیٹ فارم کے درمیان باہمی مطابقت پر تکنیکی مذاکرات آگے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ فریقین نے آٹوموبائل، دواسازی، کیمیکل، ٹیکسٹائل، قابل تجدید توانائی، سیاحت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ سرمایہ کاری میں سہولت، پیشہ ور افراد کی نقل و حرکت اور لاطینی امریکہ میں مشترکہ سرمایہ کاری جیسے امور بھی زیر بحث آئے۔ جناب گوئل نے 'میک اِن انڈیا' کے تحت سی-295 طیارہ پروگرام اور ہجرت و نقل و حرکت کی شراکت داری اور سماجی تحفظ کے معاہدے میں ہونے والی پیش رفت کا خیر مقدم کیا۔

ہندوستان-اسپین بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے صنعت کاروں پر زور دیا کہ وہ ہندوستان-یورپی یونین ایف ٹی اے سے پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے بروقت شراکت داری قائم کریں۔ انہوں نے آئندہ دس برسوں میں تجارت، سرمایہ کاری اور سیاحت کو دس گنا بڑھانے کے لیے '10×10×10' وژن بھی پیش کیا۔

برسلز میں جناب پیوش گوئل نے ہندوستان-یورپی یونین ٹریڈ اینڈ ٹیکنالوجی کونسل (ٹی ٹی سی) کے تیسرے وزارتی اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔ انہوں نے 2026-27 ٹی ٹی سی ایکشن پلان کی منظوری اور ہندوستان کی مزید 21 ماہی پروری یونٹس کو یورپی منظوری ملنے کا خیر مقدم کیا، جس کے بعد منظور شدہ ہندوستانی یونٹس کی تعداد بڑھ کر 625 ہو گئی۔ ہندوستان نے جہازوں کی ری سائیکلنگ کرنے والے ہندوستانی یارڈز کی منظوری کا معاملہ بھی اٹھایا اور مہارت، تعلیم اور ٹیلنٹ کی نقل و حرکت پر ہندوستان-یورپی یونین مکالمہ شروع کرنے کی تجویز پیش کی۔

جناب پیوش گوئل نے یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا، یورپی کمشنر برائے تجارت ماروش شیفچووچ، کمشنر برائے موسمیاتی امور وپکے ہوکسٹرا، کمشنر برائے زراعت کرسٹوف ہینسن اور یورپی پارلیمنٹ کی بین الاقوامی تجارت کمیٹی کے چیئرمین برنڈ لانگے سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان ایف ٹی اے پر جلد دستخط اور اس کے نفاذ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

مذاکرات میں سرمایہ کاری کے تحفظ کے معاہدے، جغرافیائی اشاریوں (جی آئی) کے معاہدے، کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم (سی بی اے ایم)، ضابطہ جاتی اصلاحات، زرعی مصنوعات کے لیے منڈی تک رسائی، باسمتی چاول، اسٹیل اسکریپ سمیت مختلف مصنوعات پر ڈیوٹی میں رعایت جیسے موضوعات بھی زیر بحث آئے۔ جناب گوئل نے بیلجیم کی کمپنیوں کے لیے خصوصی پلگ اینڈ پلے صنعتی کلسٹرز قائم کرنے کی تجویز دی اور تھیلس کمپنی کے ساتھ انسداد ڈرون ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک وارفیئر میں دفاعی تعاون پر بھی بات چیت کی۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ہندوستان-یورپی یونین اقتصادی تعلقات کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے شفاف، مستحکم اور کاروبار دوست ضابطہ جاتی ماحول ضروری ہے۔

