PIB Backgrounder
بھارت میں ہنرمندی سے متعلق ماحولیاتی نظام کو مستحکم بنانے کے اقدامات
تعلیم سے کاروبار تک: حکومت کے اقدامات
प्रविष्टि तिथि:
15 JUL 2026 5:09PM by PIB Delhi
بھارت کا ہنرمندماحولیاتی نظام ایک جامع اور ہمہ گیر حکمت عملی کے تحت تیزی سے فروغ پا رہا ہے، جس میں تعلیم، ہنرمندی کی تربیت، روزگار اور کاروباری صلاحیتوں کو ایک مربوط ڈھانچے میں شامل کیا گیا ہے۔ حکومت کی اصلاحاتی پالیسیوں اور اہم فلاحی پروگراموں کے ذریعے اسکولی سطح سے ہی نصاب میں پیشہ ورانہ تعلیم کو شامل کیا جا رہا ہے، جبکہ مسلسل ہنر افزائی اور زندگی بھر سیکھنے کے تصور کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔اس نظام میں صنعت کی ضروریات، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ مہارتوں کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے، تاکہ بدلتی ہوئی افرادی قوت کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ تعلیمی اداروں، صنعتوں، بین الاقوامی تنظیموں اور ٹیکنالوجی کے شعبے کے سرکردہ اداروں کے ساتھ مضبوط شراکت داری کے ذریعے معیاری تربیت اور روزگار کے مواقع تک رسائی کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔خواتین، دستکاروں، دیہی آبادی اور دیگر محروم طبقات کے لیے خصوصی اقدامات کے ذریعے ہنرمندی کی ترقی کو زیادہ جامع اور سب کے لیے قابلِ رسائی بنایا جا رہا ہے۔ ان تمام کوششوں کے نتیجے میں ایک مضبوط، اختراع پر مبنی اور مستقبل کے لیے تیار افرادی قوت تشکیل پا رہی ہے، جو ملک کی اقتصادی تبدیلی، عالمی مسابقت اور پائیدار ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے بہتر طور پر تیار ہے۔
ہندوستان کے باصلاحیت ایکو نظام کو بااختیار بنانا
بھارت کا وکست بھارت 2047 کی جانب سفر ایک مضبوط اور مستحکم ہنرمندماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم )کی تعمیر پر مبنی ہے۔ ایک ماہر، پیداواری اور اختراعی افرادی قوت اقتصادی ترقی کو برقرار رکھنے، مسابقتی صلاحیت کو بڑھانے اور مساوی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔حکومت نے ہنر کی ترقی کو زندگی بھر جاری رہنے والا عمل تسلیم کرتے ہوئے ایک جامع زندگی پر مبنی حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔ اس میں اسکولی سطح پر پیشہ ورانہ تعلیم، افرادی قوت کی ہنر افزائی، اپرنٹس شپ پروگرام، کاروباری صلاحیتوں کی ترقی، خواتین پر مرکوز ہنرمندی کی تربیت اور زندگی بھر سیکھنے کے مواقع شامل ہیں۔یہ تمام اقدامات مل کر ایک ایسے جامع اور صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ ہنرمند افرادی ڈھانچے کی تشکیل کا مقصد رکھتے ہیں، جو ہر طبقے کو مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔
زندگی کے ہر مرحلے میں ہنرمندی کی ترقی روزگار کی صلاحیت کو برقرار رکھنے اور افرادی قوت کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے نہایت اہم ہے۔ یہ بھارت کو دنیا کے ایک اہم ترین ہنرمند افرادی مرکز کے طور پر ابھرنے میں بھی مدد فراہم کرتی ہے، جو طویل مدتی اقتصادی ترقی اور عالمی مسابقت کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
حالیہ عرصے میں مسلسل ہنرمندی کی تربیت کی ضرورت مزید نمایاں ہو گئی ہے، کیونکہ عالمی لیبر مارکیٹ تیزی سے تبدیلی کے مراحل سے گزر رہی ہے۔ خودکاری (آٹومیشن)، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹلائزیشن، ماحولیاتی اقدامات اور آبادیاتی تبدیلیاں کام کی نوعیت کو نئی شکل دے رہی ہیں۔ ان رجحانات کے باعث نئی اور بدلتی ہوئی مہارتوں کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بھارت میں ہنرمندی کے لیے بڑھتی ہوئی تیاری سے 2047 تک سو فیصد ہنرمند افرادی قوت کے ہدف کو بامعنی روزگار کے ساتھ حاصل کرنے کے امکانات مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ انڈیا اسکلز رپورٹ 2026 کے مطابق روزگار حاصل کرنے کی صلاحیت (ایمپلائبیلٹی) 2020 میں 46 فیصد سے بڑھ کر 2026 میں 56.4 فیصد ہو گئی ہے۔ یہ بہتری ہدف پر مبنی ہنرمندی کی تربیت اور شمولیتی اقدامات کے مثبت اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔ ملازمتوں کی فراہمی کے حوالے سے مضبوط رجحان اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ مستقبل کی افرادی قوت کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ہنر مندی کی ترقی: ایک ترجیح
ہنرمندی کی ترقی اب بھارت کی اقتصادی اور سماجی تبدیلی کا ایک اہم ستون بن چکی ہے۔ یہ افراد کو بدلتی ہوئی لیبر مارکیٹ اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے مطابق خود کو ڈھالنے کے لیے ضروری صلاحیتیں فراہم کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھارت کو اپنی آبادیاتی برتری سے فائدہ اٹھانے، عالمی سطح پر افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے اور طویل مدتی اقتصادی ترقی کو برقرار رکھنے میں بھی مدد فراہم کرتی ہے۔
