وزیراعظم کا دفتر
تیسرا بھارت-آسٹریلیا سالانہ سربراہ اجلاس سے متعلق مشترکہ بیان
प्रविष्टि तिथि:
09 JUL 2026 10:58AM by PIB Delhi
آسٹریلیا کے وزیر اعظم عزت مآب اینتھنی البنیز ایم پی کی دعوت پر ، ہندوستان کے عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی ، میلبرن کے نارم میں تیسری آسٹریلیا-ہندوستان سالانہ سربراہ کانفرنس کے لئے8 سے 10 جولائی 2026 تک آسٹریلیا کے دورے پر ہیں ۔یہ علاقہ کلن نیشن سے تعلق رکھنے والے ورونجیری ووئی-ورنگ اور بونورونگ/بون ورنگ قبائل کی روایتی سرزمین ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات، عوامی روابط، مشترکہ اسٹریٹجک مفادات اور باہمی احترام پر مبنی دیرینہ دوستی کو یاد کرتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی ماحول میں ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے اور اپنے مشترکہ خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کے فروغ کے لیے بھارت-آسٹریلیا جامع اسٹریٹجک شراکت داری (سی ایس پی) کو مزید مضبوط، وسیع اور مؤثر بنانے کے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا، نیز تعاون کے نئے شعبوں کی دریافت پر بھی اتفاق کیا۔
دفاعی اور سمندری سلامتی کے تعاون کو مزید مضبوط بنانا
دونوں وزرائے اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تیزی سے پیچیدہ ہوتے اسٹریٹجک ماحول میں دفاعی اور سلامتی کا تعاون دونوں ممالک کی شراکت داری کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے دفاعی اور سلامتی کے تعاون سے متعلق مشترکہ اعلامیے کا اعلان کیا، جو دوطرفہ دفاعی اور سلامتی تعلقات کی گہرائی، وسعت اور بلند عزائم میں ایک نمایاں پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے اور خطے کی مجموعی طاقت اور سلامتی میں اہم کردار ادا کرے گا۔
دونوں وزرائے اعظم نے مشاورت اور تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے سالانہ وزرائے دفاع مذاکرات کے قیام کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے باہمی لاجسٹک معاونت کے انتظام کے تحت مشترکہ دفاعی مشقوں اور تبادلوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور پیچیدگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی خوشی ظاہر کی کہ دفاعی شراکت داری اب تمام شعبوں تک وسعت اختیار کر چکی ہے، اور کثیرجہتی شراکت داروں سمیت باہمی عملی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
دونوں وزرائے اعظم نے ایک پُرامن، مستحکم اور خوشحال ہند-بحرالکاہل کے اپنے مشترکہ وژن میں سمندری تعاون کی مرکزی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے بھارت-آسٹریلیا سمندری سلامتی تعاون روڈ میپ کے ذریعے اس تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ اس کے ذریعے بھارت اور آسٹریلیا نے ایک مرتبہ پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ مؤثر سمندری تعاون خطے کی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے اور ایک پُرامن و خوشحال ہند-بحرالکاہل کے مشترکہ وژن کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ دونوں ممالک نے معلومات کے تبادلے، صلاحیتوں کی ترقی، استعداد سازی اور عملی ہم آہنگی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے محفوظ سمندری ماحول کے فروغ کے لیے میری ٹائم بارڈر کمانڈ اور بھارتی کوسٹ گارڈ کے درمیان مفاہمت نامے پر دستخط مکمل ہونے کا خیرمقدم کیا۔
دونوں وزرائے اعظم نے دفاعی صنعت، تحقیق اور دفاعی سازوسامان کے شعبوں میں تعاون کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے دفاعی سامان اور دفاعی خدمات کی فراہمی سے متعلق مفاہمت نامے کی تیاری کے لیے جاری کام کا خیرمقدم کیا، نیز آسٹریلیا اور بھارت کی دفاعی صنعتوں کے درمیان روابط کو فروغ دینے کی کوششوں کو سراہا، جن میں آسٹریلیا کا بھارت کے لیے پہلا دفاعی تجارتی مشن اور آسٹریلیا-بھارت دفاعی صنعت گول میز کانفرنس بھی شامل ہیں۔
