PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

دفاع کی ایک دہائی

بڑھی ہوئی دفاعی صلاحیت، زیادہ استعداد اور مضبوط تر ساکھ

प्रविष्टि तिथि: 17 JUN 2026 11:43AM by PIB Delhi

سن2014 سے 2026 کے درمیان ہندوستان کے دفاعی شعبے میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی آئی۔ یہ ایک ایسی دہائی تھی، جس کے دوران ملک نے اپنی صلاحیت، استعداد اور عالمی ساکھ کو مضبوط بنایا۔ یہ سب اصلاحات، زیادہ سرمایہ کاری اور خود انحصاری پر مضبوطی سے زور دینے کے  سبب ممکن ہوا۔ دفاعی بجٹ14-2013 کے 2.53 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر27-2026 میں 7.85 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ مقامی دفاعی پیداوار15-2014 کے 46,429 کروڑ روپے سے بڑھ کر26-2025 میں 1.78 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی۔ دفاعی برآمدات 14-2013 کے 686 کروڑ روپے سے بڑھ کر26-2025 میں 38,424 کروڑ روپے کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں، جبکہ برآمدات کا دائرہ 80 سے زائد ممالک تک پھیل گیا۔ دفاعی حصولی کا طریقۂ کار (ڈی اے پی) 2020، مثبت مقامی سطح پر تیاری کی فہرستیں (2020) اور دفاعی شعبے میں اختراع کے لیے اقدامات (آئی ڈی ای ایکس) جیسی اصلاحات نے مقامی پیداوار، اختراع اور نجی شعبے کی شمولیت کو تقویت دی۔ مقامی پیداوار اور جدید کاری کی طاقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس عرصے کے دوران دفاعی سفارت کاری نے بھی نئی بلندیوں کو چھوا۔

ہندوستان کے دفاعی شعبے میں تبدیلی

گزشتہ 12 برسوں کے دوران ہندوستان کے دفاعی صلاحیت کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے، جو دور اندیش قیادت اور پرعزم اقدامات کا نتیجہ ہے۔ آتم نربھر بھارت اور میک اِن انڈیا کے وژن کی رہنمائی میں حکومت نے وسیع پیمانے پر پالیسی اصلاحات نافذ کیں، مقامی اختراع کو فروغ دیا اور دفاعی شعبے کا ایک مضبوط اور متحرک ماحولیاتی نظام تشکیل دیا۔

دفاعی حصولی کا طریقۂ کار (ڈی اے پی) 2020 اور ڈیفینس ایکوزیشن پروسیزر (ڈی پی ایم) 2025 جیسے اہم اقدامات کے ذریعے حکومت نے طریقۂ کار کو آسان بنایا، مقامی اجزا کے استعمال میں اضافہ کیا اور نجی شعبے اور خرد، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) کی بھرپور شمولیت کے لیے مواقع فراہم کیے۔ دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم (ڈی آر ڈی او) نے جدید دفاعی ٹیکنالوجیوں کی تیاری اور صنعت کے ساتھ قریبی اشتراک کے ذریعے تصورات کو میدانِ جنگ کے لیے تیار نظاموں میں تبدیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا گیا تاکہ جدید کاری اور مقامی دفاعی پیداوار کو تقویت مل سکے۔ تحقیق و ترقی کے لیے مختص فنڈز دو گنا سے بھی زیادہ بڑھائے گئے، جبکہ صنعت، نوآموز اداروں اور جامعات کی شمولیت میں بھی اضافہ ہوا۔ سریجن دیپ، مثبت مقامی سازی کی فہرستیں اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں نرمی جیسے اہم اقدامات نے نجی شعبے کے لیے نئے مواقع پیدا کیے۔

آج ہندوستان کی دفاعی برآمدات میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے اور یہ 80 سے زائد ممالک تک پہنچ چکی ہیں۔ تزویراتی شراکت داریوں اور مقامی طور پر تیار کردہ دفاعی نظاموں کے ذریعے ہندوستان اپنی جنگی تیاریوں کو مزید مضبوط بنا رہا ہے اور عالمی سطح پر ایک ذمہ دار دفاعی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے۔

مرکوز اور مسلسل کوششوں پر مشتمل اس دہائی نے خود انحصار اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ دفاعی ماحولیاتی نظام کی مضبوط بنیاد رکھی ہے، جو ویژن 2047 کے حصول میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

حصہ اوّل: دفاعی صلاحیت کی دہائی — عسکری طاقت اور اختراع کو نئی قوت

ہندوستان نے مقامی اختراع، تکنیکی ترقی اور تزویراتی اصلاحات کے ذریعے اپنے دفاعی شعبے میں مسلسل تبدیلی لائی ہے۔ ملک نے جہاں اپنی عسکری تیاریوں کو مضبوط بنایا ہے، وہیں مقامی دفاعی پیداوار اور تحقیق کی صلاحیتوں میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔ یہ تبدیلی ہندوستان کو ایک زیادہ خود انحصار، جدید ٹیکنالوجی سے لیس اور عالمی سطح پر باوقار دفاعی طاقت کے طور پر تشکیل دے رہی ہے۔

دفاعی بجٹ میں مسلسل اضافہ

ہندوستان نے عسکری تیاری، جدید کاری اور مقامی دفاعی پیداوار کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ مجموعی دفاعی بجٹ مالی سال14-2013 کے 2.53 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر مالی سال27-2026 میں 7.85 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ یہ قومی سلامتی اور تزویراتی خود انحصاری کے لیے حکومت کی مسلسل ترجیح کی عکاسی کرتا ہے۔دفاعی بجٹ میں سرمایہ جاتی اخراجات بھی نمایاں طور پر بڑھے ہیں، جو مالی سال 15-2014 کے 94,587.95 کروڑ روپے سے بڑھ کر مالی سال27-2026 میں 2.19 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ دفاعی بجٹ میں سرمایہ جاتی اخراجات سے مراد وہ رقوم ہیں جو طویل مدتی بنیادوں پر بڑے عسکری اثاثوں کی خریداری، جدید کاری اور تخلیق کے لیے مختص کی جاتی ہیں۔ درحقیقت یہ بجٹ کا وہ سرمایہ کاری پر مبنی حصہ ہے جو مستقبل کی عسکری صلاحیتوں کی تعمیر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ پیش رفت بنیادی ڈھانچے کی ترقی، جدید ہتھیاروں کے نظام اور دفاعی ٹیکنالوجی کی جدید کاری پر مضبوط توجہ کی عکاسی کرتی ہے۔ آتم نربھر بھارت اقدام کے تحت پالیسی اصلاحات، نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شمولیت اور کاروبار میں آسانی کے بہتر ماحول نے دفاعی پیداوار کو مزید رفتار بخشی ہے، جس کے نتیجے میں  ہندوستان عالمی سطح پر دفاعی پیداوار اور برآمدات کے ایک ابھرتے ہوئے مرکز کے طور پر اپنی شناخت مضبوط کر رہا ہے۔

تحقیق، اختراع اور شراکت داری کے ذریعے دفاعی صلاحیت کا استحکام

دفاعی تحقیق و ترقی کے لیے مختص رقم مالی سال15-2014 کے 13,716.14 کروڑ روپے تھی جو مالی سال27-2026 میں بڑھ کر 29,100.25 کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جو 112 فیصد سے زیادہ اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔ اختراع میں وسیع تر شمولیت کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے 23-2022میں دفاعی تحقیق و ترقی کے بجٹ کا 25 فیصد صنعت، نوآموز اداروں اور جامعات کے لیے مختص کر دیا۔ اس مقصد کے لیے 2024 میں محکمۂ دفاع نے 1,757 کروڑ روپے خرچ کیے۔

