زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

گزشتہ ایک سال کے دوران آئی سی اے آر نے 44 فصلوں کی 386 جدید اور بہتر اقسام تیار کیں، جن میں 94 فیصد موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جبکہ 29 اقسام غذائیت سے بھرپور  ہیں: جناب شیوراج سنگھ چوہان


 آئی سی اے آر بھارت کی زرعی تبدیلی کا علمبردار ادارہ ہے: مرکزی وزیر زراعت

 کسان زراعت کی روح ہیں، جبکہ سائنس دان اس کا دماغ ہیں: شری شیوراج سنگھ چوہان

 آئی سی اے آر نے یومِ تاسیس کی 98ویں سالگرہ منائی، سائنس کی قیادت میں زرعی تبدیلی کے عزم کا اعادہ

प्रविष्टि तिथि: 16 JUL 2026 4:38PM by PIB Delhi

 بھارتی زرعی تحقیقاتی کونسل (آئی سی اے آر)  نے آج نئی دہلی میں اپنا  98واں یومِ تاسیس  منایا اور  وکست بھارت 2047  کے وژن کو حقیقت کی شکل  دینے کے لیے  سائنس پر مبنی، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ اور کسان مرکوز زرعی ترقی  کے فروغ کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

ہر سال  16 جولائی  کو منایا جانے والا  آئی سی اے آر کا یومِ تاسیس  1928 میں کونسل کے قیام کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ گزشتہ  98 برسوں  کے دوران آئی سی اے آر نے بھارت میں  زرعی تحقیق، زرعی تعلیم اور توسیعی خدمات  کے نظام کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس ادارے نے تکنیکی اختراعات کو فروغ دیا، زرعی پیداوار میں اضافہ کیا، کسانوں کی آمدنی اور معیارِ زندگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور ملک کی  غذائی خوراک  اور غذائی تحفظ  کو یقینی بنانے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001F0Z9.jpg

 

زراعت اور کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے اس موقع پر مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی ۔   ماہی گیری ، مویشی پروری اور ڈیری اور پنچایتی راج کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ ؛ ماہی پروری ، مویشی پروری اور ڈیری اور پنچایتی راج کے وزیر مملکت پروفیسر ایس پی سنگھ بگھیل ، زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر مملکت جناب بھاگیرتھ چودھری اور زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر مملکت جناب رام ناتھ ٹھاکر نے تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی ۔ نیتی آیوگ کے رکن جناب کے وی راجو اور محکمہ ماہی گیری کے سکریٹری جناب نریش پال گنگوار بھی موجود تھے ۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002JAC8.jpg

 

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے  مرکزی وزیر زراعت جناب  شیوراج سنگھ چوہان  نے  آئی سی اے آر  کو بھارت کی زرعی تبدیلی کا  علمبردار ادارہ  قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کی سائنسی تحقیق اور اختراعات نے ملک میں  غذائی اجناس، باغبانی، دودھ اور ماہی پروری  کی ریکارڈ پیداوار حاصل کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران  آئی سی اے آر  نے  44 فصلوں کی 386 بہتر اقسام  تیار کیں، جن میں  94 فیصد موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے ہم آہنگ  ہیں، جبکہ  29 اقسام غذائیت سے بھرپور   ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ  کسان زراعت کی روح ہیں، جبکہ سائنس دان اس کا دماغ ہیں۔  انہوں نے  مانگ  پر مبنی تحقیق، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زراعت، دالوں اور تیل دار بیجوں میں خود کفالت، معیاری زرعی تعلیم، زرعی ٹیکنالوجی کے تجارتی استعمال اور  کرشی وگیان کیندر (کے وی کے)  کے نیٹ ورک کے ذریعے اختراعات کو وسیع پیمانے پر کسانوں تک پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا۔

 https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003XE6U.jpg

 

