وزیراعظم کا دفتر
آسٹریلیا میں بھارتی برادری کے ایک پروگرام سے وزیر اعظم کے خطاب کا متن
प्रविष्टि तिथि:
09 JUL 2026 6:36PM by PIB Delhi
میں اپنی گفتگو کا آغاز اس سرزمین کے روایتی مالکوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کرنا چاہوں گا، جہاں ہم آج جمع ہیں اور ان کے ماضی، حال اور آنے والی نسلوں کے لئے اپنے احترام کا اظہار کرتا ہوں۔
ونکم میلبن
نمسکار مائٹس!
کیسے ہیں آپ؟
کیم چھو؟
یہ شو ہاؤس فل ہے، بلاک بسٹر ہے۔
میں اپنی تقریر شروع کروں، اس سے پہلے وکٹوریہ کے پریمیئر اور میرے دوست وزیر اعظم کے اعزاز میں آپ سب اپنے موبائل فون کا فلیش لائٹ جلا کے ان کو اعزاز بخشیں۔
ساتھیو،
میں سڈنی میں آپ سے پہلے دو بار ملا ہوں۔ میں میلبن والوں سے ملنے کا بھی منتظر تھا، اس لئے سوچا کہ اس بارمیلبن والوں کے ساتھ فلیٹ وائٹ کافی پیتا ہوں۔
ساتھیو،
جس توانائی کے ساتھ آپ نے، ہمارے آسٹریلیا کے دوستوں نے ہم سب کا استقبال کیا ہے، وہ اور بھی حیرت انگیز ہے۔ میلبن نے واقعی برتری حاصل کی ہے۔
ساتھیو،
میں اپنے دوست، ہندوستان کے دوست وزیر اعظم اینتھنی البنیز کا بھی شکر گزار ہوں۔ آپ میرے ساتھ سڈنی میں تھے اور آج آپ یہاں میلبن میں، ہندوستانی کمیونٹی کے درمیان ہیں اور یہ پورے دائرے میں آ گیا ہے۔
ہم دونوں احمد آباد میں، دنیا کے سب سے بڑے کرکٹ گراؤنڈ کا گھر اور میلبن، جو مشہور اسٹیڈیم کا گھر ہے، میں ایک ساتھ رہے ہیں اور دوستو، ہم سب نے دیکھا ہے کہ وزیر اعظم البنیز جب بولتے ہیں تو کس طرح ہندوستانیوں کے دلوں اور دماغوں کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ آپ نے سڈنی میں دھوم مچا دی اور آپ نے یہاں بھی دھوم مچا دی۔
میں وکٹوریہ کے وزیر اعظم کا ان کے پرجوش الفاظ اور ہندوستان کے لیے ان کے پیار کے لیے بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔
ساتھیو،
جب میں نے 2014 میں آسٹریلیا کا دورہ کیا تھا، یہ 28 برس میں پہلی بار کسی ہندوستانی وزیر اعظم نے یہاں کا دورہ کیا تھا اور یاد رکھیں، میں نے تب کہا تھا کہ آپ کو 28 سال انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔
پچھلے 12 برس میں یہ میرا تیسرا دورہ ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس بار یہ ہیٹ ٹرک ہے۔ یہ ہندوستان اور آسٹریلیا کے تعلقات کی بلندیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اور کیا آپ جانتے ہیں کہ اس میں سب سے بڑا رول کس کا ہے؟ مودی نہیں بلکہ آپ سب، ہندوستانی تارکین وطن کا ہے۔
ساتھیو،
کہا جاتا ہے کہ میلبن ایک ہی دن میں چار موسموں کی جھلک پیش کرتا ہے، لیکن ہندوستانی برادری نے اسے اپنے ثقافتی رنگوں سے اور بھی متحرک کر دیا ہے۔