اس کے علاوہ دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم (ڈی آر ڈی او) کی تجربہ گاہوں میں قائم متعدد عالمی معیار کی تحقیق و ترقی کی سہولیات نجی صنعتوں کے لیے بھی کھول دی گئی ہیں تاکہ ایک شفاف دفاعی ماحولیاتی نظام کو فروغ دیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے وزارت دفاع نے ضروری معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پیز) مرتب کیے ہیں اور ڈی آر ڈی او کی 24 تجربہ گاہوں کے آزمائشی بنیادی ڈھانچے کی تفصیلات دفاعی آزمائش پورٹل پر دستیاب کر دی ہیں۔

دفاعی بہتری کے لیے اختراعات (آئی ڈی ای ایکس)

آئی ڈی ای ایکس ہندوستان کے دفاعی اور فضائی شعبوں میں اختراع، ٹیکنالوجی کی ترقی اور خود انحصاری کو فروغ دینے والے ایک اہم اقدام کے طور پر ابھرا ہے۔ اس کے تحت صنعتوں، بشمول خرد، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز)، اسٹارٹ اپس، انفرادی موجدوں، تحقیقی اداروں اور جامعات کو مقامی دفاعی ٹیکنالوجیوں کی تیاری میں فعال طور پر شامل کیا جا رہا ہے۔ اس ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ڈی آر ڈی او نے دفاعی آزمائش پورٹل کے ذریعے اپنی جدید آزمائشی سہولیات بھی نجی صنعت کے لیے کھول دی ہیں، تاکہ اختراع کار اہم آزمائشی اور جانچ کی سہولیات سے استفادہ کر سکیں۔

آئی ڈی ای ایکس اسکیم کو مالی سال22-2021 سے26-2025 کے عرصے کے لیے 498.78 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ آئی ڈی ای ایکس کے ذریعے اختراعی ٹیکنالوجیوں کی ترقی میں تیزی (اے ڈی آئی ٹی آئی) اسکیم کو مالی سال 24-2023 سے 26-2025کے لیے 750 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ منظوری دی گئی۔ دونوں اسکیموں کے تحت دفاعی اختراع تنظیم (ڈی آئی او) کے ذریعے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے، جس سے اختراع کاروں کو دفاعی مقاصد کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجیوں کی تیاری میں مدد ملتی ہے۔

مارچ 2026 تک آئی ڈی ای ایکس کے تحت 676 اسٹارٹ اپس، ایم ایس ایم ایز اور اختراع کار شامل ہو چکے تھے، جبکہ 551 ڈیزائن اور ترقیاتی معاہدوں پر دستخط کیے جا چکے تھے۔ یہ کامیابیاں ہندوستان کے مقامی دفاعی اختراعی ماحولیاتی نظام کی تیز رفتار ترقی اور بڑھتی ہوئی پختگی کی عکاسی کرتی ہیں۔

ترقی و پیداوار شراکت دار (ڈی سی پی پی) ماڈل

ڈی سی پی پی ماڈل دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم (ڈی آر ڈی او) کا ایسا نظام ہے جس کا مقصد دفاعی ٹیکنالوجیوں کی تیاری اور پیداوار میں ہندوستانی صنعت کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ اس ماڈل کے تحت ڈی آر ڈی او مسابقتی عمل کے ذریعے سرکاری اور نجی شعبے سے اہل پیداواری شراکت داروں کا انتخاب کرتا ہے اور پیداوار کے لیے مطلوبہ ٹیکنالوجی انہیں منتقل کرتا ہے۔ ذیلی نظاموں، مکمل نظاموں اور دفاعی سازوسامان کی تیاری کی صلاحیت رکھنے والی 2,200 سے زائد صنعتوں کے مضبوط نیٹ ورک کی بدولت اس ماڈل نے مقامی دفاعی پیداوار میں نمایاں وسعت پیدا کی ہے۔ مارچ 2026 تک 134 کمپنیاں ڈی آر ڈی او کے ساتھ ڈی سی پی پی یا پیداواری ایجنسیوں کے طور پر منسلک ہو چکی تھیں، 2,180 ٹیکنالوجی منتقلی کے معاہدے کیے جا چکے تھے، جبکہ 2,780 سے زائد دانشورانہ املاک کے حقوق (آئی پی آرز) ہندوستانی صنعت کے استعمال کے لیے دستیاب کرائے جا چکے تھے۔

ٹیکنالوجی ترقیاتی فنڈ (ٹی ڈی ایف)

ٹی ڈی ایف وزارت دفاع کا ایک اقدام ہے، جسے ڈی آر ڈی او نافذ کرتا ہے تاکہ مقامی دفاعی اختراع کو فروغ دیا جا سکے اور سرکاری و نجی صنعتوں، خصوصاً  اسٹارٹ اپس اور خرد، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) کی شمولیت میں اضافہ ہو۔ اس اسکیم کے تحت اہم دفاعی ٹیکنالوجیوں کی تیاری کے لیے 50 کروڑ روپے تک کی گرانٹ فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے نمایاں نتائج سامنے آئے ہیں، جن میں متعدد ٹیکنالوجیوں کی کامیاب تیاری اور پی ایس ایل وی مشنز کے دوران دو منصوبہ جاتی نظاموں کا خلا میں کامیاب تجربہ شامل ہے۔ ہندوستان کے جدید گہری ٹیکنالوجی کے ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اس اسکیم کے تحت اضافی 500 کروڑ روپے کے فنڈ کی منظوری دی گئی ہے، جس کی توجہ جدید اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں پر مرکوز ہے۔ جون 2026 تک ٹی ڈی ایف اسکیم کے تحت 334 کروڑ روپے کی مجموعی لاگت کے 80 منصوبوں پر عمل درآمد جاری تھا۔

ڈی آر ڈی او صنعت و تعلیمی اداروں کا سینٹر آف ایکسیلینس (ڈی آئی اے-سی او ای)

ڈی آر ڈی او نے دفاعی اور سلامتی کے شعبوں میں اہم اور مستقبل کی ٹیکنالوجیز کی تیاری کے لیے ڈی آر ڈی او صنعت و تعلیمی اداروں کے سینٹر آف ایکسیلینس (ڈی آئی اے-سی او ای) کے نیٹ ورک کے ذریعے مشترکہ ہدفی تحقیق کے لیے ایک پالیسی اور طریقۂ کار تیار کیا ہے۔ مجموعی طور پر 15 ڈی آئی اے-سی او ای قائم کیے گئے ہیں، جو تقریباً 82 شناخت شدہ تحقیقی شعبوں میں تحقیق کو عملی شکل دینے کی سرگرمیوں کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ ڈی آر ڈی او نے صنعتوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے اپنی تجربہ گاہوں میں صنعتی رابطہ گروپس (آئی آئی جی) قائم کیے ہیں۔

ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کے لیے انسانی صلاحیت کی تعمیر

ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کے لیے باصلاحیت افرادی قوت، تحقیق اور ادارہ جاتی استعداد میں مسلسل سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ ڈی آر ڈی او نے جنوری 2020 میں نوجوان سائنس دانوں کی پانچ تجربہ گاہیں قائم کیں، جبکہ چھٹی تجربہ گاہ 2026 میں قائم کی جائے گی۔ تنظیم نے اپنے تحقیقی ڈھانچے کو بھی منظم کرتے ہوئے تجربہ گاہوں کی تعداد 36 تک محدود کر دی ہے۔ نئے بھرتی ہونے والے سائنس دان اب تجربہ گاہوں میں تقرری سے قبل دفاعی اعلیٰ ٹیکنالوجی کے ادارے میں دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں دو سالہ ایم ٹیک پروگرام مکمل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اعلیٰ مالیت کے منصوبوں میں منصوبہ جاتی بنیاد پر افرادی قوت کی تعیناتی سے خصوصی مہارت تک رسائی مزید مضبوط ہوئی ہے۔

ہندوستان نے دفاعی شعبے میں مہارت کی ترقی اور تحقیقی مواقع میں بھی نمایاں توسیع کی ہے۔ ہر سال 3,500 سے زائد انجینئر اور تکنیکی ماہرین ڈی آر ڈی او کی تجربہ گاہوں میں وظیفہ یافتہ تربیتی کارکن کے طور پر شامل ہوتے ہیں۔ انجینئرنگ کے طلبہ کے لیے وظیفہ یافتہ انٹرن شپ اسکیم کے ذریعے دفاعی تحقیق کا عملی تجربہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ 15 ڈی آئی اے۔سی او ای مراکز کے تحت 52 اداروں میں 967 کروڑ روپے مالیت کے 281 تحقیقی منصوبے جاری ہیں۔ اتر پردیش کے پلکھوا میں قائم ڈی آر ڈی او ، اسکیل ڈیولپمنٹ سینٹر آگ سے تحفظ کی ٹیکنالوجی اور آگ بجھانے کی جدید تکنیکوں کی تربیت فراہم کرتا ہے۔ یہ تمام اقدامات ہندوستان کی مستقبل کی دفاعی صلاحیتوں کے لیے ماہر افرادی قوت کی مضبوط بنیاد تیار کر رہے ہیں۔

خود انحصاری کے فروغ کے لیے دفاعی حصولیابی کی اصلاحات

ہندوستان کا اعلیٰ ترین دفاعی سازوسامان کی خریداری سے متعلق ادارہ (ڈی اے سی) دفاع کے شعبے میں آتم نربھربھارت کے فروغ کا ایک اہم محرک رہا ہے۔ دفاعی حصولی کا طریقۂ کار (ڈی اے پی) 2020 کے تحت کی گئی اصلاحات کے ذریعے اس نے مقامی خریداری، اندرون ملک دفاعی پیداوار اور مقامی اجزا کے زیادہ استعمال کو ترجیح دی۔ ڈی اے سی نے ڈی آر ڈی او کے تیار کردہ اور ہندوستانی صنعت کے تیار کردہ دفاعی نظاموں کے لیے 6 لاکھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کی ضرورت کی منظوری (اے او این) دی، جن میں سے متعدد نظام مسلح افواج میں شامل کیے جا چکے ہیں یا شمولیت کے مرحلے میں ہیں۔ اہم منظوریوں میں 62,000 کروڑ روپے مالیت کے 97 تیجس ایم کے-1 اے ہلکے جنگی طیارے، تقریباً 62,700 کروڑ روپے مالیت کے 156 پرچنڈ ہلکے جنگی ہیلی کاپٹر اور 26 رفائل میرین طیارے سمیت دیگر دفاعی نظام شامل ہیں۔

دفاعی خریداری کی اصلاحات کی ایک دہائی: تیز تر، آسان تر اور زیادہ مقامی

ہندوستان نے 2014 سے 2026 کے دوران دفاعی خریداری کے نظام کو جدید بنانے اور خود انحصاری کو مضبوط کرنے کے لیے اہم اصلاحات نافذ کیں۔ ان پالیسی اقدامات کا مقصد فیصلہ سازی کو تیز تر بنانا، مقامی اجزا کے استعمال میں اضافہ کرنا اور ملکی صنعت کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کو فروغ دینا تھا۔

دفاعی خریداری کا طریقۂ کار (ڈی پی پی) 2016

یہ ہندوستانی مسلح افواج کے لیے دفاعی خریداری کا بنیادی ضابطہ تھا۔ اس کا مقصد دفاعی خریداری کے عمل کو ادارہ جاتی شکل دینا، اسے منظم اور آسان بنانا، اور دفاعی شعبے میں میک اِن انڈیا اقدام کو فروغ دینا تھا۔

دفاعی حصولی کا طریقۂ کار (ڈی اے پی) 2020

اس کے تحت مقامی دفاعی پیداوار کو فروغ دینے اور سرمایہ جاتی دفاعی خریداری کے عمل کو آسان بنانے کے لیے اہم اصلاحات متعارف کرائی گئیں۔ اس سے  ہندوستانی کمپنیوں کے لیے مزید مواقع پیدا ہوئے اور دفاعی نظاموں کے مقامی ڈیزائن، تیاری اور پیداوار کی حوصلہ افزائی کی گئی۔

دفاعی خریداری سے متعلق رہنما اصول (ڈی پی ایم) 2025

ڈی پی ایم نے آمدنی سے متعلق دفاعی خریداری میں شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنایا۔ اس کے تحت تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے مالیت کی خریداری کے عمل کو تیز رفتار منظوریوں، مقامی منصوبوں پر جرمانوں میں نرمی اور طویل مدتی آرڈرز کی یقین دہانی کے ذریعے مزید آسان اور مؤثر بنایا گیا۔

دفاعی حصولی کا طریقۂ کار (ڈی اے پی) 2026 (مسودہ)

اس مسودے میں دفاعی خریداری کی زیادہ آسان اقسام متعارف کرانے اور مقامی ڈیزائن و ترقی کی مزید حوصلہ افزائی کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، مقامی دفاعی پیداوار کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مقامی اجزا کے لازمی تناسب کو بڑھا کر 60 فیصد تک کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان نے زیادہ سرمایہ کاری، مقامی اختراع اور اہم پالیسی اصلاحات کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو نمایاں طور پر مضبوط بنایا ہے۔ دفاعی اخراجات میں اضافے، صنعت کی بڑھتی ہوئی شمولیت اور تحقیق و ترقی پر خصوصی توجہ نے خود انحصاری کی جانب پیش رفت کو تیز کیا ہے۔ آئی ڈی ای ایکس، ٹی ڈی ایف اور ڈی آر ڈی اوصنعت شراکت داری جیسے اقدامات نے دفاعی اختراع کا ایک متحرک ماحولیاتی نظام تشکیل دیا ہے۔ اہم دفاعی خریداریوں اور حصولی کی اصلاحات کے ساتھ مل کر یہ تمام کوششیں ایک ایسے دفاعی شعبے کی تعمیر کر رہی ہیں جو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ، مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ اور عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت رکھتا ہے۔

حصہ دوم: استعداد میں تبدیلی — وسعت اور صنعتی ترقی کی ایک دہائی

ہندوستان کی دفاعی پیداواری استعداد مسلسل پالیسی اور صنعتی اصلاحات کے ذریعے تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد وسعت، پائیداری اور مقامی صلاحیت کو فروغ دینا ہے۔ ایک مضبوط مقامی دفاعی ماحولیاتی نظام درآمدات پر انحصار کی جگہ لے رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں دفاعی خریداری کے عمل میں بھی نمایاں تیزی آئی ہے۔ مالی سال 25-2024 کے دوران 2,09,050 کروڑ روپے مالیت کے 193 دفاعی معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جبکہ مالی سال 26-2025 میں اب تک 1.82 لاکھ کروڑ روپے مالیت کے دفاعی معاہدے طے کیے جا چکے ہیں۔ یہ تبدیلی نہ صرف دفاعی پیداوار کی گہرائی کو بڑھا رہی ہے ،بلکہ ملک کی تزویراتی خودمختاری کو بھی مضبوط بنا رہی ہے۔

