ایٹمی توانائی کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

لتھوانیا کے شہر ولنیئس میں منعقدہ حیاتیات کے 37ویں بین الاقوامی اولمپیاڈ 2026 میں ہندوستانی ٹیم نےایک طلائی  اور 3 چاندی کے تمغے جیتے

प्रविष्टि तिथि: 19 JUL 2026 1:42PM by PIB Delhi

ممبئی، 19 جولائی 2026

لتھوانیا کے شہر ولنیئس میں 12 سے 19 جولائی 2026 تک منعقد ہونے والے 37ویں بین الاقوامی حیاتیات اولمپیاڈ (آئی بی او) 2026 میں ہندوستان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے تمام چار طلبہ کے ذریعے ایک طلائی اور تین چاندی کے تمغے حاصل کیے۔

تمغہ جیتنے والے طلبہ میں بھاویا گنوال (مہندر گڑھ، ہریانہ) نے طلائی تمغہ، جبکہ سومل مائیتی (ہاوڑہ، مغربی بنگال)، نشیت کلانی (پالی، راجستھان) اور انمول کمار (مانسا، پنجاب) نے چاندی کے تمغے اپنے نام کیے۔

ہندوستانی ٹیم کے ساتھ ٹیم لیڈر کے طور پر پروفیسر ریکھا ورتک (ریٹائرڈ، ایچ بی سی ایس ای-ٹی آئی ایف آر، ممبئی) اور ڈاکٹر انوپما روناد (ایچ بی سی ایس ای-ٹی آئی ایف آر) موجود تھیں، جبکہ سائنسی مبصرین میں ڈاکٹر رنجیت سنگھ دیوکر (ایم ایس یونیورسٹی، بڑودہ) اور ڈاکٹر سدھیش گھاگ (یو ایم-ڈی اے ای سینٹر آف ایکسی لینس اِن بیسک سائنسز، ممبئی) شامل تھے۔

اس سال کے اولمپیاڈ میں 78 ممالک کے 307 طلبہ نے حصہ لیا۔ مقابلے میں مجموعی طور پر 31 طلائی، 61 چاندی اور 91 کانسی کے تمغے دیے گئے۔

مقابلے کے عملی امتحانات ولنیئس یونیورسٹی لائف سائنسز سینٹر کی جانب سے تیار کیے گئے اور ان میں حیاتیات کے مختلف جدید شعبوں سے متعلق نہایت مشکل تجرباتی سوالات شامل تھے۔ چھ گھنٹے پر مشتمل عملی امتحان میں طلبہ نے مالیکیولر بایولوجی اور بایو کیمسٹری، حیوانی فعلیات، حیوانی ساخت و درجہ بندی، اور نباتاتی کمپیوٹیشنل بایولوجی کے شعبوں میں پیچیدہ تجربات انجام دیے۔

مالیکیولر بایولوجی و بایو کیمسٹری کے حصے میں پلازمڈز پر رسٹرکشن ڈائجیشن، ایگروز جیل تجزیہ اور حیاتی کیمیائی خامروں (انزائمز) کا تجزیہ شامل تھا۔ حیوانی فعلیات کے امتحان میں طلبہ نے اسپرین کی فارماکوکائنیٹکس کا مطالعہ کیا اور مصنوعی خون کے نمونوں میں دوا کے ٹوٹنے سے بننے والے اجزا کی مقدار کا جائزہ ایک خصوصی ایپ اور لائٹ باکس کلوریمیٹر کی مدد سے لیا۔

حیوانی ساخت و درجہ بندی کے مرحلے میں حشرات کے نمونوں کی درجہ بندی اور ان کے منہ کے اعضا کی باریک تشریح کرنا شامل تھا، جبکہ نباتاتی کمپیوٹیشنل بایولوجی میں طلبہ نے امیج جے  سافٹ ویئر کی مدد سے پودوں کی جڑوں کی لمبائی، مختلف نباتاتی اقسام کی میکروفینوٹائپ خصوصیات اور ٹرانسکرپٹوم کے پیچیدہ تجزیے انجام دیے۔

عملی امتحان کے ساتھ ساتھ چھ گھنٹے پر مشتمل نظری امتحان بھی تین، تین گھنٹے کے دو مراحل میں منعقد کیا گیا۔ اس میں 100 انتہائی مشکل سوالات شامل تھے، جن کی بنیاد حقیقی تحقیقی اعداد و شمار اور فیلڈ اسٹڈی پر رکھی گئی تھی۔ سوالات میں محض معلومات یاد رکھنے کے بجائے سیل اور مالیکیولر بایولوجی، نباتات و حیوانات، جینیات و ارتقا، ماحولیات، حیوانی رویہ (ایتھولوجی) اور حیاتیاتی درجہ بندی جیسے شعبوں میں تجزیاتی اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لیا گیا۔

ہندوستانی وفد کی اس کامیابی پر تمام طلبہ، ٹیم لیڈروں، اساتذہ، رہنماؤں اور ایچ بی سی ایس ای کے حیاتیات اولمپیاڈ سیل کو مبارکباد دی گئی ہے، جنہوں نے اورینٹیشن اور روانگی سے قبل تربیتی کیمپوں میں طلبہ کی رہنمائی کی۔ اس کے علاوہ قومی اسٹیئرنگ کمیٹی، مختلف تدریسی تنظیموں اور حکومت ہند کے مالی معاون اداروں کا بھی مسلسل تعاون پر شکریہ ادا کیا گیا۔

یہ بین الاقوامی حیاتیات اولمپیاڈ میں ہندوستان کی 26ویں شرکت تھی۔ اب تک ملک کے 104 طلبہ اس مقابلے میں حصہ لے چکے ہیں، جن میں 17 نے طلائی، 69 نے چاندی، 17 نے کانسی کے تمغے حاصل کیے، جبکہ ایک طالب علم کا اعزازی طور پرذکر کیا گیا۔ گزشتہ دس برسوں کے دوران ہندوستان کی طلائی تمغہ حاصل کرنے کی شرح 25 فیصد اور چاندی کے تمغوں کی شرح 68 فیصد رہی ہے۔

 

*****

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 141 )


(रिलीज़ आईडी: 2286332) आगंतुक पटल : 14
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Punjabi , Tamil , Telugu