نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت
ایک لاکھ نوجوان قائدین تیار کرنے کا خواب ’مائی بھارت‘ کے توسط سے شرمندہ تعبیر ہو رہا ہے: ڈاکٹر منسکھ مانڈوِیا
’سمواد کے بغیر، کوئی سمادھان نہیں ہو سکتا‘: وزیر مملکت رکشا کھڈسے نے چنتن شیور کے کردار کو اجاگر کیا
’وکست یووا فار وکست بھارت‘ موضوع کے تحت چوتھے چنتن شیور کا آغاز لکھنؤ میں ہوا
प्रविष्टि तिथि:
18 JUL 2026 5:28PM by PIB Delhi
نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت کے ماتحت نوجوانوں کے محکمے نے، ’’وکست یووا بنائے گا وکست بھارت‘‘ (وکست یووا فار وکست بھارت) کے موضوع کے تحت، میرا یووا بھارت (مائی بھارت) کے توسط سے، لکھنؤ میں واقع اندرا گاندھی پرتشٹھان میں چنتن شیور کا آغاز کیا۔ دو روزہ چنتن شیور، جو اپنی نوعیت کا چوتھا اجلاس ہے، محکمہ کے اعلیٰ حکام، مائی بھارت، مائی بھارت نیشنل سروس اسکیم، ڈسٹرکٹ یوتھ آفیسرز، ریجنل ڈائریکٹرز اور سینٹرل ریجن کے فیلڈ فنکشنریز کو ایک پلیٹ فارم پر لایا ہے۔ اس کا مقصد ایک ایسے بااختیار اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار نوجوانوں کے ایکو سسٹم کی تشکیل کے لیے حکمت عملیوں پر غور و فکر کرنا ہے، جو بھارت کے ترقیاتی سفر کو تیز تر بنا سکے۔ منظم بات چیت، بہترین طور طریقوں کے تبادلے اور باہمی تعاون پر مبنی پالیسی سازی کے ذریعے، یہ شِوِر زمینی سطح پر نفاذ کو مضبوط بنانے اور نوجوانوں کی ترقی کے لیے ایک قابلِ عمل روڈ میپ تیار کرنے کا خواہاں ہے۔
افتتاحی سیشن میں نوجوانوں کے امور اور کھیل کود اور محنت و روزگار کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈوِیا کے علاوہ نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزیر مملکت محترمہ رکشا نکھل کھڈسے؛ کھیل کود اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے وزیر، حکومت اترپردیش جناب گریش چندر یادو؛ نوجوانوں کے امور کے محکمے کے سکریٹری ڈاکٹر پلّوی جین گووِل؛ نوجوانوں کے امور کے محکمے کے جوائنٹ سکریٹری جناب شیو رتن؛ اور مائی بھارت اور این ایس ایس کے سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔
کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے، ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا کہ مختلف خطوں میں 'چنتن شیور' کے انعقاد کا مقصد زمینی سطح پر کام کرنے والے افسران کے درمیان بات چیت، باہمی تعاون اور مشترکہ سیکھنے کے ثقافت کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا، "'چنتن' کا مطلب خیالات کا مجموعہ ہے۔ ہم نے اس شِوِر کا انعقاد 'سمواد' کی سہولت فراہم کرنے کے لیے کیا ہے کیونکہ مکالمے کے بغیر کوئی وضاحت نہیں ہو سکتی، اور وضاحت کے بغیر کوئی مؤثر نفاذ ممکن نہیں ہے۔"

مائی بھارت کو وزیر اعظم نریندر مودی کا وژن قرار دیتے ہوئے، ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم قابل نوجوان رہنماؤں کی ایک ایسی نسل تیار کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے جو بھارت کو وکست بھارت @2047 کی منزل تک پہنچائیں گے۔ معاشرے کے ہر طبقے سے ایک لاکھ نوجوان رہنما تیار کرنے کے وزیر اعظم کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ مائی بھارت کا مقصد نوجوانوں کو قیادت، کردار سازی اور قوم کی تعمیر سے جوڑنا ہے۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ یوتھ آفیسرز اور این ایس ایس کے اہلکاروں پر زور دیا کہ وہ 'پنچ پرن' کے مطابق فرض شناسی اور خدمت کے جذبے کے ساتھ کام کریں، اور ان سے اپیل کی کہ وہ خود کو نوجوانوں کو بااختیار بنانے والے سہولت کاروں کے طور پر دیکھیں۔ انہوں نے مزید کہا، "اپنے کام کو محض روزگار نہ سمجھیں۔ آپ کی ذمہ داری اس ملک کے نوجوانوں کو روشن اور بااختیار بنانا ہے۔ جب ہم حکام بننے کے بجائے خدمت گزاروں کے طور پر کام کرتے ہیں، تو نتائج ہمیشہ بہتر ہوتے ہیں۔"
زمینی سطح پر رسائی میں مزید اضافہ کرنے پر زور دیتے ہوئے، مرکزی وزیر نے افسران سے اپیل کی کہ وہ اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور مقامی برادریوں تک پہنچ کر 15 اگست تک مائی بھارت کی جاری رجسٹریشن مہم کو تیز کریں۔ انہوں نے کہا، "مائی بھارت کو ہر نوجوان شہری تک لے جائیں۔ ہر اہل نوجوان کو اس پلیٹ فارم سے جوڑیں اور اپنے عزم اور زمینی سطح پر شمولیت کے ذریعے اس رجسٹریشن مہم کو ایک ملک گیر تحریک میں تبدیل کر دیں۔"
وکست بھارت ینگ لیڈرز ڈائیلاگ (وی بی وائی ایل ڈی) کے دائرہ کار کو وسعت دینے کی جانب ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے، ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا کہ اس اقدام میں اب قومی مکالمے کے ساتھ ساتھ ریاستی سطح کے ایڈیشنز بھی شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ توسیعی فریم ورک وکست بھارت @2047 کے سفر میں نوجوان رہنماؤں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو ممکن بنائے گا۔

شیور سے خطاب کرتے ہوئے، محترمہ رکشا نکھل کھڈسے نے کہا کہ مائی بھارت دو کروڑ سے زیادہ رجسٹریشنز کے ساتھ ملک کا سب سے بڑا یوتھ پلیٹ فارم بن کر ابھرا ہے، جو قوم کی تعمیر کی طرف نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چنتن شیور کی اس پہل قدمی نے مختلف ریاستوں کے افسران کو اپنے میدانی تجربات شیئر کرنے، نفاذ کے چیلنجوں پر تبادلہ خیال کرنے اور اجتماعی طور پر عملی حل تیار کرنے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کر کے مکالمے پر مبنی طرزِ حکمرانی کو ایک ادارہ جاتی شکل دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا، " سمواد کے بغیر کوئی سمادھان نہیں نکل سکتا۔ بہترین حل زمین پر کام کرنے والے ہمارے افسران کے تجربات سے ہی جنم لیتے ہیں۔"
وزیرِ مملکت نے مرکز اور ریاست کے قریبی تعاون کے ذریعے زمینی سطح پر نوجوانوں کی شمولیت کو مضبوط بنانے کے وزارت کے عزم کا اعادہ کیا۔ وکست وائبرنٹ ولیج پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس نے نوجوان رضاکاروں میں قومی یکجہتی اور خدمت کے جذبے کو مزید تقویت دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا، "اگر ہم سب ایک وژن کے ساتھ مل کر کام کریں گے، تو ہم وکست بھارت کا سنکلپ پورا کر لیں گے۔ وزارت ہر افسر کو نوجوانوں کے اقدامات کو آخری حد تک پہنچانے کے لیے تعاون فراہم کرتی رہے گی۔"

