نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

نائب صدر جمہوریہ نے کتاب ”دی وائس آف جسٹس: جسٹس گوائی اسپیکس“ کا اجرا کیا


مضبوط ادارے اور انصاف دیانت داری، آئینی نظم و ضبط اور عوامی اعتماد سے ہی برقرار رہتے ہیں: نائب صدر جمہوریہ

آئین جمہوری استحکام اور قومی یکجہتی کی بنیاد ہے: نائب صدر جمہوریہ

وکلاء کو چاہیے کہ وہ وقتاً فوقتاً غریب ترین افراد کو مفت قانونی امداد فراہم کریں: نائب صدر جمہوریہ

آئینی طرز حکمرانی کو عوام کی امنگوں اور توقعات کے مطابق جواب دہ اور حساس رہنا چاہیے: نائب صدر جمہوریہ

جسٹس بی آر گوائی کا عدالتی سفر آئینی اقدار سے غیر متزلزل وابستگی کی عکاسی کرتا ہے: نائب صدر جمہوریہ

प्रविष्टि तिथि: 14 JUL 2026 6:43PM by PIB Delhi

نائب صدر جمہوریہ ہند، جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج اُپ راشٹرپتی بھون میں کتاب "دی وائس آف جسٹس: جسٹس گوائی اسپیکس" کی رسم اجرا انجام دی۔ پروفیسر (ڈاکٹر) ایس شیو کمار کی مرتب کردہ اور کامن ویلتھ لیگل ایجوکیشن ایسوسی ایشن (سی ایل ای اے) کے اشتراک سے تھامسن رائٹرز کی جانب سے شائع کی گئی اس کتاب میں بھارت کے سابق چیف جسٹس، جسٹس بی آر گوائی کی تقاریر، خطابات اور تاثرات کو یکجا کیا گیا ہے۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے اس کتاب کو ایک اہم آئینی دستاویز قرار دیا، جو تجربے، آئینی نظم و ضبط اور عوامی ذمہ داری سے تشکیل پانے والی عدالتی فکر کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب آئین پسندی، قانون کی حکمرانی، سماجی انصاف اور جمہوری طرز حکمرانی کے حوالے سے گراں قدر بصیرت فراہم کرتی ہے اور بھارت میں آئینی مباحث اور قانونی تحقیق کو مزید تقویت بخشے گی۔

کتاب میں آئین سے متعلق پیش کیے گئے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ اس میں بجا طور پر بھارت کے آئین کو ایک زندہ اور ارتقا پذیر دستاویز کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس نے گزشتہ پچھتر برسوں کے دوران تسلسل اور تبدیلی، اختیار اور جواب دہی، نیز حقوق اور فرائض کے درمیان متوازن ہم آہنگی برقرار رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین جمہوری استحکام اور قومی یکجہتی کی بنیاد ہے، جبکہ اس میں ترمیم کا پارلیمنٹ کا اختیار ملک کو بدلتے ہوئے حالات اور وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہنے کے قابل بناتا ہے۔

نائب صدر نے کہا کہ آئینی طرز حکمرانی کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی پر شہریوں کے اعتماد کو برقرار رکھنے میں عدلیہ کا کردار نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی جمہوریت میں اختیار کے ساتھ ساتھ ضبطِ نفس بھی اتنا ہی ضروری ہے اور مضبوط ادارے اور انصاف دونوں ہی ادارہ جاتی دیانت داری، آئینی نظم و ضبط، عوامی اعتماد اور جمہوری اقدار سے وابستگی کے ذریعے برقرار رہتے ہیں۔

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ آئینی طرز حکمرانی کو عام شہریوں کی امنگوں اور بدلتی ہوئی سماجی حقیقتوں کے مطابق جواب دہ رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ طبقات کو بااختیار بنانا ہر فرد کے لیے وقار، مواقع اور امید کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔ جسٹس بی آر گوائی کی عدلیہ کے لیے خدمات کو سراہتے ہوئے جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ ان کا عدالتی سفر آئینی اقدار، ادارہ جاتی توازن اور انصاف تک رسائی کے لیے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر نائب صدر جمہوریہ نے قانونی برادری کے ارکان سے اپیل کی کہ وہ وقتاً فوقتاً پرو بونو (بلامعاوضہ) بنیاد پر غریب ترین افراد کی قانونی نمائندگی کریں تاکہ انصاف تک ہر شخص کی رسائی یقینی بنائی جا سکے۔

اس تقریب میں بھارت کے چیف جسٹس، جسٹس سوریہ کانت؛ سپریم کورٹ آف انڈیا کے جج، جسٹس وکرم ناتھ؛ بھارت کے سابق چیف جسٹس، جسٹس بی آر گوائی؛ کامن ویلتھ لیگل ایجوکیشن ایسوسی ایشن (سی ایل ای اے) کے صدر اور مدیر، پروفیسر (ڈاکٹر) ایس شیو کمار؛ تھامسن رائٹرز کے ناشر، جناب گوری شنکر نٹیسن اور قانونی برادری کے متعدد ارکان نے شرکت کی۔

*********

ش ح۔ ف ش ع

    U: 9942


(रिलीज़ आईडी: 2284630) आगंतुक पटल : 12
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Tamil , Telugu , English , हिन्दी , Marathi , Malayalam