پیشہ ورانہ فوجی تعلیم، مشترکہ تحقیق، جنگی مشقوں کی منصوبہ بندی (وار گیمنگ) اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ فوجی افرادی قوت کی تیاری کے لیے استعداد سازی کے اقدامات کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، دونوں وزرائے اعظم نے پیشہ ورانہ فوجی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی جاری کوششوں کو اجاگر کیا۔ دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے فوجی تعلیمی اداروں کے درمیان روابط کو مزید مستحکم بنانے کی حوصلہ افزائی کی۔ دونوں رہنماؤں نے 2028-2029 کے دوران آسٹریلین ڈیفنس کالج میں بھارت سے آنے والے ایک فوجی انسٹرکٹر کی تعیناتی کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے آسٹریلیا کی جانب سے جنرل راوت بھارت-آسٹریلیا ینگ آفیسرز ایکسچینج پروگرام کے چوتھے مرحلے کی میزبانی کا بھی خیرمقدم کیا۔
دونوں وزرائے اعظم نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایک دوطرفہ اختراعی فریم ورک کے قیام کے امکانات کا جائزہ لیا جائے، تاکہ دونوں ممالک کے اختراعی نظاموں کو آپس میں مربوط کیا جا سکے اور حکومتوں، صنعت، جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان تعاون کو مزید تیز کیا جا سکے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ جدید دفاعی صلاحیتوں سے متعلق ترجیحات کے لیے اختراعی حل فروغ دینے کی غرض سے دفاعی سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں مشترکہ تحقیق کو نئے میدانوں تک وسعت دینا ضروری ہے۔
دونوں وزرائے اعظم نے بھارت-آسٹریلیا اقتصادی تعاون اور تجارتی معاہدے (ای سی ٹی اے) کے تحت دوطرفہ تجارت میں مسلسل اضافے اور غیر محصولی رکاوٹوں میں کمی کا خیرمقدم کیا، اور اس بات پر زور دیا کہ اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور صارفین کو عملی فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک جامع، متوازن اور باہمی مفاد پر مبنی جامع اقتصادی تعاون معاہدے (سی ای سی اے) کو حتمی شکل دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا، تاکہ دوطرفہ اقتصادی تعلقات کی مکمل صلاحیت سے استفادہ کیا جا سکے اور دونوں ممالک کی خوشحالی کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ دونوں وزرائے اعظم نے سرمایہ کاری کے فروغ کی اہمیت پر بھی زور دیا اور دونوں ممالک کے متعلقہ مالیاتی اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کے ذریعے نجی شعبے کے سرمایہ کاروں کے درمیان روابط بڑھانے کی حمایت کی۔
صنعت کی قیادت میں تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے، دونوں وزرائے اعظم نے اس دورے کے موقع پر چیف ایگزیکٹو افسران کے فورم کے انعقاد کا خیرمقدم کیا اور کاروباری اداروں کے درمیان مضبوط روابط کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے ‘‘میک اِن انڈیا’’ اور ‘‘فیوچر میڈ اِن آسٹریلیا’’ کے درمیان موجود ہم آہنگی اور مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں مزید گہرے تعاون کے وسیع امکانات کو تسلیم کیا۔ انہوں نے بھارت کے ساتھ آسٹریلیا کے اقتصادی روابط کے لیے نئے روڈ میپ پر جاری عمل درآمد کو سراہا اور مئی 2026 میں سڈنی میں منعقد ہونے والے پہلے ٹریک 1.5 مذاکرات کی جانب سے تعاون کے عملی راستے متعین کرنے میں دیے گئے اہم کردار کا خیرمقدم کیا۔
دونوں وزرائے اعظم نے اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارتی اور آسٹریلوی سرکاری اداروں، سرکاری و نجی کمپنیوں اور تحقیقی اداروں کے درمیان شراکت داری سرمایہ کاری کے فروغ، طویل مدتی سپلائی اور خریداری کے انتظامات کو یقینی بنانےاور معدنیات کی پراسیسنگ اور قدر میں اضافے کی صلاحیتوں کی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس امر کی توثیق کی کہ شفاف، محفوظ اور مضبوط سپلائی چینز ہماری اقتصادی سلامتی کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر توانائی اور اہم معدنیات کے شعبوں میں دوطرفہ اقدامات اور کثیرجہتی فورمز کے ذریعے سپلائی چین تعاون کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام کرنے کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا۔