اقتصادی ترقی کو رفتار دینا:ہنر اور علم معاشی ترقی اور سماجی خوشحالی کے بنیادی محرک ہیں۔ ہنرمندی کی ترقی افراد کی روزگار حاصل کرنے کی صلاحیت اور افرادی قوت کی پیداواری استعداد میں اضافہ کرتی ہے، جس کے نتیجے میں غربت میں کمی، پائیدار کاروبار کے فروغ اور ہمہ گیر معاشی ترقی کو تقویت ملتی ہے۔ اس عمل سے زیادہ پیداواری صلاحیت، روزگار کے وسیع تر مواقع اور آمدنی میں مسلسل اضافے کا ایک مثبت اور پائیدار سلسلہ وجود میں آتا ہے۔
عالمی سطح پر ابھرتی ہوئی ہنرمندی کی ضروریات سے ہم آہنگی:تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی اور آبادیاتی تبدیلیاں دنیا بھر کی معیشتوں اور محنت کی منڈی کو نئی شکل دے رہی ہیں۔ ایسے میں نوجوانوں کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ مہارتوں سے آراستہ کرنا اور ان کی مسلسل ہنر افزائی ناگزیر ہو گئی ہے، تاکہ خودکاری (آٹومیشن)، ماحولیاتی اقدامات، ڈیجیٹلائزیشن اور آبادیاتی تبدیلیوں سے تشکیل پانے والے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں مسابقت برقرار رکھی جا سکے۔ آئی ایم ایف کے مصنوعی ذہانت کی تیاری کے اشاریے (اے آئی پریپیرڈنیس انڈیکس) میں بھارت کو 49.3 اسکور حاصل ہوا، جو ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشتوں کے 42.1 کے اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ اس بات کا مظہر ہے کہ بھارت مصنوعی ذہانت کو اپنانے اور اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے مضبوط صلاحیت اور بہتر تیاری رکھتا ہے۔
آبادیاتی برتری سے بھرپور فائدہ استفادہ:بھارت کی 54 فیصد سے زیادہ آبادی کی عمر 25 سال سے کم ہے، جبکہ 62 فیصد سے زائد افراد 15 سے 59 سال کے کام کرنے کی عمر کے زمرے میں آتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ آبادیاتی برتری تقریباً 2040 تک برقرار رہنے کی توقع ہے۔ اس لیے اس قیمتی موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ افرادی قوت تیار کرنے کے لیے ہدف پر مبنی اور مؤثر ہنرمندی کی تربیت ناگزیر ہے۔
عالمی سطح پر ہنرمندافراد کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنا:توقع ہے کہ 2030 تک بھارت میں 4 کروڑ 50 لاکھ اضافی ہنرمند افراد دستیاب ہوں گے، جبکہ اسی عرصے میں دنیا بھر میں ہنرمند افرادی قوت کی کمی 8 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ یہ صورتِ حال بھارت کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ عالمی سطح پر ہنرمند افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرے۔ اسی لیے ہنرمندی کی ترقی کے لیے زندگی کے ہر مرحلے پر مبنی جامع حکمت عملی اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔
ابتدائی عمر سے ہنرمندی کی بنیاد رکھنا
ابتدائی عمر میں ہنرمندی کی تربیت روزگار کے لیے درکار صلاحیت، افرادی قوت میں مؤثر شمولیت اور صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ مہارتوں کی مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت حکومت نے کم عمری ہی سے ہنرمندی کو فروغ دینے کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے ہیں۔
سمگر شکشا اسکیم
سمگر شکشا پری اسکول سے بارہویں جماعت تک اسکولی تعلیم کے لیے حکومت کا ایک جامع پروگرام ہے۔ اس کا مقصد تعلیم تک مساوی رسائی کو یقینی بناتے ہوئے تدریسی معیار اور تعلیمی نتائج کو بہتر بنانا ہے۔ اس اسکیم میں اسکولی تعلیم کو ایک مسلسل اور مربوط عمل کے طور پر دیکھا گیا ہے اور اسے تعلیم سے متعلق پائیدار ترقی کے ہدف (ایس ڈی جی-4) کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔دسمبر 2025 تک ہنرمندی کی تعلیم کے شعبے میں اس اسکیم کے تحت متعدد اہم سنگ میل حاصل کیے جا چکے ہیں:
- مجموعی طور پر 138 ملازمتوں کی منظوری دی گئی ہے اور 25,140 اسکولوں میں ہنرمندی کی تعلیم کے پروگرام نافذ کیے گئے ہیں ، جس میں 35.5 لاکھ سے زیادہ طلباء شامل ہیں ۔
- اس اسکیم کے تحت ہنر کی تربیت کے لیے ہب اینڈ اسپوک ماڈل اختیار کیا گیا ہے، جس کے تحت ہب اسکولوں میں موجود تربیتی سہولتوں سے قریبی اسپوک اسکولوں کے طلبہ بھی استفادہ کرتے ہیں۔ اس وقت 975 اسپوک اسکول اس ماڈل کے تحت منسلک ہیں، جس سے دستیاب بنیادی ڈھانچے کا مؤثر استعمال ممکن ہوا ہے اور ملک بھر میں ہنرمندی کی تربیت تک رسائی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
- اسکولوں میں ہنرمندی کی تربیت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے ہنرمندی کی ترقی اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) نے 1,200 پیشہ ورانہ ہنرمندی کی تجربہ گاہیں (ووکیشنل اسکل لیبز) قائم کی ہیں۔ یہ لیبز 400 جواہر نوودیہ ودیالیہ (جے این وی) اور 200 ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں (ای ایم آر ایس) میں قائم کی گئی ہیں۔
پی ایم شری اسکول
سال 2022 میں شروع کیے گئے پی ایم شری اسکولوں کا مقصد موجودہ اسکولوں کو مضبوط بنا کر قومی تعلیمی پالیسی 2020 پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ یہ اسکول مثالی تعلیمی اداروں کے طور پر کام کرتے ہیں اور آس پاس کے اسکولوں کی رہنمائی بھی کرتے ہیں۔ ان کا مقصد معیاری تعلیم فراہم کرنے کے ساتھ ایسے ہمہ جہت طلبہ کی تربیت کرنا ہے، جو اکیسویں صدی کے تقاضوں کے مطابق ضروری مہارتوں سے آراستہ ہوں۔