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، جناب گریش چندر یادو نے کہا کہ 'چنتن شیور' ایک انتظامی مشق سے کہیں بڑھ کر ہے اور یہ بااختیار نوجوانوں کے ذریعے ملک کے مستقبل کو سنوارنے کے اجتماعی عزم کی نمائندگی کرتا ہے۔ مائی بھارت کو جدت طرازی، حب الوطنی اور نوجوانوں کی قیادت کی ایک تحریک قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ 'وکست بھارت @2047' کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا، "جب نوجوان بیدار ہوتے ہیں، تو نہ صرف منصوبے اور ادارے بدلتے ہیں—بلکہ ملک خود بدل جاتا ہے۔" انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ ہر گرام پنچایت، بلاک اور تعلیمی ادارے کو نوجوانوں کی قیادت اور سماجی عمل کے مراکز میں تبدیل کریں۔ انہوں نے ریاستوں میں ماحولیاتی تحفظ، ڈیجیٹل خواندگی، آفات کے انتظام، صفائی ستھرائی اور خواتین کے تحفظ جیسے شعبوں میں زمینی سطح پر کامیاب اقدامات کو دہرانے پر بھی زور دیا۔

افسران کا خیرمقدم کرتے ہوئے، ڈاکٹر پلوئی جین گویل نے چوتھے 'چنتن شیور' کو محکمہ جاتی غور و فکر کو زیادہ نتیجہ خیز بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ مائی بھارت اور این ایس ایس کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنا رہا ہے، ادارہ جاتی نظام کو بہتر کر رہا ہے اور محض رجسٹریشن سے ہٹ کر نوجوانوں کی بامعنی شمولیت کو فروغ دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا، "صرف رجسٹریشن ہی ہماری منزل نہیں ہے۔ اصل مقصد قومی تعمیر، تجرباتی سیکھنے اور نوجوانوں کی بامعنی شمولیت کے لیے مضبوط پلیٹ فارم تیار کرنا ہے۔"
افتتاحی اجلاس کے بعد، چنتن شیور دن کے موضوع "سمواد سے سمادھان" کے گرد گھومتی ہوئی موضوعاتی گفتگو کی طرف بڑھا۔ اس دوران تکنیکی سیشنز منعقد ہوئے جن میں مائی بھارت پورٹل، نوجوانوں کی ڈیجیٹل آن بورڈنگ اور ان کی شمولیت، مائی بھارت-این ایس ایس فنڈ فلو میکانزم، بین محکمہ ہم آہنگی، اور سالانہ ایکشن پلان 27–2026 پر پریزنٹیشنز شامل تھیں۔ ان سیشنز نے افسران کو اپنے میدانی تجربات کے تبادلے اور باہمی تعاون کے ذریعے قابلِ عمل حل تلاش کرنے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔ راجستھان، گجرات، مدھیہ پردیش اور اتر پردیش کی جانب سے تجرباتی سیکھنے، رضاکاروں کو متحرک کرنے، یوتھ کلبوں اور پروگرام کے نفاذ کے حوالے سے بہترین طور طریقوں کو پیش کیا گیا، جس سے شرکاء کو کامیاب ماڈلز سے سیکھنے اور دیگر ریاستوں میں ان کو دہرانے کے امکانات تلاش کرنے کا موقع ملا۔
مائی بھارت کی چیف اگزیکیوٹیو آفیسر ڈاکٹر پرینکا شکلا نے افسران کو جاری ’’نشہ مکت یووا فار وکست بھارت‘‘ مہم کے بارے میں بھی بتایا۔ نیشنل یوتھ سمٹ کے اختتام پر دہلی میں سہ سطحی ثقافتی مقابلوں کا اہتمام کیا جائے گا، جس کے ذریعہ بیداری عام کی جائے گی، والدین کو حساس بنایا جائے گا اور نشہ مکت بھارت کی تعمیر کو فروغ دیا جائے گا۔
پہلے دن کا اختتام اہم مباحثوں کے خلاصے اور موضوعاتی ورکنگ گروپس کی تشکیل کے ساتھ ہوا، تاکہ چنتن شِوِر کے دوسرے دن پیش کی جانے والی سفارشات کو مزید حتمی شکل دی جا سکے۔ ان بات چیت نے باہمی تعاون پر مبنی، نتیجہ خیز طرزِ حکمرانی کے کلچر کو فروغ دینے اور "وکست یوا فار وکست بھارت" کے وژن کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے مائی بھارت ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے کے تئیں محکمہ کے عزم کو مزید تقویت دی۔
**********
(ش ح –م ف)
U.No:117
(रिलीज़ आईडी: 2286153)
आगंतुक पटल : 41