توانائی، موسمیاتی تبدیلی، خلائی شعبے اور ٹیکنالوجی میں تعاون کو فروغ دینا
دونوں وزرائے اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ توانائی کی سلامتی اور توانائی کے وسائل میں تعاون دونوں ممالک کی معیشتوں کے لیے مسلسل زیادہ اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ انہوں نے قابلِ اعتماد، کم لاگت اور پائیدار توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تعاون کو مزید مضبوط کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا، اور اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ قابلِ تجدید توانائی اور توانائی کے نظام میں برقی استعمال کا فروغ توانائی کی منتقلی کو تیز کرنے، توانائی کی سلامتی کو مضبوط بنانے اور طویل مدتی اقتصادی خوشحالی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے توانائی کی سلامتی سے متعلق مشترکہ بیان کا خیرمقدم کیا۔
دونوں وزرائے اعظم نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے عالمی کوششوں کو مزید تیز کرنے کی اہمیت کا اعادہ کیا، اور اس بات کو تسلیم کیا کہ پیرس معاہدے پر عمل درآمد مساوات اور مشترکہ مگر مختلف ذمہ داریوں اور متعلقہ صلاحیتوں کے اصول کی بنیاد پر، مختلف قومی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ انہوں نے مذاکرات کے لیے سی او پی 31 کی صدارت کے حوالے سے آسٹریلیا کے قائدانہ کردار کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ بحرالکاہل اور بحرِ ہند کے جزیرہ نما ممالک سمیت چھوٹے جزیرہ نما ممالک اور دیگر کمزور ترقی پذیر ممالک موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے غیر معمولی طور پر متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی اقدامات کی رفتار برقرار رکھنے، موسمیاتی مالی معاونت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور استعداد سازی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے بھارت-آسٹریلیا قابلِ تجدید توانائی شراکت داری کے تحت ہونے والی پیش رفت کو سراہا، جس میں روف ٹاپ سولر اکیڈمی کا قیام اور اس کا عملی آغاز بھی شامل ہے۔
دونوں وزرائے اعظم نے مستقبل کی اقتصادی ترقی کو فروغ دینے اور مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی اور اختراع سے بھرپور استفادہ کرنے کی اہمیت پر زور دیا، اور اس بات کو تسلیم کیا کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون اور ترقی کی بنیاد دونوں ممالک کے عوام کے درمیان مضبوط روابط ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے سائبر سکیورٹی، اہم ٹیکنالوجیز، سپلائی چینز، ڈیجیٹل استحکام اور دفاعی تحقیق کے شعبوں میں تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے سائبر، اہم ٹیکنالوجیز اور سپلائی چینزسے متعلق آسٹریلیا-بھارت شراکت داری (پیکٹس) پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آسٹریلیا-کینیڈا-بھارت ٹیکنالوجی اور اختراع شراکت داری (اے سی آئی ٹی آئی) سے متعلق مفاہمت نامے پر دستخط کا بھی خیرمقدم کیا اور اہم و ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں قابلِ اعتماد شراکت داری کو تعاون کی بنیاد قرار دیتے ہوئے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں وزرائے اعظم نے خلائی شعبے میں تعاون، بالخصوص صنعت سے صنعت کے درمیان شراکت داری، کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت اجاگر کی۔ دونوں رہنماؤں نے بھارت کے گگن یان انسانی خلائی پرواز پروگرام کے لیے آسٹریلیا کی مسلسل حمایت کا خیرمقدم کیا، جس میں کوکوس (کیلنگ) جزائر پر ایک عارضی خلائی نگرانی مرکز کا قیام بھی شامل ہے، اور بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے (اسرو) اور آسٹریلین اسپیس ایجنسی (اے ایس اے) کے درمیان تعاون کو مزیدمضبوط کرنے کی امید کا اظہار کیا۔