- جون 2026 تک مقررہ ہدف کے مطابق قائم کیے جانے والے 14,500 پی ایم شری اسکولوں میں سے 13,092 اسکول ملک کے 776 اضلاع میں ترقی دے کر قائم کیے جا چکے ہیں۔
اٹل ٹنکرنگ لیبارٹریز
بھارت میں دس لاکھ بچوں کو جدید طرز کے اختراع کار بنانے کے وژن کے تحت اٹل انوویشن مشن نے اسکولوں میں اٹل ٹنکرنگ لیبارٹریاں (اے ٹی ایل) قائم کی ہیں۔ ان لیبارٹریوں کا مقصد طلبہ میں تجسس، تخلیقی صلاحیتوں اور اختراع پر مبنی مہارتوں کو فروغ دینا ہے۔ جون 2026 تک:
- ملک کے 722 اضلاع میں 10,000 سے زائداے ٹی ایل قائم کی جا چکی ہیں۔
- ان لیبارٹریوں کے ذریعے 1.1 کروڑ سے زائد طلبہ کو اختراعی اور عملی سرگرمیوں سے جوڑا جا چکا ہے۔
اسکلنگ فار اے آئی ریڈینس (ایس او اے آر)
اسکلنگ فار اے آئی ریڈینس (ایس او اے آر) کا مقصد جماعت ششم سے بارہویں تک کے طلبہ اور اساتذہ کو مختلف کورسوں کے ذریعے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق جدید اور بدلتی ہوئی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے۔ یہ کورسز مائیکروسافٹ، ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز اور ایس اے ایس ایس او ایم کے اشتراک سے پیش کیے جا رہے ہیں۔
- فروری 2026 تک اے آئی ٹو بی اویئر، اے آئی ٹو ایسپائر، اے آئی ٹو ایکوائر اور اے آئی فار ایجوکیٹرزپروگراموں میں 2 لاکھ 30 ہزار طلبہ کا اندراج ہو چکا ہے۔
نیشنل اسکلز کوالیفکیشن فریم ورک (این ایس کیو ایف)
نیشنل اسکلز کوالیفکیشن فریم ورک (این ایس کیو ایف) ایک صلاحیت پر مبنی نظام ہے، جس میں تعلیمی قابلیت کو سیکھنے کے نتائج کی بنیاد پر آٹھ درجات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس کے تحت رسمی، غیر رسمی اور غیر روایتی ذرائع سے حاصل ہونے والے علم، مہارت، استعداد، ذمہ داری اور عملی تجربے کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ فریم ورک ایک مشترکہ ڈھانچے کے ذریعے عمومی تعلیم، پیشہ ورانہ تعلیم اور ہنرمندی کی تربیت کو باہم مربوط کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ اسکولی تعلیم، اعلیٰ تعلیم اور ہنرمندی کے مختلف مراحل کے درمیان کریڈٹ کی بنیاد پر آگے بڑھنے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جس سے زندگی بھر سیکھنے کے عمل اور پیشہ ورانہ ترقی کو فروغ ملتا ہے۔
یووا اے آئی فار آل
انڈیا اے آئی مشن کے تحت ایم ای آئی ٹی وائی نے نومبر 2025 میں ‘یووا اے آئی فار آل’ پروگرام کا آغاز کیا۔ یہ ساڑھے چار گھنٹے پر مشتمل ایک مفت، خود رفتار (سیلف پیسڈ) کورس ہے، جس کا مقصد تمام شہریوں، خصوصاً نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی بنیادی معلومات سے روشناس کرانا ہے۔ یہ کورس فیوچر اسکلز پرائم اور آئی گوٹ کرم یوگی پلیٹ فارموں پر دستیاب ہے، اور کورس کامیابی سے مکمل کرنے پر حکومت ہند کی جانب سے سرٹیفکیٹ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔
- 8 جولائی 2026 تک اس پروگرام میں مجموعی اندراج کی تعداد 85 لاکھ 27 ہزار تک پہنچ چکی تھی۔
ودیانجلی پروگرام
ودیانجلی ایک ایسا اقدام ہے جس کا مقصد برادری اور نجی شعبے کی شراکت کے ذریعے اسکولوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ اس کے تحت اسکولوں کو رضاکاروں سے جوڑا جاتا ہے، جن میں مختلف شعبوں کے ماہرین، ریٹائرڈ اساتذہ، سرکاری افسران، غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز)، سی ایس آر کے شراکت دار اور بیرون ملک مقیم بھارتی برادری شامل ہیں۔ یہ رضاکار رہنمائی، کیریئر کونسلنگ، ہنرمندی کی ترقی اور دیگر تعلیمی معاونت کے ذریعے طلبہ اور اسکولوں کی مدد کرتے ہیں۔
- جون 2026 تک 8 لاکھ 44 ہزار 925 اسکول اس اقدام سے منسلک ہو چکے ہیں۔
- اس اقدام کے تحت 5 لاکھ 62 ہزار 296 رضاکاروں اور 2,705 سی ایس آر اور این جی او کا اندراج کیا جا چکا ہے۔
- اس پروگرام سے 2 کروڑ 4 لاکھ سے زائد طلبہ مستفید ہو چکے ہیں۔
افرادی قوت کی ہنرمندی میں اضافہ اور نئی مہارتوں سے آراستہ کرنا
لیبر مارکیٹوں میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر، مسلسل ہنرمندی میں اضافہ اور نئی مہارتوں کی تربیت ناگزیر ہو گئی ہے، تاکہ نئے پیشہ ور افراد کی بہتر رہنمائی کی جا سکے اور درمیانی پیشہ ورانہ مرحلے میں کیریئر کی تبدیلی کو بھی آسان بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے ہدف پر مبنی اقدامات افرادی قوت کو روزگار کے قابل اور صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اسکل انڈیا مشن
اسکل انڈیا مشن (ایس آئی ایم) کے تحت کام کرنے کی عمر کے افراد کو نیشنل اسکلز کوالیفکیشن فریم ورک (این ایس کیو ایف) سے ہم آہنگ ہنرمندی کی تربیت، مہارتوں میں اضافہ اور نئی مہارتیں سکھانے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ اس مشن کو روزگار میلوں اور اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب کے ذریعے ملک گیر سطح پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں قائم اسکل ڈیولپمنٹ سینٹروں (ایس ڈی سی) کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے بھی تربیتی پروگرام چلائے جاتے ہیں۔ اس مشن کے تحت درج ذیل اہم فلیگ شپ اسکیمیں نافذ کی جا رہی ہیں:
- پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی)
- جن شکشن سنستان (جے ایس ایس)
- نیشنل اپرنٹس شپ پروموشن اسکیم (این اے پی ایس)
- اور صنعتی تربیتی اداروں (آئی ٹی آئی) میں کرافٹ مین ٹریننگ اسکیم (سی ٹی ایس)
پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی ) قلیل مدتی ہنرمندی کی تربیت سے متعلق حکومت کی ایک اہم فلیگ شپ اسکیم ہے۔ اپنے چار مراحل کے دوران یہ اسکیم ایک آزمائشی، ترغیبی سرٹیفکیشن پروگرام سے ترقی کرتے ہوئے وسیع پیمانے پر مانگ پر مبنی اور نتائج پر مرکوز ہنرمندی کے نظام میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اس اسکیم کی اہم کامیابیاں درج ذیل ہیں:
- تیس جون 2026 تک پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا 4.0 کے تحت 36 ریاستوں اور 738 اضلاع میں 36 مختلف شعبوں میں 28 لاکھ 17 ہزار امیدواروں کو ہنرمندی کی تربیت فراہم کی جا چکی ہے۔
- یکم اپریل 2024 سے 31 مارچ 2026 کے درمیان 21 لاکھ 91 ہزار سے زائد امیدواروں کو ہنرمندی کی تربیت فراہم کی گئی۔ اس دوران تربیت کے اہم شعبوں میں آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس، ایرو اسپیس اور ہوا بازی، زراعت، ربڑ، چمڑا، ملبوسات، الیکٹرانکس، تعمیرات، سیاحت اور مہمان نوازی شامل رہے۔
- اس اسکیم کے تحت ابھرتی ہوئی صنعتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 68 حسبِ ضرورت (کسٹمائزڈ) کورسز اور مستقبل کی مہارتوں سے متعلق 189 جاب رولز متعارف کرائے گئے ہیں۔
- ملک بھر میں 16 ہزار 900 سے زائد ادارے، جن میں 6 ہزار 800 سے زیادہ اسکل ہبز بھی شامل ہیں، پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی) 4.0 پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔
جن شکشن سنستھان (جے ایس ایس) کے تحت نوخواندہ افراد اور تعلیم ادھوری چھوڑنے والے طلبہ کو غیر سرکاری تنظیموں (این جی او) کے ذریعے برادری کی سطح پر غیر رسمی ہنرمندی کی تربیت فراہم کی جاتی ہے، جس کے لیے حکومت سو فیصد مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔ 31 مارچ 2026 تک اس اسکیم کے تحت درج ذیل اہم سنگ میل حاصل کیے جا چکے ہیں:
- سال 2018 سے اب تک 36 لاکھ 52 ہزار مستفیدین کو ہنرمندی کی تربیت فراہم کی جا چکی ہے۔
- 4 لاکھ 80 ہزار قبائلی مستفیدین تربیت مکمل کر چکے ہیں۔
- جن شکشن سنستھان (جے ایس ایس) کے تحت مستفید ہونے والوں میں 82 فیصد سے زائد خواتین شامل ہیں۔
- این سی وی ای ٹی سے منظور شدہ 83 کورسز، جو این ایس کیو ایف کی سطح 3، 3.5 اور 4 کے مطابق ہیں، متعارف کرائے گئے ہیں۔
- مقامی ضروریات سے ہم آہنگ کورسوں میں سلائی، کشیدہ کاری، دستکاری، غذائی اشیا کی پروسیسنگ اور صحت کی خدمات شامل ہیں۔
- دسمبر 2024 سے جے ایس ایس کی تیار کردہ مصنوعات کی فروخت ادیم کارٹ پورٹل کے ذریعے کی جا رہی ہے، جس سے دستکاروں اور چھوٹے کاروباری افراد کے لیے مارکیٹ تک رسائی بہتر ہوئی ہے۔
نیشنل اپرنٹس شپ پروموشن اسکیم (این اے پی ایس) صنعتوں کی قیادت میں اپرنٹس شپ کی تربیت کو ‘ارن وائل یو لرن’ کے ماڈل کے ذریعے فروغ دیتی ہے۔ این اے پی ایس 2.0 کے تحت حکومت اپرنٹس کو دیے جانے والے وظیفے کا 25 فیصد، زیادہ سے زیادہ 1,500 روپے ماہانہ، براہ راست ان کے بینک کھاتوں میں منتقل کرتی ہے، جبکہ باقی 75 فیصد وظیفہ آجر ادا کرتا ہے۔ 31 مارچ 2026 تک اس اسکیم کے تحت درج ذیل اہم کامیابیاں حاصل کی جا چکی ہیں:
- سال 2016 سے اب تک آٹوموبائل، آئی ٹی-آئی ٹی ای ایس، الیکٹرانکس، ریٹیل اور مینوفیکچرنگ سمیت مختلف شعبوں میں 54 لاکھ 41 ہزار سے زائد اپرنٹس کو تربیت سے جوڑا جا چکا ہے۔
- مالی سال 2025-26 کے دوران تقریباً 12 لاکھ 35 ہزار اپرنٹس کو تربیت سے منسلک کیا گیا، جبکہ 6 لاکھ 42 ہزار اپرنٹس نے دورانِ ملازمت تربیت کامیابی سے مکمل کی۔
- اکتیس مارچ 2026 تک سرٹیفکیٹ آف پروفیشنسی (سی اوپی) کے اجرا کے آغاز سے اب تک ایک لاکھ 32 ہزار سرٹیفکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔
- یکم اپریل 2025 سے 31 مارچ 2026 کے درمیان ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر (ڈی بی ٹی) کی 40 لاکھ 10 ہزار لین دین کے ذریعے 562 کروڑ 75 لاکھ روپے سے زائد کی رقم تقسیم کی گئی۔
کرافٹس مین ٹریننگ اسکیم (سی ٹی ایس) کے تحت صنعتی تربیتی اداروں (آٹی آئی ) کے ذریعے طویل مدتی پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جاتی ہے، تاکہ صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ ہنرمند افرادی قوت تیار کی جا سکے۔ مارچ 2026 تک اس اسکیم کے تحت درج ذیل اہم کامیابیاں حاصل کی جا چکی ہیں:
- ملک بھر کے 13 ہزار 888 صنعتی تربیتی اداروں (آئی ٹی آئی ) کے ذریعے 169 مختلف کورسوں میں تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔
- گزشتہ تین برسوں کے دوران صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگی کے لیے سی ٹی سی کے تحت 14 نئے کورسز متعارف کرائے گئے، جبکہ 22 موجودہ کورسز کو ازسرنو مرتب کیا گیا۔
- آئی ٹی آئی میں داخلوں کی تعداد مالی سال 2022-23 کے 12 لاکھ 51 ہزار سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 14 لاکھ 70 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
پی ایم-سیتو
سال 2025 میں شروع کی گئی پی ایم سیتویعنی پردھان منتری اسکلنگ اینڈ ایمپلائیبلٹی ٹرانسفارمیشن تھرو اپ گریڈڈ آئی ٹی آئیز کا مقصد درج ذیل اہداف حاصل کرنا ہے:
- ایک ہزار سرکاری صنعتی تربیتی اداروں (آئی ٹی آئی ) کو جدید اور صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ ہنرمندی کے مراکز کے طور پر ترقی دینا۔ اس منصوبے کے تحت 200 ہب آئی ٹی آئی کو 800 اسپوک آئی ٹی آئی سے جوڑتے ہوئے ہب اینڈ اسپوک کلسٹر ماڈل نافذ کیا جائے گا۔
- ہنرمندی کی تربیت کے لیے پانچ نیشنل سینٹرز آف ایکسی لینس قائم کرنا۔
- پانچ برسوں کے دوران 20 لاکھ نوجوانوں کو تربیت فراہم کرنا۔
- خدمات کے شعبے، کثیر مہارتی (ملٹی اسکل) کورسوں اور ذریعۂ معاش کو فروغ دینے سے متعلق نئے کورسز متعارف کرانا، تاکہ روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو اور پیشہ ورانہ تربیت موجودہ اور مستقبل کی ملازمتی مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ بن سکے۔
- مئی 2026 تک 32 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے ریاستی اسٹیئرنگ کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں۔ ان میں سے 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے پی ایم سیتو کے تحت صنعتی شراکت داروں کو شامل کرنے کے لیے تجاویز طلب کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔
- آندھرا پردیش، وشاکھاپٹنم آئی ٹی آئی کلسٹر کے ذریعے پی ایم سیتو منصوبے پر عمل درآمد شروع کرنے والی ملک کی پہلی ریاست بن گئی ہے۔
- اس منصوبے کی توسیع کے تحت اڈیشہ، گجرات اور تلنگانہ کے آئی ٹی آئی کلسٹروں کے لیے ایک ہزار 237 کروڑ 58 لاکھ روپے مالیت کے اسٹریٹجک انویسٹمنٹ پلانز (ایس آئی پی) کی منظوری دی جا چکی ہے۔
مستقبل کی مہارتوں کا ستون
انڈیا اے آئی مشن کے تحت مستقبل کی مہارتوں کا ستون بھارت میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق مضبوط ہنرمندی کا نظام قائم کرنے اور ملک بھر میں اے آئی تعلیم تک رسائی کو وسعت دینے کے مقصد سے کام کر رہا ہے۔ یہ اقدام انڈر گریجویٹ سے لے کر پی ایچ ڈی سطح تک کے طلبہ کی معاونت کرتا ہے۔ اس کے تحت یو جی، پی جی، ڈوئل ڈگری اور پی ایچ ڈی طلبہ کے لیے قومی سطح کی اے آئی فیلوشپس فراہم کی جا رہی ہیں۔اس کے علاوہ ٹائر-2 اور ٹائر-3 شہروں میں 570 اے آئی اور ڈیٹا لیبز قائم کی جا رہی ہیں، تاکہ طلبہ کو عملی تربیت اور تجرباتی سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ اور این سی وی ای ٹی سے منظور شدہ اے آئی کورسز زراعت، صحت، مینوفیکچرنگ اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں فراہم کیے جا رہے ہیں۔
فیوچر اسکل پرائم
فیوچر اسکل پرائم ،این اے ایس ایس سی او ایم اور الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت کی ایک مشترکہ پہل ہے۔ یہ پروگرام ایک لچکدار آن لائن ڈیجیٹل لرننگ پلیٹ فارم کے ذریعے نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں افراد کو ہنرمند بنانے، ان کی موجودہ مہارتوں میں اضافہ کرنے اور دوبارہ تربیت فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔
- یہ پلیٹ فارم 2,800 سے زائد کورسز اور سیکھنے کے مختلف راستے فراہم کرتا ہے، جبکہ اس پر 33 لاکھ سے زیادہ صارفین کا اندراج ہو چکا ہے۔
- اس کی رسائی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے تحت 41 فیصد خواتین سیکھنے والی افراد اور ٹائر-2 اور ٹائر-3 کے 740 شہروں تک اس کی پہنچ ہو چکی ہے۔
پردھان منتری وکست بھارت روزگار یوجنا
پردھان منتری وکست بھارت روزگار یوجنا (2025) کے تحت ای پی ایف او میں رجسٹرڈ پہلی بار ملازمت حاصل کرنے والے افراد کو ان کے ابتدائی تربیتی مرحلے میں معاونت فراہم کرنے کے لیے دو قسطوں میں زیادہ سے زیادہ 15 ہزار روپے تک کی یک وقتی ترغیبی رقم دی جاتی ہے۔ یہ اسکیم ہنرمندی میں اضافے کے اخراجات کو کم کرنے، پیداواری صلاحیت بڑھانے اور روزگار کے مواقع میں بہتری لانے میں معاون ہے۔ اس کے علاوہ یہ مالی خواندگی کو بھی فروغ دیتی ہے، تاکہ نئے ملازمین کو رقم کے بہتر انتظام سے متعلق ضروری معلومات اور مہارتیں فراہم کی جا سکیں۔اس اسکیم کے تحت آجروں کو بھی ترغیب دی جاتی ہے، جس کے مطابق ہر اضافی ملازم کے لیے، جو کم از کم چھ ماہ تک مسلسل ملازمت میں برقرار رہتا ہے، دو سال تک ماہانہ 3 ہزار روپے تک کی ترغیبی رقم فراہم کی جاتی ہے۔
- اس اسکیم کے تحت 15 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملی ہے، جبکہ 19 جون 2026 تک 2,400 کروڑ روپے مالیت کی ترغیبی رقم تقسیم کی جا چکی ہے۔