میلبن اور اس کے آس پاس بہت سے مقامات اور بازار ہیں جو ہندوستانیت کے رنگوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ کچھ انہیں لٹل انڈیا کہتے ہیں، کچھ انہیں منی انڈیا کہتے ہیں۔ نام کچھ بھی ہو، رنگ ہندوستانی سے بھرے ہیں۔
کسی نے مجھے ایسے ہی ایک بازار کی ویڈیو دکھائی۔ ویڈیو میں، وہ مجھے بتا رہے تھے کہ وہاں بہت بڑی فروخت ہو رہی ہے۔ لوگ ان فروخت سے الجھ جاتے ہیں۔ خواہ وہ خریداری کرنے کے موڈ میں نہ ہوں تب بھی انہیں کرنا پڑتا ہے۔ کیا میں ٹھیک ہوں؟
ساتھیو،
آپ میں سے بہت سے لوگ پہلی بار آسٹریلیا آئے ہیں اور بہت سے یہیں پیدا ہوئے ہیں۔ نسلیں بدل گئی ہیں، لیکن اندرونی ہندوستانیت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ یہاں بہت سے دوست ہوں گے جن کے گھر کم از کم دو ٹائم زونز میں چلتے ہیں۔ یہاں بچے آسٹریلوی وقت کے مطابق اسکول سے گھر لوٹتے ہیں لیکن بھارت میں دادا دادی ویڈیو کالز پر انتظار کر رہے ہیں۔ یہاں ویک اینڈ پر، انڈیا میں ایک شادی کو لائیو سٹریم کیا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ فاصلہ ہزاروں کلومیٹر ہے لیکن آپ کا روزمرہ کا معمول پھر بھی ہندوستان سے جڑا ہوا ہے۔ اور اس معمول کے ساتھ، آپ سب آسٹریلیا کی ترقی میں پوری طرح مصروف ہیں۔ مجھے آپ سب پر فخر ہے۔
ساتھیو،
ہم ہندوستانی ایسے ہیں۔ جس طرح دودھ میں چینی ڈالنے سے وہ میٹھا ہوتا ہے، اسی طرح ہم ہندوستانی اپنی محبت کا رنگ دنیا میں پھیلاتے رہتے ہیں۔
گھر میں دودھ آسٹریلیا کا ہے لیکن چائے ہندوستان سے بنتی ہے۔ دال اور سبزیاں آسٹریلیا سے ہیں، لیکن انہیں ہندوستانی مصالحوں کے ساتھ پکایا جاتا ہے۔
ساتھیو،
آپ نے سنا ہوگا کہ ہندوستان میں ان دنوں بھجن کلبنگ ایک نیا رجحان ہے۔ یہ ہمارے جنرل زیڈ کے ذریعے چلایا جا رہا ہے اور یہاں آسٹریلیا میں، میں نے سنا ہے کہ آپ کے اختتام ہفتہ عقیدت اور روحانیت سے بھرے ہوتے ہیں۔
کسی کے گھر میں بھگوان ستیہ نارائن کی کتھا ہو رہی ہوتی ہے، کہیں گرودوارے میں ارداس ادا کی جا رہی ہوتی ہے، کہیں بچے بھانگڑا یا بھرت ناٹیم پیش کر رہے ہوتے ہیں، تو کہیں کرکٹ ٹورنامنٹ جاری ہوتا ہے۔
اور اب تو انڈین فلم فیسٹیول بھی یہاں آگیا ہے ۔ چند ہی دنوں میں میلبرن میں انڈین فلم فیسٹیول کا آغاز ہونے والا ہے۔ میں اس کے کامیاب انعقاد کے لیے آپ سب کو پیشگی مبارک باد دیتا ہوں ۔
ساتھیو!
آپ سب اپنی محنت سے آسٹریلیا کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، لیکن میں جانتا ہوں کہ آپ کی ایک نظر مسلسل بھارت پر بھی رہتی ہے۔ بھارت کیا کر رہا ہے، کس رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے اور کن کامیابیوں کی جانب گامزن ہے، آپ اس کی مسلسل خبر رکھتے ہیں۔
ساتھیو!