آسٹریلیا نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت کے لیے بھارت کی بھرپور حمایت کا ایک بار پھر اعادہ کیا۔ آسٹریلیا-بھارت جوہری تعاون معاہدے کی بنیاد پر دونوں وزرائے اعظم نے انتظامی انتظامات کو حتمی شکل دینے اور ان پر دستخط کا خیرمقدم کیا، جس کے ذریعے آسٹریلیا سے بھارت کو صرف پُرامن مقاصد کے لیے اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی نگرانی میں طویل مدتی بنیادوں پر یورینیم کی برآمد ممکن ہو سکے گی۔
تعلیم، مہارتوں اور عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانا
دونوں وزرائے اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ عوام دونوں ممالک کی شراکت داری کا بنیادی محور ہیں، اور اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ آسٹریلیا میں بھارتی نژاد برادری اب بیرونِ ملک پیدا ہونے والی سب سے بڑی برادری بن چکی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے آسٹریلیا کے متنوع ثقافتی معاشرے میں بھارتی نژاد آسٹریلوی برادری کے اہم کردار کو سراہا اور آسٹریلیا-بھارت تعلقات کے مرکز کی میتری گرانٹس کے لیے ایک کروڑ آسٹریلوی ڈالر مختص کرنے کے اعلان کا خیرمقدم کیا، تاکہ اقتصادی تعاون اور عوامی روابط کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ اعلیٰ سطحی اور وزارتی روابط کے تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے، دونوں وزرائے اعظم نے پارلیمانی تعاون میں ہونے والی پیش رفت کو بھی سراہا، خصوصاً بھارت کی لوک سبھا میں آسٹریلیا کے ساتھ پارلیمانی دوستی گروپ کے قیام کو، جو آسٹریلوی پارلیمنٹ میں پارلیمانی فرینڈز آف انڈیا گروپ کی طرز پر قائم کیا گیا ہے۔ دونوں وزرائے اعظم نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پارلیمان سمیت جمہوری اداروں کے درمیان تعاون کو مزید جاری رکھا جانا چاہیے۔
دونوں وزرائے اعظم نے تعلیم کے شعبے میں بڑھتے ہوئے تعاون کو اجاگر کیا، جس کی عکاسی بھارت میں آسٹریلوی یونیورسٹی کے بڑھتے ہوئے کیمپس یا ان کے قیام کی منظوری سے ہوتی ہے۔ انہوں نے بھارت کے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کی جانب سے فلنڈرز یونیورسٹی کو بنگلورو میں اپنا کیمپس قائم کرنے کے لیے لیٹر آف انٹینٹ (ایل او آئی) جاری کیے جانے اور وکٹوریہ یونیورسٹی کو گروگرام میں اپنے کیمپس کے عملی آغاز کے لیے لیٹر آف اپروول (ایل او اے) جاری کیے جانے کا خیرمقدم کیا۔ وزیر اعظم انتھونی البانیز نے اس بات پر زور دیا کہ آسٹریلیا میں تعلیم حاصل کرنے والے بھارتی طلبا کا خیرمقدم کیا جاتا ہے اور وہ آسٹریلیا کے تعلیمی اداروں اور معاشرے کا ایک قابلِ قدر حصہ ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے مغربی آسٹریلیا کی حکومت اور حکومتِ ہند کے درمیان اس معاہدے کا بھی خیرمقدم کیا، جس کے تحت اوڈیشہ کے بھونیشور میں واقع قومی مہارتی تربیتی ادارے میں کان کنی کے شعبے میں مہارتوں کے نیشنل سینٹر آف ایکسلینس کے قیام کی حمایت کی جائے گی، تاکہ پیشہ ورانہ تعلیم اور تربیت کے شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دی جا سکے۔
دونوں وزرائے اعظم نے اس بات کو تسلیم کیا کہ کھیل صرف مشترکہ دلچسپی کا معاملہ نہیں بلکہ دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کا ایک اہم ستون بھی ہے، جو تجارت، سیاحت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان کھیلوں کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط کرنے کے لیے بھارت-آسٹریلیا اسپورٹس کولیبریشن روڈ میپ کا خیرمقدم کیا، جس میں بڑے بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد میں تعاون بھی شامل ہے، کیونکہ آسٹریلیا 2032 کے برسبین اولمپکس اور پیرا اولمپکس جبکہ بھارت 2030 کے احمد آباد دولتِ مشترکہ کھیلوں کی میزبانی کی تیاری کر رہے ہیں۔
