سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سائنس کی وزارتیں 10 سے 19 ستمبر 2026 تک ملک گیر ساحلی صفائی مہم ’سوچھ ساگر، سرکشِت ساگر‘ کے لیے سرگرم؛ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سائنسی اقدامات کو عوامی تحریک میں تبدیل کرنے کے لیے زیادہ باہمی ہم آہنگی پر زور دیا


ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے قومی سائنسی اداروں کے درمیان تال میل کو مضبوط بنانے کے لیے سائنس کی وزارتوں کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی

بھارت کی سائنسی کامیابیوں کو عوام تک پہنچانے کے لیے سائنس کی وزارتیں مربوط ابلاغی حکمتِ عملی کے ذریعے عوامی رسائی کو وسعت دیں گی

प्रविष्टि तिथि: 12 JUL 2026 1:54PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم نیز وزیر مملکت برائے وزیر اعظم کا دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج حکومتِ ہند کی سائنسی وزارتوں اور محکموں کے سکریٹریوں اور اعلیٰ عہدیداروں کے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کی اور قومی ترجیحات پر تیزی سے عمل درآمد کے لیے سائنسی اداروں کے درمیان بلا رکاوٹ تال میل پر زور دیا۔ 10 سے 19 ستمبر 2026 تک منعقد ہونے والی آئندہ ملک گیر ساحلی صفائی مہم ’سوچھ ساگر، سرکشِت ساگر‘ کی تیاریاں جاری ہیں۔ وزیر موصوف نے زور دیا کہ زیادہ سے زیادہ قومی اثرات مرتب کرنے کے لیے سائنسی اداروں کو تکنیکی اختراع، عوامی شرکت اور بین محکمہ جاتی تعاون کو یکجا کرتے ہوئے قریبی شراکت داری کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔

نئی دہلی کے سی ایس آئی آر سائنس سینٹر میں منعقدہ اس اجلاس میں حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر پروفیسر اجے کمار سود؛ محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے سکریٹری پروفیسر امیش وی واگھمارے؛ محکمۂ حیاتیاتی ٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی) کے سکریٹری ڈاکٹر راجیش ایس گوکھلے؛ محکمۂ سائنسی و صنعتی تحقیق (ڈی ایس آئی آر) اور وزارتِ ارضیاتی علوم (ایم او ای ایس) کی سکریٹری ڈاکٹر این کلائی سیلوی؛ نیز متعلقہ سائنسی محکموں اور تنظیموں کے اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔

گزشتہ رابطہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد سے متعلق رپورٹوں کا جائزہ لیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے زور دیا کہ سائنسی محکموں کو الگ تھلگ اداروں کے بجائے ایک مربوط نظام کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتوں کے درمیان باقاعدہ رابطہ، معلومات و علم کا تبادلہ، مشترکہ اقدامات اور مربوط عمل درآمد سے اختراع کی رفتار تیز کرنے، نظم و نسق کو بہتر بنانے اور اس امر کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی کہ سائنسی کامیابیوں کا براہِ راست فائدہ شہریوں تک پہنچے۔

اجلاس میں خاص طور پر آئندہ ’سوچھ ساگر، سرکشِت ساگر‘ مہم پر توجہ مرکوز کی گئی، جو 10 سے 19 ستمبر 2026 تک ملک کے ساحلی علاقوں میں منعقد کی جائے گی۔ وزیر موصوف نے اس ملک گیر اقدام کے لیے عوامی رسائی کی حکمتِ عملی اور تیاریوں پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس مہم کا مقصد ماحولیاتی تحفظ کو عوامی بیداری اور برادری کی شرکت کے ساتھ جوڑنا ہے۔ توقع ہے کہ ملک کی سب سے بڑی ساحلی صفائی مہمات میں سے ایک اس مہم میں سائنسی ادارے، سرکاری محکمے، رضاکار، تعلیمی ادارے اور مقامی برادریاں یکجا ہوں گی۔

اجلاس میں مختلف سائنسی وزارتوں کی ابلاغی حکمتِ عملی کا بھی جائزہ لیا گیا، تاکہ گزشتہ بارہ برسوں، بالخصوص موجودہ حکومت کے گزشتہ دو برسوں کی کامیابیوں کو زیادہ وسیع پیمانے پر عوام تک پہنچایا جا سکے۔ محکموں نے بھارت کی بڑھتی ہوئی سائنسی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ویڈیوز، دستاویزی فلموں، موضوعاتی مہمات، معلوماتی خاکوں، کامیابی کی داستانوں اور عوامی شمولیت کے اقدامات کے ذریعے رقمی ذرائع سے عوامی رسائی کو مضبوط بنانے کے اپنے منصوبوں سے آگاہ کیا۔

محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی نے عوامی رسائی سے متعلق اپنا منصوبہ پیش کیا، جس میں انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن (اے این آر ایف)، قومی کوانٹم مشن، بین شعبہ جاتی سائبر-فزیکل نظاموں سے متعلق قومی مشن، تحقیق، ترقی اور اختراع اسکیم اور دیگر اہم قومی پروگراموں جیسے نمایاں اقدامات شامل ہیں۔ عوامی شمولیت کو برقرار رکھنے اور بھارت کی سائنسی کامیابیوں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بیداری پیدا کرنے کے لیے مرحلہ وار تشہیری حکمتِ عملی تیار کی گئی ہے۔