اکیسویں صدی کا بھارت آج ایک ترقی یافتہ ملک بننے کے ہدف پر کام کر رہا ہے۔ ایک خواب پورا ہوتا ہے تو اس سے ایک نیا خواب جنم لیتا ہے۔
پہلے کہتے تھے ،ایک دیپ سے جلے دوسرا، جلتے دیپ ہزار۔ آج میں کہتا ہوں ، ایک سپنے سے جنمے دوسرا،سپنے جنمے ہزار۔
جب ایک ہدف حاصل ہوتا ہے تو اس سے بھی بڑا عزم سامنے آ جاتا ہے۔
یہ وہ بھارت ہے جو کہتا ہے،گرو مور اچیو مور ۔
ہم 140 کروڑ امنگوں اور خوابوں سے بھرپور قوم ہیں۔ ہم بے تاب ہیں، آگے بڑھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہیں، لیکن ہم جلد از جلد دنیا کی تین بڑی معیشتوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں، کیونکہ ہماری سوچ ہے۔گرو مور اچیو مور
ساتھیو!
آپ نے دیکھا کہ بھارت نے چندر یان کو چاند کے جنوبی قطب پر کامیابی سے اتارا، جو دنیا کا کوئی اور ملک نہ کر سکا۔ لیکن بھارت اسی پر مطمئن نہیں ہوا، کیونکہ بھارت کا عزم ہے۔ گرو مور اچیو مور
اس لیے ساتھیوں ! بھارت اب خلا میں اپنا گگن یان بھیجنے اور اپنا خلائی اسٹیشن قائم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
ساتھیو!
چند برس پہلے تک بھارت میں 5 جی ٹیکنالوجی کے آغاز کے بارے میں کئی سوالات اٹھتے تھے کہ یہ کب آئے گی، کیسے نافذ ہوگی اور کتنا وقت لگے گا۔ ہم نے 2022 کے آخر میں 5جی خدمات کا آغاز کیا اور آج بھارت کے 99 فیصد اضلاع اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔
آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ بھارت دنیا میں 5جی کے تیز ترین نفاذ کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔
آج بھارت دنیا کی دوسری سب سے بڑی 5 جی مارکیٹ بن چکا ہے، اور اب میڈ اِن انڈیا 6 جی ٹیکنالوجی پر بھی تیزی سے کام ہو رہا ہے، کیونکہ بھارتیوں کا یقین ہے۔گرو مور اچیو مور
ساتھیو!
گزشتہ بارہ برسوں میں بھارت کے دو درجن سے زیادہ شہروں تک میٹرو ریل کا جال پھیل چکا ہے۔ آج بھارت میں روزانہ سوا کروڑ سے زیادہ افراد میٹرو کے ذریعے سفر کرتے ہیں اور بھارت دنیا کا تیسرا بڑا میٹرو نیٹ ورک رکھنے والا ملک بن چکا ہے۔لیکن ہم اس پر بھی مطمئن نہیں، ہم کہتے ہیں گرو مور اچیو مور ۔
اس لیے ہم بھارت میں نمو بھارت ریپڈ ریل اور وندے بھارت جیسی نیم تیز رفتار ریل خدمات کو تیزی سے وسعت دے رہے ہیں ۔
میک اِن انڈیا گزشتہ بارہ برسوں میں ایک عالمی برانڈ بن چکا ہے۔ بھارت میں تیار ہونے والے موبائل فون، الیکٹرانکس، گاڑیاں اور دواسازی کی مصنوعات دنیا بھر میں اپنی جگہ بنا رہی ہیں۔ بھارتی دفاعی سازوسامان کی صلاحیت اور اعتماد کو بھی دنیا تسلیم کر رہی ہے۔
آپ نے آپریشن سندور کے دوران اس کا عملی مظاہرہ بھی دیکھا ہوگا۔ دھماکے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ہو رہے تھے، لیکن ان کی گونج پوری دنیا میں سنائی دے رہی تھی۔ دہشت گردی کے مراکز پر اس مؤثر کارروائی نے یقیناً آپ کے دل میں فخر کا احساس پیدا کیا ہوگا۔
ساتھیو!
بھارت یہاں بھی رکنے والا نہیں کیونکہ اس کا عزم ہے۔گرو مور اچیو مور
اسی لیے آج چِپ سے لے کر شپ تک، مینوفیکچرنگ کا ایک نیا اور مضبوط ماحولیاتی نظام بھارت میں تشکیل دیا جا رہا ہے۔
ساتھیو!