ماہی گیری ، مویشی پروری اور ڈیری اور پنچایتی راج کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ نے لیبارٹریوں سے کسانوں ، مویشی پالنے والوں اور ماہی گیروں کو ٹیکنالوجی کی تیزی سے منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے کے وی کے نیٹ ورک کے ذریعے تحقیق کی رسائی کو بڑھانے پر زور دیا ۔  انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ محکمہ مویشی پروری اور ڈیری اور آئی سی اے آر کے درمیان مفاہمت نامہ تحقیق ، اختراع اور ٹیکنالوجی کی توسیع  کو مزید مضبوط کرے گا ، کسانوں کی خوشحالی کو تیز کرے گا اور وکست بھارت کے وژن میں تعاون کرے گا ۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004HKFO.jpg

 

زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر مملکت جناب رام ناتھ ٹھاکر نے کہا کہ زراعت اور ڈیری کے شعبوں میں حاصل ہونے والی قابل ذکر پیش رفت کسانوں کی فلاح و بہبود اور دیہی خوشحالی کے لیے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتی ہے ۔  انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ آئی سی اے آر وکست بھارت کے وژن کو عملی جامہ پہنانے میں سائنسی تحقیق ، اختراع اور ٹیکنالوجی کے ذریعے اہم کردار ادا کرتا رہے گا ۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image005153S.jpg

 

زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر مملکت جناب بھاگیرتھ چودھری نے مشاہدہ کیا کہ خوراک کی قلت سے خود کفالت تک کا ہندوستان کا سفر زرعی سائنسدانوں اور کسانوں کی اجتماعی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے ۔  انہوں نے زور دے کر کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے ، مٹی کی صحت کو بہتر بنانے اور دالوں اور تیل کے بیجوں میں خود کفالت حاصل کرنے کے لیے سائنس پر مبنی تحقیق ، قدرتی کاشتکاری اور کسانوں پر مرکوز اختراعات ضروری ہیں ۔  انہوں نے آتم نربھر بھارت اور وکست بھارت کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے آئی سی اے آر کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image006MV9X.jpg

 

ماہی پروری ، مویشی پروری اور ڈیری اور پنچایتی راج کے وزیر مملکت  پروفیسر ایس پی  سنگھ بگھیل نے کہا کہ وکست بھارت@2047 کے وژن کو سائنس پر مبنی زراعت ، جدید ٹیکنالوجی اور اختراع کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے ۔  انہوں نے کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور زراعت کو زیادہ پیداواری اور پائیدار بنانے کے لیے جنس کے لحاظ سے منتخب شدہ منی، مصنوعی حمل ، جنین کی منتقلی ، ماہی گیری ، قدرتی کاشتکاری ، مائیکرو آبپاشی اور نینو کھاد جیسی ٹیکنالوجیز کو فروغ دینے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image007BNG8.jpg

 

‘‘365 دن کی کامیابیوں کا جائزہ، وکست بھارت 2047 کے لیے زراعت کا نیا تصور’’ کے موضوع پر آئی سی اے آر کی سالانہ کامیابیاں پیش کرتے ہوئے محکمہ زرعی تحقیق و تعلیم (ڈی اے آر ای) کے سیکریٹری اور آئی سی اے آر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایم۔ ایل۔ جٹ نے سال 26-2025 کے دوران کونسل کی نمایاں کامیابیوں کا جائزہ پیش کیا اور زرعی تحقیق، اختراع، تعلیم اور توسیعی خدمات کو مزید آگے بڑھانے کے لیے آئندہ کا لائحۂ عمل بیان کیا۔انہوں نے بتایا کہ فصلوں، باغبانی، مویشی پروری اور ماہی پروری کے شعبوں میں پیداوار بڑھنے سے سال کے دوران تقریباً 1.70 لاکھ کروڑ روپے کی اضافی معاشی قدر پیدا ہوئی، جس میں زرعی تحقیق کا تخمینہ شدہ حصہ 55 ہزار کروڑ روپے رہا۔ ان کے مطابق یہ اعداد و شمار زرعی سائنس میں کی گئی سرمایہ کاری پر حاصل ہونے والے نمایاں اور مؤثر معاشی فوائد کی عکاسی کرتے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image008BC44.jpg