بین الاقوامی اور نجی شعبے کی شراکت داری کو مضبوط بنانا
عوامی، نجی اور بین الاقوامی شراکت داریاں بھارت کے ہنرمندی کے نظام میں تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ شراکت داریاں صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ تربیت، ڈیجیٹل مہارتوں(اسکلوں) اور عالمی سطح پر روزگار کے مواقع و نقل و حرکت کو فروغ دے رہی ہیں۔
کاروباری مہارتوں کو فروغ دینا
کاروباری مہارت روزگار کے مواقع پیدا کرنے، جدت طرازی اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ہنرمندی کی تربیت کامیاب کاروباری ادارے قائم کرنے کے لیے درکار صلاحیتوں کو مضبوط بناتی ہے۔
پی ایم وشوکرما
پی ایم وشوکرماکے تحت روایتی کاریگروں اور دستکاروں کو ہنرمندی میں اضافے، آلات کی خریداری کے لیے مراعات، قرض کی سہولت اور بازار سے روابط فراہم کرتے ہوئے مکمل مدد فراہم کی جاتی ہے۔ اس اسکیم میں خواتین اور محروم طبقات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ ان میں درج فہرست ذاتیں (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی)، دیگر پسماندہ طبقات (اوبی سی)، معذور افراد، خواجہ سرا افراد، شمال مشرقی خطے، جزائر اور پہاڑی علاقوں سے تعلق رکھنے والے کاریگر شامل ہیں۔ مستفیدین کو ہنرمندی کی تربیت کے دوران روزانہ 500 روپے کا وظیفہ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔
- جون 2026 تک 24 لاکھ 50 ہزار سے زائد درخواست دہندگان بنیادی تربیت کامیابی کے ساتھ مکمل کر چکے ہیں۔
- 5,165 کروڑ 84 لاکھ روپے مالیت کے قرضے منظور کیے جا چکے ہیں۔
- 35 کروڑ روپے سے زائد کی ڈیجیٹل ترغیبی رقم تقسیم کی جا چکی ہے۔
اسٹارٹ اپ انڈیا کورسز
اسٹارٹ اپ انڈیا پلیٹ فارم پر تمام رجسٹرڈ صارفین کے لیے عملی سیکھنے کے مواقع اور مفت آن لائن کورسز دستیاب ہیں۔ ان کورسوں میں پروگرامنگ، سیکیورٹی، اکاؤنٹنگ اور فنانس سے لے کر مینجمنٹ اور کاروباری صلاحیتوں سے متعلق موضوعات شامل ہیں۔ یہ کورسز صارفین کو کاروباری معلومات اور مہارتیں حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ انہیں اپنی تنظیموں کی صلاحیتوں اور کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے قابل بھی بناتے ہیں۔
انٹرپرینیورشپ اینڈ اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام
ایم ایس ڈی ای اپنے خود مختار اداروں کے ذریعے انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ پروگرامز (ای اے پی) اور انٹرپرینیورشپ اسکل ڈیولپمنٹ پروگرامز (ای ایس ڈی پی) نافذ کرتی ہے۔ ان اداروں میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار انٹرپرینیورشپ اینڈ اسمال بزنس ڈیولپمنٹ (این آئی ای ایس بی یوڈی)، نوئیڈا اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انٹرپرینیورشپ (آئی آئی ای)، گوہاٹی شامل ہیں۔یہ ادارے ملک بھر میں کاروباری صلاحیتوں کو فروغ دینے اور کاروباری ثقافت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان اداروں کے ذریعے کاروباری افراد کو انٹرپرینیورشپ اور مینجمنٹ کی تربیت، تربیت کے بعد رہنمائی، معاونت، ہینڈ ہولڈنگ اور انکیوبیشن سپورٹ کے ذریعے ابتدا سے آخر تک مکمل تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔
مائیکرو ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) کی وزارت کے انٹرپرینیورشپ اسکل ڈیولپمنٹ پروگرامز (ای ایس ڈی پی) نوجوانوں کو خود روزگار اور کاروباری سرگرمیوں کی جانب راغب کرتے ہیں۔ ان پروگراموں کے تحت درج فہرست ذاتوں (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی)، خواتین، معذور افراد، سابق فوجیوں اور بی پی ایل مستفیدین پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے، اور انہیں تکنیکی و کاروباری مہارتیں فراہم کی جاتی ہیں۔
ہنر مندی کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانا
خواتین کے لیے ہنرمندی کی ترقی افرادی قوت میں ان کی شمولیت، معاشی خود مختاری اور مساوی ترقی کو فروغ دینے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ہدف پر مبنی ہنرمندی کے اقدامات روزگار کے میدان میں صنفی فرق کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ خواتین کو مختلف شعبوں میں پیدا ہونے والے نئے مواقع تک رسائی حاصل کرنے کے قابل بناتے ہیں۔
خواتین کے لیے اے آئی میں کیریئر کے مواقع
اے آئی کیریئر فار ویمن (2025) ایک جامع 320 گھنٹے پر مشتمل تربیتی پروگرام ہے۔ اس کا مقصد دیہی علاقوں کے انڈر گریجویٹ کالجوں میں زیرِ تعلیم نوجوان خواتین اور طالبات کو مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے۔ یہ پروگرام ہب اینڈ اسپوک ماڈل کے تحت کام کرنے والے 25 اے آئی سینٹرز آف ایکسی لینس کے ذریعے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں میں خواتین کی شمولیت کو مضبوط بنا رہا ہے۔
- اس پروگرام کے ذریعے 10 ہزار سے زائد طلبہ تک رسائی حاصل کی جا چکی ہے، جن میں ہب کالجوں کے 2,500 سے زیادہ اور اسپوک کالجوں کے 7,500 سے زائد طلبہ شامل ہیں۔