بھارت کے بڑے خوابوں اور بلند عزائم کی بنیاد اس کے شہری ہیں۔
وی دی پیپل ہی ان خوابوں کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔
پیپل فرسٹ یعنی شہری دیوو بھو (شہری ہی سب سے مقدم ہیں) آج بھارت کے نظامِ حکمرانی کا بنیادی اصول بن چکا ہے۔
میں اس کی ایک مثال دیتا ہوں۔
چند برس پہلے تک کسی بھی درخواست یا سرکاری کام کے لیے دستاویزات کو کسی سرکاری افسر سے تصدیق کرانا لازمی ہوتا تھا۔ لوگوں کو صبح سویرے قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا تھا تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ وہ واقعی وہی شخص ہیں۔
لیکن ہمارے لیے شہری ہی سب سے اہم ہیں، اس لیے اب یہ صورتِ حال بدل چکی ہے۔ اب زیادہ تر معاملات میں خود تصدیق ہی کافی ہوتی ہے۔
اسی اصلاحات کے سفر نے آ7گے بڑھتے ہوئے ڈیجی لاکر کی شکل اختیار کی، جہاں بھارتی شہری اپنے اہم دستاویزات کو محفوظ ڈیجیٹل شکل میں رکھ سکتے ہیں۔
ایک ہی کلک سے دستاویز شیئر، تصدیق اور قبول کیے جا سکتے ہیں۔
ساتھیو!
کسی نظام کو قائم کرنا ایک بات ہے، لیکن اسے وسیع پیمانے پر، محفوظ اور قابلِ اعتماد انداز میں نافذ کرنا ایک بہت بڑی کامیابی ہوتی ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ آج بھارت میں ڈیجی لاکر کے کتنے صارفین ہیں؟
میں جانتا ہوں کہ یہ تعداد یاد رکھنا آسان نہیں۔
اس وقت 70 کروڑ (700 ملین) سے زائد افراد ڈیجی لاکر استعمال کر رہے ہیں اور اس میں 850 کروڑ سے زیادہ دستاویزات محفوظ ہیں۔ یہ بھارت کی ڈیجیٹل حکمرانی اور عوامی اعتماد کی ایک غیر معمولی مثال ہے۔
ساتھیو!
‘‘ناگرک دیوو بھَوا’’ کے اصول کی ایک روشن مثال ہمارا صحت کا نظام ہے۔ آج کروڑوں بھارتی شہریوں کے پاس محفوظ ڈیجیٹل ہیلتھ آئی ڈی موجود ہے، جس میں ان کی صحت سے متعلق تمام سابقہ معلومات ڈیجیٹل طور پر محفوظ رہتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں بیماریوں کی تشخیص زیادہ مؤثر ہوئی ہے اور علاج کی سہولتوں میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔
صرف یہی نہیں، بلکہ ٹیلی مشاورت کا دائرہ بھی تیزی سے وسیع ہو رہا ہے۔ حکومت نے ای-سنجیونی کے نام سے ایک پلیٹ فارم قائم کیا ہے، جس کے ذریعے اب تک 48 کروڑ سے زائد ٹیلی مشاورتیں انجام دی جا چکی ہیں۔ اس پلیٹ فارم سے دو لاکھ پچیس ہزار سے زیادہ طبی خدمات فراہم کرنے والے ماہرین وابستہ ہیں۔
ساتھیو!
ایک وقت تھا جب پاسپورٹ بنوانا ایک طویل اور مشکل مرحلہ سمجھا جاتا تھا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ پاسپورٹ حاصل کرنے میں کئی کئی ہفتے لگ جاتے تھے، لیکن آج اوسطاً چند ہی دنوں میں پاسپورٹ جاری ہو جاتا ہے۔ یہی شہری کو اولین ترجیح دینے والی حکمرانی ہے، اور یہی ‘‘ناگرک دیوو بھَوا’’ کے اصول کی حقیقی کامیابی ہے۔
ساتھیو!