فن لینڈ میں جناب پیوش گوئل نے قائم مقام وزیر اعظم و وزیر خزانہ ریکا پورا اور وزیر اقتصادی امور ساکاری پوئستو سے ملاقات کی۔ دونوں فریقوں نے مصنوعی ذہانت، 6جی، کوانٹم ٹیکنالوجی، صاف توانائی، سرکلر اکانومی، جدید مینوفیکچرنگ اور اختراعات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے وسیع وسائل اور ہنرمند افرادی قوت کو فن لینڈ کی جدید تکنیکی صلاحیتوں کے ساتھ جوڑ کر مشترکہ تحقیق، تیاری اور اختراعات کے وسیع امکانات پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ ملاقاتوں میں جامعات کے درمیان شراکت داری، اسٹارٹ اپ تعاون، ہنرمند افراد کی نقل و حرکت اور تحقیق کے شعبے میں اشتراک پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

جناب گوئل نے کون (کے او این ای )ور نوکیا کمپنیوں کے سربراہوں  سے بھی ملاقات کی اور دونوں کمپنیوں کو ہندوستان میں مینوفیکچرنگ، تحقیق و ترقی، برآمدات اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری بڑھانے کی ترغیب دی۔ انہوں نے فن لینڈ کی کمپنیوں کو عالمی منڈیوں کے لیے ہندوستان میں پیداواری مراکز قائم کرنے اور ٹیلی کام ٹیکنالوجی، ڈیٹا سینٹرز، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور افرادی قوت کی تربیت میں تعاون بڑھانے کی دعوت دی۔

18 جولائی کو جناب پیوش گوئل نے ایسٹونیا میں اپنے دورے کا اختتام کیا۔ 2021 میں تالِن میں ہندوستانی سفارت خانے کے قیام کے بعد یہ کسی ہندوستانی وزیر کا پہلا سرکاری دورہ تھا، جو دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔

ایسٹونیا کے وزیر خارجہ مارگس ساہکنا کے ساتھ ملاقات میں ڈیجیٹل گورننس، فن ٹیک، یو پی آئی انضمام، ای-ریذیڈنسی، سائبر سکیورٹی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایسٹونیا نے ہندوستان-یورپی یونین ایف ٹی اے کے جلد نفاذ کی حمایت کا اظہار کیا اور ہندوستان کو ایسٹونیا ڈیجیٹل سمٹ میں شرکت کی دعوت دی۔

ہندوستان-ایسٹونیا بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے جناب گوئل نے دونوں ممالک کی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ سائبر سکیورٹی، بلاک چین، صاف توانائی اور گرین ہائیڈروجن جیسے شعبوں میں تعاون بڑھائیں۔ ایسٹونیا نے خود کو نارڈک اور بالٹک خطے کا گیٹ وے قرار دیتے ہوئے ہندوستان کی تیزی سے ترقی کرتی ڈیجیٹل معیشت کے ساتھ شراکت داری میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ دورے کے دوران جناب گوئل نے ہندوستانی برادری سے بھی ملاقات کی اور تالِن میں مہاتما گاندھی کے مجسمے پر خراج عقیدت پیش کیا۔

پورے دورے کے دوران جناب پیوش گوئل نے چاروں ممالک میں کاروباری رہنماؤں، صنعتی اداروں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ ان مذاکرات میں مضبوط سپلائی چین، سرمایہ کاری میں سہولت، اختراعات پر مبنی شراکت داری، مینوفیکچرنگ تعاون، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) اور اسٹارٹ اپس کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے پر زور دیا گیا۔

انہوں نے یورپی صنعتوں کو دعوت دی کہ وہ ہندوستان کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت، وسیع گھریلو منڈی، عالمی معیار کے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے، ہنرمند افرادی قوت اور مستحکم پالیسی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندوستان کو اپنا ترجیحی مینوفیکچرنگ، اختراعی اور برآمدی مرکز بنائیں۔

اس دورے نے یورپ کے ساتھ ہندوستان کے بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات کو نئی رفتار فراہم کی ہے۔ توقع ہے کہ اس دوران طے پانے والی مفاہمتیں ٹیکنالوجی شراکت داری کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاری  میں اضافہ کرنے، ہندوستانی برآمد کنندگان کے لیے منڈی تک رسائی بہتر بنانے اور مستقبل کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

*****

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 152 )


(रिलीज़ आईडी: 2286389) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Gujarati , Telugu , Malayalam