ثقافتی تعاون اور ثقافتی ورثے کے تحفظ و بقا کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے، دونوں وزرائے اعظم نے بھارت میں محفوظ آسٹریلیا کے فرسٹ نیشنز کے آبا و اجداد کی باقیات کی رضاکارانہ اور غیر مشروط واپسی میں ہونے والی پیش رفت، اور علیحدہ طور پر آسٹریلیا میں محفوظ تلگو برادری کی باقیات کی بھارت واپسی کا خیرمقدم کیا۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے آسٹریلیا کے مختلف عجائب گھروں اور ثقافتی اداروں میں محفوظ متعدد بھارتی ثقافتی نوادرات کی رضاکارانہ واپسی پر وزیرِ اعظم انتھونی البانیز کا شکریہ ادا کیا۔
پُرامن، مستحکم اور خوشحال ہند-بحرالکاہل کے فروغ کے لیے تعاون
دونوں وزرائے اعظم نے ایک آزاد اور ضوابط پر مبنی ہند-بحرالکاہل خطے کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی قانون، بالخصوص اقوام متحدہ کے سمندری قانون سے متعلق کنونشن (یو این سی ایل او ایس) کے مطابق تمام ممالک کو جہاز رانی اور فضائی پرواز کی آزادی سمیت اپنے حقوق اور آزادیوں کے استعمال کا مکمل حق حاصل ہونا چاہیے، اور تمام تنازعات کا حل بین الاقوامی قانون کے مطابق پُرامن ذرائع سے نکالا جانا چاہیے۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کو یکطرفہ یا عدم استحکام پیدا کرنے والے اقدامات کے ذریعے تبدیل کرنے اور خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کی سخت مخالفت کی۔
دونوں وزرائے اعظم نے مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے علاقائی اور کثیرجہتی اداروں کے ذریعے تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ کواڈ ایک ایسی شراکت داری ہے جو ہند-بحرالکاہل کے لیے عملی اور ٹھوس نتائج فراہم کر رہی ہے اور مئی 2026 میں نئی دہلی میں ہونے والے کواڈ وزرائے خارجہ اجلاس میں طے پانے والے اہم فیصلوں کا خیرمقدم کیا۔
دونوں وزرائے اعظم نے بحرِ ہند کے خطے میں تعاون کو مزید مضبوط کرنے کی اہمیت پر زور دیا، خصوصاً انڈین اوشن رم ایسوسی ایشن (آئی او آر اے) میں بھارت کی صدارت کے دوران اور علاقائی اقدامات کے تحت جاری تعاون کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے جون میں چنئی کے میری ٹائم ریسکیو کوآرڈی نیشن سینٹر میں آسٹریلیا اور بھارت کی جانب سے آئی او آر اے کے رکن ممالک کے لیے مشترکہ طور پر منعقد کی گئی تلاش و بچاؤ کی تربیت، اور جون ہی میں پرتھ میں آسٹریلیا کی میزبانی میں آئی او آر اے ورکنگ گروپ سے متعلق میری ٹائم سیفٹی اینڈ سیکیورٹی کے چھٹے اجلاس کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے ہند-بحرالکاہل سمندری اقدام (آئی پی او آئی) کے تحت جاری تعاون کو بھی سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے آسٹریلیا-بھارت-انڈونیشیا سہ فریقی تعاون کے ذریعے مزید روابط کو فروغ دینے کا خیرمقدم کیا، جس میں سمندری صورتحال سے آگاہی، سمندری آلودگی، نیل گوں معیشت اور علاقائی اداروں کے ذریعے تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنا بھی شامل ہے۔
دونوں وزرائے اعظم نے بحرالکاہل جزائر فورم (پی آئی ایف) کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس کی 2050 حکمتِ عملی سے متعلق بلیو پیسیفک کانٹی نینٹ کی اہمیت کو تسلیم کیا، نیز ایسی شراکت داریوں کی حمایت کی جو بحرالکاہل خطے کی مشترکہ ترجیحات کی عکاسی کرتی ہیں۔ وزیرِ اعظم اینتھنی البنیز نے بحرالکاہل کے جزیرہ نما ممالک کے ساتھ ترقیاتی شراکت داری کو فروغ دینے میں بھارت کے کردار کو سراہا، جس میں فورم فار انڈیا-پیسیفک آئی لینڈز کوآپریشن (ایف آئی پی آئی سی) کے فریم ورک کے تحت کی جانے والی سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔ دونوں وزرائے اعظم نے آسیان کی مرکزی حیثیت اور آسیان کی قیادت میں قائم علاقائی ڈھانچے کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا اور ہند-بحرالکاہل کے بارے میں آسیان کے وژن (اے او آئی پی) پر مکمل عمل درآمد کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا۔