میں اکثر ایک بات کہتا ہوں کہ جتنا بھارت مضبوط اور باصلاحیت بنتا ہے، اس کا فائدہ پوری انسانیت کو پہنچتا ہے۔ ہماری تہذیب کا بنیادی پیغام ہے: ‘‘سروے بھونتو سکھنہ’’ یعنی سب خوش و خرم رہیں۔ یہی لازوال اقدار آج بھی بھارت کی پالیسیوں اور اقدامات کی رہنمائی کر رہی ہیں۔
ساتھیو!
گزشتہ ماہ ہی وینزوئیلا میں ایک شدید زلزلہ آیا، جس نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی اور سیکڑوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ہم نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ملک ہم سے کتنا دور ہے، بلکہ وینزوئیلا کے عوام کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا۔ بھارت نے فوری طور پر امدادی اور بچاؤ کارروائیاں شروع کیں۔
ہم نے ممکنہ حد تک تیزی سے امدادی سامان اور اپنے ماہرین وہاں روانہ کیے، جبکہ ہماری طبی ٹیموں نے بھی فوری طور پر خدمات انجام دینا شروع کر دیں۔ مجھے خوشی ہے کہ ان کوششوں کے نتیجے میں بہت سی قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔
ساتھیو!
اسی طرح جب ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے آئے تو بھارت نے وہاں بھی فوری طور پر امدادی اور بچاؤ ٹیمیں روانہ کیں۔ اس نوعیت کی مثالیں اور بھی بہت ہیں۔ گزشتہ سال ہم نے میانمار میں آپریشن برہما کے ذریعے امدادی کارروائیاں انجام دیں، جبکہ سری لنکا میں سمندری طوفان کی تباہ کاریوں کے بعد آپریشن ساگر بندھو کے تحت امداد فراہم کی گئی۔
ساتھیو!
کورونا وبا کے دنوں کی یادیں آج بھی ہمارے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ اس مشکل دور میں ہم نے نہ صرف اپنے شہریوں بلکہ مختلف ممالک کے شہریوں کو بھی بحفاظت ان کے وطن پہنچانے کے لیے بڑے پیمانے پر بچاؤ کارروائیاں انجام دیں۔ ضرورت مندوں تک ادویات پہنچائیں، 100 سے زائد ممالک کو ویکسین فراہم کیں اور جنگ زدہ علاقوں میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کے لیے بھی ہر ممکن کوشش کی۔
ساتھیو!
بھارت جب کسی کی مدد کے لیے آگے بڑھتا ہے تو وہ یہ نہیں دیکھتا کہ اس کے پاس کون سا پاسپورٹ ہے، نہ ہی وہ پاسپورٹ کا رنگ دیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا بھارت پر بھرپور اعتماد کرتی ہے۔
ساتھیو!
میں جانتا ہوں کہ انسانیت کی خدمت کے میدان میں آسٹریلیا بھی نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہی جذبہ ہمارے دونوں ممالک کی شراکت داری کا ایک مضبوط اور بنیادی ستون ہے۔
اور ایک اور شعبہ ہے جو بھارت اور آسٹریلیا کے تعلقات کو مزید مضبوط بناتا ہے، اور وہ ہے کھیل۔ کھیلوں کی دنیا میں آسٹریلیا اپنی ایک منفرد شناخت اور عالمی مقام رکھتا ہے، جبکہ بھارت میں بھی کھیلوں کا پورا نظام تیزی سے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔
ساتھیو!