 

خریدار سے سازندہ بننے کی ساختی تبدیلی

مالی سال 26-2025 میں ہندوستان کی دفاعی پیداوار 1,78,000 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ گزشتہ مالی سال کی 1,54,071 کروڑ روپے کی پیداوار کے مقابلے میں 15.6 فیصد اضافہ ہے۔اس کے علاوہ مالی سال 21-2020 کی 84,643 کروڑ روپے کی پیداوار کے مقابلے میں یہ 110 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہے۔ یہ پیش رفت مسلح افواج کی جدید کاری اور ایک مضبوط دفاعی صنعتی ماحولیاتی نظام کی تشکیل کے لیے حکومت کے پختہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ مسلسل اضافہ آتم نربھر بھارت کے وژن کے تحت ہندوستان کے دفاعی صنعتی ماحولیاتی نظام کی بڑھتی ہوئی مضبوطی کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ مالی سال26-2025 میں دفاعی سرکاری شعبے کے اداروں اور دیگر سرکاری اداروں کا مجموعی دفاعی پیداوار میں تقریباً 76 فیصد حصہ رہا، جبکہ نجی شعبے کا حصہ بڑھ کر 24 فیصد ہو گیا، جو صنعت کی بڑھتی ہوئی شمولیت کی نشاندہی کرتا ہے۔

ایک دہائی میں ہندوستان کی دفاعی برآمدات میں نمایاں تبدیلی

ہندوستان کی دفاعی برآمدات مالی سال14-2013 کے 686 کروڑ روپے سے بڑھ کر مالی سال 26-2025 میں 38,424 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہیں۔ یہ بارہ برسوں میں 5,500 فیصد سے زیادہ کا غیر معمولی اضافہ ہے۔ یہ تبدیلی میک اِن انڈیا اقدام اور دفاعی خود انحصاری کو فروغ دینے کی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ہندوستان بتدریج ایک بڑے دفاعی درآمد کنندہ سے دفاعی سازوسامان تیار کرنے والے ملک میں تبدیل ہو رہا ہے۔ اس وقت تقریباً 65 فیصد دفاعی سازوسامان ملک کے اندر تیار کیا جا رہا ہے، جبکہ پہلے 65 سے 70 فیصد ضروریات درآمدات کے ذریعے پوری کی جاتی تھیں۔

ہندوستانی  دفاعی مصنوعات اب دنیا کے 80 سے زائد ممالک کو برآمد کی جا رہی ہیں۔ دفاعی برآمد کنندگان کی تعداد بڑھ کر 145 کمپنیوں تک پہنچ گئی ہے، جو صنعت کی وسیع تر شمولیت کی عکاسی کرتی ہے۔ دفاعی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہندوستانی دفاعی نظاموں اور ٹیکنالوجیوں پر عالمی اعتماد میں اضافے کا مظہر ہے۔ حکومت نے 2029 تک دفاعی برآمدات کو 50,000 کروڑ روپے تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس سے عالمی دفاعی برآمد کنندہ کے طور پرہندوستان کی حیثیت مزید مستحکم ہوگی۔

دفاعی صنعتی استعداد میں توسیع

ہندوستان نے متعدد پالیسی اصلاحات اور نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شمولیت کے ذریعے اپنی دفاعی پیداواری بنیاد کو مسلسل وسعت دی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک نے ایک مضبوط مقامی دفاعی ماحولیاتی نظام قائم کیا ہے، جس میں اس وقت 16 دفاعی سرکاری شعبے کے ادارے (ڈی پی ایس یوز)، تقریباً 500 لائسنس یافتہ دفاعی کمپنیاں اور تقریباً 17,000 خرد، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے (ایم ایس ایم ایز) شامل ہیں۔ اس شعبے میں صنعتی استعداد میں اضافے اور کاروبار میں آسانی کی بہتر فضا کی عکاسی کرتے ہوئے دفاعی صنعتی لائسنسوں کی تعداد 2015 میں 258 سے بڑھ کر مارچ 2026 تک 834 ہو گئی، یعنی یہ تعداد تین گنا سے بھی زیادہ بڑھ چکی ہے۔ یہ توسیع پذیر ماحولیاتی نظام مقامی دفاعی پیداوار کو مضبوط بنا رہا ہے، اختراع کو فروغ دے رہا ہے اور دفاعی پیداوار میں خود انحصاری کےہندوستانی ہدف کو آگے بڑھا رہا ہے۔

یہ نمایاں اضافہ دفاعی پیداوار کے شعبے میں سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور نجی شعبے کی وسیع تر شمولیت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس عرصے کے دوران سرکاری شعبے کے اداروں کی دفاعی برآمدات میں بھی 151 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مقامی دفاعی صلاحیت میں مسلسل بہتری نے اس شعبے میں رسدی سلسلوں، ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال اور صنعتی مسابقت کو مزید مضبوط بنایا ہے۔


کیا آپ جانتے ہیں؟

اکتوبر 2021 میں حکومتِ ہند نے 200 سال پرانے آرڈننس فیکٹری بورڈ (او ایف بی) کو تحلیل کر دیا اور اس کے تحت کام کرنے والی 41 آرڈننس فیکٹریوں کو ازسرِنو منظم کرتے ہوئے دفاعی سرکاری شعبے کے سات نئے اداروں (ڈی پی ایس یوز) میں تبدیل کر دیا۔ اس اصلاح کا مقصد دفاعی پیداوار میں کارکردگی، جوابدہی، مسابقت اور تکنیکی صلاحیت کو بہتر بنانا تھا۔ اس تنظیمِ نو نے آتم نربھر بھارت کے وژن کے تحت بھارت کے مقامی دفاعی پیداواری ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط بنایا اور دفاعی شعبے کی پیداواری استعداد میں نمایاں اضافہ کیا۔

دفاعی صنعتی راہداریاں: علاقائی دفاعی پیداوار کو فروغ

دفاعی صنعتی راہداریاں دفاعی پیداوار کے اہم مراکز کے طور پر ابھری ہیں، جو علاقائی رسد کے تسلسل کو مضبوط بنانے اور مربوط صنعتی ماحولیاتی نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اپریل 2026 تک اتر پردیش دفاعی صنعتی راہداری میں 42,057 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے وعدے حاصل ہوئے، جن میں سے 4,409 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری عملی شکل اختیار کر چکی تھی۔ اس کے ساتھ ہی آزمائش اور اختراع کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے دفاعی ٹیکنالوجی و آزمائش مرکز (ڈی ٹی ٹی سی) بھی قائم کیا گیا۔

اسی عرصے میں تمل ناڈو دفاعی صنعتی راہداری میں 32,699 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری حاصل ہوئی، جبکہ حقیقی سرمایہ کاری 6,446 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ یہ دونوں دفاعی صنعتی راہداریاں صنعتی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو تیز کرنے کے ساتھ مقامی دفاعی پیداوار کی استعداد میں اضافہ کر رہی ہیں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہیں۔