محکمۂ سائنسی و صنعتی تحقیق نے بتایا کہ سی ایس آئی آر گزشتہ بارہ برسوں کے دوران اپنی اہم کامیابیوں کو دستاویزی شکل دینے والی ایک جامع اشاعت تیار کر رہا ہے، جسے رواں سال کے اواخر میں سی ایس آئی آر کے یومِ تاسیس کے موقع پر جاری کیا جائے گا۔ رقمی ذرائع کے ذریعے کامیابی کی داستانوں کی باقاعدہ تشہیر اور جاری ’عملی اختراع‘ لیکچر سلسلے سے توقع ہے کہ سائنسی اداروں کے درمیان باہمی رابطہ مزید مضبوط ہوگا اور بھارت کے تحقیقی نظام کو وسیع تر حلقوں کے سامنے فروغ حاصل ہوگا۔

محکمۂ حیاتیاتی ٹیکنالوجی نے بتایا کہ اس نے موضوعاتی اشاعتوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے، جس میں عوامی صحت، حیاتیاتی معیشت، علمِ جینوم، زرعی حیاتیاتی ٹیکنالوجی، تحقیقی بنیادی ڈھانچے، حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے نوآغاز کاروباری اداروں اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں محکمہ کی خدمات اور تعاون کو اجاگر کیا گیا ہے۔ محکمہ ملک گیر ’ڈی بی ٹی کویسٹ‘ عوامی شمولیتی مہم بھی چلا رہا ہے، جس کا مقصد باہمی تعامل پر مبنی علمی سرگرمیوں کے ذریعے سائنسی بیداری کو فروغ دینا اور مربوط سماجی ذرائع ابلاغی اقدامات کے ذریعے عوامی رسائی کو وسعت دینا ہے۔

اجلاس میں سائنسی محکموں کے درمیان بین وزارتی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے جاری کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔ سی ایس آئی آر، اسرو، ڈی ایس ٹی، ڈی بی ٹی، بھابھا جوہری تحقیقی مرکز (بی اے آر سی) اور دیگر سائنسی اداروں پر مشتمل اشتراکی پروگراموں میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ان میں تکنیکی ترقی سے متعلق شراکت داریاں، حیاتی طبی تحقیق کے اقدامات، اختراعی پلیٹ فارم اور شمال مشرقی خطے کے لیے مربوط پروگرام شامل ہیں۔ محکموں نے مختلف شعبوں میں علم و معلومات کے تبادلے کو مضبوط بنانے کے لیے سائنس دانوں، محققین اور تعلیمی اداروں کے درمیان باقاعدہ رابطے کے طریقۂ کار سے متعلق تازہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔

انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن (اے این آر ایف) کے تحت ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بات چیت میں ’سرل اے آئی‘ پلیٹ فارم کو وسیع پیمانے پر اپنانے، مختلف اداروں کے محققین کی شرکت بڑھانے اور رقمی ذرائع کے ذریعے تحقیقی منصوبوں سے متعلق معلومات تک عوامی رسائی کو وسعت دینے جیسے امور شامل تھے۔ سائنسی محکموں نے اے این آر ایف کے تعاون سے جاری اقدامات کے بارے میں زیادہ بیداری پیدا کرنے اور ان میں شرکت بڑھانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔

ای ایس ٹی آئی سی-2026، بھارت بین الاقوامی سائنس میلہ (آئی آئی ایس ایف) 2026، قومی یومِ خلاء 2026 اور دیگر اہم پروگراموں سمیت آئندہ قومی سائنسی تقریبات کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ محکموں نے وزیر موصوف کو ادارہ جاتی تیاریوں، عوامی رسائی کے منصوبوں اور محققین، صنعت، نوآغاز کاروباری اداروں، طلبہ اور عام لوگوں کی وسیع پیمانے پر شرکت کو یقینی بنانے کے لیے جاری اشتراکی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت کا سائنسی نظام ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جس میں تحقیقی برتری، تکنیکی اختراع، ادارہ جاتی تال میل اور عوامی شمولیت کو ساتھ ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی محکموں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون، سائنس کو زیادہ قابلِ رسائی، زیادہ مؤثر اور ملک کی ترقیاتی ترجیحات سے زیادہ قریب سے ہم آہنگ بنانے کے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

وزیر موصوف نے انتظامی کارکردگی، ادارہ جاتی تال میل اور سائنسی منتظمین کی استعداد سازی سے متعلق اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے محکموں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ بہترین طریقۂ کار کا باہمی تبادلہ جاری رکھیں اور پورے سائنسی نظام میں اشتراکی نظم و نسق کو مزید مضبوط بنائیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/1(2)RTBQ.jpeg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2(1)(1)PXJ1.jpeg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/3(1)(1)DTNH.jpeg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/4(2)9AZ3.jpeg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/5(1)BU4A.jpeg

*****

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-9851­


(रिलीज़ आईडी: 2283865) आगंतुक पटल : 18
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Marathi , Tamil , English , हिन्दी , Gujarati , Malayalam