آپ نے کھیلو انڈیا مشن کا نام ضرور سنا ہوگا۔ یہ صرف کھیلوں کی ایک پالیسی نہیں، بلکہ ایک ایسی قومی مہم ہے جو اسکول کی سطح سے ہی ہزاروں باصلاحیت کھلاڑیوں کو تیار کر رہی ہے۔ بھارت میں اسکول، یونیورسٹی اور قومی سطح پر کھیلو انڈیا گیمز کا انعقاد کیا جاتا ہے، جن میں لاکھوں کھلاڑی حصہ لیتے ہیں۔
اس مشن کے تحت ملک کے دور دراز علاقوں میں بھی کھیلوں کا بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جا رہا ہے، جس سے زیادہ سے زیادہ کھلاڑیوں، خصوصاً ہماری بیٹیوں کو اپنی صلاحیتیں نکھارنے کے بہتر مواقع مل رہے ہیں۔ یہ مہم صرف شہروں تک محدود نہیں بلکہ سانسد کھیل مہاکمبھ جیسے پروگراموں کے ذریعے گاؤوں تک کھیلوں اور جسمانی تندرستی کے فروغ کو پہنچایا جا رہا ہے اور نوجوانوں کو کھیلوں کے ذریعے روزگار اور بہتر مستقبل کے مواقع سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔
ان تمام کوششوں کے نتائج اب کھیل کے میدان میں واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ بھارت کے کھلاڑی اور قومی ٹیمیں مسلسل بہتر سے بہتر کارکردگی کی جانب بڑھ رہی ہیں۔
ساتھیو!
یہی اعتماد بھارت کو عالمی کھیلوں کے اگلے مرحلے کی طرف لے جا رہا ہے۔ 2030 کے دولتِ مشترکہ کھیلوں کی میزبانی بھارت کرے گا، جبکہ 2036 کے اولمپک کھیلوں کی میزبانی کے لیے بھی بھارت مضبوط امیدوار ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ کھیلوں کے میدان میں بھی بھارت اور آسٹریلیا کی شراکت داری مزید وسعت اختیار کرے گی۔
ساتھیو!
بھارت اور آسٹریلیا جو بھی اقدامات کرتے ہیں، وہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ اس کی ایک نمایاں مثال بھارت۔آسٹریلیا تجارتی معاہدہ ہے۔ آپ نے یہ مشہور شعر ضرور سنا ہوگا:
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
بالکل اسی طرح بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان تجارتی معاہدہ ایک آغاز تھا، اور آج یہی کارواں دنیا کے تقریباً 40 ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدوں تک پہنچ چکا ہے۔
عزیز ساتھیو!
ہم صرف ایک تجارتی ملک نہیں ہیں، بلکہ جدت، سائنس اور ٹیکنالوجی کو بھی غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں۔ آسٹریلیا نے دنیا کو بے شمار اہم ایجادات دی ہیں، جیسے سماعت بحال کرنے والا امپلانٹ، وائی فائی، سروائیکل کینسر کی ویکسین، ہوائی جہاز کا بلیک باکس اور خفیہ رائے شماری کا نظام۔ ایسی کئی اختراعات ہیں جن میں آسٹریلیا کا نمایاں رول ہے، اور آج یہ پوری دنیا کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔
ساتھیو!
اسی طرح بھارت بھی اپنے سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراعی نظام کو تیزی سے نئی شکل دے رہا ہے۔ آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ آج بھارت کے دس ہزار اسکولوں میں اٹل ٹنکرنگ لیبارٹریاکام کررہی ہیں۔ یہ لیبارٹریاں اسکولی سطح ہی سے بچوں میں جدت اور اختراع کی طرز فکر کو پروان چڑھا رہی ہیں۔
گزشتہ 12برسوں میں بھارت دنیا کا تیسرا بڑا اسٹارٹ اپ مرکز بن چکا ہے۔ لیکن اگر میں اعداد و شمار بتاؤں تو آپ بھی حیران رہ جائیں گے۔ کیا آپ یہ اعداد و شمار سننا چاہیں گے؟تو میں بتاؤں۔
آج بھارت میں2 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اپس موجود ہیں۔ ہر ماہ 4 ہزار سے زائد نئے اسٹارٹ اپ رجسٹر ہو رہے ہیں۔ دفاع اور خلائی شعبوں جیسے اہم میدانوں میں بھی سیکڑوں اسٹارٹ اپ کام کررہے ہیں۔ ان کی مثالیں میں اس لیے دے رہا ہوں کیونکہ یہ تمام شعبے پہلے بھارت میں نجی کاروبار کے لیے بند تھے۔ صرف چند سال پہلے ہی انہیں نجی صنعت کاروں اور کاروباری افراد کے لیے کھولا گیا ہے۔ اور آپ دیکھیے، بھارت کا ایک خلائی اسٹارٹ اپ بہت جلد اپنے راکٹ کے ذریعے پہلی بار مصنوعی سیارے خلا میں بھیجنے جا رہا ہے۔
ساتھیو!