آتم نربھر بھارت کے تحت دفاعی شعبے کی اہم اصلاحات

دفاعی پیداوار میں کاروبار کرنے میں آسانی:2015 سے پہلے صنعتی لائسنس کی ابتدائی مدت کار 7 سال تھی، جس میں زیادہ سے زیادہ 3 سال کی توسیع کی جا سکتی تھی۔ 2015 میں حکومت نے اس مدت کو بڑھا کر ابتدائی طور پر 15 سال کر دیا، جس میں مزید توسیع کے بعد مدت 18 سال تک ہو سکتی ہے۔ یہ سہولت نئے اور پہلے سے جاری تمام صنعتی لائسنسوں پر لاگو ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اسلحہ قانون کے تحت کمپنیوں کو جاری کیے جانے والے لائسنس اب کمپنی کی پوری مدت وجود تک مؤثر رہتے ہیں، بشرطیکہ کمپنی منظوری کی تاریخ سے 7 سال کے اندر پیداواری یونٹ قائم کر لے اور دیگر شرائط پوری کرے۔ ضرورت پڑنے پر اس مدت میں 3 سال تک کی مزید توسیع کی جا سکتی ہے، یعنی مجموعی طور پر 10 سال تک اس کو بڑھایا جاسکتا ہے۔

دفاعی برآمد و درآمد پورٹل کی از سر نو تشکیل:یہ پورٹل درخواست کے آغاز سے منظوری تک تمام مراحل کی آن لائن تکمیل، کمپنیوں کی خودکار جانچ، آسان رجسٹریشن، درخواست کی حقیقی وقت میں نگرانی اور محفوظ آن لائن ادائیگی کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے شفافیت، کارکردگی اور ضابطہ جاتی تقاضوں کی پاسداری میں بہتری آئی ہے، جبکہ آتم نربھر بھارت اور میک ان انڈیا کے اہداف کو تقویت ملنے کے ساتھ ہندوستان کو دفاعی پیداوار اور برآمدات کے عالمی مرکز کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔

صنعتوں کے ذریعے مقامی پیداوار کا فروغ:وزارت دفاع نے اگست 2020 میں سریجن دفاعی پورٹل کا آغاز کیا۔ اس پورٹل پر دفاعی سرکاری شعبے کے ادارے (ڈی پی ایس یوز) اور مسلح افواج کے ہیڈکوارٹرز (ایس ایچ کیوز) دفاعی سامان کی ایسی فہرست جاری کرتے ہیں، جنہیں مقامی طور پر تیار کرنے کے لیے صنعتوں، بشمول خرد، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) اور اسٹارٹ اپس کو پیش کیا جاتا ہے۔ مقامی پیداوار کو ترجیح دینے کے لیے وزارت دفاع نے 2021 میں آتم نربھر بھارت اقدام کے تحت مثبت مقامی سازی کی فہرستیں بھی متعارف کرائیں۔ اس اقدام نے مقامی دفاعی پیداوار کو فروغ دیا، درآمدات پر انحصار کم کیا اور دفاعی شعبے کی مقامی صلاحیت میں اضافہ کیا۔ مئی 2026 تک دفاعی سرکاری شعبے کے اداروں کی 5,012 اشیا پر مشتمل پانچ مثبت مقامی سازی کی فہرستیں جاری کی جا چکی تھیں۔ گزشتہ پانچ برسوں میں سریجن پورٹل کے ذریعے 15,700 سے زائد دفاعی اشیا، جن میں 3,204 اشیا مثبت مقامی سازی کی فہرستوں سے تعلق رکھتی ہیں، مقامی طور پر تیار کی گئیں۔ دفاعی سرکاری شعبے کے اداروں نے 9,782 کروڑ روپے مالیت کے ملکی آرڈرز جاری کیے، جس سے ایم ایس ایم ایز، نوآموز اداروں، تحقیقی اداروں اور بھارت کی دفاعی پیداواری صلاحیت کو فروغ ملا۔

سریجن ڈیپ:محکمۂ دفاعی پیداوار نے سریجن ڈیپ (دفاعی اداروں اور صنعت کاروں کا پلیٹ فارم) تیار کیا ہے، جو دفاعی صنعتوں کا ایک ڈیجیٹل معلوماتی ذخیرہ ہے۔ یہ پورٹل دفاعی سازوسامان تیار کرنے والوں، ایم ایس ایم ایز، خدمات فراہم کرنے والوں اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں کا جامع ریکارڈ فراہم کرتا ہے، جو دفاعی ماحولیاتی نظام کا حصہ ہیں۔ ہر صنعت یا فروخت کنندہ کو پورٹل پر ایک منفرد حوالہ نمبر (یو آر این) دیا گیا ہے، جو آئندہ تمام حوالوں، معلومات کی تجدید اور دیگر مقاصد کے لیے استعمال ہوگا۔ یہ معلوماتی ذخیرہ وزارتِ دفاع کے مختلف اداروں کے لیے دستیاب ہے اور ہنگامی حالات میں رسدی سلسلے کو مضبوط بنانے اور وسائل کے مؤثر استعمال میں مدد فراہم کرے گا۔ مئی 2026 تک 41,000 سے زائد فروخت کنندگان کی دفاعی سرکاری شعبے کے اداروں اور دیگر دفاعی تنظیموں کو فراہم کی جانے والی  2,70,000 مصنوعات سریجن ڈیپ پر درج کی جا چکی تھیں۔

دفاعی شعبے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی):دفاعی صنعت کا شعبہ مئی 2001 میں نجی شعبے کی شمولیت کے لیے کھولا گیا تھا۔ 2020 میں دفاعی شعبے میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی حد بڑھا کر نئے دفاعی صنعتی لائسنس حاصل کرنے والی کمپنیوں کے لیے خودکار راستے کے تحت 74 فیصد اور ایسے معاملات میں، جہاں جدید ٹیکنالوجی تک رسائی متوقع ہو، حکومتی منظوری کے راستے کے تحت 100 فیصد کر دی گئی۔ مارچ 2026 تک دفاعی شعبے میں سرگرم کمپنیوں کو مجموعی طور پر 6,670.59 کروڑ روپے کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری موصول ہوئی۔اس کے علاوہ حکومت جدید دفاعی ٹیکنالوجیوں کی مشترکہ تیاری اور مشترکہ پیداوار کے لیے غیر ملکی اصل ساز کمپنیوں (او ای ایمز) کے ساتھ تعاون کو فروغ دے رہی ہے، تاکہ دفاعی شعبے میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں مزید اضافہ ہو سکے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image01063AM.png

 

حصہ سوم: اختراع سے عملی برتری تک

 

گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان کے دفاعی ماحولیاتی نظام میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ یہ پیش رفت عملی کامیابیوں، مقامی طور پر تیار کردہ دفاعی پلیٹ فارموں، جدید بنیادی ڈھانچے اور فروغ پاتے ہوئے اختراعی ماحولیاتی نظام کی صورت میں نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ ان کوششوں نے نہ صرف قومی سلامتی کو مضبوط بنایا ہے بلکہ دفاعی خود انحصاری کے وژن کو بھی آگے بڑھایا ہے۔