سوالمبنی
ایم ایس ڈی ای ،نے نیتی آیوگ کے ویمن انٹرپرینیورشپ پلیٹ فارم کے تعاون سے فروری 2025 میں سوالمبنی-ویمن انٹرپرینیورشپ پروگرام کا آغاز کیا۔ یہ پروگرام آسام، میگھالیہ، میزورم، اتر پردیش اور تلنگانہ میں نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد انٹرپرینیورشپ اویئرنیس اینڈ ڈیولپمنٹ پروگرامز کے ذریعے خواتین میں کاروباری سوچ اور صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔مالی سال 2025-26 کے دوران انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انٹرپرینیورشپ نے درج ذیل سرگرمیاں انجام دیں:
- 82 فیکلٹی ممبران کے لیے فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام منعقد کیا گیا۔
- بارہ سو (1200) شرکا کے لیے انٹرپرینیورشپ اویئرنیس پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔
- 602 امیدواروں کے لیے ویمن انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ پروگرام منعقد کیا گیا۔
این اے وی وائی اے۔نوجوان نوعمر لڑکیوں کے لیے پیشہ ورانہ تربیت کے ذریعے امنگوں کو پروان چڑھانا
این اے وی وائی اے کا آغاز جون 2025 میں ایم ایس ڈی ای نے خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت کے اشتراک سے کیا۔ اس اسکیم کا مقصد امنگوں والے اضلاع میں 16 سے 18 سال کی عمر کی نوعمر لڑکیوں کو ہنرمندی پر مبنی اقدامات کے ذریعے بااختیار بنانا اور انہیں سماجی و معاشی خود مختاری کے قابل بنانا ہے۔
- این اے وی وائی اےکے تحت 19 ریاستوں کے 27 اضلاع کو شامل کیا گیا ہے، جہاں پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی) 4.0 کے تحت 3,850 لڑکیوں کو تربیت فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
یہ اقدام غیر روایتی اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ روزگار کے شعبوں میں مانگ پر مبنی پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سائبر سیکیورٹی، اے آئی سے متعلق خدمات اور گرین جابز جیسے شعبوں میں زندگی کی مہارتیں، مالی خواندگی اور ڈیجیٹل صلاحیتیں بھی فروغ دی جاتی ہیں۔ یہ پروگرام پسماندہ علاقوں میں روزگار کے مواقع، خود روزگاری کے امکانات اور صنفی مساوات پر مبنی ہنرمندی کی ترقی کو مضبوط بنانے میں معاون ہے۔
مرکزی بجٹ 2026-27: ہنرمندی کے شعبے کے اہم اقدامات
کھیلو انڈیا مشن کے تحت کھیلوں کے ٹیلنٹ کو فروغ دینے کے لیے مربوط راستہ، کوچز کی ترقی اور کھیلوں کی سائنس و ٹیکنالوجی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
ایک پائلٹ پروگرام کے ذریعے 10 ہزار سیاحتی رہنماؤں کو معیاری 12 ہفتوں پر مشتمل ہائبرڈ کورس کے ذریعے ہنرمند بنانے کا منصوبہ ہے۔
تعلیم، تحقیق اور طبی خدمات کو مضبوط بنانے کے لیے تین نئے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹس آف آیوروید قائم کیے جائیں گے۔
مشرقی بھارت میں ڈیزائن کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے ایک نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزائن قائم کیا جائے گا۔
15 ہزار اسکولوں اور 500 کالجوں میں اے وی جی سی کنٹینٹ کریئیٹر لیبز قائم کی جائیں گی۔
بزرگوں کی دیکھ بھال اور متعلقہ شعبوں کے لیے 1.5 لاکھ کثیر ہنر مند نگہداشت کرنے والوں کو تربیت دینے کے لیے این ایس کیو ایف سے ہم آہنگ پروگرام شروع کیے جائیں گے۔
صنعتی اور لاجسٹکس کوریڈور کے قریب پانچ یونیورسٹی ٹاؤن شپ قائم کی جائیں گی۔ ان ٹاؤن شپ میں اعلیٰ تعلیم، تحقیق، ہنرمندی کی تربیت اور رہائشی سہولیات کو یکجا کیا جائے گا۔
مرکزی بجٹ 2026-27 میں اعلان کردہ ہنرمندی سے متعلق اقدامات کے بارے میں مزید جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
نتیجہ
بھارت میں ہنرمندی کے شعبے کو ایک جامع اور زندگی کے تمام مراحل پر محیط حکمت عملی کے ذریعے مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ اس میں اسکولی تعلیم، اعلیٰ تعلیم، افرادی قوت کی مہارتوں میں اضافہ، کاروباری صلاحیتوں کا فروغ اور خواتین پر مرکوز اقدامات شامل ہیں۔ ہنرمندی کے پروگراموں کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، صنعت کی ضروریات اور عالمی لیبر مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔ نوجوانوں، خواتین اور کمزور طبقات کے لیے ہدف پر مبنی اقدامات کے ذریعے سب کی شمولیت اور مساوی ترقی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
مجموعی طور پر یہ اقدامات بھارت کو اپنے آبادیاتی فائدے سے بھرپور استفادہ کرنے اور عالمی سطح پر مسابقتی افرادی قوت تیار کرنے کے قابل بنا رہے ہیں۔
حوالہ جات
Ministry of Finance
http://www.dea.gov.in/files/monthly_economic_report_documents/FINAL_Monthly%20Economic%20Review%20October%202025.pdf
Ministry of Skill Development and Entrepreneurship
https://www.msde.gov.in/static/uploads/2024/04/National-Skill-Development-Mission.pdf
https://x.com/MSDESkillIndia/status/1998400903376994741