مجھے خوشی ہے کہ تعلیم، مہارت اور اختراع کے میدان میں بھارت اور آسٹریلیا کے تعلقات مزید گہرے اور مضبوط ہو رہے ہیں۔ آج آسٹریلیا میں ہزاروں بھارتی طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اور اب آسٹریلیا کی یونیورسٹیاں بھی بھارت میں اپنے کیمپس کھول رہی ہیں۔
ڈیکن یونیورسٹی اور وولونگونگ یونیورسٹی کے کیمپس شروع ہو چکے ہیں، جبکہ مزید آسٹریلیا ئی یونیورسٹیاں بھی اس سمت میں پیش رفت کر رہی ہیں۔ یہ صرف نئے کیمپس قائم کرنے کا معاملہ نہیں، بلکہ پوری دنیا کے لیے باصلاحیت، ہنرمند اور اختراعی صلاحیت رکھنے والی افرادی قوت تیار کرنے میں عالمی قیادت کا ایک مشترکہ عزم بھی ہے۔
ساتھیو!
میں نے آپ کے ساتھ بھارت کی بہت سی باتیں شیئر کی ہیں اور اب آپ سے ایک درخواست بھی کرنا چاہوں گا۔ کچھ عرصہ پہلے ہم نے بیرونِ ملک مقیم بھارتی برادری کے بچوں کے لیے ‘‘بھارت کو جانیے’’ کوئز کا آغاز کیا تھا۔ یہ کوئز دنیا کو بھارت کے تنوع سے روشناس کراتی ہے اور بھارتی کنبوں کو اپنی تہذیبی اور ثقافتی وراثت سے جوڑے رکھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اس سال آسٹریلیا میں بہت سے نوجوانوں نے اس پروگرام کی ابتدائی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ اب اس مقابلے کے چھٹے ایڈیشن کا آغاز ہونے والا ہے۔ اس بار کھیل کے انداز پر مبنی کئی دلچسپ مقابلے منعقد کیے جائیں گے۔ میں آسٹریلیا میں مقیم بھارتی برادری کے تمام خاندانوں سے درخواست کروں گا کہ اس میں ضرور حصہ لیں،لیکن ساتھ ساتھ آپ آسٹریلیا کے دوستوں کو بھی ، آپ کے اسکول میں پڑھنے والے ساتھیوں کو ،کالج میں پڑھنے والے ساتھیوں کو اس مقابلے میں شریک ہونے کی ترغیب دیں۔
ساتھیو!
آپ سب نے بھارت اور آسٹریلیا کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں بے حد محنت کی ہے اور قابلِ قدر رول ادا کیا ہے۔ لیکن آپ کی ذمہ داری یہاں ختم نہیں ہوتی، بلکہ اب مزید بڑھ گئی ہیں۔ کیونکہ بھارت اور آسٹریلیا کی شراکت داری اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔
اس لیے آپ اسی جذبے کے ساتھ بھارت اور آسٹریلیا کے تعلقات کو مزید مضبوط بناتے رہیے، کامیابیوں کے نئے ریکارڈ قائم کرتے رہیے۔ آپ کی کامیابی میں ہی بھارت اور آسٹریلیا، دونوں کی کامیابی ہے۔
ساتھیو!
آج کی اس تقریب کے لیے میں ایک بار پھر وزیراعظم البانیز اور آپ سب کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔
بھارت ماتا کی جے!
وندے ماترم!
************
ش ح۔ ش م ۔ ک ا ۔م ع ۔ت ف ۔ت ا ۔ن ع ۔ت ع ۔م ذ
UR. No. 9767
(रिलीज़ आईडी: 2283024)
आगंतुक पटल : 12