حکمت عملی کے بھرپور اثر کے لیے آپریشنل تیاری

  • 27 مارچ 2019 کوہندوستان نے مشن شکتی کے ذریعے خلا میں ایک سیٹلائٹ کو تباہ کرنے کی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا اور ان محدود ممالک کے گروپ میں شامل ہو گیا جن کے پاس سیٹلائٹ شکن صلاحیت موجود ہے۔
  • 11 مارچ 2024 کو ہندوستان نے مشن دیوی استرکے تحت طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایسے میزائل کا کامیاب تجربہ کیا جو مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے متعدد وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
  • آپریشن سندور کے دوران مقامی طور پر تیار کردہ نظاموں، جیسے آکاش فضائی دفاعی میزائل، برہموس میزائل، اینٹی ڈرون نظام اور فضائی نگرانی کے پلیٹ فارموں نے مسلح افواج کی معاونت کی۔
  • 23 اگست 2025 کو ڈی آر ڈی او نے ایک جدید فضائی دفاعی نظام کا کامیاب تجربہ کیا، جس میں میزائل روکنے والے نظام، قلیل فاصلے کے فضائی دفاعی ہتھیار اور لیزر پر مبنی ٹیکنالوجی شامل ہیں، جو فضائی خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دفاعی ٹیکنالوجیوں کی نئی نسل

  • مقامی طور پر تیار کردہ تیجس لڑاکا طیارے کو فروری 2019 میں حتمی عملی منظوری حاصل ہوئی، جبکہ ہندوستانی فضائیہ میں شامل کرنے کے لیے 83 طیاروں کی منظوری دی گئی۔
  • ارجن ایم کے-1 اے جنگی ٹینک کو فروری 2021 میں ہندوستانی فوج میں شامل کیا گیا۔
  • سال 2022 میں دفاعی شعبے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی 75 ٹیکنالوجیاں متعارف کرائی گئیں، جن میں نگرانی، سائبر سکیورٹی، رسد، خودکار نظام اور میدان جنگ میں معاونت سے متعلق ٹیکنالوجیاں شامل ہیں۔
  • ہندوستان نے اگلی نسل کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے لیے جدید پروپلشن نظام تیار کرنے میں بھی اہم پیش رفت حاصل کی ہے۔
  • 9 جنوری 2026 کو ڈی آر ڈی او نے اسکریم جیٹ کنیکٹ پائپ ٹیسٹ (ایس سی پی ٹی) مرکز میں فعال طور پر ٹھنڈا کیے جانے والے اسکریم جیٹ مکمل پیمانے کے کمبسٹر کا 12 منٹ سے زائد طویل زمینی تجربہ کامیابی سے انجام دیا، جو ہائپرسونک میزائل کی تیاری میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
  • حیدرآباد میں ایک نیا ہائپرسونک ونڈ ٹنل قائم کیا گیا ہے، جو مستقبل کی تیز رفتار میزائل ٹیکنالوجیوں کی ترقی میں معاونت فراہم کرے گا۔

جدید اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ مسلح افواج کی تشکیل

اگنی پتھ اسکیم کا آغاز 15 جون 2022 کو کیا گیا، جس کے تحت نوجوان مرد و خواتین کو اگنی ویر کے طور پر چار سالہ خدمت کے لیے مسلح افواج میں بھرتی کیا جاتا ہے۔ اس اسکیم کا مقصد ایک ایسی نوجوان، ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ اور جنگی صلاحیت رکھنے والی فوج تیار کرنا ہے ،جو جدید سوچ کی حامل ہو۔ اگنی ویروں کو فوجی تربیت، خصوصی مہارتوں کی ترقی اور اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی (اگنو) اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ (این آئی او ایس) جیسے اداروں کے تعاون سے تعلیمی مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت قومی سطح پر تسلیم شدہ مہارت کے سرٹیفکیٹ اور مدتِ خدمت مکمل ہونے کے بعد روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔ اگنی پتھ اسکیم ہندوستان کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنا رہی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے ایک ایسی نوجوان، باصلاحیت، منظم اور ٹیکنالوجی پر مبنی فوج تیار ہو رہی ہے جو مستقبل کے جنگی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

ہندوستان کی دفاعی تبدیلی تحقیق، اختراع اور تزویراتی صلاحیتوں کی ترقی کے لیے مسلسل عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ میدانِ جنگ کے لیے تیار نظاموں سے لے کر مستقبل کی ٹیکنالوجیوں اور باہمی تعاون پر مبنی اختراعی نیٹ ورکس تک، ملک نے طویل مدتی سلامتی کے لیے ایک مضبوط بنیاد قائم کی ہے۔ یہ کامیابیاں ہندوستان کی بدلتے ہوئے چیلنجز کا اعتماد اور مقامی طاقت کے ساتھ مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنا رہی ہیں۔

حصہ چہارم: 12 برسوں میں ایک بااعتماد طاقت — ہندوستان کی دفاعی سفارت کاری اور عزم

گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان کی دفاعی سفارت کاری قومی سلامتی اور تزویراتی اثر و رسوخ کے ایک اہم ستون کے طور پر ابھری ہے۔ ملک نے تزویراتی خود مختاری کو برقرار رکھتے ہوئے دنیا کی بڑی طاقتوں کے ساتھ اپنی شراکت داریوں کو وسعت دی ہے۔ اب دفاعی تعاون صرف فوجی تبادلوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ٹیکنالوجی کے اشتراک، صنعتی شراکت داری اور مشترکہ پیداوار تک پھیل چکا ہے۔

ہندوستان نے علاقائی اور کثیرجہتی سلامتی کے پلیٹ فارموں پر بھی اپنا کردار مزید مضبوط کیا ہے۔ کواڈ (کیو یو اے ڈی)، شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور آسیان وزرائے دفاع کی پلس میٹنگ (اے ڈی ایم ایم پلس) جیسے فورمز کے ذریعے ہندوستان بحری سلامتی، دہشت گردی کے خلاف کارروائی اور قوانین پر مبنی عالمی نظام کی حمایت کرتا ہے۔ یہ سرگرمیاں ایک پیچیدہ جغرافیائی سیاسی ماحول میں ہندوستان کی باثر حکمت عملی ،اعتماد اور ایک ذمہ دار سلامتی شراکت دار کے طور پر اس کی مضبوط ہوتی ساکھ کی عکاسی کرتی ہیں۔

ہند-امریکہ

ہندوستان اور امریکہ نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران کئی اہم دفاعی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ ان میں 2016 میں طے پانے والا لاجسٹکس ایکسچینج میمورنڈم آف ایگریمنٹ (ایل ای ایم او اے) شامل ہے۔ دونوں ممالک نے 2018 میں کمیونی کیشنز کمپیٹی بلٹی اینڈ سکیورٹی ایگریمنٹ (سی او ایم سی اے ایس اے) پر بھی دستخط کیے۔ 2020 میں بنیادی تبادلہ اور تعاون کا معاہدہ (بی ای سی اے) طے پایا۔ امریکہ نےہندوستان کو اہم دفاعی شراکت دار کا درجہ دیا۔ اس کے علاوہ ہندوستان کو اسٹریٹجک ٹریڈ اتھارائزیشن-1 (ایس ٹی اے-1) کا درجہ بھی حاصل ہوا۔