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2204136®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2210537®=3&lang=2
https://www.instagram.com/p/DS93yBTEVvO/
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetail.aspx?PRID=2200373®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2197061®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2200389®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2197057®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2149342®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2200384®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2204133®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2146569&utm®=3&lang=2
https://dgt.gov.in/sites/default/files/2025-10/PM-SETU-Guidelines-Component-I-Upgradation-of-ITIs.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=2208158®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2236967®=3&lang=1
https://pm-setu.skillindiadigital.gov.in/
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2266939&lang=2®=48
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2250149®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2217278®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2223364®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2238232®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2225466®=3&lang=1
https://iie.gov.in/pr/projects/swavalambini--women-entrepreneurship-programme#gsc.tab=0
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2200384®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2144958®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2281937®=48&lang=1
Sansad.in
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/186/AS116_8uUyrZ.pdf?source=pqals
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/186/AU1259_yqXOnZ.pdf?source=pqals
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/185/AU1175_YigYjs.pdf?source=pqals
Ministry of Education
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1951485®=3&lang=2
https://pmshri.education.gov.in/
https://samagra.education.gov.in/about.html
https://vidyanjali.education.gov.in/
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/186/AU1164_v0ZRwx.pdf?source=pqals
Cabinet
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1857409®=3&lang=2
Ministry of Electronics and Information Technology
https://indiaai.gov.in/hub/indiaai-futureskills
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2191334®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2201472®=3&lang=1
https://www.futureskillsprime.in/
Ministry of Labour & Employment
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2206145®=3&lang=2
https://www.mofpi.gov.in/sites/default/files/pradhan_mantri_viksit_bharat_rozgar_yojana_pmvbry.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2201346®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2148270®=48&lang=2
Ministry of Micro, Small and Medium Enterprises
https://msmedi.dcmsme.gov.in/
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2246894®=3&lang=1
https://pmvishwakarma.gov.in/
Ministry of Commerce and Industry
https://www.startupindia.gov.in/content/sih/en/reources/online-courses.html
Niti Ayog
https://niti.gov.in/sites/default/files/2019-01/Skill_Workforce.pdf
https://aim.gov.in/atl.php
PM India
https://www.pmindia.gov.in/en/news_updates/pm-disburses-incentives-worth-around-%e2%82%b92400-crore-under-the-pradhan-mantri-viksit-bharat-rozgar-yojana/
World Bank
https://www.worldbank.org/en/topic/skillsdevelopment
World Economic Forum
https://reports.weforum.org/docs/WEF_Future_of_Jobs_Report_2025.pdf
UNESCO
https://www.unevoc.unesco.org/en/wysd-2026-skills-shared-future
PIB Headquarters
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2226912®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=155216&ModuleId=3®=48&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2256476®=3&lang=1
Others
https://cdnbbsr.s3waas.gov.in/s3kv05b90e8875c131d0760d04c0d4d8f3/uploads/2025/08/2025080227.pdf
https://wheebox.com/assets/pdf/ISR_Report_2026.pdf
https://wheebox.com/assets/pdf/ISR_Report_2025.pdf
https://x.com/Office_ChJayant/status/2041772472798998566
https://aicw.in/skilling
Empowering India's Skill Ecosystem
*****
(ش ح۔ش آ۔ ت ع)
U-20
(रिलीज़ आईडी: 2285449)
आगंतुक पटल : 5