وزارتِ تعلیم
مرکزی وزارت تعلیم نے سال 2025-26 کے لئے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی کارکردگی درجہ بندی اشاریہ 2.0 (پی جی آئی-ایس) اور اضلاع کی کارکردگی درجہ بندی اشاریہ (پی جی آئی-ڈی) کی رپورٹ جاری کر دی
प्रविष्टि तिथि:
07 JUL 2026 6:22PM by PIB Delhi
مرکزی وزارت تعلیم نے آج سال 2025-26کے لیےریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے کارکردگی درجہ بندی اشاریہ 2.0 (پی جی آئی-ایس) اور اضلاع کے لیے کارکردگی درجہ بندی اشاریہ (پی جی آئی-ڈی) کی رپورٹ جاری کی۔
ہندوستان کا تعلیمی نظام دنیا کے سب سے بڑے تعلیمی نظاموں میں شمار ہوتا ہے، جس میں 14.67 لاکھ سے زائد اسکول، 1.03 کروڑ اساتذہ اور تقریباً 24.72 کروڑ اسٹوڈنٹس شامل ہیں، جو مختلف سماجی و معاشی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔
پی جی آئی – ریاستیں/مرکز کے زیر انتظام علاقے:مرکزی وزارت تعلیم کےمحکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے کارکردگی درجہ بندی اشاریہ (پی جی آئی) تیار کیا ہے، جس کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی کارکردگی کو مختلف درجات یا سطحوں میں تقسیم کر کے جانچا جاتا ہے۔ اس درجہ بندی کے طریق کار کے تحت ایک سے زیادہ ریاستوں یا مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ایک ہی کارکردگی کے زمرے میں رکھا جا سکتا ہے، جس سے زیادہ متوازن اور تعمیری جائزے کے نظام کو فروغ ملتا ہے۔
پی جی آئی – ریاستیں/مرکز کے زیر انتظام علاقے کا ڈھانچہ 70 اشاریوں پر مشتمل ہے، جن کے لیے مجموعی طور پر1000 مارکس مختص کیے گئے ہیں۔ ان اشاریوں کو دو بڑی اقسام، یعنی نتائج اور انتظام و حکمرانی کے تحت چھ شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے:1. تعلیمی نتائج اور معیار2. رسائی3. بنیادی ڈھانچہ اور سہولیات4.مساوات5. انتظامی عمل اور6. اساتذہ کی تعلیم و تربیت۔
یہ فریم ورک مکمل طور پریونائیفائیڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن پلس (یو ڈی آئی ایس پلس)،پارکھ راشٹریہ سرویکشن- 2024، پی ایم پوشن پورٹل،پربندھ پورٹل اور ودیانجلی پورٹل سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے ہم آہنگ ہے۔
پی جی آئی – اضلاع:مرکزی وزارت تعلیم کےمحکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی نے پی جی آئی کے عمل کو ضلع سطح تک توسیع دیتے ہوئے اضلاع کے لیے کارکردگی درجہ بندی اشاریہ (پی جی آئی-ڈی) تیار کیا ہے۔پی جی آئی-ڈی کو اس مقصد کے تحت وضع کیا گیا ہے کہ ملک بھر کے اضلاع کا ایک مشترکہ معیار پر جائزہ لیا جا سکے، جبکہ اب خصوصی توجہ تعلیمی پالیسیوں کے نتائج کی پیمائش پر مرکوز کی گئی ہے۔
پی جی آئی-ڈی کا فریم ورک 70 اشاریوں پر مشتمل ہے، جن کے لیے مجموعی طور پر600 نمبر مقرر کیے گئے ہیں۔ ان اشاریوں کو چھ زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے:1. مؤثر جماعتی تدریس2. بنیادی ڈھانچہ3. سہولیات اور طلبہ کے حقوق4. اسکولی تحفظ اور بچوں کا تحفظ5. ڈجیٹل تعلیم اور 6.انتظامی عمل۔یہ زمرے مزید 11 شعبوں پر مشتمل ہیں:1. تعلیمی نتائج اور معیار (ایل او کیو)2. رسائی سے متعلق نتائج (اے او) 3. اساتذہ کی دستیابی اور پیشہ ورانہ ترقی سے متعلق نتائج (ٹی اے پی ڈی او)4. تدریسی انتظام (ایل ایم)5. تعلیمی افزودگی کی سرگرمیاں (ایل ای اے)6. بنیادی ڈھانچہ، سہولیات اور طلبہ کے حقوق (آئی ایف اینڈ ایس ای)7. اسکولی تحفظ اور بچوں کا تحفظ (ایس ایس اینڈ سی پی)8. ڈجیٹل تعلیم (ڈی ایل)9. فنڈز کا انضمام اور مؤثر استعمال (ایف سی یو)10. حاضری کی نگرانی کا نظام (اے ایم ایس) اور11. اسکولی قیادت کی ترقی (ایس ایل ڈی)۔
پی جی آئی-ڈی کے لیے اعداد و شمار مختلف ذرائع سے حاصل کیے جاتے ہیں، جن میں یونائیفائیڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن پلس (یو ڈی ایس پلس) ، پارکھ راشٹریہ سرویکشن 2024 (پی آر ایس 2024) اور پربندھ پورٹل شامل ہیں۔
سال 2025-26کے لیےریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے کارکردگی درجہ بندی اشاریہ 2.0 (پی جی آئی-ایس) اور اضلاع کے لیے کارکردگی درجہ بندی اشاریہ (پی جی آئی-ڈی) کی تفصیلی رپورٹس درج ذیل روابط پر دستیاب ہیں:
https://spgi.udiseplus.gov.in/
https://dpgi.udiseplus.gov.in/
https://www.dsel-education.gov.in/documents
*****
ش ح- ظ الف- م ش
UR-9696
(रिलीज़ आईडी: 2282376)
आगंतुक पटल : 3