دونوں وزرائے اعظم نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں حالیہ اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے، کشیدگی میں کمی لانے، شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور توانائی کی فراہمی اور تجارتی سرگرمیوں کے بلا تعطل تسلسل کو برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے تنازع کے پُرامن اور دیرپا حل کے لیے بات چیت، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ دونوں وزرائے اعظم نے یوکرین کی جنگ پر بھی تبادلۂ خیال کیا، اس کے المناک انسانی نتائج پر تشویش ظاہر کی اور تنازع کے پُرامن حل پر زور دیا۔ انہوں نے میانمار کی صورتحال اور اس کے خطے پر پڑنے والے اثرات پر بھی تشویش ظاہرکرتے ہوئے، آسیان کی قیادت میں جاری کوششوں سمیت فائیو پوائنٹ کنسینسس کی حمایت کا اعادہ کیا۔
دونوں وزرائے اعظم نے دہشت گردی اور دہشت گردی کو فروغ دینے والی پرتشدد انتہاپسندی کی ہر شکل اور ہر مظہر کی بلاامتیاز اور دوٹوک مذمت کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ممالک کو دہشت گردی کے خطرے کا جامع اور مسلسل انداز میں مقابلہ کرنا چاہیے، اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1267 پابندیوں کی کمیٹی کی فہرست میں شامل عالمی سطح پر نامزد دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں، نیز ان کے معاونین، منسلک گروہوں، سرپرستوں اور مالی معاونت فراہم کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا۔ دونوں وزرائے اعظم نے دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے باہمی تعاون میں اضافے کی ضرورت کو تسلیم کیا۔ انہوں نے اپنے خطے میں دہشت گردی سے متعلق خطرات کے بارے میں معلومات کے تبادلے کو بڑھانے اور انتہاپسندی، بالخصوص آن لائن انتہاپسندی، دہشت گردی کو فروغ دینے والی پرتشدد انتہاپسندی، دہشت گردی کے مقاصد کے لیے نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے استعمال، دہشت گردی کی مالی معاونت، اہم بنیادی ڈھانچے اور سمندری شعبے کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات تلاش کرنے کا عہد کیا۔ انہوں نے پہلگام اور بونڈی بیچ میں ہونے والے ہولناک دہشت گرد انہ حملوں سمیت تمام دہشت گردانہ حملوں کی ایک بار پھر سخت مذمت کی۔
دونوں وزرائے اعظم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یواین ایس سی)میں فوری اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا، جن میں مستقل اور غیر مستقل دونوں زمروں میں نمائندگی میں اضافہ شامل ہو، تاکہ موجودہ عالمی جغرافیائی و سیاسی حقائق کی بہتر عکاسی ہو سکے۔ کثیرجہتی نظام اور اقوام متحدہ کے لیے بھارت کی طویل خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے آسٹریلیا نے ایک مرتبہ پھر اصلاح شدہ سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت کی امیدواری کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل رکنیت کے لیے ایک دوسرے کی امیدواری کی باہمی حمایت کا بھی اعادہ کیا، جس کے تحت بھارت کی 2029-2028 اور آسٹریلیا کی2030-2029 کی مدت کے لیے امیدواری شامل ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی مجموعی اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ اس ادارے کی کارکردگی اور مؤثریت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
دونوں وزرائے اعظم نے دوطرفہ روابط میں ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے اگلے مرحلے کو باہمی مفاد کے ساتھ ساتھ ایک آزاد، کھلے، ضوابط پر مبنی، پُرامن اور خوشحال ہند-بحرالکاہل خطے کے فروغ کے لیے آگے بڑھائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح ۔ ع ح۔ج ا)
U.No.9741
(रिलीज़ आईडी: 2282767)
आगंतुक पटल : 14
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें:
English
,
हिन्दी
,
Assamese
,
Bengali
,
Bengali-TR
,
Punjabi
,
Gujarati
,
Tamil
,
Telugu
,
Kannada
,
Malayalam