 

ڈاکٹر جٹ نے مزید بتایا کہ سائنسی ٹیکنالوجیز سے  تقریباً ایک کروڑ کسان  براہِ راست مستفید ہوئے، جبکہ  میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز  کے ذریعے یہ معلومات  پانچ کروڑ سے زائد کسانوں  تک پہنچیں۔ انہوں نے کہا کہ  18 بین الاقوامی مفاہمت ناموں (ایم او یوز)  نے آئی سی اے آر کے عالمی اشتراک کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ انہوں نے خوشحال کسانوں کی تعمیر اور  وکست بھارت  اور  آتم نربھر بھارت  کے وژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے سائنس پر مبنی، مانگ سے ہم آہنگ اور پائیدار زرعی تبدیلی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔

اس سے قبل پروگرام کا آغاز  محکمہ زرعی تحقیق و تعلیم (ڈی اے آر ای)  کے ایڈیشنل سیکریٹری اور  آئی سی اے آر  کے سیکریٹری  جناب  گیانیندر ڈی۔ ترپاٹھی  کے خیرمقدمی خطاب سے ہوا۔

اس موقع پر  43 بہتر ین فصل کے اقسام، 17 جدید زرعی ٹیکنالوجیز  اور  14 مطبوعات  جاری کی گئیں۔ نئی ٹیکنالوجیز میں  باسمتی چاول  اور  نمکیات و الکلائن مٹی برداشت کرنے والی، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ چاول کی اقسام ،  برآمدات پر مرکوز آم کی پیداوار کی ٹیکنالوجی ،  بھارت کی پہلی مقامی طور پر تیار کردہ افریقی سوائن بخار  کی ویکسین ،  ڈیجیٹل سوائن ڈیزیز اٹلس  اور  چھوٹے کسانوں کے لیے کم لاگت کساوا ہارویسٹر  شامل ہیں۔ اس کے علاوہ  150 عارضی یومیہ اجرت پر کام کرنے والے کارکنوں  کو تقرری کے خطوط بھی دیے گئے اور ان کی خدمات کو مستقل کر دیا گیا۔

ٹیکنالوجی کی تجارتی توسیع اور آخری درجے تک اس کی مؤثر رسائی کو تیز کرنے کے لیے  51 صنعتی شراکت داروں  کے ساتھ  72 مفاہمت ناموں (ایم او یوز)  پر دستخط کیے گئے، تاکہ آئی سی اے آر کی تیار کردہ ٹیکنالوجیز کو تیزی سے کسانوں تک منتقل کیا جا سکے۔

یومِ تاسیس کی تقریبات میں حکومتِ ہند کے سینئر حکام، آئی سی اے آر کے سابق سیکریٹریز اور ڈائریکٹر جنرلز، زرعی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، آئی سی اے آر کے اداروں کے ڈائریکٹرز، سائنس دان، اختراع کار، صنعتی شعبے کے نمائندے، کسان تنظیمیں، ترقیاتی شراکت دار اور طلبا شریک ہوئے۔

 وکست بھارت 2047  کے ہدف کی جانب بڑھتے ہوئے بھارت میں  آئی سی اے آر  جدید تحقیق، اسٹریٹجک شراکت داریوں اور کسان مرکوز ٹیکنالوجیز کے ذریعے  اختراع پر مبنی، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ اور پائیدار زراعت  کے فروغ کے اپنے عزم پر قائم ہے۔

 

ش ح۔ ع ح۔ خ م

U.NO.33


(रिलीज़ आईडी: 2285469) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Bengali , Gujarati , Kannada , Malayalam