ان پیش رفتوں نے ہندوستان۔امریکہ دفاعی شراکت داری کو ادارہ جاتی شکل دی۔ اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی سے متعلق اقدام (آئی سی ای ٹی) کا آغاز 2023 میں کیا گیا۔ 2025 میں یہ تعاون تزویراتی ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے تعلقات میں تبدیلی (ٹرسٹ) کے تحت جاری رہا۔ اس فریم ورک کے ذریعے مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز اور خلائی ٹیکنالوجیوں کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دی گئی۔ اکتوبر 2025 میں دونوں ممالک نے کوالالمپور میں 10 سالہ دفاعی شراکت داری فریم ورک پر دستخط کیے۔ اس معاہدے سے مشترکہ فوجی مشقوں، ٹیکنالوجی تعاون اور ہند۔بحرالکاہل خطے میں سلامتی کے تعاون کو مزید مضبوطی ملی۔

ہند۔روس

بدلتی ہوئی عالمی جغرافیائی سیاست کے باوجود ہندوستان اور روس کی دفاعی شراکت داری مضبوط رہی۔ یہ شراکت داری ہند۔روس بین الحکومتی کمیشن برائے فوجی اور فوجی تکنیکی تعاون (آئی آر آئی جی سی۔ایم اینڈ ایم ٹی سی) پر مبنی ہے۔ اس کمیشن کے 21ویں اور 22ویں میٹنگ بالترتیب دسمبر 2024 اور 2025 میں منعقد ہوئے۔ دونوں ممالک نے ایس-400 فضائی دفاعی نظام کے شعبے میں تعاون کو جاری رکھنے کی توثیق کی۔ دونوں جانب سے ایس یو-30 ایم کے آئی لڑاکا طیاروں کی جدید کاری کی حمایت بھی کی گئی۔

اس شراکت داری کے ذریعے آتم نربھر بھارت کے تحت مشترکہ دفاعی پیداوار کے مواقع میں اضافہ ہوا۔ دونوں ممالک کے درمیان اندرا مشق ایک اہم سہ فریقی مسلح افواج کی مشترکہ فوجی مشق کے طور پر جاری ہے۔ ہندوستان نے روس کے ساتھ دفاعی تعاون کو مضبوط بناتے ہوئے اپنی تزویراتی خود مختاری کو برقرار رکھا۔ اب یہ شراکت داری تیزی سے مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی تعاون پر مرکوز ہو رہی ہے۔ ہندوستان نے ملک کے اندر مرمت، دیکھ بھال اور اوورہال (ایم آر او) کی صلاحیتوں کو بھی وسعت دی ہے۔

ہند۔یورپی یونین (ای یو)

مورخہ27 جنوری 2026 کو یورپی یونین اور ہندوستان نےہند۔یورپی یونین سربراہ اجلاس کے موقع پر سلامتی اور دفاعی شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے پر یورپی یونین کی خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کایا کالس اور ہندوستان کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے دستخط کیے۔ یہ معاہدہ امن، سلامتی اور دفاع کے شعبوں میں تعاون کے لیے ایک جامع فریم ورک قائم کرتا ہے، جس میں بحری سلامتی، سائبر دفاع، دہشت گردی کے خلاف کارروائی اور خلائی شعبہ شامل ہیں۔

یہ شراکت داری سالانہ ہند۔یورپی یونین سلامتی اور دفاعی مذاکرات کے ذریعے باقاعدہ تعاون کا ادارہ جاتی نظام قائم کرتی ہے، جبکہ مشترکہ ترقی اور رسدی سلسلے کو مضبوط بنانے کے لیےہند۔یورپی یونین دفاعی صنعتی فورم کے قیام کی بھی گنجائش فراہم کرتی ہے۔

ہند۔فرانس

ہندوستان اور فرانس کے دفاعی تعلقات  ہندوستان کی گہری ترین تزویراتی صنعتی شراکت داریوں میں سے ایک کے طور پر ترقی کر چکے ہیں۔ 2016 کے رافیل معاہدے نے ہندوستانی فضائیہ کی جنگی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کیا۔ پروجیکٹ 75 کے تحت کلوری کلاس کی تمام چھ اسکارپین آبدوزیں فراہم کی جا چکی ہیں۔ یہ آبدوزیں مزگاؤں ڈاک شپ بلڈرز لمیٹڈ (ایم ڈی ایل)، ممبئی نے فرانسیسی تعاون کے ساتھ تیار کیں۔ چھٹی آبدوز کو جنوری 2025 میں بحری بیڑے میں شامل کیا گیا۔2023 میں دفاعی حصولی کونسل (ڈی اے سی) نے 26 رافیل میرین طیاروں کی خریداری کی منظوری دی۔ دسالٹ۔ٹاٹا کے طیارہ سازی سے متعلق مشترکہ منصوبے نے ایرو اسپیس مینوفیکچرنگ کے شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دی۔ سفران-ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) شراکت داری نے انجن ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو مضبوط کیا۔ یہ اقدامات ہوریزون2047 دفاعی صنعتی روڈ میپ اور مشترکہ پیداوار کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔

ہند-جاپان

ہندوستان اور جاپان کی خصوصی تزویراتی اور عالمی شراکت داری نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران دفاعی شعبے میں نمایاں وسعت اور مضبوطی حاصل کی ہے۔ حصولی اور باہمی خدمات کے معاہدے (اے سی ایس اے، 2020) کے ذریعے دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان باہمی رسد اور معاونت کا نظام قائم ہوا۔جیمیکس(جے آئی ایم ای ایکس) مشترکہ بحری مشق دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان باہمی تعاون اور عملی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنا رہی ہے، جس کا تازہ ترین انعقاد 2025 میں یوکوسوکا میں کیا گیا۔ مئی 2025 میں ہندوستان کے وزیردفاع اور جاپان کے وزیرِ دفاع کے درمیان ہونے والی دو طرفہ ملاقات میں علاقائی امن و استحکام کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا۔

ہند-متحدہ عرب امارات

ہندوستان اور متحدہ عرب امارات کے دفاعی تعلقات محض لین دین پر مبنی روابط سے آگے بڑھ کر ایک مضبوط حکمت عملی پر مبنی شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ نومبر 2025 میں منعقدہ دوبئی ایئر شو کے دوران  ہندوستان نے مشترکہ تحقیق و ترقی اور مشترکہ پیداوار کے مواقع کو فعال طور پر فروغ دیا۔جنوری 2026 میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے ہندوستان دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تزویراتی دفاعی شراکت داری کے لیے اعلانِ ارادہ پر دستخط کیے گئے۔ اس کے تحت دفاعی صنعتی تعاون، خصوصی آپریشنز اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کا تصور پیش کیا گیا ہے۔

ہند-آسٹریلیا

2020 میں جامع تزویراتی شراکت داری کا درجہ حاصل کرنے کے بعدہندوستان اور آسٹریلیا کے دفاعی تعلقات میں تیزی سے وسعت اور ادارہ جاتی مضبوطی آئی ہے۔ آسٹریلیا۔ہندوستان دفاعی وزارتی مذاکرات کا پہلا اجلاس اکتوبر 2025 میں کینبرا میں منعقد ہوا، جس نے اس شراکت داری کے پانچ سال مکمل ہونے کی نشاندہی کی۔ اس موقع پر بحری شعبے میں صورتحال سے آگاہی، فوجی مشقوں اور دفاعی صنعت کے انضمام سے متعلق عزم کو مزید آگے بڑھایا گیا۔

شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) — وزرائے دفاع کی میٹنگ

سن2017 میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) میں شمولیت کے بعد سےہندوستان نے اس پلیٹ فارم کو مسلسل دہشت گردی کے خلاف مؤثر آواز بلند کرنے کے لیے استعمال کیا ہے اور کئی مواقع پر پاکستان کے موقف سے مختلف مؤقف اختیار کیا ہے۔ مختلف اجلاسوں اور رابطوں کے ذریعے ہندوستان نے دہشت گردی کی مالی معاونت کے انسداد کے لیے مؤثر فریم ورک کی حمایت کی ہے۔چنگ ڈاؤ (جون 2025) میں منعقدہ اجلاس کے دوران ہندوستان نے دہشت گردی کے خلاف اپنی عدم برداشت کی پالیسی کا اعادہ کیا اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (ڈبلیو ایم ڈی) سے متعلق خطرات کے خلاف اجتماعی اقدامات پر زور دیا۔ اس طرح ہندوستان نے شنگھائی تعاون تنظیم میں اپنے اصولی اور تزویراتی طور پر خود مختار مؤقف کو مزید مضبوط کیا۔

آسیان / اے ڈی ایم ایم پلس — کوالالمپور

اے ڈی ایم ایم پلس میں ہندوستان کی فعال شرکت آسیان ممالک کے درمیان اس کی بڑھتی ہوئی دفاعی ساکھ کی عکاسی کرتی ہے۔ کوالالمپور (نومبر 2025) میں ہندوستان نے ہند۔بحرالکاہل خطے میں بحری آمد و رفت کی آزادی کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ آسیان شراکت داروں نے خطے میں استحکام کے فروغ میں  ہندوستان  کے کردار کو تسلیم کیا۔ایکٹ ایسٹ پالیسی کے تحت ویتنام، فلپائن اور انڈونیشیا کے ساتھ ہندوستان کے دفاعی تعلقات میں مزید گہرائی آئی ہے، جس میں گشتی بحری جہازوں کی فراہمی، دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ اور برہموس میزائل تعاون جیسے شعبے شامل ہیں۔

کواڈ تعاون

 

سن2017 میں دوبارہ فعال کیے جانے اور 2021 میں سربراہانِ مملکت کے اجلاس کی سطح تک بلند کیے جانے کے بعدہندوستان کواڈ(کیو یو اے ڈی) کا ایک مرکزی ستون بن کر ابھرا ہے۔ مالابار مشق،جو 2020 میں آسٹریلیا کی دوبارہ شمولیت کے بعد اب چار ملکی مشق بن چکی ہے،یہ بڑھتے ہوئے عملی تعاون اور مشترکہ صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے۔2025 کواڈ۔ایٹ- سی مشن چاروں شراکت دار ممالک کے درمیان پہلی مشترکہ ساحلی محافظ مشق کا آغاز ثابت ہوا۔ کواڈ وزرائے خارجہ اجلاس (جولائی 2025) میں دہشت گردی، بحیرۂ جنوبی چین میں استحکام اور اہم معدنیات سے متعلق امور پرہندوستان کے مؤقف نے اجلاس کے نتائج کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

ہند۔بحرالکاہل شراکت داریاں

ہند۔بحرالکاہل خطے میں ہندوستان کا ایک بااعتماد سلامتی شراکت دار کے طور پر ابھرنا اس کےایس اے جی اے آر (خطے میں سب کے لیے سلامتی اور ترقی) کے وژن پر مبنی ہے، جس کا اظہار 2015 میں کیا گیا تھا اور جسے مارچ 2025 میں شروع کیے گئے ایم اے ایچ اے ایس اےجی اے آر(مہاساگر) نظریے کے ذریعے مزید مضبوط کیا گیا۔ مسلسل بحری موجودگی، کثیرجہتی فوجی مشقوں اور ساحلی ممالک کے ساتھ صلاحیت سازی کی شراکت داریوں کے ذریعے ہندوستان نے بحرِ ہند کے خطے میں ایک مؤثر سلامتی فراہم کرنے والے ملک کے طور پر اپنی حیثیت مستحکم کی ہے۔ہندوستان کی بڑھتی ہوئی دفاعی شراکت داریوں نے فوجی تیاری، صنعتی صلاحیت اور تزویراتی اثر و رسوخ کو مضبوط کیا ہے۔ دو طرفہ معاہدے اب مشترکہ پیداوار، جدید ٹیکنالوجی تک رسائی اور بہتر عملی تعاون میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ اسی دوران کثیرجہتی تعاون نے علاقائی سلامتی اور ہند۔بحرالکاہل کے استحکام کی تشکیل میں ہندوستان کے کردار کو مزید بڑھایا ہے۔ ملک تیزی سے تزویراتی خود مختاری کو برقرار رکھتے ہوئے عالمی تعاون کو وسعت دے رہا ہے۔ اب ہندوستان کو ایک بااعتماد دفاعی شراکت دار، قابلِ اعتماد سلامتی فراہم کرنے والا ملک اور ابھرتے ہوئے دفاعی پیداواری مرکز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مقامی صلاحیتوں میں مسلسل اضافے کے ساتھ دفاعی سفارت کاری ہندوستان کے طویل مدتی تزویراتی اہداف، تکنیکی ترقی اور 2047 تک ایک سرکردہ عالمی طاقت بننے کے عزم میں مرکزی کردار ادا کرتی رہے گی۔

 

ہندوستان کی دفاعی دہائی اور 2047 کی جانب سفر

گزشتہ12 برسوں میں ہندوستان کا دفاعی سفر محض فوجی جدید کاری تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ ایک ایسے ملک کے عروج کی علامت ہے جو مقامی صلاحیتوں کے ذریعے اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ جنگی بحری جہازوں اور لڑاکا طیاروں سے لے کر ڈرونز، میزائلوں اور جدید الیکٹرانکس تک، ہندوستان نے اندرون ملک اپنی تزویراتی صلاحیتوں کو مسلسل وسعت دی ہے۔

 

اس تبدیلی نے ملک کے صنعتی اور تکنیکی منظرنامے کو بھی نئی شکل دی ہے۔ اسٹارٹ اپس، چھوٹی اور درمیانی صنعتیں، نجی کمپنیاں اور سرکاری شعبے کے ادارے قومی سلامتی میں فعال شراکت دار بن گئے ہیں۔ دفاعی سازوسامان کی تیاری ایک محدود سرکاری شعبے سے نکل کر وسیع تر جدت پر مبنی ماحولیاتی نظام میں تبدیل ہو گئی ہے۔

اس عرصے کے دوران عالمی سطح پرہندوستان کی حیثیت میں بھی نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ ملک بحرالکاہل خطے اور اس سے آگے ایک زیادہ پُراعتماد سلامتی شراکت دار کے طور پر ابھرا ہے۔ ہندوستان کی دفاعی سفارت کاری میں اب ٹیکنالوجی تعاون، بحری سلامتی، صنعتی اشتراک اور تزویراتی روابط کو بڑھانے پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔2047 کی جانب ہندوستان کے سفر میں دفاعی تیاری کو جدت، استقامت اور خود انحصاری کے ذریعے آگے بڑھایا جائے گا۔ گزشتہ دہائی میں قائم کی گئی مضبوط بنیادہندوستان کو بدلتے ہوئے عالمی سلامتی کے نظام کا محض جواب دینے کے بجائے اسے تشکیل دینے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔

حوالہ جات

Press Information Bureau

Ministry of Defence

 

Ministry of External Affairs

Department of Defence Production

Others

The Defence Decade

****

ش ح۔م ع ن۔ ش ب ن
U.No.-9869


(रिलीज़ आईडी: 2284063) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Bengali-TR , Gujarati , Tamil